PDA

View Full Version : رمضان المبارک



سرحدی
07-23-2011, 09:59 AM
رمضان المبارک

ابن عباس رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سناکہ جنت کو رمضان شریف کے لیے خوشبوؤں کی دھونی دی جاتی ہے اور شروع سال سے آخر سال تک رمضان کی خاطر آراستہ کیا جاتا ہے، پس جب رمضان المبارک کی پہلی رات ہوتی ہے تو عرش کے نیچے سے ایک ہوا چلتی ہے جس کا نام مثیرہ ہے (جس کے جھونکوں کی وجہ سے) جنت کے درختوں کے پتّے اور کواڑوں کے حلقے بجنے لگتے ہیں جس سے ایسی دلآویز سریلی آواز نکلتی ہے کہ سننے والوں نے اس سے اچھی آواز کبھی نہیں سنی، پس خوش نما آنکھوں والی حوریں اپنے مکانوں سے نکل کر جنت کے بالا خانوں کے درمیان کھڑے ہوکر آواز دیتی ہیں کہ کوئی ہے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ہم سے منگنی کرنے والاتاکہ حق تعالیٰ شانہ، اس کو ہم سے جوڑ دیں، پھر وہی حوریں جنت کے داروغہ رضوان سے پوچھتی ہیں کہ یہ کسی رات ہے وہ لبّیک کہہ کر جواب دیتے ہیں کہ رمضان المبارک کی پہلی رات ہے، جنت کے دروازے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت کے لیے آج کھول دیے گئے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حق تعالیٰ شانہ، رضوان سے فرمادیتے ہیں کہ جنت کے دروازے کھولدے اورمالک (جہنم کے داروغہ) سے فرمادیتے ہیں کہ احمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے روزہ داروں پر جہنم کے دروازے بند کردے اور جبرئیل کو حکم ہوتا ہے کہ زمین پر جاؤ اور سرکش شیاطین کو قید کرو اور گلے میں طوق ڈال کر دریا میں پھینک دو کہ میرے محبوب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت کے روزوں کو خراب نہ کریں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ حق تعالیٰ شانہ، رمضان کی ہر رات میں ایک منادی کو حکم فرماتے ہیں کہ تین مرتبہ یہ آواز دے کہ ہے کوئی مانگنے والا جس کو میں عطا کروں، ہے کوئی مغفرت چاہنے والا کہ میں اس کی مغفرت کروں، کون ہے جو غنی کو قرض دے، ایسا غنی جو نادار نہیں ایسا پورا پورا ادا کرنے والا جو ذرا بھی کمی نہیں کرتا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حق تعالیٰ شانہ، رمضان شریف میں روزانہ افطار کے وقت ایسے دس لاکھ آدمیوں کو جہنم سے خلاصی مرحمت فرماتے ہیں جو جہنم کے مستحق ہوچکے تھے، اور جب رمضان کا آخری دن ہوتا ہے تو یکم رمضان سے آج تک جس قدر لوگ جہنم سے آزاد کیے گئے تھے ان کے برابر اس ایک دن میں آزاد فرماتے ہیں اور جس رات شب قدر ہوتی ہے تو حق تعالیٰ شانہ، جبرئیل علیہ السلام کو حکم فرماتے ہیں وہ فرشتوں کے ایک بڑے لشکر کے ساتھ زمین پر اترتے ہیں ان کے ساتھ ایک سبز جھنڈا ہوتا ہے جس کو کعبہ کے اوپر کھڑا کرتے ہیں اور حضرت جبرئیل علیہ الصلوٰۃ والسلام کے سو بازو ہیں جن میں سے دو بازو کو صرف اسی رات میں کھولتے ہیں جن کو مشرق سے مغرب تک پھیلا دیتے ہیں، پھر حضرت جبرئیل علیہ السلام فرشتوں کو تقاضا فرماتے ہیں کہ جو مسلمان آج کی رات میں کھڑا ہو یا بیٹھا ہو، نماز پڑھ رہا ہو یا ذکر کررہا ہو اس کو سلام کریں اور مصافحہ کریں اور ان کی دعاؤں پر آمین کہیں صبح تک یہی حالت رہتی ہے، جب صبح ہوجاتی ہے تو جبرئیل علیہ السلام آواز دیتے ہیں کہ اے فرشتوں کی جماعت اب کوچ کرو اور چلو۔ فرشتے حضرت جبرئیل علیہ السلام سے پوچھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے احمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے مومنوں کی حاجتوں اور ضرورتوں میں کیا معاملہ فرمایا۔ وہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر توجہ فرمائی اور چار شخصوں کے علاوہ سب کو معاف فرمادیا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہ چار شخص کون ہیں، ارشاد ہوا کہ ایک وہ شخص جو شراب کا عادی ہو، دوسرا وہ شخص جو والدین کی نافرمانی کرنے والا ہو، تیسرا جو قطع رحمی کرنے ولا اور ناطہ تورنے والا ہو، چوتھا وہ شخص جو کینہ رکھنے والا ہو، اور آپس میں قطع تعلق کرنے والا ہو، پھر جب عید الفطر کی رات ہوتی ہے تو اس کا نام (آسمانوںپر) لیلۃ الجائزہ (انعام کی رات) سے لیا جاتا ہے اور جب عید کی صبح ہوتی ہے تو حق تعالیٰ شانہ، فرشتوں کو تمام شہروں میں بھیجتے ہیں وہ زمین پر اُتر کر تمام گلیوں، راستوں کے سِروں پر کھڑے ہوجاتے ہیں اور ایسی آواز سے جس کو جنات اور انسان کے سوا ہر مخلوق سنتی ہے پکارتے ہیں کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت اس کریم رب کی درگاہ کی طرف چلو جو بہت زیادہ عطا فرمانے والا ہے اور بڑے سے بڑے قصور کو معاف فرمانے والا ہے۔ پھر جب لوگ عیدگاہ کی طرف نکلتے ہیں تو حق تعالیٰ شانہ، فرشتوں سے دریافت فرماتے ہیں، کیا بدلہ ہے اس مزدور کا جو اپنا کام پورا کرچکا ہو، وہ عرض کرتے ہیں کہ ہمارے معبود اور ہمارے مالک اس کا بدلہ یہی ہے کہ اس کی مزدوری پوری پوری دے دی جائے۔ تو حق تعالیٰ شانہ، ارشاد فرماتے ہیں کہ اے فرشتوں میں تمہیں گواہ بناتا ہوں میں نے ان کو رمضان کے روزوں اور تراویح کے بدلہ میں اپنی رضا اور مغفرت عطا کردی۔ اور بندوں سے خطاب فرماکر ارشاد ہوتا ہے کہ اے میرے بندو مجھ سے مانگو، میری عزت کی قسم ، میرے جلال کی قسم آج کے دن اس اجتماع میں مجھ سے اپنی آخرت کے بارے میں جو سوال کروگے عطا کروں گا، اور دنیا کے بارے میں جو سوال کروگے اس میں تمہاری مصلحت پر نظر کروں گا۔ میری عزت کی قسم جب تک تم میرا خیال رکھوگے میں تمہاری لغزشوں پر ستّاری کرتا رہوں گا (اور ان کو چُھپاتا رہوں گا) میری عزت کی قسم اور میرے جلال کی قسم میں تمہیں مجرموں (اور کافروں) کے سامنے رسوا اور فضیحت نہ کروں گا۔ بس اب بخشے بخشائے اپنے گھروں کو لوٹ جاؤ، تم نے مجھے راضی کردیا اور میں تم سے راضی ہوگیا۔ پس فرشتے اس اجرو ثواب کو دیکھ کر جو اِ س امت کو افطار کے دن ملتا ہے خوشیاں مناتے ہیں اور کِھل جاتے ہیں۔
اللہم اجعلنا منہم
ماخوذ از فضائل اعمال ، مؤلفہ شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد ذکریاصاحب رحمۃ اللہ علیہ)

حسن قادری
07-23-2011, 12:30 PM
رمضان کی آمد ھے اور گرمی کی شدت اللہ ھمیں ھمت دے رمضان کے روزے رکھنے کے اور رنضان کے احترام کی