PDA

View Full Version : خسروں کے ہاں بیٹے کی ولادت



بزم اردو
11-29-2010, 10:54 PM
وزیرِ اعظم صاحب اپنے محل میں ملاقاتی سے محو گفتگو تھے لیکن کن اکھیوں سے ٹی وی سکرین کو بھی دیکھ رہے تھے، ملاقاتی نے ان کی توجہ دوسری طرف مبذول دیکھی تو خود بھی اس طرف دیکھنے لگا۔ ٹی وی پر وزیر اعظم سیلاب زدگان کا دورہ کررہے تھے۔ اچانک وزیر اعظم صاحب نے پوچھا کہ میں ٹی وی سکرین پر کیسا لگ رہا ہوں؟

صدر صاحب اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لئے گئے تو خصوصی طور پر اپنے ساتھ بے نظیر بھٹو کی تصویر لے کرگئے اور تقریرسے پہلے اپنی ڈائس پر اس کا رخ کیمرے کی طرف کرتے ہوئے کئی بار الجھے، ایک دفعہ تو تصویر گر گئی، سامنے بیٹھے دنیا بھر کے سربراہان ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکرائے۔

نیویارک کے ٹائمز سکوائر میں سٹاک ایکسچینج کی دیوقامت سکرین پر ایک گھنٹے کے لئے پاکستان کے قونصلیٹ کو مفت وقت دیا گیا کہ سیلاب کی تباہ کاریاں دکھا کر سیلاب زدگان کے لئے فنڈ جمع کرنے میں آسانی رہے۔ جواب میں ہمارے کونسلر صاحب بنفس نفیس آکر سکرین پر چھاگئے۔ یقینا انہوں نے گھر فون کیا ہوگا کہ ٹی وی پر دیکھنا میں ٹائمز سکوائر میں سکرین پر آرہا ہوں۔ سٹاک ایکسچینج والے اپنے بال نوچ رہے تھے کہ ہم سے زیادہ بے وقوف کون ہوگا کہ ایک پاکستانی کو سکرین مفت پیش کردیا۔

انجلینا جولی زلزلہ زدگان کی مدد کے لئے آئیں تو ایک گورنر صاحب نے ان کو عشائیے پر مدعو کیا، انجلینا نے وقت کی کمی کا عذر کیا تو ان کو چائے پر آنے کیلئے مجبور کیا۔ جب وہ گورنر ہاؤس میں آئیں اور گورنر صاحب ان کو دربار ہال میں لے آئے تو واہ۔ ۔ ۔ اچانک گورنر صاحب کی سال گرہ بن گئی۔ میز پر کیک پڑا ہوا تھا اور ارد گرد گورنر صاحب کے خاندان کے لوگ کھڑے ہیں۔ گورنر صاحب نے انجلینا کو کیک کاٹنے کی دعوت دی تو انہوں نے جل کر کہا کہ اپنی بیگم سے کیوں نہیں کٹواتے۔ جب رشتہ داروں نے اس کے ساتھ تصویریں کھچوانی شروع کیں تو وہ غصے میں کمرے سے نکل گئیں اور ڈائریکٹ صدر صاحب کو فون کردیا۔

وزیر اعظم صاحب (شوکت عزیز) کہاں پیچھے رہنے والے تھے، وزیر اعظم ہاؤس میں مدعو کیا اور کھانے کے بعد ان کے ساتھ لان میں ٹہلنے لگے۔ پھر تصاویر نکلیں اور اگلے دن تمام اخباروں میں زلزلے کی تباہ کاریوں کی تصاویر کے درمیان وزیرِ اعظم اور انجلینا جولی کی رنگین تصویر جگمگارہی تھی۔

دہلی میں کامن ویلتھ کھیلوں کا افتتاح ہورہا تھا، تمام ٹیمیں اپنے اپنے ملک کا جھنڈا لے کر تماشائیوں کے سامنے سے گرز رہی تھیں، ہر ملک کا جھنڈا اس کے کسی گولڈ میڈلسٹ یا نامی گرامی کھلاڑی نے اُٹھایا ہوا تھا۔ پاکستان کا جھنڈا بھی ایک گولڈ میڈلسٹ نے اُٹھایا ہوا تھا۔ اچانک ہمارے وزیرِ کھیل کو خیال آیا کہ یہ منظر تو ساری دنیا میں ٹی وی پر دکھایا جارہا ہوگا۔ فوراً اپنے گھر فون کیا کہ ٹی وی پر مجھے دیکھیں اور چھلانگ لگاکر پاکستانی ٹیم کے آگے کھڑے ہو گئے اور کھلاڑی سے جھنڈا لے کر ٹیم کے آگے ہو گئے کیمرے کی طرف رخ کرکے ہاتھ ہلانے لگے۔

ٹی وی کے ایک چینل پر سابقہ وزیر اعظم صاحب کا انٹرویو ہورہا تھا، لگتا تھا موصوف کے ڈرائنگ روم ہی میں ریکارڈ ہورہا تھا۔ رپورٹر اور صاحب کے درمیان سامنے دیوار پر قد آدم تصویر لگی ہوئی تھی۔ ۔ ۔ نہیں قائدِ اعظم کی نہیں بلکہ اُن کا اپنا پورٹریٹ تھا۔ ہندکو میں ایک محاورہ ہے کہ ’خُسروں کے ہاں بیٹا پیداہوا تو چوم چوم کر ماردیا۔
تحریر: ڈاکٹر عبیداللہ

تانیہ
12-07-2010, 11:55 AM
ہاہا...

ابوبکر
02-22-2012, 07:42 PM
http://rajafamily.com/lib/00051A06O.gif

این اے ناصر
03-05-2012, 05:03 PM
شئیرنگ کاشکریہ۔ بہت دلچسپ۔

عبادت
03-06-2012, 01:09 AM
ھاھاھاھاھاھاھھاھاھا