PDA

View Full Version : میڈیا اور مولوی



سیما
07-11-2011, 05:08 AM
آج ہم ڈرتے ‘جھجکتے ایک ایسے موضوع پہ لکھنے کی جسارت کررہے ہیں اتنا حساس ہے تو نہیں لیکن حساس بنادیاگیاہے۔ ہمارے ملک میں میڈیاکو حاصل خاص اہمیت کسی سے مخفی نہیں۔ آج میڈیا کو اس ملک کے پانچویں ستون کا درجہ حاصل ہے اور اس کی وجوہات بھی معلوم ہیں۔ لیکن کچھ رویے ایسے ہیں جن کی طرف توجہ دینے میں کوئی ہرج نہیں۔ یادہوگاجب سانحہ 12 مئی رونماہورہاتھا۔اس وقت معروف اورچوٹی کے صحافی طلعت حسین پربھی حملہ ہوا۔ یہ حملہ ساری دنیاکے سامنے ہوا ‘ دن کی روشنی میں ہوا ‘اس موقع پر سب ان سے سوال کررہے تھے کہ یہ کس نے کیا؟ بڑا جائز اور اہم سوال تھا اور طلعت حسین صاحب جیسے بہادر اور بے باک صحافی سے سب کو یہ توقع تھی کہ آج بھی وہ اپنی روایتی بے باکی کا مظاہرہ کرتے ہوئے قاتلوں کو بے نقاب کریں گے لیکن نہ جانے کس بات کا خوف آڑے آگیاکہ وہ بس اتنا کہہ کرآگئے بڑھ گئے کہ ”یہ حملہ ایک سیاسی جماعت نے کیاہے“۔ اس سیاسی جماعت کا کوئی نام ‘ کوئی کام‘ کوئی نشان کوئی عنوان بتانے کی زحمت نہ کی۔ اہم ہماری سیاسی زندگی کا ایک اور اہم واقعہ ملاحظہ فرمائیں۔جے یو آئی (ف) نے زرداری حکومت سے علیحدگی اختیارکی تو پورے میڈیا میںاس اہم خبرسے زیادہ شور اس بات کا تھا کہ ”یہ ڈراماہے‘ یہ واپس آجائیں گے‘ وقتی مفاد کے لیے الگ ہوئے ہیں‘ یہ بلیک میلنگ ہے‘ یہ سارا پیسے کا چکرہے‘ یہ حکومت کے بغیر نہیں رہ سکتے‘ یہ دھوکاہے“ غرض جتنے چینل اتنی باتیں“ لیکن اس کے کچھ ہی عرصہ کے بعد جب ایم کیو ایم حکومت سے الگ ہوئی تو ایسی کوئی بات سننے میں نہیں آئی بلکہ اس کوسراہا گیا اور کچھ مخصوص لوگوں کی طرف سے داد وتحسین کے ڈونگرے برسائے گئے اوریہ نہیں کہاگیا کہ یہ ذاتی مفادہے‘ یہ واپس آجائیں گے‘ یہ بلیک میلنگ ہے حالانکہ اگرایسا کہاجاتا تو یہ حقائق کے منافی نہ تھا۔ اور پھر وہ وقت بھی آیا جب ایم کیو ایم واپس آگئی لیکن بدستورمیڈیا لب بستہ رہا۔ خیر”متحدہ اورمیڈیا“ کے حوالے سے کتاب لکھی جاسکتی ہے۔میڈیا میں تاثر بنادیاگیاہے کہ مذہبی لوگ دہشت گردی کوسپورٹ کرتے ہیں۔ اس کی مذمت نہیں کرتے وغیرہ وغیرہ۔ حالانکہ میں نے آج تک کسی جاعت کو یاکسی فردکو بھی خودکش حملوں کی تعریف کرتے ہوئے نہیں سنا اور نہ ہی وہ اس طریقے اور راستے کو درست سمجھتے ہیں۔ بلکہ یہ لوگ تو اس سے بھی دوہاتھ آگے کی بات کرتے ہیں کہ ان کو بھی اور ان کی جڑ امریکا کی غلامی اور اس کی جنگ کو بھی ختم کریں۔ ان کی اس بات کو دہشت گردی کی حمایت سے تعبیرکرکے ایسی گھناونی تصویرپیش کی جاتی ہے جسے دیکھ کر وہ بیچارے خود بھی پریشان اور دم بخود رہ جاتے ہیں۔ میڈیا کے کچھ لوگ خاص طورپر نام نہاد تجزیہ کاروں کا آج بھی پسندیدہ موضوع مولوی یا ان سے وابستہ کوئی بات ہوتی ہے۔ یہ نام مولوی کا لیتے ہیں اور بدنام اسلام کو کرتے ہیں۔ چونکہ اسلام کو براہ راست تو کچھ کہہ نہیں سکتے اس لیے سیدھے سادھے مولوی صاحبان ان کا سوفٹ ٹارگٹ ہوتے ہیں۔ اس بارے میں اور بھی بہت کچھ بتایا اور لکھا جاسکتاہے لیکن گنجائش کم ہونے کی وجہ سے ایک اور پہلو کی طرف آتے ہیں۔کچھ عرصہ پہلے صحافیوں نے شاہراہ دستور پردھرنا دیا‘ بہت اچھا کیا‘ ایسا ہی کرنا چاہیے تھا‘صحیح اور بروقت فیصلہ تھا لیکن وہیں یہ بات بھی دیکھنے میں آئی کہ اس دھرنے میں چندسو لوگ موجود تھے ان چندسوکو ہزاروںکی تعداد میں بتایا گیا اور خوب خوب توصیف کی گئی کہ آج ہم اپنے حقوق کے لیے میدان میں نکلے ہیں‘ اپنا فرض اداکرنے نکلے ہیں۔ جبکہ اس سے کچھ دن پہلے کراچی میں ہونے والے جماعت اسلامی کے دھرنے میں لاکھوں کی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔ اور میڈیا پرلاکھوں افرادکو صرف ”عوام کی بڑی تعداد میں شرکت“ کہنے پر اکتفاکیا گیا اور سوالات اٹھائے گئے کہ کیا فائدہ ایسے دھرنوں کا؟ خواہ مخواہ وقت کا ضیاع ‘کچھ نہیں ہونا ان دھرنوں سے“ وغیرہ وغیرہ۔ مطلب ”تم کروتو ثواب کوئی اورکرے تو گناہ “ یہ کہاں کا انصاف ہے۔اپنے ان صحافی بھائیوں سے دست بستہ سوال ہے کہ اس سے پہلے تو سیکڑوں صحافی قتل کیے جاچکے ہیں۔ ولی خان بابر کے قتل کو زیادہ عرصہ نہیں گزرا اور سب اچھی طرح جانتے ہیں کہ ان کے قاتل کون ہیں اور ان کو ان کے انجام تک پہنچانے میں کون سے عناصررکاوٹ ہیں‘ لیکن آزادی اظہار آزادی صحافت اورانسانی حقوق کے چیمپئن اور علمبرداروں کو نہ جانے کون سی مصلحت درپیش ہے‘ جو انہیں حق پرستی کا پرچارکرنے سے باز رکھے ہوئے ہے۔ اسلام آباد میں قتل ہونے والے سلیم شہزاد کے قاتلوں کو بھی ضرورسزاملنی چاہیے لیکن کیا کراچی میں ہونے والا ہرقتل معاف ہے۔ رینجرزکے سپاہی ایک نوجوان کو قتل کردیں تو پورا ملک چیخ اٹھے اور اسے ایسا کرنا بھی چاہیے لیکن ایک ایک دن میں درجنوں افراد قتل ہوجائیں تو اسے صرف ٹارگٹ کلنگ یا نامعلوم افراد کی فائرنگ قراردے کر فائل بندکرکے رکھ دی جائے۔ ذرائع ابلاغ اپنا ریکارڈ دیکھیں‘ انہیں معلوم ہوجائے گا کہ انہوں نے ہزاروں بے گناہ شہریوں کے قتل عام کو صرف ٹارگٹ کلنگ کی ایک سطری خبرسے زیادہ اہمیت نہیں دی۔

بےباک
07-15-2011, 01:14 AM
واہ سیما صاحبہ
زبردست
جزاک اللہ ،
اسی لیے ہم دھرنا نہیں دیتے ، اس کا کچھ فائدہ نہیں ہوتا ،
کاش ہمیں کوئی گہرا لیڈر مل جائے ، جس کو وقت کے ضیاع کا احساس تو ہو ،
،،،،،،،،،،،،،،،،،
:-)