PDA

View Full Version : وہ کون ہے جو میرے گرجتے سکوت کا مدّعا نہ سمجھا



سیما
06-25-2011, 08:44 PM
وہ کون ہے جو میرے گرجتے سکوت کا مدّعا نہ سمجھا
میرے ارادوں کی چرخ گیری کو صرف میرا خدا نہ سمجھا

میرے تصوّر کی ظلمتوں میں نہ جھلملائیں بقا کی کرنیں
اگرچہ مَیں نے ابد کو اپنے خیال سے ماورا نہ سمجھا

میرے اُفق کی حدوں نے بڑھ کر سمیٹ لی کائنات ساری
یہ زندگی پارسائیاں تھیں، جنھیں کوئی پارسا نہ سمجھا

مَیں تیرے بندوں کی بادشاہی سے کچھ تو مانوس ہو چلا تھا
مگر یہ دل یعنی میرے احساس کا یہ فرمانروا نہ سمجھا

اُکھڑ چلی ہے اساسِ عالم، تو اس میں میرا قصور کیا ہے
جنونِ معجز نما نہ مانا ، جمالِ محشر ادا نہ سمجھا

بس اب ذرا احتیاط سے حکمِ بندگی دے، کہ مدّتوں تک
کِسی نے میری تڑپ نہ دیکھی، کوئی میری التجا نہ سمجھا

اگرچہ پائیں قدم قدم پر سرور و مستی کی بارگاہیں
تلاش کے کیف نے مگر انتہا کو بھی انتہا نہ سمجھا

کہیں بڑھاپے کی خوش خرام، کہیں جوانی کی نرم گامی
ندیم سا بندہء رضا بھی تیرا طریقِ عطا نہ سمجھا

بےباک
06-26-2011, 08:47 AM
اگرچہ پائیں قدم قدم پر سرور و مستی کی بارگاہیں
تلاش کے کیف نے مگر انتہا کو بھی انتہا نہ سمجھا

کہیں بڑھاپے کی خوش خرام، کہیں جوانی کی نرم گامی
ندیم سا بندہء رضا بھی تیرا طریقِ عطا نہ سمجھا
احمد ندیم قاسمی صاحب کی شاعری سچ میں دل کو چھونے والی ہے،
بہت خوب اچھی شاعری پیش کی ،
زبردست ،

تانیہ
06-27-2011, 01:47 PM
واہ
بہت خوب شیئرنگ ہے
بہت شکریہ