PDA

View Full Version : ملتان کی سیر



تانیہ
07-09-2011, 01:15 PM
ملتان کی تاریخ اتنی ہی قدیم ہے جتنی انسان کی خود اپنی تاریخ ، اس کی قدامت پر غور کریں تو اس میں پاکستان اور ہندوستان تو کیا پورا جہان سما سکتا ہے ، موہنجو دڑو اور ہڑپہ جیسے سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں شہر آباد ہوئے مگر گردش ایام کا شکار ہو کر صفحہ ہستی سے مٹ گئے ، لیکن ہمارا بزرگ شہر ہزاروں سال پہلے بھی زندہ تھا اور آج بھی زندہ ہے ۔

http://i54.tinypic.com/slmnew.jpg

http://i53.tinypic.com/2d7jb0z.jpg

http://i53.tinypic.com/119b7s8.jpg

http://i53.tinypic.com/x6abyv.jpg

http://i53.tinypic.com/14a97rk.jpg

http://urdulook.info/imagehost/?di=313026790388

http://urdulook.info/imagehost/?di=013026790387

http://urdulook.info/imagehost/?di=413026790381

http://urdulook.info/imagehost/?di=1613026790390

تانیہ
07-09-2011, 01:17 PM
http://urdulook.info/imagehost/?di=1113026790391

http://i55.tinypic.com/bfezr8.jpg

http://i51.tinypic.com/157dhfb.jpg

http://i52.tinypic.com/ayrd41.jpg

http://i52.tinypic.com/1975ea.jpg

http://i55.tinypic.com/2zr2jh5.jpg

http://i56.tinypic.com/140gpxc.jpg

http://i54.tinypic.com/2mqosgi.jpg

محمدمعروف
07-09-2011, 09:58 PM
تصاویر کے ساتھ کوئی ویڈیو بھی لگائیں تو اور زبردست رہے گا
ویسے اچھی شئیرنگ ہے۔

سقراط
07-16-2011, 03:20 PM
میں ایک بار آیا تھا ملتان مدینہ ۃ اولیا میں کیا زبردست جگہ ہے میں تو بس وہاں گم ہوکر رہ گیا تھا وہ بہت خوبصورت جگہ ہے سچ میں

سقراط
07-16-2011, 03:44 PM
http://www.youtube.com/watch?v=VLcqx1fmIzs

ملتان کی تاریخ اتنی ہی قدیم ہے جتنی انسان کی خود اپنی تاریخ ، ملتان کی قدامت پر غور کریں تو اس میں پاکستان اور ہندوستان تو کیا پورا جہان سما سکتا ہے ، موہنجو دڑو اور ہڑپہ جیسے سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں شہر آباد ہوئے مگر گردش ایام کا شکار ہو کر صفحہ ہستی سے مٹ گئے ، لیکن ہمارا بزرگ شہر ملتان ہزاروں سال پہلے بھی زندہ تھا اور آج بھی زندہ ہے ۔ ملتان کو صفحہ ہستی سے ختم کر نے کی کوشش کرنے والے سینکڑوں حملہ آور خود نیست و نابود ہو گئے آج ان کا نام لیوا کوئی نہیں مگر ملتان آج بھی اپنے پورے تقدس کے ساتھ زندہ ہے اور مسجود ملائک بنا ہوا ہے ، شیخ الاسلام حضرت بہائو الدین زکریا ملتانی(رح) نے ایسے تو نہیں کہا تھا

ملتان ما بجنت اعلیٰ برابراست
آہستہ پابنہ کہ ملک سجدہ می کنند

ملتان کے بارے جس ہستی تے یہ لافانی شعر کہا ، وہ ہستی خود کیا تھی؟ اس کا اپنا مقام اور مرتبہ کیا تھا؟ اور اس نے انسانیت کیلئے کیا کیا خدمات سرانجام دیں؟ اس بات کی تفصیل کیلئے ایک مضمون نہیں بلکہ کئی کتب کی ضرورت ہے ، زکریا سئیں کی شخصیت اور خدمات بارے کچھ کتب مارکیٹ سے مل جاتی ہیں مگر اس میں مذکور مضامین کی حیثیت سطحی ہے ، زکریا سئیں کو نئے سرے سے جاننے اور نئے سرے سے دریافت کرنے کی ضرورت ہے ۔ یہ کام تحقیقی اداروں ، محکمہ اوقاف خصوصاً زکریا سئیں کے نام سے موسوم بہائ الدین زکریا یونیورسٹی کو سرانجام دینا چاہئیے مگر اس ستم ظریفی کو کیا کہا جائے کہ زکریا یونیورسٹی نے آج سے بہت عرصہ پہلے ایک زکریا چیئر قائم کی اور اسے غلاف پہنا کر الماری میں رکھ دیا ، نہ فنڈ نہ سٹاف اور نہ کوئی کام ، اُردو میں اسے کہتے ہیں چراغ تلے اندھیر اور سرائیکی میں کہا جاتا ہے ، ’’بھبھن بھوں اندھاریاں راتیں‘‘ اور محکمہ اوقاف داتا دربار کی طرز پر سہولتیں کیا مہیا کرتی زائرین کیلئے ایک کمرہ ، ایک غسلخانہ یا ایک ٹینکی پانی کا انتظام بھی نہیں کر سکا۔ اب کچھ تذکرہ حضرت بہائ الدین زکریا ملتانی سئیں کا ہو جائے ، غوث العالمین ، شیخ الاسلام حضرت بہائ الدین زکریا ملتانی 27رمضان 566ھ حضرت مولانا وجیہہ الدین محمد قریشی کے ہاں پیدا ہوئے ، صغیر سنی میں والد ماجد کا انتقال ہو گیا ، یتیمی کی حالت میں تعلیم اور تربیت کے مراحل طئے ہوئے اور عین جوانی میں عازم سفر سلوک بنے ، بغداد پہنچ کر حضرت شہاب الدین سہروردی رحمتہ اللہ علیہ سے روحانی فیض حاصل کیا ، سہروردی سئیں نے خرقہ خلافت عطا فرمایا اور آپ کو ملتان پہنچ کر دین کیلئے کام کرنے کی تلقین فرمائی ، ملتان میں ان دنوں ہندوئوں کا غلبہ تھا اور پرہلاد جی خود تو موحد تھے اور خدا کا انکار کرنے والے اپنے بادشاہ باپ سے جنگ بھی کی مگر پر ہلاد جی کی وفات کے سینکڑو سال بعد ان کے مندر پربت پر مست غالب آ گئے اور پرہلاد جی کا مندر ہندو مذہب کا مرکز بنا ہوا تھا ، ملتان پہنچ کر آپ نے تبلیغ شروع کر دی، پرہلاد مندر کے متولیوں کے غیر انسانی رویوں سے نالاں لوگ جوق در جوق حضرت کی خدمت میں پہنچ کر حلقہ اسلام میں داخل ہونے لگے ، آپ نے شروع میں مدرستہ الاسلام قائم کیا اور بعد میں اسے دنیا کی سب سے بڑی پہلی اقامتی یونیورسٹی کی حیثیت دیدی ، آپ نے تعلیم کے ساتھ تبلیغ کا سلسلہ شروع کیا ، جو بات میں کہنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ آج دین سکھانے کیلئے کسی نے بستر اور کسی نے کلاشنکوف اٹھا لی ہے ، اس کے مقابلے میں حضرت بہائ الدین زکریا ملتانی(رح) نے کیا طریقہ کار اختیار کیا؟ یہ غور طلب ہے ۔
شاہ رکن عالم

غوث العالمین نے اپنی اقامتی یونیورسٹی میں اعلیٰ تعلیم کے ساتھ مختلف عالمی زبانوں مثلاً سنسکرت ، بنگالی ، سندھی ، فارسی ، عربی ، جادی ، برمی ، مرہٹی اور انڈونیشی وغیرہ کے شعبے قائم کیے ، اور مذکورہ زبانوں کے طلبہ کو تعلیم سے آراستہ کر کے گروپ تشکیل دئیے اور ان گروپوں کو جماعتوں کی شکل میں کو تجارت اور تبلیغ کی غرض سے مختلف ممالک کیلئے روانہ کیا ۔ تجارت کیلئے ہزاروں اشرفیوں کی صورت میں خود سرمایہ مہیا فرماتے اور ہدایت فرماتے رزق حلال کے حصول کیلئے تجارت کرنی ہے اور خدا کی خوشنودی کیلئے تبلیغ بھی ، وفود کو روانگی سے پہلے پانچ باتوں کی نصیحت فرماتے۔ 1۔تجارت میں اسلام کے زریں اصولوں کو فراموش نہ کرنا۔ 2۔ چیزوں کو کم قیمت منافع پر فروخت کرنا 3۔ خراب چیزیں ہرگز فروخت نہ کرنا بلکہ انہیں تلف کر دینا ۔ 4۔ خریدار سے انتہائی شرافت اور اخلاق سے پیش آنا۔ 5۔ جب تک لوگ آپ کے قول و کردار کے گرویدہ نہ ہو جائیں ان پر اسلام پیش نہ کرنا۔ اسی زمانے دریائے راوی ملتان کے قدیم قلعے کے ساتھ بہتا تھا اور اسے بندرگاہ کی حیثیت حاصل تھی ، کشتیوں کے ذریعے صرف سکھر بھکر ہی نہیں منصورہ ، عراق ، ایران ، مصر کا بل دلی اور دکن تک کی تجارت ہوتی اس طرح ملتان کو دنیا بہت کے بڑے علمی تجارتی اور مذہبی مرکز کی حیثیت حاصل ہوئی اور صرف ہندوستان ہی نہیں بلکہ پوری دنیا میں حضرت بہائ الدین زکریا ملتانی(رح) نام اور پیغام پہنچا، آپ کے پیغام سے لاکھوں انسان حلقہ بگوش اسلام ہوئے اور آپ نے لوگوں کے دلوں میں اس طرح گھر بنا لیا کہ آٹھ صدیاں گزرنے کے باوجود آج بھی لاکھوں انسان ننگے پائوں اورسر کے بل چل کر آپ کے آستانے پر حاضری دیتے ہیںاور عقیدت کے پھول نچھاور کرتے ہیں۔ میرے سامنے ملتان کے معروف آرٹسٹ سئیں ضمیر ہاشمی کے چند فن بارے موجود ہیں ، ان فن پاروں میں قلعہ ملتان کی قدامت کو پنسل ورک ‘‘ کے ذریعے عیاں کرنے کی کوشش کی گئی ہے قلعہ کی فصیل دکھائی گئی ہے ، پرہلاد مندر کا نقشہ انہدام سے پہلے کی شکل میں موجود ہے اور شاہ رکن عالم کا دربار پر انوار بھی جلوہ افروز ہے ۔ قلعہ ملتان کتنا قدیم ہے؟ اس بارے کہا جاتا ہے کہ یہ پانچ ہزار سال پرانا ہے لیکن ہو سکتا ہے کہ یہ اس سے بھی قدیم ہو ، اس بات پر تمام مورخین کا اتفاق ہے کہ ملتان اور قلعہ ملتان کا وجود قبل از تاریخ دیو مالائی دور سے بھی پہلے کا ہے ، قابل افسوس امر یہ ہے کہ حملہ آوروں نے ہمیشہ اس قلعے کو نشانہ بنایا اور اسے فتح کرنے کے بعد خوب لوٹ مار ہوتی رہی مگر اسے بحال کرنے کی صورت پیدا نہ ہو سکی ، 1200قبل مسیح دارانے اسے تباہ کیا ،325 قبل مسیح سکندر اعظم نے اس پر چڑھائی کی پھر عرب افغان سکھ اور انگریز حملہ آوروں قدیم قلعہ ملتان کو برباد کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی ، اب فرزندان ملتان اور سرائیکی وسیب کے تمام باسیوں کا فرض ہے کہ وہ اپنی سابقہ کوتاہیوں پر غور کریں اور اپنے وسیب کے ساتھ ہونیوالی پانچ ہزار سالہ زیادتیوں کی تلافی کریں اور اپنی عظمت رفتہ کو پہنچائیں۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ ملتان ایک شہر ہی نہیں ایک تہذیب اور ایک سلطنت کا نام بھی ہے ۔372ہجری کتاب ’’حدود العالم بن المشرق الی المغرب‘’ میں ملتان کی حدود بارے لکھا ہے کہ قنوج کے راجہ اور امیر ملتان کی سرحدیں جالندھر پر ختم ہوتی تھیں’’ سیر المتاخرین‘‘ میں اقلیم ملتان کی حدود اس طرح بیان کی گئی ہیں کہ ملتان اول دوم و سوم اقالیم سے زیادہ فراخ ہے کیونکہ ٹھٹھہ اس صوبہ پر زیادہ ہوا ہے فیروز پور سے سیوستان تک چار سو تیس کوس لمبا اور چتوڑ سے جیسلمیر تک ایک سو آٹھ کوس چوڑا ہے دوسری طرف طول کیچ اور مکران تک چھ سو ساٹھ کوس ہے اس کے خاور ﴿مشرق﴾ رویہ سرکار سرہند سے ملا ہوا ہے شمالی دریائے شور میں اور جنوبی صوبہ اجمیر میں ہے اور باختر﴿مغرب﴾ میں کیچ اور مکران ہے ۔ ابوالفضل نے اپنی مشہور عالم کتاب آئین اکبری میں صوبہ ملتان کی حدود یہ بیان کی ہیں ، صوبہ ملتان کے ساتھ ٹھٹھہ کے الحاق سے پہلے یہ صوبہ فیروز پور سے سیوستان تک ۶۲۴کروہ تھا چوڑائی میں کھت پور سے جیسلمیر تک۶۲۱ کروہ تھا ٹھٹھہ کے الحاق کے بعد یہ صوبہ کیچ اور مکران تک وسیع ہوگیا ، اس کا یہ فاصلہ ۰۶۶ کروہ تھا ، مشرق میں اسکی سرحدیں سرہند سرکار سے شمالی میں پشاور سے جنوب میں اجمیر کے صوبے اور مغرب میں کیچ مکران سے ملتی تھیں ، کیچ اور مکران پہلے صوبہ سندھ میں شامل تھے ملتان کے صوبے میں تین سرکاریں ﴿ملتان خاص دیپال پور اور بھکر﴾ تھیں اور کل اٹھاسی پراگنے ﴿ضلعے ﴾تھے۔ ملتان کی وسعت اور عظمت پر تاریخ آج بھی رشک کرتی ہے ، ملتان کے قدامت کے ہم پلہ دنیا میں شاید ہی کوئی شہر ہو ، پاکستان میں جن شہروں کو مصنوعی طریقے سے ملتان سے کئی گنا بڑے شہر بنایا گیا ہے، آج سے چند سو سال پہلے یہ ملتان کی مضافاتی بستیاں تھیں اس بات کی شہادت حضرت داتا گنج بخش(رح) نے اپنی کتاب’’کشف المجوب‘‘ میں ’’لاہور یکے از مضافاتِ ملتان‘‘ فرما کر دی ہے ۔ ملتان کے حوالے سے فارسی کے شعر‘’ چہار چیزاست تحفہ ملتان ، گردو گرما گداوگورستان‘‘ گرمی کے حوالے سے ’’گرمے‘‘ کی بات کوچھوڑ کر محققین کو اس بات پر غور کرنا چاہئیے کہ دنیا کی امیر کبیر شہر ، دنیا کی بہت بڑی تہذیب اور دنیا کی بڑی سلطنت کو گورستان میں کس نے تبدیل کیا ؟ ظلم کی کالی آندھی میں وسیب کے بادشاہوں کو گدا کس نے بنایا؟ جب محققین ریسرچ کریں گے تو انہیں آج کا پورا پاکستان قدیم سلطنت ملتان نظر آئے گا، تاریخ میں ’’سپت سندھو‘‘ ﴿سات دریائوں کی سرزمین﴾ کا جو ذکر وہ بھی یہی سرائیکی علاقہ ہی ہے اور یہیں پر ہی سات دریا آ کر ملتے ہیں جس علاقے کو وادی سندھ کہا جاتا ہے وہ بھی سرائیکی علاقہ میں ہے، سندھی کا لغوی معنی بھی دریا ہے ۔آج جس سرائیکی وسیب کے لوگ اپنے ہی خطے میں حقیر اور مہاجر بنے ہوئے ہیں ، پچھلی صدیوں میں ان کی کیفیت ایسی نہ تھی ، ان کی اپنی سلطنیں اور بادشاہتیں تھیں، مثلاً سلطنت ملتان ، ریاست بہاولپور اور دیرہ غازیخان وغیرہ ، اس ترقی معکوس پر بھی غور کی ضرورت ہے کہ دنیا کی قدیم سلطنت ملتان ، سلطنت سے صوبہ ، صوبہ سے ڈویژن اور ڈویژن سے ضلع اور وہ بھی محض دو تحصیلوں ﴿جلال پور ، شجاع آباد﴾ کیسے بنا؟ جب تک تحقیق اور ریسرچ کا عمل شروع نہ ہوگا، آئندہ منزل کا تعین نہ ہو سکے گا ۔ کراچی سے بہت عرصہ پہلے انگریزی زبان میں ایک تحقیقی کتاب Paradise of Godeکے نام سے شائع ہوئی ۔ اس کتاب میں قدیم خطہ ملتان﴿وادی سندھ﴾ سے متعلق بہت کچھ لکھا گیا ہے اگر سرائیکی وسیب میں تحقیقی ادارے وجود میں آئیں اور وہ اپنی تحقیقات کے ذریعے اس علاقے کی قدامت کو سامنے لائیں تو آج کا یورپ جو اپنے آپ کو انسان اور باقی تمام دنیا کو حیوان سمجھ رہا ہے ، کو اس بات پر تعجب کے ساتھ شرمندگی بھی ہوگی کہ جب یورپ کے لوگ تہذیب ، تمدن اور دانائی کے مفہوم سے بھی آشنا نہ تھے اس وقت بھی یہ خطہ ایجادات میں سرگرم عمل تھا اور اس خطے کو ہی یہ شرف حاصل ہے کہ یہاں انسان اور حیوان کی تمیز پیدا ہوئی ، کتاب Paradise of Godeمیں لکھا ہے کہ یہ وہ خطہ ہے کہ جہاں 1۔ انسان نے پہلی بار اپنے دو پائوں پر چلنا پھرنا سیکھا۔ 2۔ جہاں دنیا کی پہلی بادشاہت ﴿چندر گیت موریا﴾ قائم ہوئی۔ 3۔جہاں سب سے پہلے سرکنڈوں سے کشتی بنائی گئی ۔ 4۔جہاں سب سے پہلے فن تحریر پہلی بار ایجاد ہوا۔ 5۔ جہاں پہلی بار سوتی کپڑے سے دنیا روشناس ہوئی ۔ 6۔ جہاںپختہ خشت سازی اور فن تعمیر ایجاد ہوا۔ 7۔جہاں اوزان پیمائش کے پیمانے پہلی بار وجود میں آئے ۔ 8۔ جہاں دریائی ﴿ڈھنڈ﴾ڈیم نالے ، واہے بنائے گئے اور نہریں نکالی گئیں۔ 9۔جہاں کے انسانوں نے حملہ آوروں کا ہمیشہ ڈٹ کر مقابلہ کیا ، موت لے لی ، ماں دھرتی نہ دی۔ اتنے بڑی تہذیب اور اتنے بڑے قومی ورثے کے امین شہر ملتان کو بچانے کے ساتھ ساتھ اسکی درخشندہ تاریخ اور اس کے قدیم آثار کو بھی بھی بچانے کی ضرورت ہے ۔قدیم قلعہ ملتان ، سرائیکی وسیب کے قدیم آثار کی باقیات میں سے ایک ہے ۔ چند دن پہلے اخبارات میں خبر شائع ہوئی کہ قلعہ کہنہ قاسم باغ پر گرڈ اسٹیشن کی تعمیر کا فیصلہ کر لیا گیا ہے ، فیصلے کے حلاف جھوک سرائیکی میں وسیب کے ادیبوں ، شاعروں اور دانشوروں کا ہنگامی اجلاس منعقد ہوا ، اجلاس میں فیصلہ ہوا کہ گرڈ اسٹیشن کی تعمیر کا فیصلہ واپس نہ ہوا تو وسیب کے لوگ سخت احتجاج کریں گے اور اپنی جانیں دینے سے بھی دریغ نہ کریں گے ، یہ امر خوش آئند ہے کہ ضلع ناظم ملتان شیخ فیصل مختار نے یقین دہانی کرائی کہ قلعے پر گرڈ اسٹیشن کسی صورت تعمیر نہ ہونے دیا جائے گا مگر ضلع ناظم نے قلعے پر پہلے سے موجود تجاوزات کے خاتمے کیلئے کوئی بات نہیں کی ، ہماری گزارش اتنی ہے کہ ہزاروں سال پرانے قلعے کی اصل حیثیت بحال کی جائے اور پولیس اسٹیشن ، اسٹیڈیم اور ٹیلیفون کھمبوں کو ختم کیا جائے اور قلعے کے چہار اطرف تمام تجاوزات کو ختم کر کے اسے قلعے میں شامل کیا جائے ، ضلع حکومت کے ساتھ وفاقی اور صوبائی حکومت بھی اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرے ۔ صوبائی اور وفاقی حکومت کے زیر انتظام محکمہ آثار قدیمہ ہر سال کروڑوں کا بجٹ حاصل کرتا ہے مگر بجٹ کا کثیر حصہ لاہور پر خرچ کر دیا جاتا ہے ، شاہی قلعے کی بحالی پر محکمہ آثار قدیمہ کے علاوہ صوبائی حکومت الگ سے سپیشل گرانٹ بھی دیتی ہے اس لحاظ سے اب تک لاہور کے شاہی قلعے پر اربوں خرچ ہو چکے ہیں ، اب حکومت نے شاہی قلعے کی مزید بحالی یونیسف کے حوالے کر دی ہے اب یونیسف شاہی قلعے پر روپے کی بجائے ڈالروں کی صورت میں خرچہ کرے گا ، حالانکہ قلعہ ملتان کی قدامت لاہور کے شاہی قلعے سے سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں سال پرانی ہے ، ضرورت اس بات کی ہے کہ اسی طرح کے اقدامات قلعہ ملتان اور سرائیکی وسیب کے دوسرے آثار قدیمہ مثلاً اوچ کے مزارات ، پتن منارہ ، قلعہ ہڑند ، اور قلعہ وغیرہ کیلئے ہونے چاہئیں مگر یہ کام اکیلے فیصل مختار کو نہیں بلکہ وسیب سے تعلق رکھنے والے تمام ارکان اسمبلی ، ضلعی ناظمین کو مل کر کرنا ہے ، یہ خیرات نہیں حق ہے اور حق پلیٹ میں رکھ کر کوئی نہیں دے گا۔اس کیلئے وسیب کے ہر آدمی کو جدوجہد کرنا ہوگی ، اگر ماں اپنے بچے کو روئے بغیر دودھ نہیں دیتی تو وسیب کے لوگوں کو بن مانگے حق کون دیگا؟اب طوطے کی طرح مسئلے مسئلے کا رٹ لگانے کی بجائے خود مسئلہ بنے بغیر مسئلے حل نہ ہونگے۔اس کیلئے وسیب کے ادیبوں ، شاعروں ، دانشوروں اور سیاستدانوں کے ساتھ ساتھ خود عام آدمی پر بھی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے ۔کہ وہ اپنا کردار ادا کرے دیکھنا یہ ہے کہ کون اس کیلئے آگے بڑھ کر سرخروئی حاصل کرتا ہے ؟

وکی پیڈیا سے نقل شدہ web (http://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D9%84%D8%AA%D8%A7%D9%86)

سقراط
08-20-2011, 08:44 PM
کمال ہے پاکستان کے اس عظیم ورثے پر کوءی تبصرہ نہیں؟

خان بلوچا
11-09-2011, 07:10 PM
سب شہراں دا سُلطان
ملتان میڈا ملتان

بےباک
11-10-2011, 09:09 PM
بہت زبردست سیر کرا دی آپ نے ملتان کی ،
نائس شئیرنگ
:-):-):-):-)

این اے ناصر
04-03-2012, 11:56 AM
بہت نائس شئرنگ ۔ سیرکرانے کاشکریہ۔

فضاءسحر
11-18-2012, 03:07 PM
بھت اچھے

ساجد تاج
02-16-2013, 01:29 PM
تبصرہ کیوں نا اسلام کے کسی ٹوپک پر کیا جایا

pervaz khan
02-16-2013, 02:23 PM
اچھی شئیرنگ کا شکریہ

انجم رشید
02-23-2013, 03:11 PM
زبردست