PDA

View Full Version : ایک خاموش پیغام تمام انسانوں کے لیے



اذان
06-17-2011, 07:51 PM
http://rajafamily.com/lib/00051A099.gif

http://rajafamily.com/lib/00051A093.jpg


ایک دن ایک عالم بازار میں بیٹھا ہوا تھا، اتنے میں ایک بادشاہ کا گزر ہوا

بادشاہ نے عالم سے پوچھا: "حضرت کیا کر رہے ہیں؟"،

عالم نے کہا: "بندوں کی اللہ سے صلح کروا رہا ہوں، اللہ تو مان رہا ہے پر بندے نہیں مانتے"۔


کچھ دنوں بعد بادشاہ کا گزر قبرستان کے پاس سے ہوا تو دیکھا کہ وہی عالم قبرستان میں بیٹھا ہوا ہے،

بادشاہ نے عالم سے پوچھا"حضرت کیا کر رہے ہیں؟"،

عالم نے کہا: "بندوں کی اللہ سے صلح کروا رہا ھوں، آج بندے تو مان رہے ہیں پر اللہ نہیں مان رہا ہے"۔


http://rajafamily.com/lib/00051A09A.jpg
کہنے کو تو بادشاہ انصاف پسند اور عوام کے دکھ سکھ کو سمجھنے والا تھا مگر جسمانی طور پر ایک ٹانگ سے لنگڑا اور ایک آنکھ سے کانا تھا۔
ایک دن بادشاہ نے اپنی مملکت کے ماہر مصوروں کو اپنی تصویر بنوانے کیلئے بلوا لیا اور وہ بھی اس شرط پر کہ تصویر میں اُس کے یہ عیوب دکھائی نہ دیں۔ سارے کے سارے مصوروں نے یہ تصویر بنانے سے انکار کر دیا اور وہ بھلا بادشاہ کی دو آنکھوں والی تصویر بناتے بھی کیسے جب بادشاہ تھا ہی ایک آنکھ سے کانا اور وہ کیسے اُسے دو ٹانگوں پر کھڑا ہوا دکھاتے جبکہ وہ ایک ٹانگ سے لنگڑا بھی تھا۔ لیکن اس اجتماعی انکار میں ایک مصور نے کہا: بادشاہ سلامت میں بناؤں گا آپ کی تصویر اور جب تصویر تیار ہوئی تو اپنی خوبصورتی میں ایک مثال اور شاہکار تھی۔
وہ کیسے؟؟
تصویر میں بادشاہ شکاری بندوق تھامے نشانہ باندھے ، جس کیلئے لا محالہ اُس کی ایک (کانی) آنکھ کو بند ، اور اُسکے (لنگڑی ٹانگ والے) ایک گھٹنے کو زمین پر ٹیک لگائے دکھایا گیا تھا۔ اور اس طرح بڑی آسانی سے ہی بادشاہ کی بے عیب تصویر تیار ہو گئی تھی۔
کیوں ناں ہم بھی اِسی طرح دوسروں کی بے عیب تصویر بنا لیا کریں خواہ ان کے عیب کتنے ہی واضح نظر آ رہے ہوں!!! اور کیوں ناں جب ہم لوگوں کی تصویر دوسروں کے سامنے پیش کیا کریں تو اُن کے عیبوں کی پردہ پوشی کر لیا کریں!!! آخر کوئی شخص بھی تو عیبوں سے خالی نہیں ہوتا!!! کیوں نہ ہم اپنی اور دوسروں کی مثبت اطراف کو اُجاگر کریں اور منفی اطراف کو چھوڑ دیں...... اپنی اور دوسروں کی خوشیوں کیلئے!!!
ابنِ عمر رضی اللہ عنہ کی روایت کردہ ایک حدیث پاک کا ملخص اور مفہوم ہے کہ
(جو شخص مسلمان کی پردہ پوشی کرے گا ، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی پردہ پوشی کرے گا)


http://rajafamily.com/lib/00051A09B.jpg

كسان كى بيوى نے جو مکھن كسان كو تيار كر كے ديا تها وه اسے ليكر فروخت كرنے كيلئے اپنے گاؤں سے شہر كى طرف روانہ ہو گيا، يہ مکھن گول پيڑوں كى شكل ميں بنا ہوا تها اور ہر پيڑے كا وزن ايک كلوگرام تها.

شہر ميں كسان نے اس مکھن كو حسب معمول ايک دوكاندار كے ہاتھ فروخت كيا اور دوكاندار سے چائے كى پتى، چينى، تيل اور صابن وغيره خريد كر واپس اپنے گاؤں كى طرف روانہ ہو گيا.

كسان كے جانے بعد...... دوكاندار نے مكهن كو فريزر ميں ركهنا شروع كيا.... اسے خيال گزرا كيوں نہ ايک پيڑے كا وزن كيا جائے.

وزن كرنے پر پيڑا 900 گرام كا نكلا، حيرت و صدمے سے دوكاندار نے سارے پيڑے ايک ايک كر كے تول ڈالے مگر كسان كے لائے ہوئے سب پيڑوں كا وزن ايک جيسا اور 900 - 900 گرام ہى تها.

اگلے ہفتے كسان حسب سابق مکھن لے كر جيسے ہى دوكان كے تهڑے پر چڑها، دوكاندار نے كسان كو چلاتے ہوئے كہا کہ وه دفع ہو جائے، كسى بے ايمان اور دهوكے باز شخص سے كاروبار كرنا اسكا دستور نہيں ہے. 900 گرام مکھن كو پورا كلو گرام كہہ كر بيچنے والے شخص كى وه شكل ديكهنا بهى گوارا نہيں كرتا.

كسان نے ياسيت اور افسردگى سے دوكاندار سے كہا: "ميرے بهائى مجھ سے بد ظن نہ ہو".

ہم تو غريب اور بے چارے لوگ ہيں، ہمارے پاس تولنے كيلئے باٹ خريدنے كى استطاعت كہاں؟

آپ سے جو ايک كلو گرام چينى ليكر جاتا ہوں اسے ترازو كے ايک پلڑے ميں ركھ كر دوسرے پلڑے ميں اتنے وزن كا مکھن تول كر لے آتا ہوں.


http://rajafamily.com/lib/00051A09C.jpg

کلاس روم میں سناٹا طاری تھا۔ طلبا کی نظریں کبھی استاد کی طرف اُٹھتیں اور کبھی بلیک بوڑد کی طرف۔ استاد کے سوال کا جواب کسی کے پاس نہیں تھا۔ سوال تھا ہی ایسا۔ استاد نے کمرے میں داخل ہوتے ہیں بغیر ایک لفظ کہے بلیک بورڈ پر ایک لمبی لکیر کھینچ دی۔ پھر اپنا رخ طلبا کی طرف کرتے ہوئے پوچھا، ’’تم میں سے کون ہے جو اس لکیر کو چھوئے بغیر اسے چھوٹا کردے؟‘‘
’’یہ ناممکن ہے۔‘‘، کلاس کے سب سے ذہین طالبِ علم نے آخر کار اس خاموشی کو توڑتے ہوئے جواب دیا۔ ’’لکیر کو چھوٹا کرنے کے لیے اسے مٹانا پڑے گا اور آپ اس لکیر کو چھونے سے بھی منع کر رہے ہیں۔‘‘ باقی طلبا نے بھی گردن ہلاکر اس کی تائید کردی۔ استاد نے گہری نظروں سے طلبا کو دیکھا اور کچھ کہے بغیر بلیک بورڈ پر پچھلی لکیر کے متوازی مگر اس سے بڑی ایک اور لکیر کھینچ دی۔ جس کے بعد سب نے دیکھ لیا کہ استاد نے پچھلی لکیر کو چھوئے بغیر اسے چھوٹا کردیا تھا۔ طلبا نے آج اپنی زندگی کا سب سے بڑا سبق سیکھا تھا۔ دوسروں کو نقصان پہنچائے بغیر، ان کو بدنام کیے بغیر، ان سے حسد کیے بغیر، ان سے الجھے بغیر ان سے آگے نکل جانے کا ہنر چند منٹ میں انہوں نے سیکھ لیا تھا۔
انسان کو اللہ تعالیٰ نے جس فطرت پر پیدا کیا ہے اس میں اپنا موازنہ دوسروں سے کرکے ان سے آگے بڑھنا انسان کی طبیعت میں شامل ہے۔ اس کام کو کرنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ دوسرے کو چھوٹا بنانے کی کوشش کی جائے۔ مگر ایسی صورت میں انسان خود بڑا نہیں ہوتا۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ دوسروں سے الجھے بغیر خود کو مضبوط، طاقتور اور بڑا بنانے پر توجہ دی جائے۔ دوسرے اس شکل میں بھی چھوٹے ہوجاتے ہیں، مگر اصل بات یہ ہے کہ اس عمل میں انسان خود بڑا ہوجاتا ہے۔
دوسرے سے الجھے بغیر آگے بڑھنا، اس دنیا میں ترقی کا اصل طریقہ ہے۔ فرد اور قوم دونوں کے لیے دیرپا اور مستقل ترقی کا یہی واحد راستہ ہے۔

http://rajafamily.com/lib/00051A09F.gif

محمدمعروف
06-17-2011, 08:52 PM
بہت اچھی اور خوبصورت باتیں لکھیں اللہ جزائے خیر دے

سقراط
06-17-2011, 09:36 PM
بہت خوبصورت حکایتیں پیش کی ہیں واہ جناب شکریہ

بےباک
06-18-2011, 03:09 AM
ماشاءاللہ کافی حکمت والی حکایات ہیں ،
جزاک اللہ