PDA

View Full Version : مختلف موسموں ميں رمضان شريف انے کا سبب



tabi
07-24-2011, 11:21 AM
موسموں کی تبدیلی خالق عزوجل نے گردشِ آفتاب پر رکھی ہے مثلاً تحویلِ برج حمل سے ختمِ جوز ا تک فصل ربیع ہے، پھر تحویل سرطان سے ختمِ سنبلہ تک گرمی، پھر تحویلِ میزان سے ختمِ قوس تک خریف، پھر تحویل جدی سے ختمِ حوت تک جاڑا، یہ آفتاب کا ایک دَور ہے کہ تقریباً ۳۶۵ دن اور پونے چھ گھنٹے میں کہ پاؤ دن کے قریب ہُوا پُورا ہوتاہے۔ اور عربی شرعی مہینے قمری ہیں کہ ہلال سے شروع اور ۳۰یا ۲۹ دن میں ختم ہوتے ہیں۔ یہ بارہ ۱۲مہینے یعنی قمری سال ۳۵۴یا ۳۵۵ دن کا ہوتا ہے تو شمسی سال سے دس گیارہ دن چھوٹا ہے، سمجھنے کے لیے کسرات چھوڑ کر شمسی سال ۳۶۵ قمری ۳۵۵ میں رکھے کہ دس دن کا فرق ہوا، اب فرض کیجئے کہ کسی سال یکم رمضان شریف یکم جنوری کو ہُوئی تو آئندہ سال ۲۲دسمبر کو یکم رمضان ہوگی کہ قمری ۱۲ مہینے ۳۵۵ دن میں ختم ہوجائیں گے اور شمسی سال پورا ہونے کو ابھی دس دن اور درکار ہیں،پھر تیسرے سال یکم رمضان ۱۲دسمبر کو ہوگی، چوتھے سال یکم دسمبر کو ہوگی، تین برس میں ایک مہینہ بدل گیا، پہلے یکم جنوری کو تھی اب یکم دسمبر کوہُوئی، یونہی ہر تین برس میں ایک مہینہ بدلے گا اور رمضان المبارک ہر شمسی مہینہ میں دورہ فرمائے گا، بعینہٖ یہی حالت ہندی مہینوں کی ہوگی، اگروہ لوند نہ لیتے،انھوں نے سال رکھا شمسی اور مہینے لیے قمری، توہر برس دس دن گھٹ گھٹ کر تین سال بعد ایک مہینہ گھٹ گیا، لہذا ہر تین سال پر وہ ایک مہینہ مکرر کرلیتے ہیں تاکہ شمسی سال سے مطابقت رہے، ورنہ کبھی جیٹھ جاڑوں میں آتا اور پوس گرمیوں میں،بلکہ نصارٰی جنہوں نے سال وماہ سب شمسی لیے اگر یہ چوتھے سال ایک دن بڑھا کر فروری ۲۹ کا نہ کرتے تو اُن کو بھی یہی صورت پیش آتی کہ کبھی جُون کا مہینہ جاڑوں میں ہوتا اور دسمبر گرمیوں میں، یوں کہ سال ۳۶۵دن کا لیا اور آفتاب کا دَورہ ابھی چند گھنٹے بعد پُورا ہوگا کہ جس کی مقدار تقریباً چھ۶گھنٹے، تو پہلے سال شمسی سال دورہ یافتہ سے ۶گھنٹے پہلے ختم ہوا، دوسرے سال ۱۲گھنٹے پہلے، تیسرے سال ۱۸ گھنٹے پہلے، چوتھے سال تقریباً ۲۴گھنٹے، اور ۲۴گھنٹے کا ایک دن رات ہوتا ہے لہذا ہر چوتھے سال ایک دن بڑھا دیا کہ دورہ آفتاب سے مطابقت رہے، لیکن دورہ آفتاب پُورے چھ گھنٹے زائد نہ تھا بلکہ چوتھے تقریباً پونے چھ گھنٹے، توچوتھے سال پورے ۲۴گھنٹے کا فرق نہ پڑا تھا بلکہ تقریباً ۲۳ گھنٹے کا اور بڑھالیا ایک ایک کہ ۲۴ گھنٹے ہے،تو یوں ہر سال میں شمسی سال دورہ آفتاب سے کچھ کم ایک گھنٹہ بڑھے گا، سَوبرس بعد تقریباً ایک دن، لہذا صدی بعد گھٹا کر پھر فروری ۲۸دن کا کر لیا، اسی طرح اور دقیق کسرات کا حساب ہے۔واﷲتعالیٰ اعلم

(امام اهلسنت اعليحضرت امام احمد رضا خان رضى الله عنه )