PDA

View Full Version : سبق آموز عادتیں



سیما
06-30-2011, 06:25 AM
وہ دونوں بے جوڑتھے‘ خاوند انتہائی خوبصورت تھا‘لمبا قدر‘ گورا رنگ‘ گھنگھریالے بال اور اعلیٰ تعلیم یافتہ‘ وہ مال ودولت اورسماجی رتبے میں بھی بلندتھا‘ اس نے بیس سال پہلے چھوٹے پلاٹس خریدکرگھربنانا شروع کیے تھے‘ یہ کاروبار چل پڑا اور یہ آہستہ آہستہ کروڑ پتی ہوگیا‘ اس کے پاس اسلام آباد میں ہزارگزکاگھرتھا‘ اس کے پاس دو نئی بی ایم ڈبلیو بھی تھیں اور یہ اچھا خاصا سوشل اور ہنس مکھ بھی تھا لیکن اس کی بیوی اس کے برعکس تھی‘ یہ چھوٹے قد کی خاتون تھی‘ اس کا رنگ کالاتھا‘ اس کی تعلیم بھی واجبی تھی اور یہ زیادہ سوشل بھی نہیں تھی لیکن اس کے باوجود دونوں میں بلاکی رفاقت تھی‘ یہ دونوں سلوک‘ محبت اور احساس کا شاندار مرکب تھے‘یہ آئیڈیل کپل تھا اور خاندان کے لوگ ان کی مثال دیتے تھے‘ ان کی شادی کو 25 سال ہوچکے تھے‘ان 25 برسوں میں ان کی کبھی لڑائی نہیں ہوئی‘ خاوند ملک کے اندر اور ملک کے باہر اپنی بیوی کو ساتھ لے کر جاتا تھا‘ یہ اس کے ساتھ شاپنگ بھی کرتا تھا اور دوستوں اوررشتے داروں کی تقریبات میں بھی اسے ساتھ لے کر جاتا تھا‘ یہ دونوں ریستورانوں میں کھانا بھی کھاتے تھے‘ فلم بھی دیکھتے تھے اورصبح اکٹھے واک بھی کرتے تھے‘ ان کے تین بچے تھے اور یہ تینوں بھی لائق سلجھے ہوئے اور مہذب تھے۔ غرض یہ ایک آئیڈیل گھرانہ تھا۔ہم اگر دنیاداری کے ”پوائنٹ آف ویو“ سے دیکھیں تو اس گھرانے کو آئیڈیل نہیں ہونا چاہیے کیونکہ خاوند اور بیوی کی پرسنیلیٹی میں زمین اور آسمان کا فرق تھا‘ ہم سب لوگ زندگی میں ”گڈمیچ“ کی تلاش میں رہتے ہیں‘ بیوی کا قد‘رنگ‘ روپ‘ تعلیم اور گھرانہ مرد سے اچھا ہونا چاہیے‘ اگر اچھا نہیں تو کم ازکم اس کے برابرضرور ہونا چاہیے‘ ہم میں سے شاید ہی کوئی مردہوگا جو کم ترشخصیت کی حامل خواتین کو اپنا شریک سفربنائے‘ ہم سب کو گورارنگ‘ لمبا قد‘ دبلا پتلاجسم‘ لمبے بال اور اعلیٰ تعلیم یافتہ خواتین چاہئیں‘ ہم اور ہمارے گھرکی خواتین بھی جب رشتے کی تلاش میںنکلتی ہیں تو یہ بھی حوروں جیسی لڑکیاں تلاش کرتی ہیں‘ ہماری کوشش ہوتی ہے ہم ایسی خاتون کے ساتھ شادیاں کریں جس کا چہرہ لوڈشیڈنگ میں چاندنی کی طرح چمکے اور لوگ اس کے حسن اور خوبصورت سے جل جائیں لیکن یہ گھر اور یہ صاحب اس سے بالکل مختلف تھے‘ ان کی پرسنیلیٹی اور ان کی بیوی کی پرسنیلیٹی میں زمین اورآسمان کا فرق تھا اور یہ اس کے باوجود ایک دوسرے کے ساتھ خوش تھے اور مجھے جب یہ معلوم ہوا یہ محبت کی شادی تھی تو میری حیرت پریشانی کو چھونے لگی۔ میں ایک دن ان کے گھرچلاگیا اور ان سے عرض کیا”آپ اگر برانہ منائیں تو میں آپ سے ایک سوال پوچھ لوں “ انہوں نے غورسے میری طرف دیکھا‘ قہقہہ لگایا‘ اپنی بیگم کو آوازدی‘ ان کو بلوایا اور سامنے بیٹھاکر بولی”مجھے معلوم ہے آپ مجھ سے کیا پوچھنا چاہتے ہیں“ بیگم نے بھی مسکرانا شروع کردیا‘ میں شرمندہ ہوگیا‘ وہ دونوں بڑی دیرتک ہنستے رہے اور اس کے بعد وہ صاحب بولی”آپ دکانوں سے ہمیشہ ریپر اورکوردیکھ کر اشیاءخریدتے ہیں‘ آپ ٹیلی ویژن ‘ ریڈیواور اخبارات کے اشتہارات پڑھ کر‘ بل بورڈ اور سائن بورڈ دیکھ کر اشیاءخریدتے ہیں‘ لیکن ان مصنوعات ان چیزوں کا اصل امتحان اس وقت شروع ہوتاہے جب ان کاریپر‘ان کا کور یا ان کا ڈبہ اترجاتاہے اور ہم انہیں ڈائننگ ٹیبل پر رکھ لیتے ہیں‘ انہیں منہ میں ڈالتے ہیں یا پھر انہیں اپنے استعمال میں لے آتے ہیں‘ ہمارے استعمال کے بعد کوالٹی کا مرحلہ شروع ہوجاتاہے‘ اگر چیزکی کوالٹی اچھی ہوگی تو ہم اسے باربارخریدیں گے‘ ہم اسے باربار استعمال کریں گے ورنہ ہم اسے تبدیل کردیں گے یا پھر اسے اٹھاکر باہرپھینک دیں گے‘ ہماری پرسنیلیٹی ہمارا رنگ‘ روپ‘ شکل‘ قد اورکپڑے بھی ایک ایسا ہی ریپرہوتے ہیں‘یہ ایک اشتہارایک اعلان اور ایک کورہوتے ہیں‘ ہم ایک دوسرے کا کور دیکھ کر ایک دوسرے کی شخصیت کا اعلان اور اشتہاردیکھ کر ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہوتے ہیں‘ ہم ایک دوسرے کو پسند بھی کرتے ہیں لیکن ہم جونہی اک دوسرے کے پاس بیٹھتے ہیں‘ ہم ایک دوسرے کے ساتھ ڈیل کرتے ہیں تو ہمارا ریپر اترجاتاہے اورہماری کوالٹی کا امتحان شروع ہوجاتاہے‘ اس کے بعد ہماری عادتیں ہماری شخصیت بن جاتی ہیں‘ ہم کتنے مہذب ہیں‘ ہم کس قدر صاف ستھرے ہیں‘ ہم میں کس قدر برداشت ہے‘ ہمارے اعصاب کتنے مضبوط ہیں‘ہم دوسرے کوکتنی اسپیس دیتے ہیں‘ ہم دوسرے کے جذبات کا کتنا خیال کرتے ہیں‘ ہم دوسرے کے آرام اور سکون کا کتنا خیال رکھتے ہیں‘ ہم کس قدر بے غرض‘ مخلص اور ایماندار ہیں‘ ہم کتنے سچے ہیں‘ ہم دوسروں کے لیے کتنی قربانی دیتے ہیں‘ ہم کس قدر سمجھدارہیں‘ ہم کس قدر کفایت شعار ہیں اور ہمارے اندر کتنی انتظامی صلاحیتیں ہیں‘ وغیرہ وغیرہ ‘ پرسنیلیٹی کا ریپر اترنے کے بعد یہ ساری عادتیں اہم ہوجاتی ہیں“۔میں ان کی بات سنتا رہا‘ وہ بولے ”انسان دوسرے انسان کے رنگ روپ اورقد کاٹھ کے ساتھ زندگی نہیں گزارتا‘ اس کی عادتوں اور اچھائیوں کے ساتھ گزارتاہے۔ آپ دنیا کے خوبصورت ترین مرد اور دلفریب ترین عورت ہی کیوں نہ ہوں لیکن آپ اگر جھوٹے ہیں‘ آپ لالچی‘ بے ایمان‘ فراڈیے اورظالم ہیں‘ آپ کپ میں تھوک دیتے ہیں یا آپ واش روم کے بعد ہاتھ نہیں دھوتے تو آپ کے ساتھ زندگی گزارنا مشکل ہوجائے گا۔ میں نے زندگی میں بڑے بڑے آئیڈیل کپلز کی طلاق ہوتے بھی دیکھی ہے اور ایک دوسرے کو کورٹ اورکچہریوں میں گھسیٹتے ہوئے بھی دیکھاہے‘ کیوں؟ کیونکہ یہ خوبصورت اور پڑھے لکھے تھے لیکن ان کی عادتیں اچھی نہیں تھیں چنانچہ یہ ایک دوسرے کے ساتھ نہیں چل سکے“۔وہ رکے‘ انہوں نے اپنی بیگم کی طرف دیکھا اور مسکراکر بولی”میری بیوی کی عادتیں بہت اچھی ہیں‘ اس نے میرے ساتھ آج تک جھوٹ نہیں بولا‘ اس نے کبھی فرمائش نہیں کی‘ ہماری شادی ہوئی تو میری آمدنی پانچ ہزار روپے تھی‘ اس نے اس میں بھی گزارا کرلیا اور یہ آج بھی سکھی زندگی گزاررہی ہے‘ اس نے مجھے کبھی پلٹ کر جواب نہیں دیا‘ مجھے غصہ آجائے تو یہ پورے اطمینان سے میری بات سنتی ہے اور کبھی اس بات کو طول نہیں دیتی‘ آپ کو اس پورے گھرمیں کسی جگہ مٹی اورگردکا نشان نہیں ملے گا‘ آپ کو کسی جگہ بو نہیں آئے گی اور کسی جگہ کاغذکا کوئی ٹکڑا دکھائی نہیں دے گا‘ پچھلے پچیس سال میں کبھی ایسا نہیں ہوا مجھے کپڑے استری کیے نہ ملے ہوں‘ میرے جوتے‘ جرابیں اور بنیانیں گندی ہوں یا مجھے صاف تولیہ نہ ملاہو۔ مجھے ان 25 برسوں میں کبھی کھانا ٹھنڈا نہیں ملا‘ میں نے کبھی اس کی اونچی آواز نہیں سنی‘ اس نے میرے تینوں بچوں کو مہذب ترین بچے بنایا‘ یہ انہیں اسکول بھی چھوڑکرآتی تھی اور واپس بھی لاتی تھی اور انہیں ہوم ورک بھی کراتی تھی‘ ان 25 برسوں میں اس نے کوئی فضول خرچی نہیں کی اور اس نے جان بوجھ کر کوئی نقصان نہیں کیا۔ میں نے ان 25 برسوں میں اسے کبھی پسینے میں نہیں دیکھا ‘ اسے کبھی گندا نہیں پایا اور کبھی ایسا نہیں ہوا میں نے ریموٹ کنٹرول کے لیے سائیڈ ٹیبل پرہاتھ مارا ہو اور مجھے وہاں ریموٹ کنٹرول نہ ملا ہو اور میںکبھی باتھ روم میںگیاہوں اور وہاں پانی نہ ہو یا ہماری ڈائننگ ٹیبل پرگندے برتن پڑے ہوں یا ہماری سنک کی ٹونٹی لیک کررہی ہو یا میں شام کو گھرآوں اور گلی میں کھڑے ہوکر ہارن دیتا رہوں یا گھنٹی بجاتا رہوں اور کوئی دروازہ نہ کھولے یا مجھے گھرمیں کوئی دستاویزیاکاغذ تلاش کرنا پڑے یا مجھے وقت پرپینسل نہ ملے۔ آپ یقین کیجیے اس عورت کی وجہ سے میری زندگی میں سکون ہی سکون‘ آرام ہی آرام اور آسائش ہی آسائش ہے چنانچہ میں اس سے خوش ہوں‘ یہ مجھ سے خوش ہے اور ہماری زندگی کی گاڑی اطمینان سے چل رہی ہے“۔میں نے پوچھا”کیا آپ کی کبھی لڑائی نہیں ہوئی“ انہوں نے قہقہہ لگاکر جواب دیا”میں نے کئی بارکوشش کی لیکن یہ مجھے موقع ہی نہیں دیتی‘ اس نے کبھی مجھ پر شک بھی نہیں کیا“۔ وہ رکے اور بولے ”انسان دوسرے انسانوں کی عادتوں کی وجہ سے ان کے قریب ہوتاہے‘ ہماری اگرعادتیں اچھی ہوں گی تو ہم طویل عرصے تک ایک دوسرے کے ساتھ چلتے رہیں گے اور اگر ہم اچھی عادتوں کے مالک نہیں ہیں تو ہم خواہ کتنے ہی وجیہہ اور خوبصورت کیوں نہ ہوں ہم دوسروں کے ساتھ نہیں چل سکیں گے لیکن ہم اس حقیقت کو بھلا کر ایک دوسرے کے ریپرکو پرسنیلیٹی سمجھ بیٹھتے ہیں اور جب رنگ روپ کا ریپراترجاتاہے تو ہم ہاتھ ملتے رہ جاتے ہیں“۔

بشکریہ جسارت

بےباک
07-01-2011, 03:29 AM
http://www.bayt4.com/upload//uploads/images/bayt4.com990645dcd5.gif

بہت خوب زبردست ،
تھینکس سیما جی