PDA

View Full Version : پڑھی ہیں بہت سی باتیں



سقراط
06-30-2011, 07:27 PM
پڑھی ہیں بہت سی باتیں، حکایتوں میں، روایتوں میں
کہ وار دیتے تھے لوگ جانیں، مروّتوں میں، مُحبتوں میں
مُباحثوں نے تو آئینوں کو مزید حیران کر دیا ہے
کہ اُلجھے ہیں عشق کے بل، صراحتوں میں، وضاحتوں میں
حرُوف میرے ہیں تلخ تر، تو ہیں زہر آلُود لفظ تیرے
ورق ورق ہے لہُو کہانی، کہاوتوں میں، عِبارتوں میں
ہیں ایک وہ کہ آسماں کو اپنا مسکن بنا رہے ہیں
اور ایک ہم کہ پھنسے ہوئے ہیں بُجھارتوں میں، بشارتوں میں
یہ عَہد کیا ہے کہ خُونِ آدم کبھی بھی ارزاں نہیں تھا اتنا
کہ فرق کرنا ہُوا ہے مُشکِل، ہلاکتوں میں، شہادتوں میں
یہ سانحہ کیا ہُوا ہے آرش، رہے سلامت نہ گھر، نہ اعضاء
کہ بھُول بیٹھے ہیں صُورتیں بھی، رقابتوں میں، عداوتوں میں

سقراط
07-03-2011, 09:26 PM
پہلے تُم نے سارے شہر کی سانسوں میں گرداب بھرے
راہ دکھاتے پھرتے ہو اب ، جیبوں میں مہتاب بھرے

ساری عمر حساب نہ آیا ، بچپن سے لیکر اب تک
سارے ٹھیک سوال اُتارے، سارے غلط جواب بھرے

سچّی بات تو میٹھی بات بھی ہو سکتی ہے میرے دوست
کتنے دھبّے چھوڑ گۓ ہیں، حرف تیرے تیزاب بھرے

میرے لڑکپن کی یادوں کی چوکھٹ پر، کوئ لڑکی
اب تک بیٹھی ہے، آنچل میں، جُگنو اور گُلاب بھرے

سیما
07-04-2011, 02:28 AM
بہت خوب شکریہ