PDA

View Full Version : کراچی ہے کس کا مسئلہ



سیما
06-18-2011, 04:48 AM
کراچی میں ٹارگٹ کلنگ بڑھ گئی روزانہ 8‘10 لوگ قتل ہورہے ہیں افواہیں الگ پھیل رہی ہیں لیکن مسئلہ حل ہونے کے بجائے اوربگڑرہاہے۔ عموماً کراچی کے معاملات کو الگ الگ خانوں میں تقسیم کیاجاتاہے۔ کبھی کہاجاتاہے کہ ٹارگٹ کلنگ ہورہی ہے ‘کبھی کہاجاتاہے کہ لوڈشیڈنگ ہورہی ہے‘ کبھی مہران بیس کا واقعہ ہوجاتاہے‘ کبھی رینجرزاختیارات سے تجاوزکرتی ہے ‘کبھی پولیس کبھی ایجنسیاں لوگوں کو لے جاتی ہیں۔ اور سب سے بڑھ کر وفاقی حکومت نے اب ہری جھنڈی دکھادی ہے وزیراعظم نے کہہ دیاہے کہ کراچی میں امن صوبائی مسئلہ ہے مداخلت نہیں کرسکتے۔ ٹارگٹ کلنگ پر وزیراعظم ‘ وزیراعظم‘ وزیراعظم (سب سے بڑے وزیر) نے مذمت کی ہے اور وزیراعلیٰ سے کہاہے کہ متحدہ کے رہنماﺅں کے ساتھ مل کر مسئلہ کا حل نکالیں۔ اور متحدہ نے کراچی کے حالات پر احتجاجاً واک آﺅٹ کردیا۔ ادھرکراچی میں متحدہ اے این پی مذاکرات بھی شروع ہوگئے۔ دو روز میں 24 افراد قتل ہوچکے۔ کراچی کے حالات کو ہم الگ الگ خاتون میں نہیں دیکھیں گے بلکہ یہ ایک اکائی ہے‘ کراچی ایک مکمل مسئلہ ہے اس کی لوڈشیڈنگ‘ کے ای ایس سی رینجرزکے اختیارات ‘بھتہ‘ٹینکر‘اغواءبرائے تاوان‘ ایجنسیوںکی فرمانروائی ان سب کو ایک ہی سمجھتے ہیں۔ ہمیں حیرت ہے کہ وزیراعظم نے کراچی میں امن وامان کو صوبائی مسئلہ قراردے کر برا¿ت کا اعلان کرتے ہیں وزیراعلیٰ کہتے ہیں کہ اتنے بڑے شہرمیںدوچارلوگ مرجائیں تو کون سی بڑی بات ہے تو پھر اہل کراچی پوچھ سکتے ہیں کہ مجموعی طورپر اس شہرسے 70 فیصد سے زیادہ ٹیکس جاتاہے تو پھر یہ بھی صوبوںکو دے دیے جائیں۔ ہرچیزکے پیچھے وفاقی حکومت یا وفاق کی کوئی شخصیت ہوتی ہے لیکن کراچی کا امن وامان صوبائی معاملہ رہتاہے۔ ایسا تو نہیں کہ وزیراعظم اس امر سے لاعلم ہوں گے کہ کے ای ایس سی کا معاملہ کیوں لٹکاہواہے ؟وفاق کی کون سی شخصیت کے مفادات کے ای ایس سی میں ہیں۔ حکومتی حلیف کی جانب سے کہاگیاکہ 4 ہزار ملازمین نے کے ای ایس سی کو یرغمال بنالیاہے عوام پریشان ہیں۔لیکن یہ بات سامنے نہیں لائی گئی کہ ان میں ساڑھے چارہزار ملازمین کو نہ نکالنے کے لیے کے ای ایس سی نے دوسال قبل نیپرا سے 17 پیسے فی یونٹ نرخ میں اضافہ کروایاتھا۔ کے ای ایس سی صارفین سے 17پیسے فی یونٹ اضافی چارج تو کررہی ہے پھر ان لوگوں کو نکالنے پر اصرارکیوں؟.... اور یہ بات بھی توسامنے لائی جائے کہ کے ای ایس سی صوبائی معاملہ ہے یا وفاقی اورکے ای ایس سی کے ملازمین کی کل تعداد تقریباً 12 ہزار ہے تو اگر اس میں سے 33 فیصد ملازمین کوبیک جنبش قلم فارغ کردیاجائے تو پھر کیا کہا جائے گا۔ کیا 33 فیصدملازمین کو انتظامیہ کے چند افراد نے یرغمال نہیں بنالیاہے۔ ہمارے وزیراعظم کہتے ہیں کہ کراچی میں امن وامان صوبائی معاملہ ہے ہم مداخلت نہیں کرسکتے لیکن یہ ڈراماتو سب دیکھتے ہیں کہ وفاق کے وزیر داخلہ بس کراچی آتے ہیں اسلام آباد جاتے ہیں وہاں سے لندن جاتے ہیں پھر کراچی آتے ہیں اور پھر کچھ عرصے کے لیے ٹارگٹ کلنگ بندہوجاتی ہے‘ یہ کس کی مداخلت ہوتی ہے۔ کیا وفاقی وزیر داخلہ صوبائی کوٹے پرہیں۔ پھر یہ جوکراچی میں زمینوں اور پلاٹوں پر قبضے ہیں ان پلاٹوںکا قبضہ تو مقامی ایجنٹ لیتے ہیں لیکن منافع کہاں جاتاہے۔ یہ جو بھتے اور صنعتکاروں سے زبردستی رقوم لی جاتی ہیں یہ کہاں جاتی ہیں؟یہ ساری بدامنی اورسارا معاملہ کراچی کے باہرسے چلایاجارہاہے۔ ایسا لگتاہے کہ جس طرح بھارت میں ڈان یا بھائی لوگ بیرون ملک سے شہروں کو کنٹرول کرتے ہیں اور اس کنٹرول کی کوشش میں ممبئی اور دوسرے شہروں میں لڑائیاں ہوتی ہیں توکیا بھارتی وزیراعظم اسے صوبائی معاملہ قراردے کر جرات کا اظہارکرتے ہیں ؟۔ ہم تو سمجھتے ہیں کہ وزیراعظم حقائق کا سامنا کریں اورکراچی کے معاملات میں بطور حکمران دلچسپی لیں اور برا¿ت کا اعلان نہ کریں۔ انہیں کسی صورت برا¿ت نہیں مل سکتی اب تو ان ہی کی پارٹی کے رکن سندھ اسمبلی نے کہہ دیاہے کہ حضرت فاروق اعظمؓ کے طریقے پر چلنا ہوگا جو فرات کے کنارے بکری کے بچے کے پیاس سے مارے جانے پر باز پرس سے خوفزدہ تھے ۔یہ کیسے حکمران ہیں جو روزانہ درجن بھر افراد کے مارے جانے پر ٹس سے مس نہیں ہوتے۔ یہ کہنا کہ اس وقت لوگ ہی کتنے تھے زمین کتنی تھی غلط ہے ۔کیونکہ جو سلطنت حضرت فاروقؓ اعظم کی تھی اور ان کے بعد کے خلفاءکی تھی ان کے تو عشر عشیر بھی کوئی اسلامی ملک نہیں ہے پھربھی اتنی بڑی بڑی سلطنتوں کے خلیفہ بوریا نشین تھے ان کے پاس 100 برانڈڈ سوٹ نہیں تھے۔ ایک کرتا لمبا ہونے پر تو بھری مجلس میں ایک عام آدمی نے کہہ دیاکہ کوئی بات اس وقت تک نہیں سنوں گا جب تک یہ نہیں بتائے کہ ہمارا کرتا لمبا کیسے ہوگیا؟ اور حضرت عمرؓ جب تک جواب نہیں دیتے وہ جگہ سے ہلتے نہیں تھے۔ اورہمارا وزیراعظم کہتاہے کہ کراچی میں امن وامان میں مداخلت نہیں کرسکتے۔ پونے دوکروڑ اثاثوں کا شہرپورے ملک کی آبادیوں کا نمائندہ شہر پورے ملک کو 70 فیصد سے زیادہ ٹیکس اداکرنے والا شہر وفاق کا مسئلہ نہیں ہے۔ تو پھرکس کا مسئلہ ہے۔ یہاں سے ایجنسیاں لوگوں کو کس کے کہنے پر اٹھاکرلے جاتی ہیں؟ کون ان کا ضامن ہے کراچی سے رضوان طیب غائب ہے۔ عازب غائب ہے‘ اب تازہ واقع قاسم شاہ کا ہے۔ اس کے علاوہ درجنوں لوگ غائب ہیں ان کو کون اٹھاتاہے اگر یہ صوبائی مسئلہ ہے تو پھر اغواءہونے والا وفاقی ایجنسیوں کے پاس سے کیوں نکلتاہی؟ ہم سمجھتے ہیں کہ کراچی کے امن وامان کے حوالے سے اہل کراچی تو اب اچھی طرح جانتے ہیں کہ کون کیا کررہاہے کس کی وجہ سے کون مشکل میں ہے لیکن حکومت کی جانب سے طرح طرح کی موشگافیاں کی جاتی ہیں۔ اول تو کراچی کے معاملہ میں اس صوبے کا حکمران اتحاد ملوث ہے اور جن چیزوں میں یہ اتحاد ملوث نہیں ہے اس میں بھارت اور امریکا ملوث ہیں لہذا یہ بات کرنا کہ کراچی کا مسئلہ ہمارا نہیں غلط ہے۔ کراچی میں بہنے والے ایک ایک قطرہ کے خون کے ذمہ دار وزیراعظم ہیں۔ یہاں لوڈشیڈنگ کے عذاب کے ذمہ دار صدر‘ وزیراعظم ہیں اور یہاں بھتہ‘ ٹارگٹ کلنگ‘ اور لینڈمافیا وغیرہ کے معاملات کی ڈوریاں بھی وہیں پہنچ رہی ہیں۔ لہٰذا جواب بھی انہیں ہی دینا ہوگا آج نہیں تو کل ۔

بےباک
06-19-2011, 02:46 AM
بڑا کڑوا سچ لکھا ہے سیما جی آپ نے
کاش ارباب اختیار کچھ سمجھیں ،
ہمارا ملک اور یہ صوبہ سکون سے رہے ،

سیما
06-19-2011, 04:22 AM
:heart::heart: میں نے لکھا ھاھاھااھھاھاھااھاھاھ :P

بےباک
06-19-2011, 07:16 AM
اب سمجھا ، آپ کی چالاکی :-)
ارے بابا آپ لکھنے والے کا نام ساتھ لکھ دیا کریں گی تو آپ پر شک نہیں کیا جائے گا ،
ھھھھھھھھھھھھھھھھھھا

شاہنواز
03-12-2014, 01:35 PM
میں بارہا یہ کہہ چکا ہوں کہ اس میں باہر والوں سے بڑھ کر اپنا ہاتھ ہے اگر پڑوسی ملک میں کچھ ہوتا ہے تو فوری ردعمل یا تو بلوچستان میں ہوگا یا کراچی میں ہوگا کہ یہ دو سلگتے ہوئے انٹرنیشنل اکھاڑے ہیں اگر چہ یہ تھریڈ 2011 میں قائم کیا گیا لیکن اگر موجودہ تناظر میں یہ دیکھا جائے تو یہ مسئلہ جوں کا توں موجود ہے آپ خود اس بات سے اندازہ کرسکتے ہیں کہ ہماری حکومت اس معاملے میں کتنی سجنیدہ ہے اور کتنی بردباری سے کام لے رہی ہے اور اس کو مسئلہ کراچی یعنی مسئلہ کشمیر سے ہم آہنگ کیا جارہے اور ہماری عوام بھی اب بے حس ہوگئی ہے اور کیوں نہ ہو کوئی سننے والا ہی نہیں ہے