PDA

View Full Version : چین میں دس لاکھ ویب سائٹس بند



این اے ناصر
07-16-2011, 10:31 PM
چین میں ایک سرکاری تھنک ٹینک کا کہنا ہے کہ گزشتہ برس کے دوران ملک میں دس لاکھ سے زیادہ ویب سائٹس بند ہوگئیں ہیں۔

چائنیز اکیڈمی آف سوشل سائنسز کا کہنا ہے کہ سال دو ہزار دس کے آخر تک اس سے گزشتہ سال کے مقابلے میں ملک میں اکتالیس فیصد ویب سائٹ رہ گئیں تھیں۔

چین میں حکام نے حالیہ برسوں میں انٹرنیٹ پر قواعد و ضوابط کو سخت کیا ہے اور انہوں نے سنہ دو ہزار نو میں فحش ویب سائٹس کے خلاف سخت کارروائی شروع کی تھی۔

اکیڈمی کے تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ ایسا کوئی لنک نہیں ہے جو یہ بتائے کہ چین میں انٹرنیٹ پر اظہار کی بہت زیادہ آزادی ہے۔
لیو ریوشینگ کا کہنا ہے کہ ویب سائٹس کی تعداد میں کمی ہونے کے باوجود انٹرنیٹ پر دستیاب صفحات میں اضافہ ہوا ہے جو سنہ دو ہزار دس میں ساٹھ ارب تک پہنچ چکے تھے۔ ان کے بقول یہ اضافہ اس سے گزشتہ سال کی نسبت اناسی فیصد زیادہ ہے۔

ان کے بقول ’اس کا مطلب ہے کہ ہمارا متن مستحکم ہورہا ہے جبکہ ہماری نگرانی سخت اور قواعد کا نفاذ زیادہ ہورہا ہے۔‘

شہری حقوق کا ارکان چین میں ویب سائٹ کے سنسر حکام پر تنقید کرتے ہیں جو انٹرنیٹ پر چین کی گریٹ فائروال کے نام سے اپنا تسلط برقرار رکھتے ہیں۔

چین میں کئی ویب سائٹس ایسی ہیں جن تک رسائی عام طور ناممکن بنا دی جاتی ہے جیسا کہ چینی زبان میں بی بی سی سروس کی ویب سائٹ اور سوشل میڈیا کی ویب سائٹس جن میں فیس بک، یو ٹیوب اور ٹیوٹر شامل ہیں۔

بےباک
07-18-2011, 10:22 AM
زبردست معلومات آپ نے پیش کیں ،
ہر ملک کو یہ آذادی حاصل ھے کہ وہ اپنے ملک کے لیے جو مناسب سمجھے کرے، لیکن فحش ویب ساءیٹ تو پوری دنیا میں انسانی اخلاق کی گراوٹ اور گھٹیا معیار کو ظاھر کرتی ہیں ، اس لیے ایسی ویب سائیٹس پر پابندی بہت ہی ضروری ہے ،
...........
:-):-):-):-):-):-)

تانیہ
07-18-2011, 12:28 PM
دلچسپ اور معلوماتی شیئرنگ کے لیے بہت شکریہ