PDA

View Full Version : عالم ارواح سے کوئی دیکھ رہا ہوگا



سیما
06-22-2011, 04:04 AM
میاں منیر احمد
21جون کو محترمہ بے نظیر بھٹو کی سالگرہ منائی گئی، حکومت اور پیپلزپارٹی نے مشترکہ پروگرام ترتیب دیی، کیک کاٹے گئے ہلاّگلاّ ہوا کوئی رویا اور کسی نے بی بی کی تصویر گلے کے ساتھ لگائی گویا اس سالگرہ کے کئی رنگ تھے اگر کسی چیز کی کمی تھی تو وہ محترمہ کی وہ نصیحت تھی جو انہوں نے راولپنڈی میں اپنی زندگی کے آخری جلسے میں کی۔ اس جلسے میں محترمہ نے اپنے تمام امیدواروں سے حلف لیا تھا کہ وہ ایم این اے بن کر، حکومت میں وزیر بن کر کوئی کرپشن نہیں کریں گے۔ لیاقت باغ کے جلسے کے اسٹیج پر موجود راجا پرویز اشرف، زمرد خان سمیت ہر امیدوار نے کرپشن نہ کرنے کا حلف دیا‘ آج اس حلف کو 3سال ہونے والے ہیں محترمہ تو اس حلف کے ایک گھنٹے کے بعد دہشت گردی کے ایک انتہائی افسوسناک اور ہر لحاظ سے قابل مذمت واقعہ میں جاں بحق ہوگئیں ان کی الم ناک موت سے سیاسی ماحول پر آج تک افسردگی کی چادر چھائی ہوئی ہے مگر پارٹی کارکن ہیں کہ بڑے ہی جی دار ثابت ہوئے ہیں۔ اُدھر بی بی نے آنکھیں بند کیں اِدھر آصف علی زرداری کو انہوں نے اپنا لیڈر مان لیا جہاں آصف علی زرداری ہوں وہاں بھلا حلف کی پاس داری کا سوال اُٹھایا جاسکتا ہی؟ وہ سمجھتے ہیں کہ سیاسی اور اخلاقی معاہدے کوئی قرآن و حدیث نہیں ہوتے کہ ان پر عمل کیا جائے ۔ پیپلزپارٹی کی حکومت اپنے 3آئینی سال مکمل کرچکی ہی، 2سال باقی ہیں 2013ءمیں مارچ کے بعد کسی بھی وقت عام انتخابات ہو سکتے ہیں ۔آج سے ٹھیک 8 ماہ بعد اسے سینیٹ کے انتخابات کے معرکہ میں جانا ہے سینیٹ کے گزشتہ انتخابات میں سوائے ظاہر علی شاہ کے پیپلزپارٹی کی صوبہ خیبر پختون خوا کی پارلیمانی پارٹی کے گھوڑے اصطبل سمیت ایک گلزار خاندان کے ہاتھوں فروخت ہوگئے ۔نتیجے میں پارٹی کا کوئی رکن سینیٹر نہیں بن سکا بی بی نے بدعنوانی نہ کرنے کا حلف لیا تھا مگر مجال ہے کہ کوئی وزیر اپنے اس حلف پر قائم رہا ہو‘ بڑے پیمانے کی بدعنوانیاں تو ایک طرف چھوٹی چھوٹی کرپشن کی بے شمار کہانیاں ہیں۔ وزیر اطلاعات (اس وقت کی) قمر زمان کائرہ جناب سلمان تاثیر کے جنازے میں گئے جہاں ہر شخص کو سخت جامہ تلاشی کے بعد گورنر ہاوس جانے دیاگیا جنازے میں پارٹی کے کارکن تھے یا پھر مرحوم کے خاندان کے افراد اور احباب شریک تھے۔ وہاں کسی نے وزیر اطلاعات کی جیب کاٹ لی اور قیمتی موبائل لے اُڑا، وزیر صاحب نے نیا موبائل وزارت اطلاعات کے فنڈز سے خرید لیا، کرپشن دونوں جگہ ہوئی جنازے میں بھی اور وزارت میں بھی، دونوں جگہ پارٹی کے کارکن ہی کٹہرے میں کھڑے ہیں۔ کائرہ صاحب سے پہلے محترمہ شیری رحمن وزیر اطلاعات تھیں قاعدے کے مطابق وزیر کو 7 ہزار روپے تک موبائل فون کے بل کی ادائیگی کی اجازت ہے مگر ان کے فون کے بل ڈیڑھ لاکھ تک بھی گئے ہیں جو وزارت نے ادا کیے ہیں مگر ان بلوں کا خرچہ کسی اور مد میں ظاہر کیا گیا۔ ایوان صدر کی تو ہم بات ہی نہیں کرتے کہ وہاں ایک پوری ٹیم موجود ہے جس کا لیاقت باغ میں لیے جانے والے حلف سے کوئی واسطہ نہیں ۔یہی حال ایوان وزیر اعظم کا ہے۔ بجٹ اجلاس میں سابق وزیر حامد سعید کاظمی بھی تشریف لاتے رہے ہیں ۔ان سے پوچھا کہ کیا ہورہا ہے کیوں آپ باہر نہیں آرہے ؟بولے جب بات کروں گا تو باہر والے اندر ہوجائیں گے ‘وضع داری نبھا رہا ہوں اور کچھ نہیں.... پیپلزپارٹی والے بے چارے بہت ہی مظلوم ہیں انہیں اپنی تاریخ ہی معلوم نہیں، بجٹ اجلاس میں محترمہ فوزیہ وہاب اونچے لہجے میں خطاب کرتے ہوئے بجٹ کا دفاع کر رہی تھیں اور کہا کہ وہ سوال کرتی ہیں کہ بتایا جائے کہ جنرل ضیاءکے ریفرنڈم کی کس نے حمائت کی تھی اور ووٹ دینے والے کون تھے ؟ان کے سوال کا سادہ سا جواب تو یہی ہے کہ ضیاءکی قبر پر ننگے پاوں حاضری دینے والے بابر اعوان اور مرد مومن مرد حق کی مجلس شوری کے رکن جناب یوسف رضا گیلانی ہی بہتر بتا سکتے ہیں۔ ویسے تو اس وقت کی نیپ کے نوجوان رہنماءجناب آصف علی زرداری کو ان کے بارے میں پورا علم ہے ۔یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ آج چالیس وزراءکی کابینہ میں پیپلزپارٹی کے صرف چار وزیر ہیں، احمد مختار، خورشید شاہ، نوید قمر اور مخدوم امین فہیم ان کے سوا اور کون پارٹی کا وفاقی وزیر ہے ؟کوئی نہیں؟ لہٰذا اس حلف کی بات نہ کیجیے جو بے نظیر بھٹو نے لیا تھا۔ پارٹی بے نظیر بھٹو کی سالگرہ پر عوام کو کوئی تحفہ دے سکی ہے یا نہیں اس کا تو ہمیں علم نہیں البتہ لاہور ہائی کورٹ نے بے نظیر بھٹو کے سابق اسٹاف افسر اسلم چوہدی کی اس رٹ پیٹیشن پر فیصلہ محفوظ کرلیا ہے جس میں رحمن ملک، بابر اعوان، پرویز الٰہی کے خلاف محترمہ کے قتل کی ایف آئی آر درج کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔
جسارت