PDA

View Full Version : سلطان محمود غزنوی کے تین اشکال اور ان کے جوابات



محمدمعروف
06-18-2011, 10:22 PM
سلطان محمود غزنوی مشہور مسلمان بادشاہ گزرے ہیں ،وہ موجودہ دور کے مسلمان حکمرانوں جیسے مسلمان نہیں تھے بلکہ دین کو سمجھنے والے اور اسلامی تعلیمات پر عمل کرنے والے بادشاہ تھے۔انہوں نے 997سے 1030ء تک افغانستان پر حکومت کی ۔ایک بار ان کے دل میں تین اشکال )شکوک (پیدا ہوگئے اوران کی شدید خواہش تھی کہ انہیں ان اشکال کے جواب مل جائیں ۔اور ذہن ان شکوک سے پاک ہوجائے۔
پہلا اشکال اس حدیث کے متعلق تھا جس کا مفہوم ہے کہ "علماء انبیاء کے وارث ہیں۔"سلطان کو اس حدیث پر یہ اشکال تھا کہ یہ علم دین حاصل کرنے والے طلاب اور علماء تو انبیاء کے وارث ہیں مگر میں ایک مسلمان بادشاہ ہوں اور اللہ کے راستے میں خیرات کرتا ہوں اور نیکی کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتا ہوں تو میں کیوں نبیوں کا وراث نہیں ہوسکتا۔ اسے اشکال ہوا کہ ہوسکتا ہے کہ یہ حدیث کسی نے اپنے پاس سے بنائی ہو اور حقیقت میں ایسا نہ ہو۔
دوسرا اشکال یہ واقع ہو کہ لوگوں نے اسے کہا کہ تو سبگتگین کا بیٹا نہیں ہے بلکہ اس نے تجھے غلام کے طور پر خریدا اور تجھے محبت اور پیار سے رکھا اس لئے اپنا بیٹا بنایا حالانکہ حقیقت میں تو اس کا بیٹا نہیں ،بلکہ تیرے باپ کا کوئی پتہ نہیں کون تھا۔سلطان کو بہت تشویش ہوئی کہ وہ خود کو سبگتگین کا بیٹا سمجھتا رہا مگر لوگوں کے مطابق اس کے باپ کا کسی کو پتہ ہی نہیں اور وہ سبگتگین کا بیٹا نہیں بلکہ غلام ہے۔
تیسرا اشکال یہ تھا کہ اگرچہ اس نے بہت سے نیک کام کیے اور رعایا کو خوش رکھا ظلم اور ناانصافی سے دور رہا ،اس سب کو با وجود اس کی بخشش ہوگی یا نہیں ۔چونکہ سلطان محمود غزنوی ایک سچا مسلمان تھا لہذا اس کے دل میں خواہش تھی کہ اسے دنیا میں ہی پتہ چل جائے کہ اس کی بخشش ہو گی یا نہیں ۔
چنانچہ ایک رات وہ اپنے مشیروں اور مشعل برداروں کے ساتھ رات سیرو سیاحت میں محو تھا کہ اچانک اس کی نظر کچھ دورایک کبابی دوکان پر کھڑے ایک طالب علم پر پڑی جو بھٹی کی روشنی میں کتاب پڑھنے میں مصروف تھا اور کوئی دینی مدرسہ کا طالب علم معلوم ہوتا تھا ،سلطان نے دیکھا کہ کبابی اسے با ر بار بھگا دیتا مگر وہ لڑکا کچھ دیر بعد پھر آجاتا اور مطالعہ میں مصروف ہوجاتا۔سلطان اس طالب علم کی محنت او ر لگن سے متاثر ہوااور اپنے ایک مشعل بردار سے کہا کہ جاؤ اور اس طالب علم کی مشکل اپنی مشعل کی روشنی سےآسان کردو چنانچہ مشعل بردار اس طالب علم کے پاس چلا گیا۔
سلطان اس و اقعہ سے فارغ ہوکر جب محو استراحت ہو ا تو اسے خواب میں اللہ کے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت ہوئی اور اللہ کے پیارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجس کا مفہوم ہے :
"اے سبگتگین کے بیٹےتو نے انبیاء کے ایک وارث کی مدد کی اور اس کی مشکل کو آسان کیا اس کے صلے میں اللہ نے تیری بخشش فرمائی۔"
سلطان کو اپنے تینوں اشکال کا جواب ایک ایسی شخصیت سے مل چکا تھا جن کی کسی بھی بات پر شک و شبہ کی گنجائش ہی نہیں ہو سکتی۔
1 حدیث کے متعلق کہ علماء انبیاء کے وارث ہیں ۔
2 اس کا باپ سبگتگین ہی تھا کیونکہ اللہ کے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اس کے باپ کے نام سے پکارا۔
3 انبیاء کے وارث کی مدد کرنے پر بخشش کی بشارت دے دی گئی۔
یہ تھے دور ماضی کے مسلما ن بادشاہ جن کے اشکال کے جواب بھی حضور نے خود ان کی خواب میں آکر دیے۔اللہ ہمیں بھی ایسے ہی سچے اور پکے مسلمان بادشاہ نصیب فرمائے۔
﴿ماخوذ و ملخص﴾

:(:(:(:(

بےباک
06-18-2011, 10:37 PM
بہت زبردست ،

سبکتگین اور ہرنی کا قصہ بھی آپ نے پڑھا ہو گا ،،یہ اس کے باپ کا قصہ ہے جس کا ذکر بھائی محمد معروف صاحب نے کیا ہے ،
یہ لیں میں لکھ دیتا ھوں ، مجھے علم نہیں کہ یہ سچا ہے یا صرف کہانی ، مگر اس میں سبق ضرور ہے ،یہ بچپن میں پڑھا تھا.
.................................................. .................................................
پرانے زمانے کی بات ہے۔ افغانستان کے ملک پر ایک بادشاہ حکومت کرتا تھا، اس کا ایک غلام تھا جس کا نام سبکتگین تھا۔ وہ بہت بہادر عقل مند، اور رحم دل تھا، اس کی انہی خوبیوں کی وجہ سے بادشاہ اسے بہت عزیز رکھتا تھا۔ایک روز کی بات ہے کہ سبکتگین گھوڑے پر سوار ہوکر جنگل میں شکار کھیلنے گیا، وہ بڑا اچھا شکاری تھا مگر اس روز ایسا اتفاق ہوا کہ شام تک جنگل میں مارا مارا پھرنے کے بعد بھی کوئی شکار اس کے ہاتھ نہ آیا۔

جب وہ واپس ہونے لگا تو ہرنی کا ایک بچہ اس کے سامنے سے گزرا ، اس نے جھٹ گھوڑے سے اُتر کر اسے پکڑ لیا، پھر اس کو گھوڑے کے کاٹھی کے ساتھ باندھ کر اپنے آگے رکھ لیا اور واپس شہر کی طرف چل پڑا۔

کچھ دیر کے بعد اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو حیران رہ گیا۔ ہرنی اس کے پیچھے پیچھے آرہی تھی اور یوں لگتا تھا جیسے اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے ہیں۔ ہرنی کا بچہ بھی بری طرح تڑپ رہاتھا۔ سبکتگین کو یہ دیکھ کر ہرنی اور اس کے بچے پر بڑا ترس آیا، وہ فوراً گھوڑے سے اُترا اور ہرنی کے بچے کو چھوڑ دیا۔ بچہ آزاد ہوتے ہی اپنی ماں کے پاس چلا گیا۔ ہرنی نے بچے کو دودھ پلایا اور پھر اسے ساتھ لے کر جنگل کی طرف چلی گئی۔ وہ بار بار مڑ کر سبکتگین کی طرف دیکھتی تھی جیسے اس کا شکریہ اَدا کررہی ہو۔ اس رات سبکتگین نے خواب میں دیکھا کہ ایک نورانی صورت بزرگ اس سے کہہ رہے ہیں : اے سبکتگین! تم نے ایک بے زبان جانور پر رحم کھایا۔ تمہارے اس کام سے اللہ بے پناہ خوش ہوا ہے اور صلے میں اس نے تمہیں بادشاہت بخش دی ہے۔

اس خواب کے کچھ عرصے کے بعد بادشاہ نے اپنی بیٹی کی شادی سبکتگین سے کردی۔ بادشاہ کے یہاں سوائے بیٹی کے اور کوئی اولاد نہ تھی؛ اس لیے اس کے مرنے کے بعد سبکتگین افغانستان کا بادشاہ بن گیا، اس طرح ہرنی پر رحم کرنے کی وجہ سے ایک معمولی غلام کو ایک ملک کی بادشاہت مل گئی۔

پیارے بچوں! ہمیشہ جانوروں پر رحم کیا کرو ، انھیں بے جا تنگ نہ کیا کرو۔ دیکھو آقاعلیہ السلام نے اُمت کو کتنی اچھی تعلیم دی ہے : ’’اِن بے زبان جانوروں کے بارے میں اللہ سے ڈرو (اور ان کے ساتھ رحم ومروّت کا معاملہ کرو)‘‘۔
اِتَّقُوا اللّٰہَ فِي ہٰذِہِ البَہَائِمِ المُعْجَمَۃِ
(سنن ابودائود: ۷؍۹۰حدیث: ۲۱۸۵)

سقراط
06-19-2011, 08:15 PM
خوبصورت سنہری واقعات آپ دونوں کا شکریہ

اوشو
06-19-2011, 10:25 PM
معروف جی اور بےباک جی آپ دونوں احباب کا بہت بہت شکریہ ایسے ایمان افروز واقعات سے روشناس کروانے کے لیے.

pervaz khan
06-27-2012, 08:13 PM
بہت عمدہ شئیرنگ :آپ دونوں کا شکریہ

سقراط
06-28-2012, 12:07 AM
سومنات کا شہر برہمنوں اور غیر مسلموں کا مقدس مقام ہے ایک روایت تو یہ بھی ہے کہ زمانہ قبل ازاسلام میں چند غیر مسلم ایک بہت بڑا بت خانہ کعبہ سے ہندوستان لائے کہ جس کا نام سومنات تھا‘ اسے جس مقام پر نصب کیاگیا اس کا نام اس بت کے نام پر رکھ دیاگیا۔ محمود غزنوی نے سومنات پر چڑھائی سے پہلے ہندوستان پر اپنے کئی حملوں کے دوران کافی بت پاش پاش کئے تھے

اسے اس کے چند قابل اعتبار دوستوں نے بتایا تھا کہ ہندو کہتے ہیں کہ محمود نے جو بت گرائے تھے وہ ایسے بت تھے کہ جن سے سومنات ناراض تھا لہٰذا اس نے اس لئے ان بتوں کی طرف داری نہیں کی تھی اسے یہ بھی بتایا گیا کہ ہندو یہ بھی کہتے ہیں کہ سومنات کے پاس اتنی طاقت ہے کہ وہ جسے چاہے ایک لمحے میں تباہ کردے اس قسم کی بے معنی باتیں سن کر محمود غزنوی نے یہ فیصلہ کیا کہ اب کی دفعہ وہ سومنات کو مزہ چکھانے ایک مرتبہ پھر ہندوستان پر حملہ آور ہوگا چنانچہ 30ہزار سپاہیوں کے ساتھ وہ 20شعبان 415ھ کو سومنات کی مہم پر نکلا

جب اس کا لشکر سومنات کے قریب دریا کے کنارے پر پہنچا تو اس نے دیکھا کہ سومنات کا قلعہ بہت بلند ہے اور دریا کا پانی قلعہ کی فصیل تک پہنچا ہوا ہے اہل سومنات قلعے کی دیوار پر کھڑے چلا چلا کر مسلمانوں سے یہ کہہ رہے تھے کہ ہمارا معبود سومنات تم کو یہاں کھینچ کر لایا ہے تاکہ ایک ساتھ ہی تم سب کو ہلاک کردے اور تم سے وہ ان تمام بتوں کا بدلہ لے گا کہ جن کو تم نے گرایا ہے اس کے بعد وہاں گھمسان کا رن پڑا اس جنگ میں 9ہزار کے قریب سومناتی ہلاک ہوئے۔ محمود نے جب سومنات کا قلعہ فتح کیا تووہ اس کے اندر واقع سومنات کے مندر میں گیا کہ جہاں سومنات کا بت رکھا ہوا تھا جب وہ سومنات کے ٹکڑے کرنے لگا تو وہاں موجود ہندو پجاریوں نے اسے کہا کہ وہ اس بت کے ٹکڑے نہ کرے وہ اس کے بدلے اس کے سامنے سونے اور ہیروں کے ڈھیر لگا دیں گے

اس پر محمود نے ان سے کہاکہ وہ اس بات کا خواہش مند ہے کہ تاریخ داں اسے محمود بت شکن کے نام سے یاد رکھیں نہ کہ محمود بت فروش کے نام سے ۔جب اس نے سومنات کے ٹکڑے کئے تو اس کے پیٹ کے اندر سے اس کو سونے اور ہیروں کے وہ انبار ملے کہ جن کی مالیت اس سونے سے دس گنا زیادہ تھی جس کی پیشکش اسے ہندو پجاریوں نے سومنات کونہ توڑنے کی صورت میں کی تھی۔

سومنات مندر سے ملنے والا سونا ٹکڑوں کی صورت میں محمود غزنوی اپنے ساتھ افغانستان لے گیا‘ افغان حکمران اپنے اسلاف کی فتوحات کے نتیجے میں حاصل ہونے والی قیمتی نوادرات کو کہ جو تاریخی اہمیت کی حامل تھیں اپنے قومی میوزیم کی زینت بناسکتے تھے پر وہ ہندوستان پر اتنے مہربان تھے کہ انہوں نے خاموشی سے سومنات کے ٹکڑے کہ جو سینکڑوں برس افغانستان میں موجود رہے ہندوستان کو واپس کردیئے ظاہر ہے کہ بادشاہوں کے احکامات کو کون چیلنج کرسکتا ہے۔

بےباک
06-28-2012, 07:21 AM
بہت خوب جناب سقراط صاحب ،
زبردست طریقہ سے سومنات کا واقعہ بیان کیا ،
شکریہ جناب:photosmile: