PDA

View Full Version : طاقت اور ثقافت



سیما
07-12-2011, 01:22 PM
جارج ڈبلیو بش نے نائن الیون کے بعد القاعدہ اور طالبان کے خلاف مغربی معاشرے میں اپنا مقدمہ لڑنے کے لیے جس الزام سے ابتدا کی وہ یہ تھا کہ افغانستان اور پاکستان کے پہاڑوں میں چھپے بیٹھے یہ لوگ ہماری ثقافت بدل کر ہم پر اپنی ثقافت مسلط کرنا چاہتے ہیں۔ گویا کہ طالبان اورالقاعدہ بندوق اور طاقت کے ذریعے اہلِ مغرب کی ثقافت بدلنا چاہتے تھے۔ ظاہر ہے یہ کوئی بری بات ہی ہوگی اسی لیے جارج بش نے اسے القاعدہ کے خلاف اپنی فردِ جرم کا پہلا نکتہ بنایا اور مغربی سماج سے اسی بنیاد پر حمایت بھی کشید کی۔ ایک مغربی معاشرے کے فرد کی ساری زندگی، ساری سرگرمیاں لمحہ¿ موجود میں زندہ رہنے اور اسے انجوائے کرنے کے تصور کے گرد گھومتی ہیں۔ اس لیے اس فرد کے لیے اِس زندگی میں ذرا سا عدم توازن موت ہی ہے۔ جب جارج بش اہلِ مغرب کو اپنی ثقافت چھن جانے کا خوف دلا رہے تھے تو اس سے ایک پوری تصویر اُن کے ذہنوں میں بن رہی ہوگی، یعنی اگر القاعدہ غالب آگئی تو مغرب میں لوگوں کو بندوق کی نال پر مذہب تبدیل کرنا پڑے گا، گرجا گھروں پر تالے پڑجائیں گے یا وہ مساجد میں تبدیل ہوکر رہ جائیں گے۔ عورتوں کی بے لباسی حجاب میں ڈھل جائے گی اور مرد داڑھیاں رکھنے پر مجبور ہوں گے۔ نائٹ کلب، شراب خانی، جوئے کے مراکز اور عیاشی کے تمام اڈے بند ہوجائیں گے۔ نائن الیون کے چند ہی دن بعد ایک یہودی خاتون دانشور بائٹ مور نے واشنگٹن ٹائمزکو دئیے گئے ایک انٹرویو میں کچھ ایسی ہی منظرکشی کرکے اہلِ مغرب اور عیسائی انٹیلی جنشیا کو ڈرانے کی کوشش کی تھی۔ مصر سے آبائی تعلق رکھنے والی اس یہودی دانشور نے اہلِ مغرب کو ڈراتے ہوئے کہا تھا کہ اگر مسلمان تمہارے معاشرے پر غالب آگئے تو تمہاری حیثیت ذمیوں جیسی ہوگی۔ تم اپنی ثقافت اور تہذیب کھوکر انہی کے غلام ہوکر رہ جاو گے۔ تصور کیجیے کہ اگر کسی کو طاقت کے زور پر یہ سب کچھ ہوجانے کا خوف دلایا جائے تو اس معاشرے کے رگ و پے میں کس قدر سنسنی پیدا ہوجائے گی۔ اس کے تصور سے ہی سماج کا دم گھٹنے لگے گا۔ کیونکہ مغربی معاشرے نے اس زندگی کے لیے بہت قربانیاں دی ہیں، بہت جدوجہد کی ہی، اور وہ اِس زندگی کے چھن جانے کے تصور سے ہی لرز کرجاتا ہے۔جارج بش نے القاعدہ کے خلاف اپنی جنگ کا آغاز کرنے کے لیے مغربی معاشرے کی اسی کمزوری کو اپنی طاقت بنالیا۔ جارج بش کے سارے مقدمے کا خلاصہ یہ تھا کہ طاقت کے ذریعے نہ صرف کسی کی ثقافت کو بدلنا غلط ہے بلکہ اپنی ثقافت کو مسلط کرنا بھی جائز نہیں۔ اس حوالے سے اسلام کی تعلیمات تو ”دین میں کوئی جبر نہیں“ کے لازوال تصور کے گرد گھومتی ہیں۔ اگر کہیں کوئی جبر کا سہارا لیتا بھی ہے تو اُس کا اسلام سے کوئی تعلق بنتا ہے نہ اس کی ذمہ داری اسلام پر عائد ہوتی ہے۔ یہ کوئی قبائلی جذبہ، کوئی گروہی غصہ، کوئی قومی تعصب تو ہوسکتا ہی، اسلام نہیں۔ یہ ساری کہانی اُس وقت یاد آئی جب اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے نے ایک پریس ریلیز کے ذریعے اہلِ پاکستان کو یہ اطلاع فراہم کی کہ امریکی سفارت خانے میں ہم جنس پرستوں کی ایک تقریب منعقد ہوئی جس میں پاکستانی باشندوں نے بھی شرکت کی۔ یہی نہیں بلکہ پریس ریلیز میں پاکستان میں اس قبیل کے لوگوں کی سرپرستی کا عزم بھی ظاہر کیا گیا تھا۔ پہلے ہی لمحے یوں لگا کہ یہ وہی حرکت ہے جس کا الزام لگاکر امریکی صدر نے پوری مغربی دنیا کے جذبات کو برانگیختہ کیا تھا، جسے مختصر اور آسان لفظوں میں طاقت کے ذریعے ثقافت کی تبدیلی کی کوشش کہا جاسکتا ہے۔ امریکی صدر نے اس کوشش کو دنیا کی سب سے قبیح حرکت قرار دے کر ایک جنگی بلاک کھڑا کردیا تھا۔ یہ جنگ لڑتے لڑتے امریکا اب اس قدر آگے نکل چکا ہے کہ وہ خود اسی راہ پر چل پڑا ہے۔ اسے یاد ہی نہیں کہ وہ کس نعرے کے ساتھ کس مقام سے چلا تھا۔ امریکی سفات خانے میں جو ہوا وہ اس سفارت خانے کی حدود کے اندر کا معاملہ تھا۔ مغربی معاشروں میں یہ سب کچھ معمول کی سرگرمی کا حصہ ہے۔ خود مسلم معاشرہ بھی بے شمار قباحتوں کا شکار ہے۔ انسانی جبلت اور فطرت میں نیکی اور بدی کے اجزا شامل ہیں۔ جنت اور دوزخ انہی راہوں کا فطری انجام ہے۔ لیکن برائی کی تشہیر اور اسے تحریک بنانا مسلم ثقافت کو قبول نہیں ہوتا۔ امریکی سفارت خانے میں جو کچھ ہوا اس کا مرکزی تصور طاقت کے ذریعے ثقافت مسلط کرنا ہے۔ امریکی سفارت خانے کی حدود میں جو ہوا اس کا تعلق امریکی معاشرے اور اس کی ثقافت سے ہی، لیکن امریکی سفارت خانے کی جانب سے پریس ریلیز جاری کرکے اس عمل کو تحریک بنانے کا عمل اس روش کے سوا اور کیا کہا جاسکتا ہی! امریکا اس وقت ایک غالب اور بالادست تہذیب ہے۔ یہ پاکستان کے سیاسی، معاشی اور عسکری معاملات میں بہت اندر تک دخیل ہے۔ پاکستان اپنی معاشی اور بین الاقوامی مجبوریوں کے باعث اس سے تعاون کرنے پر مجبور ہے۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ امریکا اپنی طاقت اور بالادستی کا فائدہ اُٹھاکر پاکستانی عوام پر اپنی ثقافت مسلط کرنے کا راستہ اختیار کرلے۔ آج امریکا اپنی برتری اور طاقت کے زعم میں پاکستان پر اپنی ثقافت مسلط کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ کل وہ القاعدہ کو جس جرم کا سزاوار سمجھتا تھا، آج وہی جرم خود دوہرا رہا ہے۔ شاید طاقت کی ثقافت ہی یہ ہے کہ وہ کسی ایک پہلو کو پکڑ کر ہر میدان میں غالب آنے کی کوشش کرتی ہے۔ امریکی سفارت خانے کی محفل کے بعد جو کچھ ہوا وہ طاقت کی اسی ثقافت کا آئینہ دار تھا۔

اردو ٹائمز

محمدمعروف
07-12-2011, 10:15 PM
ماشاء اللہ بہت اہم اور تحقیقی مضمون شئیر کیا۔

بےباک
07-13-2011, 01:03 AM
خوب سیما جی ،
زبردست