PDA

View Full Version : مقروض ترین ممالک ‘امریکا سرفہرست



سیما
06-25-2011, 03:41 AM
دنیا کو دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر خونریزی اورانسان دشمنی کی راہ پرلگانے والے بیشترممالک زوال کا شکار ہیں۔ جب بے گناہ اور معصوم انسانوں کا لہواتنا ارزاں ہوجائے کہ چنگیزخان اور ہلاکو خان بھی موجودہ دورکے ظالم حکمرانوں سے شرمانے لگیں۔ گوانتا ناموبے اور ابوغریب جیلوں میں انسانوں کے ساتھ انسانی حقوق کے عالمی چیمپئن ممالک کا سلوک اب تاریخ کا ایک سیاہ باب ہے۔ افغانستان میں معصوم افغانی بچوں کو ٹافیوں کے بہانے بلاکر ان پر فائرنگ کی گئی اور بکتربندگاڑیوں تلے انہیںکچلاگیا۔ اس قدر ظلم کے حامد کرزئی جیسا وفادار اوربرف جیسا ٹھنڈا شخص پکار اٹھاکہ بس اب بہت ہوچکا۔ یہی امریکا دنیاکے انتہائی مقروض ممالک میں14ہزار 392 ارب ڈالرکے ساتھ اول ‘ برطانیہ 8 ہزار 9 سو 81 ارب ڈالر کے ساتھ دوسرے ‘ جرمنی‘ 4 ہزار 7 سو 13 ارب ڈالر کے ساتھ تیسرے ‘ فرانس 4 ہزار 6 سو 98 ارب ڈالر کے ساتھ چوتھے نمبرپرہے۔ ہالینڈ 2 ہزار 3 سو 44 ارب ڈالر‘ جاپان 2 ہزار 462 ارب ڈالر‘ ناروے 2 ہزار 2 سو 32 ارب ڈالر‘ اسپین 2 ہزار ایک سو 66 ارب ڈالر کے ساتھ دنیا کے نمایاں مقروض ممالک ہیں۔ امریکا کا قرضہ کل عالمی قرضے 59 ہزار 90 ارب ڈالرکا 24.36 فیصد ہے‘ برطانیہ کا 15.20 فیصد‘ جرمنی کا 7.98 فیصد‘ فرانس کا 7.95 فیصد ہے۔ امریکا کا قرضہ اس کی مجموعی قومی آمدنی کا 66.8 فیصد ‘جرمنی کا 76.6 فیصد اٹلی کا 119.5 فیصد‘ فرانس کا 85.9 فیصد‘برطانیہ کا 80 فیصد‘ کینیڈا کا 82 فیصد‘ برازیل کا 58.2 فیصد‘ چین کا 17.5 فیصد‘ بھارت کا 55.3 فیصد‘ بیلجیئم کا 101.4 فیصد ہے۔ امریکا کے قرضوں میں یومیہ 4.5 ارب ڈالر کا اضافہ ہورہاہے۔ امریکا ہرایک ڈالرجو خرچ کررہاہے اس میں 60 سینٹ قرض کے حاصل کردہ ہیں۔ حال ہی میں امریکا کاایک اور بینک دیوالیہ ہوکر بندہوگیاہے۔دہشت گردی کے نام پر جو جنگ امریکا ااور اس کے حلیفوں نے دنیا پر مسلط کی ہے اس جنگ نے ایک آکٹوپس کی طرح دنیا بھرپر اپنی نحوست کے سائے گہرے کردیے ہیں۔ عالمی سرمایہ دارانہ نظام رفتہ رفتہ ناکامی کے سفرپرچل پڑاہے۔ فلاحی مملکت کا تصورکمزورپڑگیاہے۔ امیر اورغریب کے درمیان فرق بڑھتا جارہاہے اور تیزی سے بڑھتا ہوا یہ فرق دنیا کو مزید بدامنی کی طرف دھکیل رہاہے۔ افغانستان اور عراق جنگ میں امریکا نے جتنے وسائل خرچ کیے‘ جتنی رقم خرچ کی اگر اس کا 10 فیصد بھی دنیا میں غربت کے خاتمے کے لیے خرچ کیاجاتا تو آج دنیا پہلے سے کئی گنا زیادہ محفوظ اورپُرامن ہوتی۔ جہالت ‘ بیماریاں بے روزگاری اور معاشی عدم مساوات کے خلاف ایک وسیع جنگ کی ضرورت تھی لیکن امریکا اور اس کے اتحادیوں نے عالم اسلام کے خلاف جنگ چھیڑکر خود کو ایک ایسی مصیبت میں دھکیل دیاہے کہ اب خود امریکا کے اعلیٰ حلقوں سے یہ آوازیں آنے لگی ہیں کہ افغانستان کی جنگ جیتی نہیں جاسکتی۔ امریکی فوجی اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ انہیں افغانستان میں جہنم کا سامنا کرنا پڑرہاہے۔ یورپی فوجی دبے دبے لفظوں میں امریکیوں کو اس جنگ کا ذمہ دار ٹھہرارہے ہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ امریکا اپنی پالیسیوں پرنظرثانی کرے جنگ کے بجائے مذاکرات کی راہ اپنائے۔ دھونس‘ دھمکیوں‘ بمباریوں کے بجائے تجارت کو ذریعہ بنائے۔ مسلم ممالک بھی اپنے اندر تبدیلیاں لائیں۔ اہل دیانتدار اور باصلاحیت لوگوں کو آگے لایاجائے۔ اپنی آمدنی کا 20 فیصد تعلیم‘ ٹیکنالوجی اور انسانی ذرائع کی ترقی پر خرچ کیاجائے۔ پسماندگی کو دورکرنے کے لیے ہرممکن اقدامات کیے جائیں۔ تحمل برداشت اور رواداری کو فروغ دیاجائے۔ اسلام کا عالمی نظام اخوت اور محبت کا پیغام عام کیاجائے۔ امریکا اور اس کے اتحادی کشمیر ‘فلسطین اورچیچنیا کے مسئلے کے حل کے لیے اپنا اثر ورسوخ استعمال کریں۔ ٹونی بلیئر کی سالی مسلمان ہوچکی ہیں اب یہ خبریں بھی آرہی ہیں کہ خود ٹونی بلیئر مذاہب کا مطالعہ کررہے ہیں اور ان کا رجحان اسلام کی طرف ہے۔ گزشتہ کچھ عرصے میں مغرب کی نامور شخصیات نے اسلام قبول کیاہے۔ اہل مغرب میں بہت سی خوبیاں ہیں‘ مغرب کی خوبیوں کا مسلمانوں کو کھلے دل سے اعتراف کرنا چاہیے۔ اسلام رویوں میں توازن اور انصاف کا حکم دیتاہے۔ ہمیں ہرصورت میں حضوراکرمﷺ کی سیرت کو سامنے رکھتے ہوئے مظلوم کی مدد اور ظالم کا ہاتھ روکنے کے ساتھ ساتھ پرامن لوگوں تک اسلام کا پیغام پہچانے کی منظم کوششیں شروع کرنی چاہیے۔ انشاءاللہ اس کے مثبت نتائج برآمد ہوں گے۔

بشکریہ روزنامہ جسارت

بےباک
06-25-2011, 06:42 AM
سیما صاحبہ،حالات حاضرہ پر بہت اچھا تبصرہ شئیر کیا ہے آپ نے ،
جزاک اللہ