PDA

View Full Version : امام شامل رحمة اللہ



بےباک
06-19-2011, 11:55 PM
http://www.kaziev.ru/Photo-Shamil/Sham_Sham.JPG
http://www.wikigallery.org/paintings/217001-217500/217327/painting1.jpg


امام شامل ................................گرفتاری کا منظر
داغستان کا شیر ان کا لقب ہے ،

روسی استبداد کے خلاف سالہا سال تک برسرِ پیکار رہنے والے عالمِ اسلام کے عظیم چھاپہ مار رہنما امام شامل رحمۃ اللہ علیہ کو روسی جرنیل وارنسٹوف نے ستمبر 1844ء میں قفقار پہنچ کر ایک خط لکھا کہ تم پانچ لفظوں اطاعت، فرماں برداری، ماتحتی، باج گزاری اور درخواست میں سے جو چاہو منتخب کرلو۔اس کے جواب میں امام شامل رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا:

وارنسٹوف مجھے تمہارے شہنشاہ پر ترس آتا ہے کہ وہ تم جیسے بوڑھے اور ازکارِرفتہ نام نہاد جرنیل کا سہارا لینے پر مجبور ہو گیا ہے۔ اگر تم حقیقی جرنیل ہوتے تو تمہیں یہ علم ضرور ہوتا ہے ایک سپہ سالار دوسرے سپہ سالار سے کس طرح بات کرتا ہے۔تمہیں تو اتنا بھی علم نہیں کہ سپاہی گفتگو کا آغاز تلوار سے کرتاہے۔زبان کے استعمال کی نوبت اس وقت آتی ہے جب تلوارغالب یا عاجز آجائے۔ تمہاری اطلاع کے لیے یہ عرض ہے کہ قفقار میں کوئی یہ نہیں جانتاہے وارنسٹوف کس چڑیا کا نام ہے۔مگر ایک نام ایسا ہے جسے صرف جنوبی روس ہی میں نہیں،پورے روس میں،پورے قفقار میں ہر کوئی جانتاہے۔تمہارے زاروں، جرنیلوں ،افسروں اور سپاہیوں کے قبرستانوں میں مدفون لاکھوں لوگوں کی روحیں بھی اس نام سے واقف ہیں اوریہ نام ہے’شامل‘۔
ہاں ہم غیر مہذب ہیں کیونکہ
ہم دوسروں کے ملک پر قبضہ نہیں کرتے،
ہم دوسروں کو اپنا غلام نہیں بناتے،
ہم مخالفوں کے باغات،کھیتیاں اور گھر نذرِ آتش نہیں کرتے اور ان کے کنویں بند کرکے اُنہیں پیاس سے نہیں تڑپاتے،
ہم کسی فانی انسان کو اپنا خداوند،آقا اور اپنی زندگیوں کا مالک نہیں تسلیم کرتے۔
ہم غیر مہذب ہیں کیونکہ
ہمارے یہاں ماتحتوں کی بیویاں اپنے اعلیٰ افسروں کی بانہوں میں نہیں جھولتیں،
ہمارے یہاں غریب مائیں اپنی چھاتیاں اپنے آقاوں کے کتوں کے منہ میں نہیں دیتیں،
ہمارے یہاں خادم اپنے آقاوں کے کتوں کو گرمی پہنچانے کے لیے ساری رات اپنی گود میں لے کر نہیں بیٹھتے۔
وارنسٹوف!
تم نے کہا کہ میں پانچ الفاظ میں سے ایک لفظ منتخب کرلوں۔میں تمہارے پانچوں الفاظ مسترد کرتا ہوں۔میرے منتخب کردہ پانچ الفاظ یہ ہیں
اللہ کی راہ میں جہاد ..
.................................................
امام شامل (پیدائش 1797ء ۔ انتقال مارچ 1871ء) شمالی قفقاز کے مسلمانوں کے ایک عظیم رہنما تھے جن کی قیادت میں انہوں نے روسی استعمار کے خلاف جنگ قفقاز میں بے مثل شجاعت کا مظاہرہ کیا۔ وہ داغستان اور شیشان کے تیسرے سربراہ اور نقشبندی سلسلے کے تیسرے امام تھے (از 1834ء تا 1859ء)۔

ابتدائی زمانہ

امام شامل 1797ء میں موجودہ داغستان کے ایک چھوٹے سے قصبے گھمری میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد ایک زمیندار تھے۔ امام شامل نے بچپن میں عربی سمیت کئی مضامین میں تعلیم حاصل کی۔ انہوں نے نقشبندی مجددی خالدیہ صوفی سلسلے میں شمولیت اختیار کرلی اور قفقاز کے علاقے کے مسلمانوں کی ایک تعلیم یافتہ اور ہر دلعزیز شخصیت بن گئے۔

جب امام شامل پیدا ہوئے تو روسی سلطنت سلطنت عثمانیہ اور فارس کے علاقے پر قبضے کرکے اپنے توسیع پسندانہ عزائم کی تکمیل کررہی تھی۔ فارس کے سلطان کی حمایت سے جنگ قفقاز میں علاقے کے کئی مسلمان قبائل نے روسی استعمار کے بغاوت کردی۔ قفقازیوں کی مزاحمت کے اولین رہنماؤں میں شیخ منصور اور غازی ملا معروف ہیں۔ امام شامل غازی ملا کے بچپن کے دوست تھے۔

1834ء میں غازی ملا جنگ گھمری میں شہید ہوگئے اور امام شامل قفقاز کے جہاد کے رہنما اور نقشبندی مجددی خالدیہ طریقت کے امام بن گئے۔

روسی استعمار

روسیوں کے قبضے سے پہلے قفقاز کے علاقے کبھی ایران کی حکومت کے تحت آجاتے تھے اور کبھی ان پر عثمانی ترک قابض ہوجاتے تھے۔ شروان کا علاقہ جہاں سے اسماعیل صفوی نے اپنی حکومت کا آغاز کیا آذربائیجان کا ایک حصہ ہے۔ جب افغانوں نے اصفہان پر قبضہ کرکے صفوی سلطنت کا خاتمہ کردیا تھا تو ایران کے ابتر حالات سے فائدہ اٹھاکر روس نے داغستان اور شمالی آذربائیجان پر اور عثمانی ترکوں نے گرجستان اور آرمینیا پر قبضہ کرلیا تھا لیکن نادر شاہ نے ان علاقوں کو جلد ہی واپس لے لیا۔ اس کے بعد روسی 1797ء میں پھر داغستان پر قابض ہوگئے اور چند سال میں دریائے اردس تک پورے آذربائیجان پر قبضہ کرلیا۔ فتح علی شاہ قاچار 1828ء میں معاہدہ ترکمانچی کے تحت ان تمام علاقوں پر سے ایران کے حق سے دستبردار ہوگیا۔

تاریخی مزاحمت
روسیوں کی اس جارحانہ پیش قدمی کے دوران جس علاقے کے باشندوں نے حملہ آوروں کا سب سے زیادہ مقابلہ کیا وہ داغستان ہے یہاں کے جری باشندوں نے بار بار بغاوت کی اور روسیوں کو اپنے وطن سے نکال باہر کیا۔ آزادی کی اس جنگ میں سب سے زیادہ شہرت اور نیک نامی امام شامل نے حاصل کی۔ داغستان کے حکمران کی حیثیت سے انہوں نے 25 سال تک بے مثل شجاعت سے روسیوں کی لاتعداد فوج کا مقابلہ کیا اور 1845ء تک داغستان کے ہرحصے سے روسیوں کو نکال دیا لیکن روسی بار بار حملہ آور ہوتے تھے اور امام شامل کے ليے ان کی کثیر تعداد اور جدید اسلحے سے لیس افواج کا تنہا مقابلہ کرنا ممکن نہیں رہا۔ انہوں نے سلطنت عثمانیہ اور برطانیہ سے مدد حاصل کرنا چاہی لیکن ناکام رہے۔ آخر کار 1859ء میں غنیب کے سخت ترین معرکے میں روسیوں کی تمام شہریوں کو قتل کردینے کی دھمکی پر انہوں نے تمام شہریوں کی جان کے بدلے خود کو روسی فوج کے حوالے کردیا اور عبدالقادر الجزائری کی طرح ہتھیار ڈال دیئے۔

روسی کمانڈر نے جو زار روس کا بھائی تھا زار کو مبارکباد کا تار دیا کہ آج 100 سال سے جاری قفقاز کی جنگ ختم ہوگئی۔ اس دن کلیساؤں میں اس کامیابی پر شکرانے کی عبادت کی گئی.

نظر بندی

روسی حکومت امام شامل کے ساتھ عزت و احترام سے پیش آئی۔ ان کی پنشن مقرر کردی گئی اور رہنے کے ليے مکان دیا گیا۔ 1870ء تک امام شامل روس میں نظر بند رہے۔

حجاز مقدس آمد اور انتقال

1870ء میں وہ روسی حکومت کی اجازت سے حج کے ليے مکہ معظمہ گئے۔ حجاز مقدس کی جانب سفر کے دوران وہ ترکی اور مشرق وسطی کے دیگر ممالک سے گذرے جہاں کے عوام نے ان کا فقید المثال خیر مقدم کیا۔ اگلے سال 1871ء میں ان کے صاحبزادے غازی محمد روسی قید سے رہا ہوکر مکہ مکرمہ پہنچے لیکن امام شامل مدینہ منورہ انتقال کرگئے۔ انہیں جنت البقیع میں دفن کیا گیا۔

شخصیت اور کارنامے

امام شامل کی عظمت محض ان کی دلیرانہ جنگ کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ ان کی سیاسی بصیرت، سوجھ بوجھ، انتظامی صلاحیت اور کردار کی بلندی نے عبدالقادر الجزائری اور ٹیپو سلطان کی طرح ان کی عظمت کو چار چاند لگادیئے۔ ان کا زمانہ داغستان کی تاریخ میں "شریعت کا دور" کہلاتا ہے۔ امام شامل تصوف کے نقشبندی سلسلے کے سربراہ تھے۔ ان کے مرتب کردہ انتظامی اور قانونی ضابطے "نظام شامل" کہلاتے تھے۔ اس کے تحت داغستان 32 انتظامی اضلاع میں تقسیم کیا گیا تھا۔ انتظامیہ اور عدلیہ الگ الگ تھے۔ ہر ضلع کا مفتی عدالت کے محکمے کا ذمہ دار تھا اور ضلع کا حاکم اس کے معاملات میں مداخلت نہیں کرسکتا تھا۔ ہر مفتی کے تحت 4 قاضی ہوتے تھے۔ اگر کسی معاملے کو قاضی طے نہ کرسکتے تھے تو وہ مفتی کے سامنے پیش کیا جاتا تھا اور مفتی اس معاملے کو امام شامل یا مجلس شوری کے سامنے پیش کرتا تھا جس کو دیوان کا نام دیا گیا تھا۔ امام شامل نے احتساب کا محکمہ بھی قائم کیا تھا جس کے ذریعے عہدے داروں پر نگرانی رکھی جاتی تھی۔ فوجوں کی تنظیم بھی جدید طرز پر کی گئی تھی اور دارالحکومت ودینو Vedeno میں بندوقوں اور توپوں کو ڈھالنے کا کارخانہ بھی قائم کیا گیا تھا۔ ایک زمانے میں داغستان کی افواج کی تعداد 60 ہزار سوار اور پیادہ فوج تک پہنچ گئی تھی۔ فوجی تربیت کے ليے جو مراکز قائم کئے گئے تھے ان میں قید کئے جانے والے روسی افسر تربیت دیتے تھے۔

امام شامل کے ہتھیار ڈال دینے کے بعد داغستان میں 5 سال تک روسیوں کی مزاحمت جاری رہی یہآں تک کہ 21 مئی 1864ء کو داغستان کا آخری پہاڑی قلعہ بھی روسیوں کے قبضے میں آگیا اور داغستان کی آزادی کی جنگ ختم ہوگئی۔ شیشان میں جاری آزادی کی تحریک شاید انہی کی خاک کی چنگاری ہے۔ چیچن جانبازوں کے سربراہ شامل بسایوف کا نام ان کے والدین نے امام شامل کے نام پر ہی رکھا تھا جو رواں سال 10 جولائی 2006ء کو جاں بحق ہوئے۔
بشکریہ وکیپیڈیا .

عبادت
06-22-2011, 03:49 AM
جزاک اللہ
بہت خوب بے جی بہت اچھی شیرٰنگ

یہ ہوتی ہے ایک سپہ سالار کی سوچ


اللہ کی راہ میں جہاد ..

سیما
06-22-2011, 04:37 AM
جزاک اللہ

تانیہ
06-23-2011, 06:59 PM
زبردست شیئرنگ
ویری نائس:)
جزاک اللہ

pervaz khan
06-27-2012, 04:49 PM
جزاک اللہ