PDA

View Full Version : میری امی سب سے اچھی سب سے پیاری



اذان
07-16-2011, 09:55 PM
http://urdulook.info/imagehost/?di=14131081828316

http://i43.tinypic.com/1r3doo.png


مجھے دو تھپڑ لگا کر میری ماں سو گئی بدر
اک بار میں نے کہا تھا مجھے ڈر لگتا ہے ماں

قصے کہانیوں میں پڑھا کرتے تھے کہ ماں اپنے بیٹے کو "میرا لال" کہہ کر بلاتی تھی۔ میں نے اپنی ماں سے کہہ دیا کہ ماں مجھے بھی "لال" کہہ کر بلایا کرو۔اماں نے جوتیوں سے اتنی پٹائی کی کہ میں "لالو لال" ہو گیا۔ تب سمجھ میں آیا کہ قصے کہانیوں کی مائیں بھی بس قصہ کہانی ہوا کرتی ہیں۔ ہماری ماں نے ماشااللہ سے اپنی دہشت خوب قائم رکھی اور اسی مقصد کے لیے جوان ہونے تک اپنے تمام بچوں کو گوڈے تھلے دبا کر خوب چمڑیسا کرتی تھیں۔ اسی لیے آج بھی ہمارے بھائی 50 سال کے ہو جانے کے باوجود اماں کی آواز سن کر لرز جاتے ہیں۔

ایک مرتبہ ہمارے معصوم دل میں خواہش جاگی کہ چلو نہر پر نہا کر آتے ہیں۔ چلے گئے۔ واپسی پر ہمارے محلے دار نے معنی خیز نگاہوں سے اشارہ کیا کہ محتاط رہنا۔ ہمارا بڑا بھائی بھی ساتھ تھا۔ ہم کو حوصلہ تھا کہ نہیں آج ظلم کی روایت نہیں دوہرانے دیں گے۔ آگ تاریخ کو بدل دیں گے۔ میں بھائی کا ہاتھ پکڑے ہوئے ۔ ۔ ۔ یا پتا نہیں بھائی میرا ہاتھ پکڑے ہوئے گھر میں داخل ہوا۔ اماں شاید کمرے میں تھیں اور کمرے کے دروازے پر ان کی جھلک دکھائی دی۔ میں نے گھبرا کر بھائی سے ہاتھ چھڑوایا اور کہا کہ میرے تو پیٹ میں درد ہے میں تو باتھ روم جا رہا ہوں۔یہ کہہ کر باتھ روم میں چلا گیا۔ باہر سے نہ جانے کیوں کافی دیر تک جھاڑو دینے کی آواز آتی رہی۔ میں حیران ہو کر سوچتا رہا کہ یہ اماں کو اس وقت کیوں جھاڑو دینا یاد آ گیا۔ خیر یہی کوئی 1 گھنٹے بعد میں باتھ روم سے باہر نکلا تو دیکھا اماں باہر ہی دالان میں بیٹھی ہیں اور جھاڑو ساتھ ہی رکھا ہے۔ انہوں نے جابرانہ نگاہوں سے مجھے دیکھا اور نزدیک آنے کا اشارہ کیا۔ میں سمجھا کہ شاید کہیں گی کہ جھاڑو سائیڈ پر رکھ آؤں ۔خراماں خراماں ۔ ۔ ۔ اماں کے پاس پہنچا تو یکایک مجھ پر جھاڑو برس پڑے ۔ کتنی دیر جھاڑو سے میری صفائی کی گئی مجھے یاد نہیں ۔ تاہم سارا وقت مجھے یہی خیال آتا رہا کہ اتنی صفائی اماں دالان کی کر لیتیں تو کم از کم گھر تو صاف ستھرا ہوتا۔ مگر نہیں اماں کو تو ہماری صفائی کی پڑی تھی۔ حالانکہ ہم تو نہر سے پاک صاف ہو کر آ رہے تھے اور اگر مزید پاک صاف ہونے کی ضرورت تھی بھی تو باتھ روم کس مقصد کے لیے ہوتے ہیں۔ مگر اماں کو کون سمجھائے۔وہ ایسا کام خود کرنے کی قائل تھیں۔

خیر اپنی اچھی طرح صفائی کروا کر میں اپنے بگ برادر کے پاس چھت پر چلا گیا اور ہم دونوں اپنے اپنے دکھڑے رونے لگے۔ ہم نے وہاں بیٹھ کر پلان بنایا کہ اس ظلم کی حد ہو گئی۔ اب ہمکو شادی کر لینی چاہیے۔ بھایئ تو اپنے مقصد میں کامیاب ہو گیا اور سنا ہے اب وہ اپنی بیگم سے اسی طرح مستفید ہوتا ہے یعنی اسکی زندگی میں تو کوئی بدلاؤ نہیں آیا کہ میں اس سے انسپائر ہو کر حالات کے خلاف بغاوت کر دیتا۔ میں نے یہی سوچ کر حالات سے سمجھوتا کر لیا کہ چلو "نئی" سے "نت نئی" قسم کی مار کھانے سے بہتر ہے "آزمائے ہوئے کو ہی آزمایا جائے"

جوانی میں شوق جاگا کسی لڑکی سے دوستی کی جائے۔ اس دور میں انٹر نیٹ اس مقصد کے لیے سب سے بڑا ہتھیار تھا۔ خیر سے ہم بھی اس بحر ظلمات میں کود پڑے اور گوہر مقصود کی تلاش شروع کر دی۔ کافی تلاش بسیار اور لڑکی نما لڑکوں سے گپ شپ کرنے کے اور اس سے قبل کے ہم کو یقین ہو جاتا کہ انٹرنیٹ پر لڑکی نما مخلوق نہیں پائی جاتئ ۔ ۔ ۔کہ اچانک ہم کو ہماری منزل مقصود مل گئی اور ماشا اللہ سے ایک لڑکی سے چیٹنگ شروع ہو گئی۔ ہم اپنی اس خوش قسمتی پر پھولے نہ سمائے۔ گپ شپ چلتی رہی ۔ کچھ دن بعد اس نے مری ماں کے بارے میں پوچھا ۔ ۔ ۔ تو ہمارے منھ سے سچ نکل گیا کہ میری ماں تو ہٹلر ہے ۔ اب بھی جھاڑو سے پیٹتی ہے۔ وہ دن اور آج کا دن اس لڑکی کا آئی ڈی آن نہیں ہوا۔ پتا نہیں کیوں

ہماری اماں اس قدر جابر خاتون ہیں کہ میرے دوستوں کا کہنا ہے وہ اس قدر اپنی ماؤں سے نہیں ڈرتے جس قدر میری ماں سے ڈرتے ہیں۔ اب تو انہوں نے اسی خوف میں میرے گھر کی گھنٹی بجانا ہی چھوڑ دی ہے۔باہر کھڑے ہو کر فون کر دیتے ہیں کہ باہر آؤ۔ ایک مرتبہ ایک دوست کا سامنا ہو گیا اماں سے تو اس کی باقاعدہ گھگھی بندھ گئی۔ پتا نیہیں اماں اتنی جابر کیوں ہیں۔ آج بھی افطاری میں پکوڑئے گن کر دیتی ہیں ۔حد ہو گئی بھی اب ایویں ای لالچ میں موقع دیکھ کر بچوں کے پکوڑؤں پر ہاتھھ صاف کرنا پڑتا ہے۔ اس بے ایمانی کی زمہ دار اماں ہیں میں صاف بتائے دیتا ہوں۔

ایک مرتبہ ہمارا جھگڑا گلی کے ایک بد معاش سے ہو گیا۔ ہم تو اماں کے جبر تلے اس قدر دبے ہوئے تھے کہ سوچا جانے دو پتا نہیں کیوں منمنا رہا ہے۔کچھ سمجھ ہی نہیں آ رہی تھی کہ اسکا مقصد کیا ہے۔ اماں کو دوسرے دن پتا چلا تو اس کے گھر جا کر دھمکی لگا آئی کہ کسی خیال میں نہ رہنا میرے ایک بیٹے کو مارؤ گے تو کیا ہوا میرے پاس اور بھی ہیں۔ تمہارا تو اکیلا ہے۔ اس دن کے بعد اس بدمعاش کی شکل نہیں دکھائی دی۔ پتا نہیں مزید بیٹے تلاش کر رہا ہوگا۔
ایسا نہیں ہے کہ اماں محض ظلم و جبر کا ہئ شاہکار ہے اماں ہم سے بہت محبت بھی کرتی ہے۔ اس کا کئی مرتبہ عملی مظاہرہ بھی ہوتا ہے۔ ایک دفعہ کا ذکر ہے اماں نے مجھے اپنی گود میں سلایا تھا۔ اسی طرح ایک دفعہ کا ذکر ہے انہوں نے میرے سر میں تیل ڈالا تھا۔ اسی طرح ایک دفعہ کا ذکر ہے انہوں نے مجھے میری غلطی پر مجھے کچھ نہیں کہا تھا۔پتا نہیں کیوں۔
میری دعا ہے کہ اللہ میرے سارے دشمنوں کی مری طرح کی ماں دے تاکہ انکو بھی لگ پتا جائے۔


میری امی
سب سے اچھی
سب سے پیاری
میری امی

سیما
07-17-2011, 05:42 PM
بہت مزے کا لکھا آپ تو بہت ہی بے چارے ہو :( پر ممی تو سب کی ایک جیسے ہی ہوتی ہے، سچی سے میری ممی بھی بہت غصہ کرتی ہے پر وہ پیار بھی بہت کرتی ہے - غصہ تو بس سب کی امی وہ بچوں کو اس لیےغصہ کرتی ہے بچے ڈر جائے :(
میری ممی سب سے پیاری اللہ جی میری ممی کے ساتھ ساتھ آپ سب کی امی جان کو سلامت اور صحت مند رکھے
آمین ثم آمین

بےباک
07-18-2011, 10:31 AM
اس میں مزاح کا بھی غلبہ ھے اور کچھ کچھ سچ بھی ہے ،
البتہ مکمل سچ یہ ہے کہ ماں اپنے بچوں سے بے حد محبت کرتی ہیں اور اسی لیے پیارے رسول صلی علیہ وسلم نے ان کی خدمت اور عزت کے لیے باپ سے زیادہ کا حکم دیا ہے..
جزاک للہ

تانیہ
07-18-2011, 12:22 PM
http://urdulook.info/imagehost/?di=14131081828316

http://urdulook.info/imagehost/?di=313108179836


مجھے دو تھپڑ لگا کر میری ماں سو گئی بدر
اک بار میں نے کہا تھا مجھے ڈر لگتا ہے ماں

قصے کہانیوں میں پڑھا کرتے تھے کہ ماں اپنے بیٹے کو "میرا لال" کہہ کر بلاتی تھی۔ میں نے اپنی ماں سے کہہ دیا کہ ماں مجھے بھی "لال" کہہ کر بلایا کرو۔اماں نے جوتیوں سے اتنی پٹائی کی کہ میں "لالو لال" ہو گیا۔ تب سمجھ میں آیا کہ قصے کہانیوں کی مائیں بھی بس قصہ کہانی ہوا کرتی ہیں۔ ہماری ماں نے ماشااللہ سے اپنی دہشت خوب قائم رکھی اور اسی مقصد کے لیے جوان ہونے تک اپنے تمام بچوں کو گوڈے تھلے دبا کر خوب چمڑیسا کرتی تھیں۔ اسی لیے آج بھی ہمارے بھائی 50 سال کے ہو جانے کے باوجود اماں کی آواز سن کر لرز جاتے ہیں۔

ایک مرتبہ ہمارے معصوم دل میں خواہش جاگی کہ چلو نہر پر نہا کر آتے ہیں۔ چلے گئے۔ واپسی پر ہمارے محلے دار نے معنی خیز نگاہوں سے اشارہ کیا کہ محتاط رہنا۔ ہمارا بڑا بھائی بھی ساتھ تھا۔ ہم کو حوصلہ تھا کہ نہیں آج ظلم کی روایت نہیں دوہرانے دیں گے۔ آگ تاریخ کو بدل دیں گے۔ میں بھائی کا ہاتھ پکڑے ہوئے ۔ ۔ ۔ یا پتا نہیں بھائی میرا ہاتھ پکڑے ہوئے گھر میں داخل ہوا۔ اماں شاید کمرے میں تھیں اور کمرے کے دروازے پر ان کی جھلک دکھائی دی۔ میں نے گھبرا کر بھائی سے ہاتھ چھڑوایا اور کہا کہ میرے تو پیٹ میں درد ہے میں تو باتھ روم جا رہا ہوں۔یہ کہہ کر باتھ روم میں چلا گیا۔ باہر سے نہ جانے کیوں کافی دیر تک جھاڑو دینے کی آواز آتی رہی۔ میں حیران ہو کر سوچتا رہا کہ یہ اماں کو اس وقت کیوں جھاڑو دینا یاد آ گیا۔ خیر یہی کوئی 1 گھنٹے بعد میں باتھ روم سے باہر نکلا تو دیکھا اماں باہر ہی دالان میں بیٹھی ہیں اور جھاڑو ساتھ ہی رکھا ہے۔ انہوں نے جابرانہ نگاہوں سے مجھے دیکھا اور نزدیک آنے کا اشارہ کیا۔ میں سمجھا کہ شاید کہیں گی کہ جھاڑو سائیڈ پر رکھ آؤں ۔خراماں خراماں ۔ ۔ ۔ اماں کے پاس پہنچا تو یکایک مجھ پر جھاڑو برس پڑے ۔ کتنی دیر جھاڑو سے میری صفائی کی گئی مجھے یاد نہیں ۔ تاہم سارا وقت مجھے یہی خیال آتا رہا کہ اتنی صفائی اماں دالان کی کر لیتیں تو کم از کم گھر تو صاف ستھرا ہوتا۔ مگر نہیں اماں کو تو ہماری صفائی کی پڑی تھی۔ حالانکہ ہم تو نہر سے پاک صاف ہو کر آ رہے تھے اور اگر مزید پاک صاف ہونے کی ضرورت تھی بھی تو باتھ روم کس مقصد کے لیے ہوتے ہیں۔ مگر اماں کو کون سمجھائے۔وہ ایسا کام خود کرنے کی قائل تھیں۔

خیر اپنی اچھی طرح صفائی کروا کر میں اپنے بگ برادر کے پاس چھت پر چلا گیا اور ہم دونوں اپنے اپنے دکھڑے رونے لگے۔ ہم نے وہاں بیٹھ کر پلان بنایا کہ اس ظلم کی حد ہو گئی۔ اب ہمکو شادی کر لینی چاہیے۔ بھایئ تو اپنے مقصد میں کامیاب ہو گیا اور سنا ہے اب وہ اپنی بیگم سے اسی طرح مستفید ہوتا ہے یعنی اسکی زندگی میں تو کوئی بدلاؤ نہیں آیا کہ میں اس سے انسپائر ہو کر حالات کے خلاف بغاوت کر دیتا۔ میں نے یہی سوچ کر حالات سے سمجھوتا کر لیا کہ چلو "نئی" سے "نت نئی" قسم کی مار کھانے سے بہتر ہے "آزمائے ہوئے کو ہی آزمایا جائے"

جوانی میں شوق جاگا کسی لڑکی سے دوستی کی جائے۔ اس دور میں انٹر نیٹ اس مقصد کے لیے سب سے بڑا ہتھیار تھا۔ خیر سے ہم بھی اس بحر ظلمات میں کود پڑے اور گوہر مقصود کی تلاش شروع کر دی۔ کافی تلاش بسیار اور لڑکی نما لڑکوں سے گپ شپ کرنے کے اور اس سے قبل کے ہم کو یقین ہو جاتا کہ انٹرنیٹ پر لڑکی نما مخلوق نہیں پائی جاتئ ۔ ۔ ۔کہ اچانک ہم کو ہماری منزل مقصود مل گئی اور ماشا اللہ سے ایک لڑکی سے چیٹنگ شروع ہو گئی۔ ہم اپنی اس خوش قسمتی پر پھولے نہ سمائے۔ گپ شپ چلتی رہی ۔ کچھ دن بعد اس نے مری ماں کے بارے میں پوچھا ۔ ۔ ۔ تو ہمارے منھ سے سچ نکل گیا کہ میری ماں تو ہٹلر ہے ۔ اب بھی جھاڑو سے پیٹتی ہے۔ وہ دن اور آج کا دن اس لڑکی کا آئی ڈی آن نہیں ہوا۔ پتا نہیں کیوں

ہماری اماں اس قدر جابر خاتون ہیں کہ میرے دوستوں کا کہنا ہے وہ اس قدر اپنی ماؤں سے نہیں ڈرتے جس قدر میری ماں سے ڈرتے ہیں۔ اب تو انہوں نے اسی خوف میں میرے گھر کی گھنٹی بجانا ہی چھوڑ دی ہے۔باہر کھڑے ہو کر فون کر دیتے ہیں کہ باہر آؤ۔ ایک مرتبہ ایک دوست کا سامنا ہو گیا اماں سے تو اس کی باقاعدہ گھگھی بندھ گئی۔ پتا نیہیں اماں اتنی جابر کیوں ہیں۔ آج بھی افطاری میں پکوڑئے گن کر دیتی ہیں ۔حد ہو گئی بھی اب ایویں ای لالچ میں موقع دیکھ کر بچوں کے پکوڑؤں پر ہاتھھ صاف کرنا پڑتا ہے۔ اس بے ایمانی کی زمہ دار اماں ہیں میں صاف بتائے دیتا ہوں۔

ایک مرتبہ ہمارا جھگڑا گلی کے ایک بد معاش سے ہو گیا۔ ہم تو اماں کے جبر تلے اس قدر دبے ہوئے تھے کہ سوچا جانے دو پتا نہیں کیوں منمنا رہا ہے۔کچھ سمجھ ہی نہیں آ رہی تھی کہ اسکا مقصد کیا ہے۔ اماں کو دوسرے دن پتا چلا تو اس کے گھر جا کر دھمکی لگا آئی کہ کسی خیال میں نہ رہنا میرے ایک بیٹے کو مارؤ گے تو کیا ہوا میرے پاس اور بھی ہیں۔ تمہارا تو اکیلا ہے۔ اس دن کے بعد اس بدمعاش کی شکل نہیں دکھائی دی۔ پتا نہیں مزید بیٹے تلاش کر رہا ہوگا۔
ایسا نہیں ہے کہ اماں محض ظلم و جبر کا ہئ شاہکار ہے اماں ہم سے بہت محبت بھی کرتی ہے۔ اس کا کئی مرتبہ عملی مظاہرہ بھی ہوتا ہے۔ ایک دفعہ کا ذکر ہے اماں نے مجھے اپنی گود میں سلایا تھا۔ اسی طرح ایک دفعہ کا ذکر ہے انہوں نے میرے سر میں تیل ڈالا تھا۔ اسی طرح ایک دفعہ کا ذکر ہے انہوں نے مجھے میری غلطی پر مجھے کچھ نہیں کہا تھا۔پتا نہیں کیوں۔
میری دعا ہے کہ اللہ میرے سارے دشمنوں کی مری طرح کی ماں دے تاکہ انکو بھی لگ پتا جائے۔


میری امی
سب سے اچھی
سب سے پیاری
میری امی





:):):)
زبردست اور بہت دلچسپ مزیدار شیئرنگ ہے پڑھ کے مزا بھی ایا اور ہنسی بھی
مجھے بچپن میں پڑھی ایک نظم یاد آ گئی
میری اماں پیاری اماں تو ہی گھر کی شان ہے....
ہاہا
بہت خوب فیصل جی ایسی مزیدار شیئرنگ پہ میری طرف سے آپکے لیے پھول:roseanimr:
خاص طور سے انٹرنیٹ پہ لڑکی سے دوستی کے واقعے نے بہت مزا دیا...ہاہا
کچھ طنز تو ہےلیکن
یہ سچ ہے کہ ماں سے بڑھکر اس دنیا میں کوئی رشتہ نہیں
میں نے کہیں پڑھا تھا " جب میں ماں بنی تو مجھے میری ماں اور بھی پیاری لگنے لگی "
دل خوش ہوا گیا صبح صبح اپکی ایسی پیاری شیئرنگ پہ
:th_d77:th_smilie_schild:clap: