PDA

View Full Version : پاکستان کی ایک نہایت اہم کلاس جسے پیر کلاس کہیں



سیما
06-20-2011, 05:52 AM
شمس جیلانی
جب ہم پاکستان کی بات کرتے ہیں تو پانچ کلاس زیر ِ بحث آتے ہیں جو صدیوں سے راج کر تے چلے آرہے ہیں ۔ وہ ہیں پیر ، میر ، وڈیرہ ، رئیس چو دھری اور خان۔ ان میں چا ر تو دنیوی لوگ ہیں لہذا وہ جو کچھ کرتے ہیں ان سے ہمیں شکا یت بھی نہیں ہے اورر ہمیں آج کچھ کہنا بھی نہیں ہے کہ وہ تو ہیں ہی دنیادار؟آج ہم اس طبقہ پر بات کر رہے ہیں جو کہ پیر کہلا تا ہے کہ وہ ایک زمانے میں اللہ والوں کاگروپ تھا اور ہمیشہ سے قابل ِ احترام بھی تھا جو اب دنیا داروں کے تصرف میں آنے کے بعد قبضہ گروپ بن جانے کی وجہ سے اپنی توقیر کھو بیٹھا ہے
۔ ایک زمانہ تھا اس میں شامل ہونے کے لیئے پہلی شرط تزکیہ نفس تھی؟ یہ وہ لوگ تھے جو ماسوا خدا کے ہر طرف سے اپنے کان اور اپنی آنکھیں بند رکھتے تھے۔ اور یہ لوگ کسی کو اپنا خلیفہ بنا تے تو بھی اسے پہلے کردار کی ترازو میں تو لتے ، پرکھتے ،پھر ان میں سے جو اس کا اہل ہو تا تھا اس کو خر قہ خلافت عطا ہو تا تھا۔ یہاں تک مرید بہت ہی کڑے امتحانات سے گزر کرپہو نچتے تھے ۔
کیونکہ ان کا معیار یہ تھا کہ اگر کو ئی شخص آسمان پراڑ رہا ہو، پانی پر چل رہا ہو اور اس کا ایک فعل خلاف سنت ہو! تو ولی نہیں شیطان ہے۔ پھر کیا ہوا کہ وقت کے ساتھ ساتھ ہر چیز بدل گئی، گدیاں ورا ثت میں ملنے لگیں ۔ بس ایک شرط رہ گئی کہ وہ پیر کا بیٹا ہو اور اس میں کچھ ہو یا نہ ہو؟۔ ملک میں ایسی لا تعداد گدیاں ہیں جن کے مریدوں کی تعداد ایک سے لیکر لاکھوں تک پہونچتی ہے۔
جبکہ اب پیر ہو نے کے لیئے چونکہ صاحب ِ کردار ہونا مسئلہ نہیں۔ لیکن مرید ابھی تک یہ ہی کہتے ہیں کہ ہم اپنی عاقبت سدھا رنے کے لیئے مرید بنتے ہیں، جبکہ حقیقت اس کے بر عکس ہے کہ لو گ عاقبت بنانے کے بجا ئے بگاڑنے کے لیئے مرید بنتے ہیں ۔ اس میں دوقسم کے لوگ ہیں ایک تو وہ ہیں جو سادہ لوح ہیں اور ان کو یہ پڑھا دیا گیا کہ یہ بڑوں کی اولاد ہیں اہلِ بیت ہیں لہذا یہ خود تو بخشے ہو ئے ہیں، ان سے پوچھ گچھ ہونا ہی نہیں ہے البتہ قیامت کے دن ہر پیر کا اپنا جھنڈ ا ہو گا اور اس کے نیچے مرید کھڑے ہو نگے اور ہرپیر کو شفا عت کا لا ئسنس ملا ہوا ہو گالہذا جہاں جا ئیں گے تمہیں ساتھ لیئے ہو ئے چلے جا ئیں گے۔
مریدوں کادوسرا گروہ وہ ہے جو زندہ رہنے کے لیئے مرید بنتا ہے کیونکہ جب کسی پیر کا ٹھپہ لگ جاتا ہے تو وہ ہر بلا سے بچا رہتا ہے ؟جبکہ ایک تیسرہ گروہ بھی ہے جنہیں آپ دودھ پینے والا مجنوں کہہ سکتے ہیں، جو مال بنانے لیئے مرید بنتا ہے۔
پہلے طبقہ کی غلط فہمی تو اس سے دور ہو جانا چا ہیئے کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ قر آن میں فر ما تا ہے کہ شفا عت اس کی ہو گی جس کی میں چا ہونگااور یہ کہ وہ بات بھی معقول کہے ؟ توجو خود غیر معقول ہو؟ وہ تو اس وقت مجرموں کے کٹھرے میں کھڑا ہو گا وہ بیچارہ کیا کرے گا؟ جبکہ قر آن ایک دوسری آیت میںمزید کہہ رہا ہے کہ اس وقت مرید کہہ رہے ہوں گے کہ اے اللہ اس کو دہری سزا دے اسی نے ہمیں گمرا ہ کیا؟
جبکہ گئے وقتوں میں پیر سا ئیں کے معمو لات یہ ہوا کرتے تھے کہ دن ، رات عبادت اور لوگوں کے ساتھ بھلا ئی کر نا، پھرمریدوں کو بھلا ئی اور تزکیہ نفس کی ترغیب دینا۔ وہ اپنے عمل کے ذریعہ اس منزل پر پہونچے ہو ئے ہو تے تھے۔ جس کے با رے میں اللہ سبحانہ تعالیٰ ایک حدیثِ قدسی میں فرما تے ہیں کہ جب بندہ میری طرف ایک قدم بڑھتا ہے، تو میں اس کی طرف دس قدم بڑھتا ہوں پھر میں اس کی آنکھیں بن جا تا ہوں جن سے وہ دیکھتا ہے ،اس کے ہاتھ بن جا تا ہوں جن سے کہ وہ اپنے فرا ئض انجام دیتا ہے ، اس کا پا ؤں بن جا تا ہوں جس سے وہ چلتا ہے ۔یہ وہ منزل ہو تی ہے جو اصل پیر کو حاصل ہوتی ؟ تب کہیں جاکر اس قابل ہو تا ہے کہ اپنے مریدوں کی اصلاح کر سکے؟
لیکن جب سے باپ کے بعد بیٹا سجادہ نشین بننے لگا ہے تو ہم نے ایسے پیر بھی دیکھے کہ نماز روزے سے ان کا کوئی واسطہ نہیں ۔ خانقاہ شاندار اس لیئے ہوتی ہے کہ وہ پہلے سے بنی ہو ئی ہوتی ہے۔ لیکن مسجد دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے کھنڈر ہو چکی ہوتی ہے جس میں بھنگ والے شام کے اوقات میں بھنگ گھوٹتے ہیں ۔ جبکہ پیر کو مسجد کی زبوں حالی کاکچھ پتہ نہیںہوتا کیونکہ وہ وہاں کبھی تشریف ہی نہیں لے جاتے ہیں ۔
پہلے ہم گدی نمبر دو کے مرید وں کا ذکر کرتے ہیں جن کا عالم یہ ہے کہ سا ئیں کے پیروں کی دھول تو بڑی بات ہے وہ کار کے ٹائروں کے نیچے کی گرد بھی نہیں چھوڑ تے اسے بھی بطور تبرک لے جا تے ہیں ۔ جبکہ پیر صاحب کو با جماعت نماز میں کبھی کہیں ہیں نہیں دیکھا گیا، شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ ان کے برابر کو ئی کھڑا نہیں ہو سکتا، جہاں ٹھیرے ہوں اس چھت کے نیچے کو ئی ٹھیر نہیں سکتا۔ ایک مرتبہ ان کے سگے چھوٹے بھا ئی (مرحوم ) کو خلیفہ نے دوڑادیا،جس کو بعد میں پیر صا حب کو خود منانے کے لیئے جانا پڑا ؟
ان کا سالانہ ریونیوں کتنا اکھٹا ہوتا ہو گا! وہ اللہ ہی کوعلم ہے کہ جب ہم وہاں تھے، تو نذرانہ تو حسب ِ حیثیت ہو تا ہی تھا مگر ان کی ناشتے کی دعوت کر نے کرنے لیئے پچیس ہزار اور دوپہر کے کھانے کی فیس پچاس ہزار اور رات کے کھانے کی فیس ایک لاکھ تھی اب تو گرانی بڑھگئی ہے معلوم نہیں کیا ہوں ۔ اگر وہ چاہتے تو اس رقم سے اپنے مریدوں کے لیئے ایک فلا حی ٹرست قائم کر سکتے تھے ، اس کے تحت کالج اور اسکول بنا سکتے تھے اور بھی بہت کچھ کر سکتے تھے، چونکہ انہیں اسٹیبلشمنٹ لائی سیاست کے لیئے تھی لہذا وہ سن ١٩٥٠ سے سیا ست کر رہے ہیں اور خدمت خلق غالبا ً ان کے لیئے یا تو شجر ِممنوعہ ہے۔ یہ پھر یہ بھی ہو سکتا ہے کہ انہوں نے خود یہ ہی سو چا ہو کہ اگر علم بڑھا، تو انہیں پو چھے گا کون؟ اس لیئے خود ہی اس سلسلہ میں کچھ کر ناپسند نہ کر تے ہوں ۔ جبکہ یہ پیر صا حب ہمیں پاکستان کے پہلے وزیر اعظم نے عطا کیئے تھے جوکہ لندن میں پلے بڑھے تھے، وہ اب اٹھارہ لاکھ مریدوں کے پیشواہ ہیں جن میں سے بارہ لاکھ پاکستاںن میں تھے اور باقی انڈیا میں۔ یہ اس مسئلہ کا تدارک تھا کہ وزیر اعظم صاحب کو ایک سندھی لیڈر تنگ کر رہا تھا لہذا اس کا زوور توڑنا تھا۔ اس لیئے انہیں امپورٹ کر کے انہوں نے ان کو اپنے دست مبارک سے گدی نشین کر دیا ۔ وہ خوداور ان کے مرید آج تک قوم کے لیئے پیر ِ تسمہ پا بنے ہو ئے ہیں ۔ کیونکہ اٹھارہ لاکھ میں سے جوبارہ لاکھ پاکستان میں ہیں وہ قبضہ گروپ میں تبدیل ہو چکے ہیں جس کی جا ئیداد پسند آجا ئے اس پر قبضہ کر لیتے ہیں ۔ لہذا پنجاب کے خا صے لوگ ان علاقوں سے بھاگ گئے ،او نے پونے اپنی زمینیں بیچ کر یا چھوڑ کر وجہ یہ ہی کہ ان پر پیر صاحب کا سایہ ہے جو کہ انشا اللہ تا قیامت رہے گا وہ انصاف کو ترستے رہیں گے، البتہ وہاں کے جا کے صورت ِ حال بدلے تو بدلے؟
بہر حال یہ گدی دوسرے نمبر پر ہے۔ جب کہ پہلے نمبر پر جو گدی ہے اس کے ان سے بھی زیادہ مرید ہیں ۔ یعنی پچیس لاکھ جب ہم وہاں تھے۔ اور اب وہ خود خیر سے مرکزی وزیر ہیں ان کے صاحبزادے پہلے صوبائی وزیر تھے اب نہیں معلوم کہ وہ صوبائی وزیر ابھی ہیں یا نہیں۔وہ کیونکہ پہلے وہ دوبئی چلے گئے تھے وزارت چھوڑ کر کہ وہا ں پاکستان کی ایک کا رپو یشن کو شاید انہیں مہنگی زمین میں سرمایہ کا ری کے لیئے منتخب کر نا تھی اور انہیں اسکی رہنما ئی کر نا تھی۔ میڈیا کو اس کی بھنک پڑ گئی اور وہ اس سودے کے پیچھے پڑگئی۔ بات اتنی سی ہے کہ خود ان کے اوروالد صاحب کے جو کہ مرکزی وزیر ہیںاور ان کی والدہ صاحبہ اور والد صاحب کے خلاف میڈیا نے آسماں سر پر اٹھا رکھا۔ چر چا یہ ہے کہ ان تینوں کے بنک کھا تے میں کوئی دو دو کڑوڑ روپیہ جمع کرا گیا جو کہ انہوں نے اللہ کی دین سمجھ کر اپنے ذمہ جو بنک کے قرضے تھے وہ ایڈجسٹ کرا دیئے۔ مگر مصیبت یہ ہے کہ یہاں نیک نیتی کو بھی لوگ برا ئی میں لیتے ہیں اگر انہوں نے ایک ہاتھ سے گورنمنٹ کا مال لیکر دوسرے ہاتھ سے بنک کے قرضے میں وضع کرا دیا تو کیا برا کیا؟
ہم نے ایسا ایک واقعہ جب پاکستان بنا تھا تو اخبار میں پڑھا تھا کہ ایک سر کاری ملازم نے دس ہزار رو پیہ غبن کر کے مسجد بنا دی ۔ چونکہ وہ چھوٹا آدمی تھا وہ پکڑا گیا سزا ہو گئی ۔ مسجد کے بعد، کسی بھا ئی کی گردن قرضہ سے چھٹانا بڑا ثواب ہے اور خیرات گھر سے شروع ہے تو اگر کسی نے خود اپنے اور اپنے خاندان کی گردن چھڑا ئی تو کیا برا کیا۔
لوگ خوامخواہ بات کا بتنگڑ بنا دیتے ہیں کہ اب تک ان سے پوچھ گچھ کیوں نہیں کی گئی، گرفتار کیوں نہیں کیا گیا۔ پہلی بات تویہ ہے کہ اتنا آسان نہیں ہے جتنا کہنا ؟ دوسری بات یہ ہے کہ پولس یا ایف آئی اے والوں کے ہا تھ خالی ہوں تو وہ یہ کام کر یں؟ اول تو وہ ان تک پہونچ ہی نہیں سکتے اور کسی طرح پہونچ بھی جا ئیں تو دونوں ہا تھ ان کے پا ؤ ں چھونے میں لگ جا تے ہیں لہذاجب اس سے فا رغ ہوں تو وہ کوئی اور کام کریں ؟

عالمی اخبار