PDA

View Full Version : وکی لیکس نےخفیہ خبریں لیک کر دیں



بےباک
11-29-2010, 04:37 AM
وکی لیکس بم پھٹ گیا ، سفارتی تباہی شروع ، پاکستان، سعودی عرب،ایران اور القاعدہ کا خصوصی ذکر ،زندگیاں خطرے میں پڑ گئیں :امریکہ

28 نومبر 2010
لندن(مانیٹرنگ ڈیسک)عراق اورافغانستاں جنگ میں امریکی حکومت اور افواج کے سیاہ کارنامے منظر عام پر لانے سے شہرت حاصل کرنے والی انٹیلی جنس ویب سائٹ وکی لیکس نے پاکستان ، ایران ،سعودی عرب اور امریکہ سمیت کئی ممالک کے بارے میں خفیہ سفارتی دستاویزاتجاری کردی ہیں جبکہ امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نےان انکشافات کی مذمت کی ہے۔ وکی لیکس پر جاری ہونے والی خفیہ دستاویزات کے مطابق القائدہ کے اہم مالی مدد گار سعودی باشندے ہیں۔ وکی لیکس کے ساتھ سفارتی دستاویزات فرانس کے اخبار لامونڈے کی ویب سائٹ پر بھی جاری کی گئی ہیں۔ دستاویزات میں سعودی عرب کے بادشاہ پرالزام لگایا گیا ہے کہ انہوں نے امریکہ سے ایران پرحملہ کرنے اورایران کی جوہری تنصیبات تباہ کرنے کے لئے کہا تھا۔جاری کی جانے ڈھائی لاکھ دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ امریکہ نے پاکستان سے ایٹمی ےنصیبات کے معائنے کا مطالبہ کیا تھا جو پاکستان نے مسترد کردیاتھا. دستاویزات میں بتایا گیا ہے کہ سعودی عرب کے شاہ عبداللہ نے پاکستان کی ترقی میں صدر زرداری کو رکاوٹ قرار دیا تھا.وکی لیکس نے امریکی وزارتِ خارجہ کی ایک ایسی دستاویز شائع کی ہے جس میں سعودی فرمانروا شاہ عبداللہ کے پاکستانی صدر آصف علی زرداری اور عراقی وزیرِ اعظم نوری المالکی پر طنز کرنے کا ذکر کیا گیا ہے۔اور ایک دستاویز میں شاہ عبداللہ نے پاکستان صدر آصف علی زرداری کو ملک کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیا ہے۔نیویارک ٹائمز میں شائع ہونے والی اس دستاویز کے مطابق سعودی فرمانروا نے صدر زرداری کا حوالا دیتے ہوئے کہا تھاکہ،’اگر سر ہی گلا سڑا ہو تو اس کا اثر سارے جسم پر پڑتا ہے۔‘اسی دستاویز میں عراقی وزیر اعظم نوری المالکی کے بارے میں بھی شاہ عبداللہ سے ایسے ہی کلمات منسوب کیے گئے ہیں۔ اس دستاویز کے مطابق شاہ عبداللہ نے ایک عراقی اہلکار سے کہا تھا کہ وہ ان سے اور عراق سے بہت محبت کرتے ہیں لیکن نوری المالکی کے بارے میں ان کے دل میں ایسے کوئی جذبات نہیں ہیں۔پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ پاکستان نے امریکی ماہرین کو ایٹمی پروگرام کا معائنہ کر نے کی اجا زت دینے سے انکار کر دیا تھا۔دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ نائن الیون کے حملوں کو تقریباًدس سال کا عرصہ گزرنے کے بعد بھی امریکہ کے باقی دنیا کے ساتھ تعلقات میں دہشت گردی کا سایہ بہت گہرا ہے۔ان دستاویزات کے مطابق اوباما انتظامیہ ابھی تک اس بات کا فیصلہ نہیں کر سکی کہ کون سے پاکستانیوں پر بھروسہ کیا جا سکتا ہے اور کن پر نہیں اور امریکہ پاکستان میں بااعتماد ساتھیوں کی تلاش میں ہے۔اسی پیغام میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ لاہور میں امریکی قونصل خانے کے باہر گھومنے والے رکشہ ڈرائیور کے بارے میں یہ معلوم نہیں ہے کہ آیا وہ اپنی سواری کا انتظار کر رہا ہے یا قونصل خانے کی طرف جانے والی سڑک کی نگرانی کر رہا ہے۔دستاویزات کے مطابق دسمبر میں جاری کی جانے والے ایک امریکی پیغام میں کہا گیا ہے کہ سعودی باشندے اب بھی القاعدہ کی طرح کی شدت پسند تنظیموں کے سب سے بڑے مالی سرپرست ہیں۔ اسی طرح ایک اور پیغام میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں خلیجی ریاست قطر کے کردار کو خطے میں بدترین قرار دیا گیا ہے۔پیغام کے مطابق قطر کے خفیہ ادارے معروف شدت پسندوں کے خلاف بھی کارروائی کرنے سے ہچکچاتے ہیں تاکہ ان پر امریکہ کا ساتھ دیتے کا الزام نہ لگایا جا سکے اور انہیں اس کے نتائج نہ بھگتنے پڑیں۔وکی لیکس کی دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ امریکی سفارتکار احمدی نژاد کو ہٹلر اور حامد کرزئی کو پاگل سمجھتے ہیں ۔دستاویزات کے مطابق امریکی حکام افغان صدر کو دماغی خلل کا شکار شخص سمجھتے ہیں جبکہ فرانسیسی صدر کو برہنہ بادشاہ سمجھا جاتا ہے ۔وکی لیکس کے مطابق ایران نے یورپ تک مار کرنے والے میزائل شمالی کوریا سے حاصل کیے ۔دستاویز کے مطابق افگان نائب صدر گزشتہ سال اپنے دورہ متحدہ عرب امارات کے دوران 52ملین ڈالر ساتھ لے کر گئے۔امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے امریکی سفاتکاروں کو بیرون ملک جاسوسی کرنے پر زور دیا ۔دستاویزات میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان نے 2009ءمیں امریکی ماہرین کو ایٹمی تنصیبات کے معائنے کی اجازت نہیں دی جبکہ 2007ءمیں امریکہ نے پاکستان کی ایٹمی تنصیب سے فرزودہ یورینیم نکالنے کی ناکام کوشش بھی کی تھی۔وکی لیکس کے مطابق امریکہ نے دشمنوں کے ساتھ ساتھ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون اور دوست ملکوں کی نگرانی و جاسوسی بھی کروائی۔ وکی لیکس کے مطابق ایران دور مارمیزائل تیار کر سکتا ہے جس پر امریکہ کو تشویش ہے۔ امریکہ نے اقوام متحدہ کی قیادت کی جاسوسی کے لئے پورا نیٹ ورک بنایا ہوا ہے۔ بان کی مون کے علاوہ چین ، روس، فرانس ارو برطانیہ تک کے سفارتکاروں تک کی جاسوسی کروائی جاتی ہے۔ وکی لیکس میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ امریکہ اس بات سے بھی پریشان رہا ہے کہ پاکستان سے ایٹمی مواد غائب ہو کر ایٹم بم کی تیاری میں استعمال ہو سکتا ہے۔ منظر عام پر آنے والی دستاویزات کے مطابق کئی ممالک میں امریکی سفیروں اور سفارتی عملے کو ان ملکوں کے سیاستدانوں ،فوجیوں، تاجروں ، اہم افراد اور تنظیموں کا ڈیٹا اکٹھا کر کے ان کی جاسوسی کرنے کی ذمہ داریاں سونپی گئیں ۔ وکی لیکس کے مطابق یمن کی صدر نے امریکی جنرل پیٹریاس سے ملاقات میں کہا تھا کہ وہ ہتھیاروں اورمنشیات کی سمگلنگ سے پریشان ہیں۔ وسکی کی سمگلنگ سے پریشان نہیں ہیں وسکی اگر اچھی ہے تو سمگل کی جا سکتی ہے۔وکی لیکس میں کہا گیا ہے کہ امریکہ نے جرمن چانسلر انجیلا مرکل کو کمزور سربراہ قراردیا۔ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی سیکیورٹی پر امریکہ اور برطانیہ کو سخت تشویش ہے ۔ سفارتی دستاویزات میں امریکہ کی طرف سے برطانوی وزیر اعظم اور برطانیہ کے افغانستان میں فوجی آپریشن پر تنقید کی گئی ہے اورکہا گیا ہے کہ برطانیہ کے شاہی خاندان کے ایک فرد کا رویہ غیر مناسب تھا۔یمن میں القاعدہ ٹھکانوں پر امریکی حملوں کو یمنی حکومت کی جانب سے چھپایا جا رہاہے۔ یمن کے صدرنے ملک میں موجود القائدہ کے ٹھکانوں پر ہونے والے امریکی حملوں کو تسلیم کیا ہے۔وکی لیکس کے مطابق دستاویزات میں روس اور چین میں امریکی سفارتی عملے کی طرف سے میزبان ملکوں پر کڑی تنقید کی گئی ہے۔ وکی لیکس سے دستاویزات کے اجرا پرامریکہ نے اس اقدام کو لاپرواہی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس اسے دوست ممالک کے ساتھ امریکہ کے تعلقات متاثر ہونگے ۔پنٹاگون کے ترجمان بلیک وٹمین نے وکی لیکس کی جانب سے جاری انکشافات پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکہ کے فوجی نیٹ ورک کی سیکیورٹی مضبوط بنائی جا رہی ہے اور مستقبل میں خفیہ دستاویزات کے اجراءجیسی کارروائیوں کی روک تھام کیلئے متعدد اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے اقدامات کیے جا رہے ہیں کہ کمپیوٹر سے اہم موادڈءون لوڈ نہ کیا جا سکے ۔وائٹ ہاﺅس نے بھی خفیہ دستاویزات کے اجراءکو لاپرواہی اور خطرناک اقدام قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اس اقدام سے زندگیوں کو خطرے میں ڈال دیا گیا ہے ۔ وکی لیکس کے اجرا سے پہلے ہی سفارتی ماہرین نے خیال ظاہر کیا تھا کہ ان دستاویزات کے افشا کی وجہ سے امریکی انتظامیہ میں گھبراہٹ پیدا ہو گئی ہے جبکہ ابھی سفارتی ڈائنامائیٹ پھٹنے کو ہے اور اس کے نتیجے میں صدر زرداری، حامد کرزئی اور روسی صدر پپوٹن مشکل میں پڑ سکتے ہیں۔ وکی لیکس کی جانب سے امریکہ کی تقریباً 30لاکھ خفیہ دستاویزات جاری کرنے کے فیصلے نے امریکہ اور اتحادی ممالک میں ہلچل مچا دی ۔ زیادہ تر دستاویزات اتحادی ممالک میں امریکی سفارتخانوں کی جانب سے واشنگٹن بھیجے گئے ٹیلی گرافز پر مشتمل ہیں ۔ ان میں اتحادی ممالک کے متعلق امریکہ کے پوشیدہ خیالات اور باہمی روابط کا انکشاف ہیں جس سے امریکہ اور کئی ممالک کے درمیان تناﺅ پیدا ہوسکتا ہے۔ برطانوی نیوز ایجنسی کے مطابق ان دستاویزات میں مختلف ممالک کے سربراہان کی بدعنوانی میں ملوث ہونے کے بارے میں بھی معلومات ہیں۔ امریکی افواج کے سربراہ ایڈمرل مائیک مولن نے وکی لیکس کی انتظامیہ سے کہا وہ خفیہ دستاویزات منظر عام پر نہیں لائے کیونکہ اس سے امریکی فوج اور امریکہ کے حامیوں کی جانیں خطرے میں پڑ جائیں گی۔ امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ انکشافات سے امریکی ملٹری آپریشن متاثر ہونے کے ساتھ ساتھ بے شمار زندگیاں اور عالمی امن خطرے میں پڑ جائے گا۔اٹلی کے وزیر خارجہ فرینکو فریٹنی نے کہا دستاویزات کے اجرا سے پہلے کہا کہ وکی لیکس سے امریکی دستاویزات کا اجراءسفارتی تعلقات کے لئے نائن الیون ثابت ہو گا اور اس سے ملکوں کے درمیان باہمی اعتماد کی دھجیاں اڑجائیں گی

بےباک
11-30-2010, 03:06 AM
ایرانی صدر نے وکی لیکس دستاویزات میں ایران کے جوہری پروگرام کو تباہ کرنے کے بارے میں عرب ملکوں کے سربراہوں کے بیانات کو محض پروپیگنڈا قرار دیا۔

ایرانی ٹیلی وثرن پر ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ کسی کو بھی ان معلومات پر اپنا وقت ضائع نہیں کرنا چاہیے۔

’ ہم یہ نہیں سمجھتے کے یہ خفیہ معلومات افشاء ہوگئیں، بلکہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ یہ قصداً شائع کرائی گئیں ہیں۔‘

وکی لیکس ویب سائٹ پر شائع کردہ معلومات میں شامل پیغامات سنہ 1966 سے فروری سنہ 2010 کے درمیان بھیجے گئے ہیں اور ان میں دنیا بھر کے ممالک میں واقع دو سو چوہتر امریکی سفارتخانوں کی جانب سے واشنگٹن میں امریکی محکمۂ خارجہ کو بھیجی گئی معلومات شامل ہیں۔

ایرانی صدر محمود احمدی نثراد نے کہا ہے وکی لیکس میں شائع ہونے والے تمام سفارتی پیغامات دراصل ایران کے خلاف نفسیاتی جنگ ہیں۔

انھوں نے کہا وکی لیکس کی معلومات ایران کے عرب ملکوں کے ساتھ سفارتی تعلقات پر اثر انداز نہیں ہوگی۔

بےباک
12-01-2010, 12:57 AM
ان دستاویزات میں سے ایک میں سعودی فرمانروا شاہ عبداللہ کے پاکستانی صدر آصف علی زرداری اور عراقی وزیرِاعظم نوری المالکی پر طنز کرنے کا ذکر کیا گیا ہے۔

رواں سال گیارہ فروری کی ایک دستاویز کے مطابق سعودی شاہ عبداللہ کا ماننا ہے کہ پاکستانی صدر آصف علی زرداری پاکستان میں دہشتگردوں کے محفوظ ٹھکانوں کے خاتمے کے لیے کارروائی میں بنیادی رکاوٹ ہیں۔ دستاویز کے مطابق سعودی فرمانروا نے صدر زرداری کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’اگر سر ہی گلا سڑا ہو تو اس کا اثر سارے جسم پر پڑتا ہے‘۔

شاہ عبداللہ نے جنرل جونز سے کہا کہ امریکی ترقیاتی مدد سے پاک فوج کا اعتماد حاصل ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ پاک فوج بجائے اس کے کہ وہ کام کرے جو اسے’کرنا چاہیے‘ پاکستان کی سیاست سے امریکہ کی خاطر علیحدہ ہے۔

اسی طرح شاہ عبداللہ کے بارے میں ایک اور پیغام میں کہا گیا ہے کہ جب شاہ عبداللہ اپنے ہم منصب پر اعتماد کرنا چھوڑ دیتے ہیں جیسا کہ نوری المالکی اور آصف زرداری کے معاملے میں ہوا ہے تو ان کی ذاتی ناپسندیدگی دو طرفہ تعلقات میں اہم رکاوٹ بن جاتی ہے۔
اسی طرح تئیس جولائی دو ہزار نو کے ایک دستاویز میں ابو ظہبی کے ولی عہد محمد بن زید کا کہنا ہے ’زرداری بدعنوان ہے لیکن خطرناک نہیں۔ اس کے مقابلے میں نواز شریف خطرناک ہے بدعنوان نہیں۔یہ پاکستان کی سیاست ہے۔ نواز شریف پر وعدہ نبھانے کا بھروسہ نہیں کیا جا سکتا‘۔

اس دستاویز کے مطابق ولی عہد نے کہا کہ ایک نئی شخصیت پاکستان میں سامنے آ سکتی ہے لیکن اس وقت تک متحدہ عرب امارات وزیراعظم کی حمایت جاری رکھے گا۔

دوسری جانب ایک دستاویز میں پاکستان ایٹمی پروگرام کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ امریکہ نے سنہ دو ہزار سات سے پاکستان کا افزودہ یورینیم اپنے قبضے میں لینے کا ایک خفیہ منصوبہ بنایا ہوا ہے۔ تاہم یہ منصوبہ ابھی تک کامیاب نہیں ہوا ہے۔ امریکی حکام کو ڈر ہے کہ یہ افزودہ یورینیم غلط ہاتھوں میں جا سکتا ہے۔

سنہ دو ہزار نو مئی میں اس وقت کی امریکی سفارتکار این ڈبلیو پیٹرسن نے ایک خفیہ دستاویز میں کہا پاکستان امریکی ماہرین کو پہلے سے طے شدہ شیڈول کے مطابق ایٹمی تنصیبات کا دورہ کرنے کی اجازت نہیں دے رہا ہے۔ انہوں نے مزید لکھا کہ ایک سرکاری افسر نے کہا ’اگر پاکستانی میڈیا کو پتہ چل گیا کہ یورینیم قبضے میں لے لیا گیا ہے تو وہ اس عمل کو اس بات کے مترادف سمجھیں گے کہ امریکہ نے پاکستان کے ایٹمی ہتھیار قبضے میں لے لیے ہیں‘۔

ان دستاویزات کے مطابق اوباما انتظامیہ ابھی تک اس بات کا فیصلہ نہیں کر سکی کہ کون سے پاکستانیوں پر بھروسہ کیا جا سکتا ہے اور کون سے عناصر پر نہیں۔

اس پیغام میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ لاہور میں امریکی قونصل خانے کے باہر گھومنے والے رکشہ ڈرائیور کے بارے میں یہ معلوم نہیں ہے کہ آیا وہ اپنے کرائے کا انتظار کر رہا ہے یا قونصل خانے کی طرف جانے والی سڑک کی نگرانی کر رہا ہے۔

بشکریہ بی بی سی ،اردو سروس

بےباک
12-01-2010, 04:00 AM
خفیہ معلومات کی افشاء کے بعد عالمی شہرت کے بام عروج تک پہنچنے والی ویب سائٹ "وکی لیکس" کے بانی جولیان اسائنچ نے کہا ہے کہ وہ وکی لیکس کےذریعے مزید خفیہ رپورٹیں شائع کرنے والے ہیں۔آئندہ دنوں میں منظر عام پر آنے والی خفیہ معلومات میں امریکا کے کسی بڑے بنک کو بھی نشانہ بنایا سکتا ہے۔

العربیہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مسٹراسائنچ نے ان خیالات کا اظہار معروف امریکی بزنس میگزین"فوربز" کو انٹرویو میں کیا ہے۔ میگزین کے آن لائن ایڈیشن میں بتایا گیا ہے کہ وکی لیکس کے بانی نے ایسے کسی بڑے امریکی بنک کا نام نہیں بتایا جس کے بارے میں وہ خفیہ راز افشا ء کرنے والے ہیں۔ ان کا یہ انٹرویو میگزین کے 20 دسمبر کے پرچے میں شائع کیا جائے گا۔

رپورٹ کے مطابق امریکی بزنس میگزین نے وکی لیکس کے بانی سے یہ انٹرویو تین ہفتے قبل لندن میں لیا۔یہ ایک دو گھنٹے پرمحیط طویل انٹرویو ہے جس میں انہوں نے کئی اہم انکشافات کیے ہیں۔ اپنےانٹرویو میں انہوں عالمی سفارت کاری کے خفیہ پیغامات پر مشتمل اڑھائی لاکھ دستاویزات کی اشاعت کا اعلان بھی کیا ہے۔ یہ خفیہ رپورٹیں تین روز قبل وکی لیکس پر جاری کی گئیں جس سے دنیا بھر میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔

فوربز کے نامہ نگار اینڈی گریمبرگ کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے وکی لیکس کے بانی سربراہ نے کہا کہ "ہمارے پاس خفیہ معلومات کا ایک بڑا ذخیرہ موجود ہے۔ یہ معلومات صرف عراق اور افغانستان جنگوں کی رپورٹوں تک محدود نہیں بلکہ ہزاروں کی تعداد میں خفیہ معلومات میں اسپیشل سیکٹر سے متعلق اہم راز بھی موجود ہیں۔"۔

جولیان اسانچ کے بہ قول" وکی لیکس جلد یہ واضح کر دے گا کہ امریکی بنکوں میں کام کیسے کیا جاتا ہے اور بنکوں کے اندر کی اصل شکل کیا ہے اور انتظامی سطح پر بنکوں کا نظام کس طرح چلایا جاتا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ بنکوں سے متعلق خفہہ معلومات بنکنگ سسٹم میں اصلاحات اور تحقیقات کا راستہ کھولیں گی "۔

وکی لیکس کےبانی نے اعتراف کیا ہے کہ ان کے پاس پیٹرولیم مصنوعات کی دنیا کی تیسری بڑی کمپنی "برٹش پٹرولیم" کے بارے میں خفیہ معلومات کا بھی ذخیرہ ہے تاہم ان اطلاعات میں بیشتر دستاویزات اصلی نہیں۔ وہ ان کی اشاعت سے قبل ماہرین کے ذریعے ان کی مکمل جانچ پڑتال کرائیں گے"۔ خیال رہے کہ برطانیہ کی "بی پی" برٹش پٹرلیم " اکسن موبل" اور 'شیل" کے بعد پٹرولیم مصنوعات کی دنیا کی تیسری بڑی کمپنی سمجھی جاتی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں جولیان اسانچ نے کہا کہ ان کے پاس خفیہ معلومات کے ذخیرے میں انٹیلی جنس کے اداروں اور ٹیکنالوجی کے شعبے سے متعلق بھی دستاویزات موجود ہیں۔ پیش آئندہ قسط میں انہیں بھی شائع کیا جائےگا۔ ان کا کہنا تھا کہ آئندہ کی خفیہ معلومات میں امریکا کے بارے میں 04 ہزار خفیہ دستاویزات ہوں گی، ان میں امریکا کے کسی مرکزی بنک کے بارے میں سب سے زیادہ معلومات ہو سکتی ہیں۔

بےباک
12-01-2010, 04:06 AM
وکی لیکس۔ امریکا میں کھلبلی

ہالینڈ کی ویب سائیٹ وکی لیکس نے گزشتہ دنوں 90 ہزار خفیہ دستاویزات افشا کردی ہیں جس سے امریکا میں کھلبلی مچ گئی ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ امریکی حکام نے اس کی مذمت کرنے اور اسے مجرمانہ فعل قرار دینے کے باوجود ان رپورٹس کی تردید نہیں کی گئی ہے۔ یہ تو ظاہر ہے کہ مذکورہ دستاویزات امریکا ہی کے پاس تھیں جن کو وکی لیکس نے اڑالیا۔ وکی لیکس کے مالک جولین اسانجی کو دنیا کا سب سے بڑا ہیکر قرار دیا جاتا ہے لیکن اس نے اپنے طور پر یہ دستاویزات تیار نہیں کیں افغانستان کی جنگ میں امریکا اور اس کے صلیبی اتحادیوں کا جو گھناﺅنا کردار ہے وہ سب کو معلوم ہے۔ لیکن جس طرح کھل کر دنیا کے سامنے آیا ہے، اس سے امریکی حکام دہشت زدہ ہوگئے ہیں چنانچہ امریکی افواج کے سربراہ ایڈمرل مائیک مولن نے گزشتہ منگل کو اپنے خصوصی طیارے میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اس کا اعتراف بھی کیا ہے کہ ان ہزاروں دستاویزات کے افشانے نہ صرف مجھے خوفزدہ کردیا ہے بلکہ افغانستان میں برسرپیکار ہمارے فوجیوں کی زندگی بھی خطرے میں پڑگئی ہے‘ آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کی جائے گی۔ انہوں نے فرمایا کہ کچھ لوگ اس بات کا خیال نہیں رکھتے کہ کس قسم کی معلومات افشا کی جاسکتی ہیں پینٹاگون کے ترجمان جیف مورل نے کہا کہ یہ ہمارے سر پر اچانک آپڑی ہے اور ہم یہ جاننے کی کوشش کررہے ہیں کہ ان معلومات میں کوئی ایسی بات تو نہیں جو ہماری فورسز کو نقصان پہنچاسکتی ہو‘ نقصان کا اندازہ لگانے کے لیے ہم 24 گھنٹے کام کررہے ہیں۔ان میں سے کسی نے بھی یہ نہیں کہا کہ معلومات غلط ہیں۔ تاہم غیرمصدقہ کہا گیا ہے ۔ ان کو بس یہ فکر ہے کہ افغانستان میں امریکا اور اس کے صلیبی حواریوں کی زندگی خطرے میں پڑگئی ہے۔ یہ بھی عجیب بات ہے کہ ان درندوں کو دستاویزات سے خطرہ محسوس ہورہا ہے گویا اب تک وہ افغانستان میں بڑے محفوظ ہیں اور ان کی زندگی کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ جس رفتار سے امریکی اور ناٹو فوج کے اہلکار مارے جارہے ہیں وہ اس کا ثبوت ہے ،کہ یہ کتنے محفوظ اور خطرات سے دور ہیں۔ وہ افغان مجاہدین جو اپنے وطن کی آزادی اور صلیبی تسلط سے نجات کے لیے اپنی جان ہتھیلی پر لیے پھر رہے ہیں ان میں سے بہت کم ہی ان دستاویزات کامطالعہ کرسکیں گے اور ان کو اس کی ضرورت بھی نہیں کہ ان کے سامنے دستاویزات نہیں‘ زمینی حقیقتیں ہیں۔ ان دستاویزات میں امریکی اور ناٹو افواج کی جن وحشیانہ حرکتوں اور مظالم کا ذکر ہے ان سے وکی لیکس سے زیادہ یہ مجاہدین واقف ہیں کہ وہ ان حالات سے گزر رہے ہیں۔ محض ان دستاویزات کے افشا سے مائیک مولن کو خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں‘ صلیبی افواج کو مذکورہ معلومات سے نہیں اپنی حرکتوں سے اور ایک آزاد و خود مختار ملک پر طاقت کے ذریعہ قبضہ جمائے رکھنے سے نقصان پہنچ رہا ہے اور پہنچتا رہے گا۔
وکی لیکس کی افشا کی ہوئی دستاویزات میں امریکی اور ناٹو صلیبی افواج کی افغانستان میں بہیمیت کی مثالیں دنیا کے لیے نئی نہیں ہیں۔ ایسے کتنے ہی واقعات سامنے آچکے ہیں کہ امریکی اور ناٹو افواج نے بغیر کسی تحقیق و تصدیق کے عام شہریوں کے کسی مجمع پر موت برسادی‘ قبرستانوں میں تدفین کے دوران جمع ہونے والوں یا شادی کی کسی تقریب کے شرکاءپر بم برسادیے۔ ناکامی سے غضب ناک غیرملکی فوجیوں نے گھروں میں گھس کر عصمت دری کی۔ ہلاک ہونے والے بے گناہ شہریوں کی تعداد بہت کم ظاہر کی گئی اور یہ رپورٹ بھی آچکی ہے کہ صلیبی درندوں نے نیوکلیئر اسلحہ بھی استعمال کیا۔ لیکن ان میں نئی بات کون سی ہے۔ کیا لوگوں کو یاد نہیں کہ عراق کی ابوغرائب جیل میں بے بس عراقی قیدیوں کے ساتھ کس درندگی کا مظاہرہ کیا گیا تھا۔ ان پر کتے اورفوجی وردی میں ملبوس بدکار عورتیں چھوڑی گئیں۔ فلوجہ کا محاصرہ کرکے قتل عام کیا گیا۔ بصرہ میں برطانوی فوج نے وحشت کا مظاہرہ کیا۔ عام شہریوں پر وہاں بھی فضا سے گولیاں چلائی گئیں جس کی وڈیو منظر عام پر آچکی ہے جبکہ عراق پر حملے اور اس کی بربادی کا کوئی جواز ہی نہیں تھا۔ جواز تو افغانستان کی تباہی اور لاکھوں کے قتل عام کا بھی نہیں سوائے اس کے کہ یہ غیور مسلمانوں کا ایک ایسا ملک تھا جہاں کے لوگ اپنی زندگی اور معاشرے پر اسلام نافذ کرنا چاہتے تھے۔ مکار دشمن کہتاہے کہ ہم افغان عوام کا قتل عام کرکے یہاں جمہوریت روشناس کرارہے ہیں۔
وکی لیکس سے جاری کردہ دستاویزات کا ایک پہلو پاکستان اور بالخصوص آئی ایس آئی پر الزامات ہیں۔ واضح رہے کہ یہ دستاویزات اور رپورٹیں امریکا نے جمع کرکے رکھی ہوئی تھیں۔ ان کا تعلق 2004 ءسے 2009 ءتک کے واقعات سے ہے۔ یہ الزام بھی نیا نہیں کہ آئی ایس آئی طالبان کی مدد کررہی ہے لیکن اہم پہلو یہ ہے کہ اسی عرصہ میں جنرل اشفاق پرویز کیانی آئی ایس آئی کے سربراہ رہے ہیں اور ان الزامات کی زد براہ راست ان پر پڑتی ہے۔ دوسری طرف وہ امریکا کے پسندیدہ بھی ہیں اور ان کی مدت ملازمت میں توسیع کا خیرمقدم بھی کیا گیا ہے۔ لیکن امریکا نے ان کے خلاف بھی مواد جمع کر کے رکھا ہوا تھا۔ آئی ایس آئی اور پاکستان کے خلاف ان دستاویزات کا ماخذ افغان ایجسنی نیشنل ڈائریکٹوریٹ آف سیکورٹی (این ڈی ایس) ہے جو شمالی اتحاد کے تسلط میں ہے اور شمالی اتحاد سوویت یونین کے خلاف افغان عوام کے جہاد میں سوویت یونین کے ساتھ تھا۔ اب یہ امریکا اور بھارت کے ساتھ ہے اور پاکستان سے پرانی دشمنی نکال رہا ہے۔ آئی ایس آئی پر افغان طالبان کی مدد کرنے کا الزام لگانے والوں کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ اس سے پاکستانیوں کی اکثریت کو خوشی ہوگی۔دستاویزات کا افشا امریکا کے لیے خطرہ ہو تو ہو‘ پاکستان پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

علی عمران
12-01-2010, 06:05 PM
واہ کمال ہے........... وکی بھی لیک ہونے لگ گیا........ پہلے تو گھڑا، پائپ، نلکا وغیرہ لیک ہوتا تھا. ہاہاہاہاہاہاہا

بےباک
12-02-2010, 09:33 AM
وکی لیکس کی دستاویزات اور پس پردہ عوامل

وکی لیکس کی جانب سے ڈھائی لاکھ سے زائد خفیہ دستاویزات کی اشاعت کے بعد اس پر مختلف طرح کے ردعمل سامنے آ رہے ہیں اور اس اقدام کا مختلف زاویوں سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔
وکی لیکس نے سب سے پہلے عراق اور افغانستان میں امریکی مظالم کا انکشاف کیا تھا اور اس بارے میں مختلف انکشافات کیے تھے اور اب اس نے ایک قدم آگے بڑھ کر علاقے کے ممالک خاص طور پر مسلم ممالک کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کرنے کی اور انہیں ایک دوسرے کے مقابل کھڑا کرنے کی کوشش کی ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کےصدر ڈاکٹر محمود احمدی نژاد نے اسے شیطنت سے تعبیر کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بےبنیاد دستاویزات ہیں اور ان کی کوئي قانونی حیثیت نہیں ہے۔
بعض مبصرین کا خیال ہے کہ وکی لیکس پر خفیہ دستاویزات کی اشاعت امریکہ کے خفیہ اداروں کا سوچا سمجھا منصوبہ ہے اور وہ اس کے ذریعے سے جہاں دوسرے مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں وہیں وہ امریکہ کی داخلی مشکلات و مسائل سے رائے عامہ کی توجہ بھی ہٹانا چاہتے ہیں اور یہ ان خفیہ اداروں کا پرانا حربہ ہے۔
سامعین اس میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے کہ گيارہ ستمبر کے مشکوک واقعات کے بعد امریکہ نے دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ کے بہانے اسلام اور مسلمانوں کو نشانے پر رکھا ہوا ہے اور اسی بہانے سے اس نے عراق اور افغانستان پر قبضہ کیا اور اب وہ دیگر اسلامی ملکوں پر نظریں گاڑے ہوئے ہے اور اپنے مذموم عزائم کی تکمیل کے لیے مختلف سازشوں میں مصروف ہے۔
امریکہ علاقے کے عرب ملکوں کے سامنے ایران کو ایک خطرے کے طور پر پیش کر رہا ہے اور اسی بہانے سے اس نے کئی عرب ممالک کو دسیوں ارب ڈالر کے ہتھیار بیچے ہیں اور اس طرح اس کے ہتھیار سازی کے کارخانے دھڑا دھڑ ہتھیار بنا رہے ہیں اور اس سے اس کی اقتصادی مشکلات بھی کم ہو رہی ہیں اور امریکیوں کو روزگار بھی مل رہا ہے لیکن اس کی قیمت مسلمان ملکوں کے عوام کو چکانی پڑ رہی ہے۔
جب کہ تاریخ گواہ ہے کہ ایران نے کبھی بھی خطے میں جارحیت کا ارتکاب نہیں کیا ہے اور وہ پرامن بقائے باہمی اور اچھی ہمسائیگی پر زور دیتا ہے لیکن علاقے سے باہر کی بیرونی طاقتیں خطے میں امن کے قیام کو اپنے مفادات کے لیے خطرناک سمجھتی ہیں اور مختلف سازشیں کر کے علاقے میں بحران اور کشیدگی پیدا کرنے کے چکر میں رہتی ہیں اور عرب ملکوں میں موجود سیاسی خلا کے باعث انہیں اپنے مقاصد میں کامیابی بھی حاصل ہو جاتی ہے۔
ایران نے واضح طور پر اعلان کر رکھا ہے کہ نہ تو وہ ایٹمی ہتھیار بنا رہا ہے اور نہ ہی اپنے ہمسایوں کے خلاف جارحانہ عزائم رکھتا ہے اس علاقے کے لیے اصل خطرہ ناجائز صیہونی حکومت ہے جس کے پاس سینکڑوں ایٹمی وارہیڈز موجود ہیں اور اس نے فلسطین پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے اور اس میں امریکہ سمیت سامراجی ممالک اس کی بھرپور مدد و حمایت کر رہے ہیں۔
بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ وکی لیکس کی دستاویزات کی اشاعت میں یا تو امریکی حکومت ملوث ہے یا ملوث نہیں ہے؟ اگر ملوث ہے تو وہ مسلمان ممالک کے خلاف زبردست سازش کر رہی ہے اور مسلمانوں کو اس سلسلے میں ہوشیار رہنا چاہیے اور اگر امریکی حکومت ملوث نہیں ہے تو یہ امریکی حکومت کی انتہائي نااہلی کا ثبوت ہے اور اس نے امریکہ کی کارکردگی اور صلاحیت پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے اور پوری دنیا میں امریکی ساکھ بری طرح متاثر ہوئی ہے۔

بےباک
12-02-2010, 09:52 AM
نیویارک : وکی لیکس نے انکشاف کیاہے کہ نوازشریف کے جلاوطنی کا معاہدہ توڑنے پر سعودی عرب نے ناراض ہوکر مشرف حکومت سے انہیں گرفتار کرنے کیلئے کہا، سعودی حکمرانوں کا کہنا تھا پرویزمشرف یا ایٹمی ہھتیار اسامہ کو دینے میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا ۔

وکی لیکس ویب سائٹ پر جاری خفیہ دستاویزات کے مطابق نومبر دوہزار سات میں سعودی سفارتکار عادل الجبار نے مائیکل جو فیولر کو کہا تھا کہ سعودی عرب پاکستان کے لئے مندوب نہیں بلکہ حصہ دار ہے۔سعودی حکومت استحکام کے لئے پرویز مشرف کی حمایت کرے گی یا اسامہ بن لادن کو بم تک رسائی کی اجازت دے دی گی۔

دستاویزات کے مطابق سعودی حکومت سے معاہدے کے نتیجے میں نواز شریف کو سعودی عرب بھیجا گیا تھا۔معاہدے کے تحت نواز شریف نے دس سال تک سیاست میں حصہ نہ لینے کا وعدہ کیا تھا اور ان کو سیاسی سرگرمیوں میں حصہ نہ لینے کی شرط پر لندن جانے کی اجازت دی گئی۔جہاں سیاست میں حصہ لے کر اور پاکستان جانے کی کوشش کر کے انہوں نے معاہدے کی خلاف ورزی کی جس کے بعد سعودی حکومت نے پرویز مشرف کو نواز شریف کی وطن واپسی کی صورت میں انہیں گرفتار کرکے سعودی عرب ڈی پورٹ کرنے کا کہا تھا۔

سعودی سفارتکار کا خیال تھا کہ پرویز مشرف خامیوں کے باوجود بے نظیر اور نواز شریف سے بہتر انتخاب ہیں۔ دوسری جانب یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ پرویز مشرف نے امریکی سینیٹر مک کین سے ملاقات میں عراق سے امریکی فوج کے انخلاء کے بعد اقوام متحدہ کے امن دستے کی تعیناتی کی تجویز دی تھی۔تجویز میں پاک فوج کے دستے کی شمولیت کی پیشکش بھی شامل تھی۔
......
وکی لیکس کے انکشافات کے مطابق دوہزار نو میں امریکی نائب صدر جوبائڈن سے گفتگو میں صدر آصف علی زرداری نے بتایاکہ انھیں خدشہ ہےکہ فوج اور آئی ایس آئی انھیں اقتدار سے باہر کردے گی ۔

ایک اور موقع پر امریکی سفیرسے ملاقات کےدوران صدر آصف علی زرداری نے انھیں بتایاکہ انھوں نے اپنے صاحبزادے بلاول بھٹو کوہدایت کی ہےکہ اگر انہیں قتل کردیاجائے تو ان کی بہن فریال تالپورکوصدر بنایاجائے ۔
............

بےباک
12-02-2010, 10:01 AM
وکی لیکس کا جواب۔ پاکی لیکس
مظفر اعجاز

امریکی ادارے نے اچانک 98 ہزار امریکی دستاویزات افشا کردیں۔ ان میں اصل زور پاک فوج اور آئی ایس آئی کی جانب سے افغانستان اور بھارت میں دہشت گردی کرانے اور طالبان کی مدد کے الزامات پر ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آئی ایس آئی کابل میں بھارتی سفارتخانے پر حملے میں بھی براہ راست ملوث ہے۔ ادارے نے افغان صدر کے قتل کی سازش بھی تیار کی۔ جنرل حمید گل پر الزام ہے کہ انہوں نے حکمت یار اور حقانی نیٹ ورک کو فعال کردیا۔ افغان جنگ پاکستان سے لڑی جارہی ہے۔ قبائلی علاقے طالبان کی محفوظ پناہ گاہیں ہیں۔امریکی ادارے کی جانب سے اچانک 98 ہزار دستاویزکا افشا کوئی معمولی بات نہیں ہوسکتی یہ تو بڑی محنت سے جمع کردہ رپورٹس ہیں اور ان کا افشا ایک ایسے موقع پر کیا جانا جب آئی ایس آئی کے سابق سربراہ پاک فوج کے موجودہ سربراہ کی مدت ملازمت میں توسیع ہوئی ہے اور وہ تازہ تازہ 2013 تک کے لیے محفوظ ہوئے ہیں۔ لیکن جوں ہی ان کی مدت ملازمت کا نوٹیفکیشن ہوا یہ دستاویزات افشا ہوگئی ہیں یا کردی گئی ہیں۔ اس افشا کو امریکا میں معمول کی کارروائی کہا جارہا ہے لیکن بیشتر باتوں کا زور پاکستان اور پاک فوج کے ادارے آئی ایس آئی کی طرف کرنا اور افغان جنگ میں پاکستان سے لڑے جانے کے الزامات ظاہر کرنا یہ بتانے کے لیے کافی ہے کہ یہ سارا ڈراما آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کو دباﺅ میں لانے کے لیے ہے۔ سب سے پہلے حکومت نے وکی لیکس کی رپورٹس کو مسترد کردیا ہے اور کہا ہے کہ امریکیوں اور اتحادیوں کی زندگیاں خطرے میں پڑسکتی ہیں۔ دفتر خارجہ کے ترجمان عبدالباسط کہتے ہیں کہ پاکستان کا مثبت کردار جھٹلایا نہیں جاسکتا۔ لیکن وکی لیکس نے جھٹلانے کا سامان کردیا اب کوئی بھی امریکی کھڑے ہوکر یہ کہہ سکتا ہے کہ یہ رپورٹس درست ہیں۔ ابھی تو انہوں نے صرف مذمت کی ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیا کہ معلومات سے پاک امریکا دوستی متاثر نہیں ہوگی۔ حیرت ہے اتنے سنگین الزامات کے باوجود دوستی متاثر نہیں ہوگی۔ امریکا میں پاکستان کے سفیر حسین حقانی نے بھی ردعمل ظاہر کیا ہے کہ معلومات افواہوں کے سوا کچھ نہیں زمینی حقائق تبدیل نہیں کیے جاسکتے۔ سابق ائی ایس آئی چیف جنرل حمید گل نے کہا ہے کہ امریکا کی کمزوریاں جانتا ہوں اس لیے نشانہ بنتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ وکی لیکس کی دستاویزات افسانہ ہیں۔ سویلین کنٹریکٹرز نے کمائی کے لیے معلومات بیچ دیں۔ پہلے ہی کہا تھا کہ 9/11 بہانہ‘ افغانستان ٹھکانہ اور پاکستان نشانہ ہے۔ ہمیں جنرل حمید گل کے موقف سے سو فیصد اتفاق ہے کہ 9/11 بہانہ ‘افغانستان ٹھکانہ اور پاکستان نشانہ ہے۔ اب تو ہر طرح کا مطلع صاف ہوگیا ہے افغانستان سے واپسی ہورہی ہے۔ عراق سے واپسی ہورہی ہے۔ ایران پر حملے کا معاملہ موخرہوگیا ہے تو اب لڑاکا فوجی کیاکریں چنانچہ انہیں کوئی نہ کوئی ہدف تو دینا ہے اس کے لیے پاکستان بھی ہوسکتا ہے۔ وکی لیکس کوئی سرکاری دستاویز نہیں لیکن اس کی بنیاد پر میڈیا ٹرائل کیا جاسکتا ہے۔ اب بھارتی میڈیا بھی چیخے گا اور امریکی میڈیا بھی دونوں مل کر پاکستان کے خلاف پیالی میں طوفان اٹھائیں گے۔ اب یہ پاکستانی فوج اور آئی ایس آئی کی قیادت پر منحصر ہے کہ وہ اس دباﺅ سے کس طرح نکلیں گے۔ دیکھتے ہیں یہ سپر پاور کا دباﺅ ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ جنرل ضیاءالحق کے دور میں بھی سپر پاور کا بہت دباﺅ تھا۔ پاکستان ایٹمی ہتھیار نہیں بنارہا‘ پاکستان میزائل دوڑ میں حصہ نہیں لے رہا یہ سرٹیفکیٹ امریکی وزیر خارجہ کو ہر سال دینا ہوتا تھا اور امریکی صدر کو ہر سال اس کی تصدیق کرنی ہوتی تھی اس کے بعد پاکستان کو امداد ملتی تھی۔ امریکی حکام سخت مانیٹرنگ کرتے رہے۔ پاکستان کا ایٹمی پروگرام جاری رہا۔ امریکی وزیر خارجہ سرٹیفکیٹ دیتے رہے۔ صدر امریکا اس کی تصدیق کرتے رہے اور پاکستانی ایٹم بن گیا تو اس کی سزا جنرل ضیاءالحق کو دے دی گئی۔ اب ایسے کسی مرحلے کے آنے سے قبل جنرل اشفاق پرویز کیانی کو دباﺅ میں رکھنے کے لیے وکی لیکس کا معاملہ اٹھایا گیا۔ پاکستانی قیادت جانتی ہے کہ روس کی افغانستان میں موجودگی کے دور میں امریکا کو پاکستان کی جتنی ضرورت تھی آج امریکا کو پاکستان کی اس سے زیادہ ضرورت ہے اس ضرورت کو جانتے ہوئے ہماری فوجی و سیاسی قیادت اس سے زیادہ بڑی کامیابیاں حاصل کرسکتی ہے۔جتنی جنرل ضیاءالحق نے حاصل کی تھیں۔

ہمارے خیال میں وکی لیکس کی جانب سے 98 ہزار دستاویز بیک وقت افشا کرنے سے جہاں پاکستان اور فوج کے خلاف دباﺅ کے امکانات پیدا ہوتے ہیں‘ وہیں پاکستانی ادارے ان معلومات کو امریکی حکومت‘ فوج اور اداروں کے خلاف بھی استعمال کرسکتے ہیں۔ جس طرح کی ویب سائٹ وکی لیکس امریکا میں ہے کیا پاکستانی ادارے اس قسم کی کوئی ویب سائٹ پاسکتان میں تیار نہیں کی جاسکتی۔ امریکی فوجی‘ امریکی حکام‘ امریکی سی آئی اے‘ ایف بی آئی وغیرہ پاکستان میں کیا کررہے ہیں؟ بلیک واٹر کیا کررہی ہی؟ کون کون سے گروہوں کی امریکی ادارے سرپرستی کرتے ہیں؟ کس کو پیسے دیئے جاتے ہیں؟ کس کو مراعات دی جاتی ہیں؟ یہ ساری معلومات تو پاکستانی خفیہ اداروں کے پاس ہوں گی۔ کیا خیال ہے وکی لیکس کے جواب میں کوئی ”پاکی لیکس“ شروع کردیا جائے۔ کیا ہوگا؟ زیادہ سے زیادہ جھوٹ کا پلندہ کہا جائے گا۔ مذمت کی جائے گی ۔ لیکن پھر باقی کام پاکستانی میڈیا کا ہے۔ یہاں بھی اداکار تو موجود ہیں۔ اب پاکستانی میڈیا کی طاقت پہلی سے کہیں زیادہ ہے۔ یہ سب مل کر وکی لیکس کا جواب ”پاکی لیکس“ کے ذریعہ دے سکتے ہیں۔ میڈیا کا جواب میڈیا ہی تو ہے۔

بےباک
12-02-2010, 11:12 AM
’ زرداری کو ہٹانے کا خیال آیا تھا‘
.................................................. ........
وکی لیکس پر شائع ہونے والے امریکی خفیہ سفارتی پیغامات کے مطابق پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل کیانی نے اشارہ دیا تھا کہ حالات بگڑنے کی صورت میں وہ صدر زرداری کو عہدۂ صدارت سے ہٹنے کو کہہ سکتے ہیں۔
یہ بات بارہ مارچ سنہ 2009 کو اس وقت پاکستان میں امریکی سفیر این ڈبلیو پیٹرسن کی جانب سے بھیجے گئے ایک مراسلے میں کہی گئی ہے
پیغام کے مطابق دس مارچ کو جنرل کیانی سے امریکی سفیر کی ایک ہفتے میں ہونے والی چوتھی ملاقات میں انہوں نے دوبارہ اشارہ دیا کہ اگر حالات تیزی سے بگڑے تو انہیں نہ چاہتے ہوئے بھی صدر زرداری کو استعفٰی دینے کے لیے کہنا پڑے گا۔

خیال رہے کہ مارچ سنہ 2009 میں سابق آمر جنرل مشرف کی جانب سے غیر فعال بنائے گئے ججوں کی بحالی کے حوالے سے سیاسی بحران عروج پر تھا۔

مراسلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جنرل کیانی نے صدر زرداری کے متبادل کے طور پر عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفند یار ولی کا نام لیا۔
اس سلسلے میں عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما سینیٹر زاہد خان نے کہا ہے جس عہدے کے لیے ان کی جماعت کو عوامی سطح پر مینڈیٹ نہ ملا ہو اس عہدے پر عوامی نیشنل پارٹی کبھی نہیں بیٹھے گی۔

وکی لیکس کے اس انکشاف پر کہ صدر زرداری کی جگہ پر عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیار ولی خان کا نام لیا گیا تھا ، اے این پی کے ترجمان سینیٹر زاہد خان نے بی بی سی اردو کے عزیز اللہ خان کو بتایا کہ یہ ان کی خواہش تو ہو سکتی ہے جنھوں نے یہ تجویز دی تھی لیکن اس بارے میں کبھی بھی ان کی جماعت نے خواہش ظاہر نہیں کی ہے۔

انھوں نے کہا کہ صدارتی انتخابات کے وقت کچھ دوست سیاسی جماعتوں کے رہنماوں نے ان کی قیادت کو یہ تجویز ضرور دی تھی کہ وہ صدر کے عہدے کے لیے انتخاب میں حصہ لیں لیکن ان کی جماعت نے یہ تجویز اسی وقت مسترد کر دی تھی۔

اسفندیار ولی خان کے امریکی دوروں کے حوالے پوچھے گئے سوال پر سینیٹر زاہد خان نے کہا کہ امریکہ کے دورے کے دوران جو ملاقاتیں ہوئی ہیں ان میں صرف پشتون قوم کو درپیش مسائل پر بات چیت ہوئی ہے کیونکہ یہ سب جانتے ہیں کہ پشتون قوم تیس سالوں سے حالت جنگ میں ہے اور یہاں حالات کی بہتری کے لیے عوامی نیشل پارٹی کی قیادت کوشاں ہے۔
اپنے مراسلے میں سفیر نے مزید لکھا تھا کہ ’ قطع نظر اس کے کہ وہ( جنرل کیانی) صدر زرداری کو کتنا ناپسند کرتے ہیں نواز شریف ان کے لیے اس سے بھی زیادہ نا قابل بھروسہ شخص ہیں‘۔

پیغام کے مطابق یہ ایک باقاعدہ فوجی بغاوت نہ ہوتی اور وزیراعظم گیلانی کی حکومت اپنی جگہ قائم رہتی اور یوں انتخابات کی نوبت نہ آتی جس کے نتیجے میں نواز شریف برسرِاقتدار آ سکتے تھے۔

امریکی حکام کا اس مراسلے میں یہ بھی کہنا ہے کہ انہیں پاکستان میں فوری فوجی بغاوت کا کوئی امکان دکھائی نہیں دیتا تاہم جنرل کیانی امریکہ کو قبل از وقت خبردار کر رہے ہیں تاکہ اگر ایسا ہو تو وہ یہ کہہ سکیں کہ انہوں نے امریکہ کو پہلے ہیں بتا دیا تھا۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق ایک اور مراسلے میں پاکستانی صدر نے امریکہ کے نائب صدر جو بائڈن کو بتایا تھا کہ آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر اور جنرل کیانی انھیں اقتدار سے الگ کر دیں گے۔

سفارت خانے کے پیغام کے مطابق مارچ دو ہزار نو میں امریکہ کے نائب صدر جو بائڈن نے برطانیہ میں وزیراعظم گورڈن براؤن کو بتایا تھا کہ انھیں صدر زرداری نے بتایا کہ ’ آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر اور جنرل کیانی مجھے اقتدار سے الگ کر دیں گے‘۔

بےباک
12-07-2010, 04:28 PM
وکی لیکس کے بانی لندن میں گرفتار ۔ ( بی بی سی لندن)

امریکی سفارتی دستاویزات کو افشاء کرکے دنیا میں ہلچل مچا دینے والی والی ویب سائٹ وکی لیکس کے بانی جولین اسانش کو لندن میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔

انتالیس سالہ جولین کو جو آسٹریلیا کے شہری ہیں، لندن میں میٹروپولیٹن پولیس نے گرفتار کیا۔ ان پر سویڈن میں دو خواتین پر جنسی حملے کا الزام ہے جس سے اسانش انکار کرتے ہیں۔

سکاٹ لینڈ یارڈ کا کہنا ہے کہ مسٹر اسانش کو گرفتاری کے یورپی وارنٹ کے تحت منگل کو اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ پہلے سے طے شدہ وقت کے مطابق صبح ساڑھے نو بجے لندن کے ایک تھانے میں پولیس کے سوالوں کا جواب دینے کے لیے آئے۔

بی بی سی کے سکیورٹی امور کے نامہ نگار فرینک گارڈنر کا کہنا ہے کہ اگر پولیس اسانش کوگرفتار کر لیتی ہے تو انہیں گرفتاری کے چوبیس گھنٹوں کے اندر اندر مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا جائے گا اور اس کے بعد انہیں سویڈن کے حوالے کرنے کا عمل شروع ہوگا۔

جولین اسانش پر سویڈن کے حکام کا الزام ہے کہ انھوں نے دو خواتین پر جنسی حملہ کیا۔ ان پر ریپ کا بھی الزام ہے۔ یہ تمام الزامات اگست سنہ دو ہزار کے مبینہ واقعات سے متعلق ہیں۔

مسٹر اسانش کے بارے میں خیال ہے وہ برطانیہ میں روپوش ہیں جولین اسانش کا کہنا ہے کہ ان کے خلاف کیس سیاسی بنیاد پر قائم کیا گیا ہے۔
گزشتہ روز لندن میں جولین اسانش کے وکیل مارک سٹیفنز نے کہا تھا کہ ان کے مؤکل کے خلاف کوئی کیس درج نہیں کیا گیا اور وہ رضاکارانہ طور پر ان کی پولیس سے ملاقات کرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

مسٹر اسانش کی گرفتاری کے یورپی وارنٹ سویڈن کی اعلٰی عدالت کے اس فیصلے کے بعد جاری کیے گئے ہیں جس کے تحت ان کی گرفتاری کے خلاف درخواست مسترد کر دی گئی تھی۔