PDA

View Full Version : پاکستان میںمزید ریمنڈ ڈوسوں کی آمد



سیما
07-01-2011, 05:55 PM
سی آئی اے کے 67اہل کاروں کو پاکستان اور امریکہ کی رضامندی سے پاکستان کے ویزے جاری کر دیے گئے ہیں یہ 67 ریمنڈ ڈوس پاکستان میں کس مشن پر ہوں گے اس کی وضاحت بھی امریکہ میں سینیٹ کی کمیٹی کے سامنے امر یکی سی آئی اے کے نامزد سربراہ اور افغانستان میں امریکہ اور نیٹو افواج کے انچارج جرنل ڈوڈ پٹیریاس نے کی ہے اور فرمایا ہے کہ دوسرے ممالک کے علاوہ افغانستان اور پاکستان میں سی آئی اے خفیہ کارروائیاں کر رہی ہے۔ یہ خفیہ کارروائیاں امریکی دہشت گرد ریمنڈ ڈوس کی کاررواﺅں سے کیا مختلف ہوسکتی ہیں جس کا حال عوام کو معلوم ہے کچھ دن پہلے کی خبر کے مطابق پانچ میجروں کو سی آئی اے اور اُسامہ کی مدد کے حوالے سے گرفتار کیا ہے گو کہ اس کی تردید کی گئی مگر امریکی امداد لینے والوں سے اور کیا امید کی جا سکتی ہے اس کے علاوہ ایسی جاسوسیاں کرتے ہوئے کئی امریکوں کو گرفتار کر کے ملک بدر کر دیا گیا ہے اور نہ جانے کتنے گرفتاری کے زد میں ابھی تک نہیں آئے مگر ہمیں گزارش یہ کرنی ہے کہ ابھی تو امریکی جاسوسوں کو ملک سے نکالنے کی مہم چل رہی تھی اور امریکہ سے پوچھ گچھ ہو رہی تھی کہ سی آئی اے کے اہلکاروں کے پتے بتائے جائیں اور یہ بھی بتایا جائے وہ ہماری اجازت کے بغیر ہمارے ملک میں کیا کچھ کر رہے ہیں امریکا سے یہ مطالبات ابھی انجام کو پہنچے ہی نہیں تھے کہ مزید ریمنڈ ڈوسوں کو رضا مندی سے ویزے جاری کر دیے گئے ہیں ۔یہ قوم کی سمجھ میں نہیں آرہا کہ ہماری کیا مجبوری ہی؟ ہم کوں سی آئی اے کے جاسوسوں کو پاکستان میں آنے کی اجازت دے رہے ہیں؟ کیا ہماری آئی ایس آئی کے 76 اہلکاروں کے امریکا جانے پر امریکا رضا مند ہوگا۔ ابھی کچھ دن پہلے ہی کہا گیا ہے کہ امداد لوگے تو ایسے کام کرنے پڑیں گے۔ آئے دن امریکوں کی اسلحے کے ساتھ ملک میں آزادی سے چلت پھرت اخبارات کی زینت بن چکی ہے۔ اسلام آباد میں امریکی میرین نے بھاری کرائے پر بنگلی، بڑی تعداد میں لیے اور ان میں رہائش پذیر ہیں۔ پشاور سے چلا ہوا اسلحہ سے بھرا ٹرک اسلام آباد پولیس نے پکڑا جس کے ڈراﺅر نے بیان دیا کہ یہ اسلحہ حیات آباد سے ایک امریکی نے لوڈ کروایا اوراسلام آباد کے سفارت کار کا فون نمبر بھی ڈراﺅر کو دیا گیا کہ اسلام آباد جا کر فون کرنا وہ وصول کر لے گا۔ اخباری خبر کے مطابق پہلے سفارت کار نے انکار کیا پھر ٹرک کا پتا بھی نہ چلا۔ کئی کنٹینر جو ناٹو کے لیے سپلائی لے کر جاتے ہیں وہ پاکستان میں گم ہو گئے ناٹو کے لوگوں کے خلاف مقدمہ بھی قائم ہوا نہ جانے اس میں کیا کیا تھا جو ملک میں کس کس کے ہاتھ لگا۔ سہالہ پولیس ٹرینگ سنیٹر کے انچارج نے حکومت کو اطلاع دی تھی کہ امریکی فوجوں نے سنیٹر کے ایک حصے میں اسلحہ جمع کیا ہوا ہے وہاں کسی کو جانے کی اجازت نہیں ہے یہ بیانات اخبارات کی زینت بنتے رہے۔ میڈیا نے سوال اٹھایا کہ کہوٹہ کے نزدیک امریکی فوجوںکو رہنے کی اجازت دینے کی کیا ضرورت ہی؟ ان کو فوراً وہاں سے ہٹایا جائے اس احتجاج پر امریکوں کو وہاں سے ہٹایا گیا ۔ایک ٹی وی مذاکرے میں آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جاوید اشرف قاضی کا بیان کے ایٹمی راز چرانے کی کوشش کرنے والے سی آئی اے والوں کو آئی ایس آئی نے گرفتار کیا اور اُن کو ڈی پورٹ کر دیا گیا۔ پشاور کے حساس علاقے میں جعلی نمبر پلیٹ کے ساتھ چار امریکی پٹھانوں جیسے حلیے بنائے ہوئے تھے ان کے پاس اسلحہ بھی تھا ایک ناکے پر روکے گئے تو اپنی شناخت کروانے کے بجائے اپنی گاڑی ہی میں بیٹھے رہے اور موبائل فون پر کسی سے باتیں کرتے رہے گاڑی میں بیٹھا ایک شخص اپنا چہرہ چھپا رہا تھا ۔یہ شخص کون تھا معلوم نہ ہو سکا پولیس کی انتہائی کوشش کے باوجود ان کو وہاں سے جانے کی اجازت دے دی گئی اوپر سے حکم آ گیا تھا جس کی وجہ سے پولیس چھوڑنے پر مجبور ہو گئی ۔ اسی طرح اسلام آباد میں میتھو کریک نامی شخص پکڑا گیا جو حساس علاقوں کے متعلق معلومات حاصل کر رہا تھا۔ جب مقامی سول عدالت میں پیش کیا گیا تو وہاں موجود صحافوں اور پولیس والوں سے بدتمیزی کی۔ ایسے لا تعداد واقعات اخباروں میں آتے رہتے ہیں جب امداد لی جائے گی اپنی عیاشوں پر خرچ کی جائے گی تو ایسے کاموں سے چشم پوشی کرنی پڑے گی جو ہمارے حکمران کر رہے ہیں۔ قوم ان 76 ریمنڈ ڈوسوں کی پاکستان آمد پر کس سے فریاد کری، نہ جانے کتنے ریمنڈ ڈوس پہلے سے ہی پاکستان میں موجود ہیں اور ہمارے ملک کی بربادی میں مصروف ہیں ہماری خود مختاری کہاں گئی اس ملک کوغیبی امداد کی ضرورت ہے جس کا قوم انتظار کررہی ہے ۔


بشکریہ جسارت نیوز