PDA

View Full Version : مثالی خاتون



زوہا
06-29-2011, 03:00 PM
ارشادباری تعالیٰ ہے۔
(ترجمہ): ”جب ان میں سے کسی کوبیٹی پیدا ہونے کی خوشخبری دی جاتی ہے تو اس کے چہرے پر کلونس چھاجاتی ہے اور وہ بس خوف کا سا گھونٹ پی کر رہ جاتاہے۔لوگوں سے چھپتا پھرتاہے کہ اس بری خبر کے بعد کس کو منہ دکھائے! سوچتاہے ذلت کے ساتھ بیٹی کو لیے رہے یا مٹی میں دبا دے “۔(القرآن سورہ نحل ۵۹)
دورِجاہلیت میں عرب بیٹی کو پیدا ہونے کے باعث ننگ وعار سمجھتے تھے جب کسی کے ہاں بیٹی پیدا ہوتی تو وہ لوگوں سے چھپتا پھرتا اور جلد از جلد اس سے نجات حاصل کرنے کی کوشش کرتا اسی لئے لڑکی کو پیداہوتے ہی مٹی میں دبا دیا جاتا تھا۔ اس ظلم پر اللہ تعالیٰ ظالموں سے ضرور سوال کرے گا کیونکہ اللہ کی مخلوق کو حق زندگی سے محروم کرنے کا کسی کو حق نہیں ہے۔اس بات کی نشاندہی قرآن میں اس موقع پر کی گئی ہے جب قیامت کا نقشہ کھینچا گیا ہے
ارشادباری تعالیٰ:
ترجمہ: ”اور جب زندہ گاڑھی ہوئی لڑکی سے پوچھا جائے گاکہ وہ کس قصور میں ماری گئی “۔(سورہ العنکبوت۸۔۹)
زندگی اللہ کی امانت ہے۔ یہ امانت خداکی خوشنودی کے مطابق ہی صرف کی جانی چاہئے۔ اہل عرب نے یہ امانت اپنی مرضی سے استعمال کی اور صنف نازک کو ذلت اور رسوائی کا سبب سمجھ کر اسے حق زندگی سے محروم کیا لیکن ظالموں نے حقیقت میں اپنے نفس پر ظلم کیا۔ ان سے اس مظلوم لڑکی کے بارے میں قیامت میں سوال ہوگا۔
امام بخاری نے صحیح بخاری میں حضرت عمرکا یہ قول نقل کیاہے کہ مکہ میں ہم لوگ عورتوں کو بالکل ہیچ سمجھتے تھے ، مدینہ میں نسبتاً ان کی قدر تھی لیکن جب اسلام آیا اور خدا نے ان کے متعلق آیات نازل فرمائیں تو ہمیں ان کی قدر ومنزلت معلوم ہوئی۔ قدیم جاہلیت نے عورت کو جس پستی کے گڈھے میں پھینک دیا اور جدید جاہلیت نے اسے آزادی کا لالچ دے کر جس ذلت سے دوچار کیا وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔
ایک طرف قدیم جاہلیت نے اسے زندگی کے حق سے محروم کیا تو جدید جاہلیت نے اسے زندگی کے ہر میدان میں مردوں کے دوش بدوش چلنے کی ترغیب دی ،اسے گھر کی چہار دیواری سے نکال کر شمع محفل بنادیا۔ عورت عزت ووقار کھوبیٹھی۔ آزادی کے نام پرغلامی کا شکار ہوگئی۔ آج مغربی اقوام عورت کی اس آزادی نما غلامی کے نتائج بدکاری اور بے حیائی کی شکل میں ظاہر ہورہے ہیں۔
افسوس اس بات کا ہے کہ مسلمان عورت بھی آج اسی بے ہنگم آزادی کے حصول کی کوشش میں سرگرداں نظر آتی ہے جبکہ اسلام قرآن کے ذریعے اس کا مقام حیثیت اور حقوق وفرائض متعین کرتاہے۔ اسلام نے عورت کی عزت اور قدر ومنزلت کے صرف دعوے ہی نہیں کئے بلکہ علم وعمل میں تدبیریں ، سیاست میں ، بہادری اور شجاعت میں ،تہذیب وتمدن میں ، غرض عورتوں کے چند فطری خصائل کے علاوہ زندگی کے تمام شعبہ جات میں اپنی عملی حیثیت سے مردوں کے دوش بدوش لاکر کھڑا کر دیا۔
اگر اس نے مردوں کی صف سے حضرت صدیق ،حضرت فاروق اور حضرت حیدر جیسے مجموعہ حسنات کو ہدایت کے لئے دنیا کے سامنے پیش کیا تو عورتوں کی جماعت سے حضرت عائشہ، خدیجتہ الکبریٰ، حضرت صفیہ ،حضرت فاطمہ جیسی عظیم المرتب خواتین کوزہد وتقویٰ ، نیکی او رپارسائی علم وعمل کے قابل تقلید نمونے بناکر اقوام عالم کے روبرو عبرت اور بصیرت کے غرض سے پیش کردیا۔
ہاں یہ بات دنیا سے چھپی ہوئی نہیں ہے کہ آج کی مسلمان عورت نے حضرت عائشہ ، حضرت فاطمہ کی تعلیمات کوعملاً نظرانداز کیا جس کی وجہ سے سبینہ جیسی لڑکی منظر عام پر آئیں مگراسلام وہ دین ہے جس نے عورت کو عظیم مرتبہ بلند کیا۔
خود کائنات کا مالک فرماتاہے :
(ترجمہ): ”اور عورتوں کے لئے بھی معروف طریقے پر وہی حقوق ہیں جیسے مردوں کے حقوق ان پر ہیں“۔(البقرہ:۲۲۸)
اسلام نے دونوں کو مساوی حقوق دے کر دونوں کا رخ اللہ کی بندگی کی طرف موڑ دیا اور انہیں بتایا کہ دونوں کی نجات کا ذریعہ اللہ کی بندگی ہے۔
اسلام نے عورت کو جو مقام عطا کیاہے اس کے مطابق بحیثیت ماں ، بحیثیت بیٹی اور بحیثیت بیوی یا بحیثیت بہن اور ایک مسلمہ اس پر بھاری ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔ ان ذمہ داریوں کو پورا کرنا اس کا فرض اوّلین ہے۔ کسی بھی مسلمان عورت کی اوّلین ذمہ داری یہ ہے کہ اپنی زندگی کو اسلام کے سانچے میں ڈھالے۔ اپنی زندگی کا جائزہ لے اور بے لوث محاسبہ کرکے دیکھے کہ اس میں جاہلیت کا توکوئی اثر نہیں پایاجاتا۔
جو بھی ایسے اثرات نظر آئیں ان سے اپنی زندگی کو پاک کرے اور اپنے خیالات کو ، اپنی معاشرت کو ، اپنے اخلاق کو اور اپنے پورے طرز عمل کو دین کے تابع کردے۔ پھر بحیثیت ماں ، اپنے بچوں کو اسلامی طرز پر تربیت کرے۔ ان کے اندر اسلامی ذوق پیدا کرے کیونکہ ماں کے متعلق رسول کریم نے فرمایا :
ترجمہ: ”ایک شخص نے پوچھا یا رسول اللہ مجھ پر نیک سلوک کا سب سے زیادہ حق کس کا ہے ؟ فرمایا تیری ماں، پوچھا پھر کون ، فرمایا تیری ماں۔ اس کے بعد پوچھا پھر کون فرمایا ،تیرا باپ “۔ (بخاری ، کتاب الادب)
بحیثیت بیوی:
مسلم خاتون اپنے شوہر کی اطاعت گذار اور وفادار بن کر رہے۔ اپنے شوہر کو ہمیشہ خوش رکھے کیونکہ بنی برحق نے فرمایا :
”بہترین بیوی وہ ہے کہ جب تم اسے دیکھو تو تمہارا جی خوش ہوجائے ،جب تم اسے کسی بات کا حکم دو تو وہ تمہاری اطاعت کرے اور جب تم گھر میں نہ ہو تو وہ تمہارے پیچھے تمہارے مال اور اپنی عزت وآبروکی حفاظت کرے “۔
غرض مسلمان عورت کو چاہئے کہ وہ ہرمیدان میں اپنے محسن اعظم کی تعلیم پر عمل کرے۔پیارے نبی کے احسانات کو نہ بھولے ، جنہوں نے عزت کا مقام بلند کیا۔ اللہ ہمیں رسول کریم کی تعلیمات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔(آمین)

سیما
06-29-2011, 05:03 PM
السلام علیکم
آپ نے بہت ہی پیاری باتیں لکھی ہیں - جزاک اللہ بہنا خوش رہو اور ہمشہ اچھا اچھا لکھتی رہو
شکریہ

بلال جٹ
06-29-2011, 08:18 PM
واہ ماشاءاللہ زوہا

جزاک اللہ :heart::heart:

بےباک
06-30-2011, 12:02 AM
زوھا بھی تو بیٹی ہے اور سیما بھی ،
ہماری اور آپ کی مان بھی تو کسی کی بیٹی ہی ہیں
...........
یہ اللہ تعالی کا نظام قدرت ہے
جس پر کسی کا اختیار نہیں ،
اب ایک بندہ اللہ کے نظام پر خوش نہیں تو بنا لے اپنا نظام مکمل ، سانس سے لے کر موت تک ہم ہر جگہ اللہ تعالی کی دی ہوئی چیزیں استعمال کرتے ہیں .
جب اللہ تعالی نے دنیا بنائی تو ہمیں جینے اور رھنے کے طریقے بھی بتائے ،
اور اس میں اگر آپ مالک کون و مکان کی بات نہیں مان رھے تو سمجھیے آپ تباہی کی طرف جا رہے ہیں
.................
ثواب اور جزاء کا نظام اللہ نے دے دیا ،
ہماری نجات ہی اسی میں ہے ،

............
جزاک اللہ زوھا جی

تانیہ
07-03-2011, 01:02 AM
جزاک اللہ زوھا جی

سقراط
07-29-2011, 12:33 PM
ایک بات تو سب ہی جانتے ہیں دور جاہلیت میں لوگ اپنی بیٹیوں کو زندہ دفن کردیتے تھے کیوں کہ انکا سر نیچے ہوتا تھاپھر اسلام نے انہیں علم شعور سے نوازا اور رشتوں کی قدر بتائی اور انکی اہمیت اور اب سب جانتے ہیں کہ ماں کی عظمت کیا ہے بہن بیٹی کا تقدس کیا ہے بیوی کے حقوق کیا ہیں اب بات اتنی سی ہے کہ کیا آج ہم عورتوں کے حقوق دینے میں اگے نہیں نکل گئے؟

کیسے کیسے فیشن کر رہی ہیں آزادی کے نام پر آج وہ مثآلی عورتیں کہاں ہیں جنہیں اسلام نے مثالی کہا ہے آگے آُ خود سوچیں میں نے لکھا تو ممکن ہے کسی عورت کو برا لگ جائے
غیرت کے معاملے میں دورز جاہیلیت کے لوگ ہم سے بہتر تھے بیٹیوں کو زندہ دفن کرنے کی وجہ تو آپ سب جانتے ہی ہوں گے