PDA

View Full Version : امریکی ٹی وی چینل فاکس نیوز کے ٹوِئٹر اکاؤنٹ ہیک



این اے ناصر
07-10-2011, 12:11 AM
ہیکرز نے امریکی ٹی وی چینل فاکس نیوز کے ٹوِئٹر اکاؤنٹ کو ہیک کرنے کے بعد اس پر امریکی صدر براک اوبامہ کی موت کی خبر آویزاں کردی۔

ٹوئٹر پر فاکس نیوز پالیٹکس میں بریکنگ نیوز کے عنوان سے یہ عبارت آویزاں کی گئی: ’براک اوبامہ کو ہلاک کردیا گیا ہے۔ ان کو دو گولیاں لگیں جو جان لیوا ثابت ہوئیں۔‘

اس گمراہ کن عبارت کے آویزاں ہونے کے دو گھنٹے بعد بھی اسے ہٹایا نہیں جاسکا تھا۔

اپنے آپ کو سکرپٹ کڈیز کہلانے والا یہ گروپ یا انفرادی شخص نے بظاہر اس کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

فوکس نیوز پالیٹکس نے چار جولائی کی صبح سے ہی بے سروپا پیغامات آویزاں کرنا شروع کردیئے تھے۔

پہلے پیغام میں کہا گیا ’اب ٹوئٹر اور ای میل پر مکمل قابو حاصل کرلیا گیا ہے، چار جولائی مبارک ہو۔‘
یہ واضح نہیں ہوسکا کہ فاکس نیوز پر حملہ کیوں کیا گیا حالانکہ یہ تاثر عام ہے کہ اس چینل کے روایتی مؤقف سے امریکیوں میں اس کی مقبولیت کم ہوئی ہے۔

پھر اگلے ہی پیغام میں براک اوبامہ سے متعلق پیغام آویزاں کیا گیا۔

فاکس نیوز پالیٹکس، ٹوئیٹر پر فاکس کیبل نیوز نیٹ ورک سے منسلک ہے۔

صدر اوبامہ کے بارے میں پیغامات میں سکرپٹ کڈیز نے اپنا نام بھی ظاہر کیا۔ تاہم بعد میں اس اکاؤنٹ کو معطل کردیا گیا۔

سکرپٹ کڈیز کا صیغہ انٹرنیٹ پر ایسے افراد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جو ناتجربہ کار ہوتے ہیں اور ایسی ہیکنگ ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہیں جو دوسروں کی تخلیق کردہ ہوتی ہیں۔

یہ واضح نہیں ہوسکا کہ فاکس نیوز پر حملہ کیوں کیا گیا حالانکہ یہ تاثر عام ہے کہ اس چینل کے روایتی مؤقف سے امریکیوں میں اس کی مقبولیت کم ہوئی ہے۔

تاہم اس کے باوجود امریکہ میں یہ سب سے زیادہ دیکھا جانے والا چینل ہے اور خاص طور پر اس کا پرائم ٹائم شو جو ایک اندازے کے مطابق بیس لاکھ افراد دیکھتے ہیں اور اس طرح اس چینل کو اپنے حریف چینل سی این این اور ایم ایس این بی سی سے سبقت حاصل ہے۔

اس سے پہلے فاکس انٹرٹینمنٹ گروپ کی ویب سائٹ فاکس ڈاٹ کام پر پہلی بار ایک ہیکر گروپ للز سکیورٹی نے مئی دو ہزار گیارہ میں حملہ کیا تھا۔

اس گروپ نے ایکس فیکٹر کے امریکی ورژن کے تہتر ہزار امیدواروں کی ذاتی معلومات چوری کرلی تھیں۔ ہیکروں کے للز سکیورٹی گروپ نے حال ہی میں اپنے آپ کو ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

[URL="http://www.bbcurdu.com"][BBC Urdu Service/URL]