PDA

View Full Version : ایک اورعالمی ریکارڈ پاکستانی نشانےپر



سیما
07-23-2011, 04:18 AM
کچھ بے چین روحیں ایسی ہوتی ہیں جوخودبھی سکون نہیں پاناچاہتیں،زمانےکے سردوگرم تومسئلے پیداکرتےہیں لیکن یہ انہیں اپنے راستےکاپتھرنہیں بننےدیتیں۔کراچی سے تعلق رکھنےوالے عابدبیلی اوران کے دوست بھی شاید ایسی ہی کسی مٹی کےبنےہیں۔جبھی توساتھ چلنےوالوں کی سستی سےلےکراختیاررکھنےوالوں کی بے رخی بھی انہیں مایوس کرنےمیں ناکام رہی ہے۔
بھاری دولت،افرادی قوت اوروسیع تجربےسے’محروم’ یہ نوجوان،13اور14اگست کو بیک وقت سب سےذیادہ تعدادمیں قومی ترانہ گاکرعالمی ریکارڈقائم کرناچاہتےہیں۔مگراس مشکل منزل کوپانےکےلئےجوچیزان کے پاس وافرمقدارمیں ہےوہ ‘جذبہ’ ہے جو پہاڑوں سےدودھ کی نہریں بھی نکلوالیتاہےاورجسےاپنالیاج ائےتو25سالہ زکربرگ فیس بک کامالک بن کردنیاکےدولت مندترین افرادمیں شامل ہوجاتاہے۔

پاکستان کاقومی ترانہ گاکرگنیزبک آف دی ورلڈ ریکارڈمیں نام درج کروانےمیں مشغول نوجوانوں سے نمائندہ دی نیوزٹرائب کی گفتگوانٹرویوکی صورت میں پیش کی جارہی ہے۔مذکورہ گفتگواس ‘مشکل کام’کوپوراکرنےکابیڑہ اٹھانےوالوں میں سے ایک عابد بیلی سےکی گئی ہے۔

ایک وقت میں سب سے ذیادہ تعدادمیں قومی ترانہ گانےکاعالمی ریکارڈقائم کرنےکاخیال کس کاتھا؟اس کی وجہ کیابنی؟

یہ خیال بنیادی طورپرہمارے ایک دوست وقاص کا تھا۔2مئی2011کوایبٹ آبادمیں امریکی آپریشن کےدوران القاعدہ سربراہ اسامہ بن لادن کے مارےجانے،کراچی میں نیوی کے فضائی مرکزپی این ایس مہران پرحملےاس کاسبب بنے۔ان واقعات کے بعدجب جب بھی نوجوانوں سےرابطہ ہواتومعلوم ہواکہ ہرسطح پرپاکستان کےمعاملے میں ایک منفی تاثرپیداہواہے۔یہ جان کرہم دوست سوچنےلگےکہ کیا،کیاجاسکتاہے۔انہی دنوں ‘کچھ کرنے’کےموضوع پربات کرتے ہوئے وقاص نے آئیڈیادیاکہ یہ کام کرتے ہیں اس سےقوم میں بھی ایک متحد ہونےکاتاثرپیداہوگااوربین الاقوامی برادری کو بھی مثبت پیغام جائے گا۔

خیال سوچنےکےبعد اس پرعمل کےلئےاب تک جوکچھ کیاہے اس میں حکومتی حلقوں،سماجی شخصیات،سلیبرٹیزیااداروں کاردعمل کیارہاہے؟

اس وقت سب سے بڑامسئلہ یہ ہےکہ کراچی کے ابن قاسم پارک میں ایونٹ کی اجازت نہیں مل رہی۔باغ ابن قاسم کاانتخاب اس لئے کیاگیاتھاکہ یہاں مطلوبہ تعدادمیں لوگوں کے آنےکی گنجائش موجودہے۔اجازت نہ ملنےکاسبب سیکورٹی کی صورتحال بتایاجارہاہے۔

انتظامیہ کاکہناہےکہ موجودہ صورتحال میں یہ ایک رسک ہے جسے برداشت کرناممکن نہیں ہے۔لیکن ہمیں یہ بات اس لئے عجیب لگتی ہےکہ نیول مرکزپی این ایس مہران پرحملےاورچند دیگرواقعات کے بعداگریہ ثابت ہوگیاہےکہ ہشت گرد کہیں بھی پہنچ سکتے ہیں توپھراعلان کردیاجائے کہ ملک اورقوم حالت جنگ میں ہیں۔ اس صورتحال سے نمٹنےکےلئےنوجوانوں کو تربیت دیں اوروہی کام کروائیں جوضرورت ہیں۔

لیکن ایسا نہیں جبھی توباقی تمام کام ہورہے ہیں۔اوراگراس جوازکومان بھی لیاجائے توڈیفنس کے علاقے خیابان راحت میں ایک ڈانس پارٹی کےدوران طلال بگٹی سمیت 6لوگوں کےمارےجانےکےبعدیہ سرگرمیاں کیوں نہیں روکی گئی ہیں۔ سیاسی جماعتوں کوریلیوں اور جلسوں کے لئے اجازت کی ضرورت ہی نہیں جس کافائدہ کم اورنقصان ذیادہ ہوتاہےتوجو لوگ مثبت کام کرناچاہیں انہیں اجازت کیوں نہیں دی جاتی۔

اجازت کےلئےسندھ گورنمنٹ سےبات ہوئی ہے،پاکستان آرمی سے بات کی گئی ہے۔وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی ،صدر آصف علی زرداری،وزیرداخلہ رحمن ملک،وفاقی وزیراطلاعات فردوس عاشق اعوان کو خط لکھا،مگر کہیں سےکوئی مثبت جواب نہیں آیاہے۔

قومی ترانہ گانےکاموجودہ ریکارڈ کیااورکس ملک کاہے؟

موجودہ عالمی ریکارڈانڈیاکے پاس ہے جو وندے ماترم گاکربنایاگیاتھاحالانکہ یہ ان کاقومی ترانہ نہیں ہے۔اس تکنیکی درستگی کےلئےگنیزبک آف دی ورلڈ ریکارڈکی انتظامیہ کو خط لکھاہے۔اگرکیٹیگری تبدیل ہو جاتی ہےتوانڈیاریکارڈ ہولڈرنہیں رہےگا۔اس صورت میں فلپائن کاریکارڈ ہےجو بیک وقت5ہزارلوگوں نے قائم کیاتھا۔لیکن اگرانڈیاہی کوریکارڈ ہولڈرماناجائے تواس کےڈیڑھ لاکھ لوگوں نےیہ کام کیاتھا۔

پاکستان کاتاثربہتربنانےیانوجوانوں کومثبت سرگرمیوں کی جانب راغب کرنےوالے دیگرافراداوراداروں کو بھی ساتھ لے کرکام کررہےہیں؟

اپنے کام کاآغازہم نے سوشل میڈیاسے کیاتھا تاکہ امیج بلڈنگ کےلئے اسے ہی استعمال کیاجائے۔مگرکام جتنابڑاتھااس کےئلے سوشل میڈیاناکافی ثابت ہورہاتھااس لئے رسمی میڈیاکوبھی استعمال کرناپڑرہاہے۔ڈیجیٹل میڈیاکواستعمال کررہےہیں،نوجوانوں کے ساتھ بھی رابطےہوئے ہیں۔اب تک جتنےبھی افرادیااداروں سےاس کام کےلئےرابطے ہوئے ہیں تقریبا80فیصدنےمثبت ردعمل ظاہرکیاہے۔ہاں20فیصدایسے بھی ہیں جنہوں نے تنقید کی ہے جس کا سبب موجودہ حالات ہیں۔ایونٹ میں شرکت کےلئےممکنہ شرکاء کوباقاعدہ رجسٹرڈکررہےہیں۔رضاکاروں کی رجسٹریشن کررہےہیں۔قانون کے مطابق 2200رضاکار چاہئں،گویاہر 50افرادپرایک والنٹئیرلازم ہے۔اب تک 6سوافرادرضاکارکےطورپرجسٹر شن کرواچکے ہیں۔شرکاء کی رجسٹریشن 12ہزارہوچکی ہے جب کہ فیس بک پراس مقصدکےلئےبنائے گئے پیج پرموجود افرادکی تعداد13ہزارسےزائد ہے۔آئی اون پاکستان کے نام سےویب سائٹ ہے جسے ان مقاصدکےلئےاستعمال کررہےہیں۔

اس سےپہلے کراچی میں بھکاری بچوں کی فلاح وبہبور کےلئےآپ نے ایک منصوبہ شروع کیاتھااس کاکیاہوا؟

اس منصوبہ کے تحت بھیک مانگنےوالے بچوں کوباعزت روزگارکے ایسے مواقع مہیاکرنےتھے جن کے ساتھ وہ اپنی تعلیم شروع کر سکتےتھے۔لیکن سگنلزپربھیک مانگنےکےکاروبارکی پشت پرموجود بیگرزمافیانےرکاوٹیں ڈالیں۔کراچی کے معروف ترین کاروباری مرکزطارق روڈوالے سگنل پرکام کرتےہوئے ایک سوئفٹ کارمیں 4لڑکےآئے انہوں نے دھمکیاں دیں کہ ان بچوں کا کچھ نہیں ہونےوالا تم لوگ اپناکام کرو۔سابقہ شہری حکومت سےاس کام کےلئےاجازت مانگی جو نہیں ملی۔ڈیفنس میں کینٹونمنٹ بورڈسے بات ہوئی لیکن انہوں نے کہاکہ اسپانسرزاوردیگرچیزوں کے ساتھ علاقہ گنداہوگااس لئے اجازت نہیں ملی۔لوگوں نےایکسائٹمنٹ تودکھائی لیکن ساتھ چلنےکوتیارنہیں ہوئے، ان اسباب کی بناءپروہ کام روک دیاگیا۔اب بھی وہ آئیڈیااوپن ہے لیکن اجازت نہ ملنےپرتعطل کاشکارہےجونہی اجازت ملی توکام کریں گے۔

عالمی ریکارڈبنانےکےلئےجن رضاکاروں کی رجسٹریشن کررہے ہیں وہ کیاکریں گے؟

انتظامی معاملات کے ساتھ مختلف مواقع پرسامنےآنےوالےکاموں کوسرانجام دیں گے۔ایونٹ کی اہمیت اجاگرکرنےکےلئےاس سےپہلےرابطوں کاکام بھی انہوں نے ہی کرناہے۔جتنابڑایونٹ ہے اس کےلئےاتنی ہی بڑی سطح پررابطوں کی ضرورت ہے۔

سرگرمی پرہونےوالے اخراجات کتنےہیں اوروہ کیسے پورے کئے جائیں گے؟

گنیزبک آف دی ورلڈ ریکارڈکی ٹیم کوبلانےکےلئے20لاکھ روپے درکارہوں گے۔رضاکارجن کاموں کوسرانجام دیں گے ان میں رقم خرچ ہو گی۔پروگرام کے روزاس مقام پرانتظامات کےلئے بھی وسائل درکارہوں گےہمارااندازہ ہےکہ تقریبایک کروڑروپے کی رقم خرچ ہوگی۔یہ رقم حاصل کرنےکےلئے مختلف اسپانسرزسے بات ہو گئی ہے۔گنیز بک آف دی ورلڈ ریکارڈ کی ٹیم کومدعوکرنےکامقصدیہ ہےکہ وہ خود ایونٹ کامشاہدہ کریں تاکہ عالمی ریکارڈ کےطورپراس کااندراج جلدازجلد ہوجائے۔

کراچی میں ایونٹ کرنےکی اجازت نہیں ملتی تومتبادل کیاہے؟

ہم نے طے کیاہےکہ یہ ایونٹ ہرصورت میں ضرورکیاجائے گا۔کراچی میں اجازت نہ ملنے کی صورت میں لاہورمیں سرگرمی کریں گے۔25جولائی تک واضح ہوجائے گاکہ کراچی یالاہورمیں سے کہاں عالمی ریکارڈ بنایاجائے گا۔ایک صوررت یہ بھی ممکن ہے کہ اگراجازت ملنےمیں تاخیرہوتی ہے تو13یا14اگست کی موجودہ تاریخوں کے بجائے اسے 6ستمبرکےموقع پرکیاجائے گا۔لاہور میں اس حوالے سے ابتدائی رابطے ہوچکے ہیں ،پنجاب حکومت کوبھی اجازت کےلئےدرخواست دی جا چکی ہے۔

ہم یہ کام اس لئے کررہےہیں کہ ملک کوموجودہ کیفیت سےنکالناہمارے ذمہ داری ہے۔اس کا فائدہ پاکستان کو ہونا ہے جو بھی اس کام کو صحیح سمجھے وہ رابطہ کئے جانےکا انتظارچھوڑکرعملی کام شروع کرے۔گزشتہ3سالوں میں ہم نے جوتجربہ کیاوہ یہ ہےکہ لوگ دیکھتے ہیں کہ انہیں ذاتی فائدہ کتناہوتاہے۔اگھریہ اپرووچ چھوڑکرملک کےلئےسوچیں تو سب کو فائدہ ہو سکتاہے۔

دا نیوز

سقراط
07-24-2011, 03:09 PM
اللہ ان کو نیک مقصد میں کامیابی عطا فرمائے آمین