PDA

View Full Version : کلام محسن نقوی



محمدمعروف
07-01-2011, 11:54 PM
قتل چھپتے تھے کبھي سنگ کي ديوار کے بيچ

اب تو کھلنے لگے مقتل بھرے بازار کے بيچ

اپني پوشاک کے چھن جانے پہ افسوس نہ کر

سر سلامت نہيں رہتے يہاں دستار کے بيچ

سرخياں امن کي تلقين ميں مصروف رہيں

حرف بارود اگلتے رہے اخبار کے بيچ

کاش اس خواب کي تعبير کي مہلت نہ ملے

شعلے اگتے نظر آۓ مجھے گلزار کے بيچ

ڈھلتے سورج کي تمازت نے بکھر کر ديکھا

سر کشيدہ مرا سايا صف اشجا ر کے بيچ

رزق، ملبوس ، مکان، سانس، مرض، قرض، دوا

منقسم ہو گيا انساں انہي افکار کے بيچ

ديکھے جاتے نہ تھے آنسو مرے جس سے محسن

آج ہنستے ہوۓ ديکھا اسے اغيار کے بيچ

تانیہ
07-02-2011, 01:01 AM
قتل چھپتے تھے کبھي سنگ کي ديوار کے بيچ

اب تو کھلنے لگے مقتل بھرے بازار کے بيچ

اپني پوشاک کے چھن جانے پہ افسوس نہ کر

سر سلامت نہيں رہتے يہاں دستار کے بيچ

سرخياں امن کي تلقين ميں مصروف رہيں

حرف بارود اگلتے رہے اخبار کے بيچ

کاش اس خواب کي تعبير کي مہلت نہ ملے

شعلے اگتے نظر آۓ مجھے گلزار کے بيچ

ڈھلتے سورج کي تمازت نے بکھر کر ديکھا

سر کشيدہ مرا سايا صف اشجا ر کے بيچ

رزق، ملبوس ، مکان، سانس، مرض، قرض، دوا

منقسم ہو گيا انساں انہي افکار کے بيچ

ديکھے جاتے نہ تھے آنسو مرے جس سے محسن

آج ہنستے ہوۓ ديکھا اسے اغيار کے بيچ



واہ ، بہت خوب

عبادت
07-02-2011, 02:36 AM
واہو بہت خوب معروف بھائی بہت پیارا کلام
اسی بک کی ایک اور غزل اپ کے نام کرتا ہوں


اشک اپنا کے تمہارا ، نہیں دیکھا جاتا
ابر کی زد میں ستارا ، نہیں دیکھا جاتا

اپنی شہ رگ کا لہو تن میں رواں ہے جب تک
زیر خنجر کوئی پیارا نہیں دیکھا جاتا

موج در موج الجھنے کی ہوس ، بے معنی
ڈوبنا ہو تو سہارا نہیں دیکھا جاتا

تیرے چہرے کی کشش تھی کے پلٹ کر دیکھا
ورنہ سورج تو دوبارہ نہیں دیکھا جاتا

آگ کی ضد پر نہ جا ، پھر سے بھڑک سکتی ہے
راکھ کی تہہ میں شرارہ نہیں دیکھا جاتا

زخم آنکھوں کے بھی کبھی سہتے تھے دل والے
اب توابرو کا اشارا نہیں دیکھا جاتا

کیا قیامت ہے کہ دل جس کا نگر ہے محسن
دل پہ اس کا بھی اجارہ نہیں دیکھا جاتا

سیما
07-04-2011, 02:29 AM
بہت اچھے شکریہ