PDA

View Full Version : امریکی قزاقوں سے عافیہ کوبھی رہائی دلوائیں



سیما
06-17-2011, 04:59 AM
مظفر اعجاز
پاکستانی قوم کے لیے خوشخبری ہے کہ صومالی قزاقوں نے 4 پاکستانیوں سمیت 28 یرغمال رہاکردیے ۔انسانی حقوق کی تنظیم کے سربراہ انصاربرنی ایڈووکیٹ نے اس موقع پر کہاہے رہائی میں آئی ایس آئی چیف جنرل شجاع پاشا نے اہم کرداراداکیا۔ گورنر سندھ نے بھی اس حوالے سے اہم کرداراداکیا۔ صومالی قزاقوں نے دس ماہ تک یرغمال بنائے رکھا۔ ان 22 افراد میں 4 پاکستانی ‘6 بھارتی‘ 11 مصری اور ایک سری لنکن شامل ہے۔ انصاربرنی نے اس حوالے سے گورنر ہاوس سندھ میںگورنر سندھ کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں بتایاکہ یہ رقم ایک خصوصی طیارے کے ذریعہ قزاقوں تک پہنچائی گئی جس کے بعد انہوں نے بحری جہاز چھوڑدیا۔ بحری جہازکے پاکستانی کپتان وصی نے بتایاکہ قزاقوں نے انہیں اس دوران کئی مرتبہ جان سے مارنے کی دھمکی بھی دی تھی۔ اب 4 پاکستانیوں کی رہائی کے حوالے سے کئی روز سے سرگرمیاں جاری ہیں۔ کبھی پتا چلتا کہ بھارتی تاجر کے ڈی سنگھ نے 6 لاکھ ڈالر دینے کا وعدہ کیاہے اورکبھی پتا چلتاکہ وہ وعدے سے مکرگیاہے ۔بہرحال صومالیہ سے گزرنے والے بحری جہازوں کا معاملہ ایسا ہی ہے۔ کبھی لوگوں کا مال ضبط ہوجاتاہے اور کبھی لوگ یرغمال بنالیے جاتے ہیں اور ساری دنیا بڑے آرام سے قزاقوں کو رقم اداکرنے پر تیارہوجاتی ہے۔ کہاجاتاہے کہ قزاقوں کا باقاعدہ بینک کے ذریعہ رابطہ سے رقم کا بڑا حصہ بینکوں کے ذریعہ ہی منتقل ہوتا ہے اور بینکوں میں جن اصل قزاقوں کا اکاونٹ ہے رقم بھی وہی ہتھیاتے ہیں جو قزاق ہیں اس کو تو معمولی رقم ملتی ہے جان جوکھوں میں ڈالنے کے اوریرغمال بنانے پر ان کو سروس چارجزملتے ہیں۔ لیکن ایک سوال ہے کہ پاکستان کے اس صوبے سندھ سے امریکی قزاقوں نے معمولی اجرت پرکام کرنے والی پاکستانی ایجنسیوں سے ڈاکٹرعافیہ اور اس کے تین بچوں کو اغواءکروایا اور معمولی اجرت بھی اتنی زیادہ دی کہ یہ کام کرنے والے اب بیرون ملک عیش کررہے ہیں۔ تو پھر عافیہ کو امریکی قزاقوں سے رہاکرانے میں کیا امرمانع ہے۔ ہم انصاربرنی سے سوال کرتے ہیں کہ کشمیر سنگھ کو رہاکرانے میں بہت دلچسپی بلکہ سارا کریڈٹ بھی خود لے گئے اور اس نے 25 قدم کے بعد اعلان کردیا کہ ہاں میںجاسوس تھا اور مجھے بھارت ماتا کے لیے جاسوسی پر فخرہے ‘انصاربرنی نے اسے انسانیت کی خاطر دباو قراردیا۔ سربجیت سنگھ کو رہاکرانے میں بھی انصاربرنی اسی طرح سرگرم ہیں معاملہ انسانیت کا ہی ہے اور اگر ابھی مزید بھارتی جاسوس بھی ہوں تو شاید ان کی رہائی کے لیے انسانیت کی خاطر سرگرم ہوجائیں گے۔ ہم انصار برنی صاحب سے پوچھتے ہیں کہ ڈاکٹرعافیہ کے بارے میں کسی ایک موقف کو تسلیم کرلیں اور پھر معاملہ آگے بڑھائیں۔ یعنی وہ امریکا کے خلاف جاسوسی کررہی تھی اس کے القاعدہ سے تعلقات تھے۔ وہ امریکا میں کوئی غیرقانونی کام کررہی تھی لیکن یہ سارے کام تو کشمیرسنگھ اورسربجیت سنگھ نے بھی کیے تھے انسانیت کی خاطر اس کی رہائی کے لیے جدوجہدکی تھی توعافیہ کے لیے بھی کرنی چاہیے۔ عافیہ کے بارے میں دوسرا موقف تسلیم کرلیں تو پھر عافیہ کے 8 سال کا حساب کون دے گا ۔گورنرسندھ اس وقت بھی سندھ کے گورنر تھے جب عافیہ کی گرفتاری ظاہرکی گئی تھی۔ انصاربرنی اس وقت بھی انسانیت کے لیے سرگرم تھے۔ صومالیہ کے قزاقوں نے گرفتاریاں کرکے 22 لوگوں کو دس ماہ تک یرغمال بنائے رکھا۔ عافیہ صدیقی کو کراچی سے کس طرح کون سے قانون کے تحت لے جایا گیا اس کا اغوا اورپاکستان سے افغانستان اور وہاں سے امریکا منتقلی بھی صومالی قزاقوں کی طرح کی اغوا کی کارروائی ہے۔ یہاں تو 22 لاکھ ڈالر قزاقوں کو دینے کے لیے جمع کیے گئے اور دوسری طرف عافیہ کی رہائی کے لیے 2 ملین ڈالر یعنی 20 لاکھ ڈالر جمع کرکے حکومت پاکستان عافیہ کی مرضی کے وکلاءکا تقررکردیتی تو شاید اب تک عافیہ پاکستان میں ہوتی۔ اگر پاکستانی صدر‘وزیراعظم اور وزیرخارجہ میں سے کوئی صرف دو سطور امریکی صدر بارک اوباما کو لکھ دیتا کہ عافیہ کا مقدمہ غلط تھا اسے رہاکیاجائے تو باراک اوباما اپنا اختیاراستعمال کرتے اسے رہاکردیتے لیکن عافیہ کے معاملہ میں انصاربرنی ‘گورنر سندھ‘ وزیراعظم ‘ پاک فوج کے سربراہ آئی ایس آئی چیف سب کی انسانیت کی رگ کیوں نہیں پھڑکتی ۔ یہ انسانیت کی رگ بھڑکتی ہے تو کشمیر سنگھ اورسربیجت سنگھ کے لیے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ انصاربرنی بنیادی طورپر نچلی سطح پر غریبوں کے درمیان انسانیت کے ناتے کام کرکے آگے بڑھے ہیں ان کی کوششوں سے سیکڑوں لوگوں کو انصاف ملتاہے۔ ہزاروں لوگوں کو قانونی امدادملی ہے۔ بس ان سے یہی سوال ہے کہ عافیہ ایک عورت ‘ ایک ساس‘ ایک بہن ‘ایک بیٹی ہے۔ اسے اپنے بچوں سے دور رہتے ہوئے 8 سال سے زیادہ ہوگئے ہیں۔ اس کی ماں اس کی یاد میں تڑپ رہی ہے اس کی بہن اس کے لیے اپنا بنابنایاگھرپرتعیش زندگی ترک کرکے آئی ہے۔ ارے اسے سیاست کی نظر نہ کرو.... اگرخدشہ ہے کہ جماعت اسلامی کریڈٹ لے جائے گی تو ہم یقین دلاتے ہیں وہ کریڈٹ آپ کو ہی دے دے گی‘ اگر ڈرلگتاہے کہ پاسبان شوہائی جیک کرلے گی تو ہم یقین دلاتے ہیں جس روز آپ عافیہ کو لائیں گے اس روز پاسبان والے گھرمیں رہیں گے۔ ہم یہ نہیں مانتے کہ انسانیت کے سارے ڈرامے مغرب کے لیے ‘ غیرمعمولی کے لیے ‘ بھارتی جاسوسوں کے لیے ہوں اور حقیقی معنوں میں انسانیت کے اصولوں کے چیتھڑے اڑانے والوںکے ہاتھوں قید عافیہ کے معاملہ میں انسانیت کے سارے اصول سورہے ہوں گے ۔ ہمارا تو انصاربرنی سے طویل تعلق بھی ہے ہم ان سے یہ سوال کرتے ہیں کہ عافیہ کے لیے کہ میدان میں آرہے ہو؟ تقریر نہیں جواب چاہیے۔