PDA

View Full Version : ”امریکی و بھارتی بالادستی ناقابل قبول“خدارا! اس فیصلے پر ڈٹ جائیں



سیما
07-24-2011, 09:58 PM
پاکستان کی عسکری و سیاسی قیادت نے امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن کی جانب سے بھارت کو خطے میں قائدانہ کردار ادا کرنے کے بیان کو غیرذمہ دارانہ قرار دیتے ہوئے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا ہے کہ خطے میں کسی کی چودھراہٹ قابل قبول نہیں ہو سکتی۔ امریکی حکام ایسے بیانات دینے سے گریز کریں‘ جن سے خطے میں طاقت کا توازن بگڑے‘ ملکی سلامتی پر سمجھوتہ نہیں کیا جائیگا۔ وزیراعظم گیلانی کے نجی دورہ برطانیہ سے واپسی پر آرمی چیف جنرل کیانی نے ان سے ملاقات کی‘ جس میں امریکہ میں کشمیری رہنماءغلام نبی فائی کی گرفتاری کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ امریکہ ایسے شخص کو جسے امریکی حکومت اپنا سب سے بڑا شہری ہونے کا اعزاز دے چکی ہے‘ اسے آئی ایس آئی کا ایجنٹ قرار دیکر گرفتار کرنا افسوسناک ہے۔ امریکی اداروں کو پاکستان پر دباﺅ بڑھانے کیلئے ایسی کارروائیوں سے گریز کرنا ہو گا۔ ملاقات میں اس بات پر اتفاق پایا گیا کہ ملکی سلامتی اور سالمیت کو ہر صورت مقدم رکھا جائیگا‘ اس حوالے سے کوئی دباﺅ قبول نہیں کیا جائیگا۔ دریں اثناءوزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے رائٹر سے انٹرویو میں کہا ہے کہ ہماری طرح بھارت بھی افغانستان کے استحکام میں اچھا کردار ادا کر سکتا ہے۔
ہلیری کے شوہر نامدار صدر بل کلنٹن نے اپنے دورے میں بھارت کے ساتھ جس کا آغاز کیا تھا‘ اسے صدر اوباما نے اپنے دورے کے دوران بامِ عروج پر پہنچا دیا۔ ہلیری کے بھارت کو اس خطے میں چودھری بنانے کے خواب اور بیانات اسی کا شاخسانہ ہے۔ امریکہ کی وجہ سے پاکستان آج بدترین دہشت گردی کا شکار جبکہ امریکہ کو پاکستان میں شدت پسندوں کے ٹھکانے نظر آتے ہیں۔امریکہ اس خطے میں وابستہ اپنے مفادات کو بھارت کی عینک سے دیکھے گا تو اسے ”سب ہرا“ ہی نظر آئیگا‘ جس کا اظہار ہلیری نے بھارت میں قیام کے دوران کیا۔ اس سے قبل امریکہ کی سیاسی اور عسکری قیادتیں مختلف مواقع پر پاکستان میں آکر بھی ایسے ہی خیالات کا اظہار کر چکی ہیں۔
امریکہ بھارت کو آگے بڑھ کر خطے کی قیادت سنبھالنے کی ہلہ شیری دیتا ہے‘ حالانکہ دنیا پر یہ حقیقت عیاں ہے کہ چین نہ صرف ایشیاءبلکہ دنیا کی سب سے بڑی اقتصادی اور فوجی قوت بن کر سامنے آرہا ہے۔ امریکہ بھارت اور اسرائیل پر مشتمل شیطانی اتحاد ثلاثہ کی خطہ میں ہندو بنیئے کی بالادستی کی ابلیسی خواہش پایہ¿ تکمیل تک پہنچ سکتی ہے۔ پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت کی طرف سے ہلیری کے بیان کو غیرذمہ دار قرار دیتے ہوئے بھارتی بالادستی کو قبول نہ کرنے پر اتفاق بلاشبہ قومی امنگوں کے عین مطابق ہے لیکن افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ ملکی و قومی مفادات کے متعدد معاملات پر سیاسی و عسکری قیادتوں کی سوچ منقسم ہے۔ آج عسکری قیادت کچھ تلخ اور کٹھن فیصلے کرتی دکھائی دیتی ہے تو دوسری طرف سیاسی قیادت پاکستان میں امریکی مفادات کی خواہشات کی تکمیل کیلئے آمادہ نظر آتی ہے۔ اس کا تازہ ترین ثبوت وزیراعظم گیلانی کا رائٹرز کو دیا گیا وہ انٹرویو ہے جس میں انہوں نے کہا کہ ہماری طرح بھارت بھی افغانستان کے استحکام میں اچھا کردار ادا کر سکتا ہے۔ افغانستان میں بھارت کو کوئی کردار دینا امریکہ کی پاکستان کیخلاف سازش ہے۔ حامد کرزئی بھی ان روایتی افغان حکمرانوں میں سے ایک ہے‘ جو بھارت کی طرح پاکستان کے وجود کو قبول کرنے پر تیار نہیں۔ وزیراعظم صاحب نے یہ وضاحت نہیں کی کہ بھارت کا افغانستان میں کس ناتے سے کردار ہونا چاہیے؟ وہ افغانستان کا پڑوسی ہے‘ نہ ان دونوں کی تہذیبی اقدار میں کوئی مماثلت۔ ان میں تو پاکستان کی دشمنی قدر مشترک ہے۔ پہلے پاکستان کی ایک سرحد پر بھارت کی صورت میں مکار اور عیار دشمن موجود ہے‘ اسے افغانستان میں لا کر آپ اپنی دوسری سرحد بھی غیرمحفوظ بنانا چاہتے ہیں؟ اسی انٹرویو میں وزیراعظم گیلانی نے یہ بھی کہا کہ پاکستان اور بھارت کے مابین تعلقات میں بہتری بداعتمادی کم کر دیگی۔ حالانکہ یہ بات بھی ریکارڈ پر موجود ہے کہ وزیراعظم گیلانی آزاد کشمیر میں اپنی پارٹی کی انتخابی مہم میں ڈھنڈورا پیٹتے رہے کہ مسئلہ کشمیر کے حل تک بھارت سے تعلقات قائم نہیں ہو سکتے‘ لیکن آج وہ بھارت کے ساتھ تعلقات میں بہتری سے بداعتمادی کم ہونے کی امید ظاہر کرتے نظر آرہے ہیں۔ آزاد کشمیر میں دیئے گئے انکے بیان کو منافقت قرار دیا جائے یا پاکستان کے دیرینہ مو¿قف کے برعکس شرمناک سمجھا جائے؟ مقبوضہ کشمیر میں سات لاکھ بھارتی فوج کشمیریوں کا خون بہا رہی ہے‘ دنیا میں سب سے زیادہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی بھی مقبوضہ وادی میں ہوتی ہے‘ یہاں تک کہ عزت مآب خواتین کا ریپ بھی!کنٹرول لائن اور پاکستانی بارڈر پر بھارتی فوج کی طرف سے آئے روز بلااشتعال گولہ باری سے پاک فوج کے سپوتوں کو شہید کیا جاتا ہے‘ اس تناظر میں وزیراعظم صاحب کا پاکستان کے دیرینہ اور اصولی مو¿قف اور کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کے برعکس بھارت کے ساتھ اچھے تعلقات کی بات کرنا پاکستان کے مفادات کیلئے کسی دھچکے سے کم نہیں۔ قوم کی طرح عسکری قیادت پاکستان میں نہ صرف بھارتی بلکہ امریکہ کی بالادستی قبول کرنے پر ہرگز تیار نہیں‘ اس کا اظہار نہ صرف جنرل کیانی اپنے متعدد بیانات میں کر چکے ہیں بلکہ انکی طرف سے عملی مظاہرہ بھی کیا جا رہا ہے جس کی تازہ ترین مثال پیپلز پارٹی کی حکومت کی طرف سے امریکہ کو کوئٹہ میں قونصل خانہ کھولنے کی اجازت مرحمت کرنا ہے جو فوج نے واپس لے لی ہے۔ امریکہ کوئٹہ میں سی آئی اے ایجنٹوں کی کی تعداد میں اضافے کیلئے مرا جا رہا ہے‘ اس کو کوئٹہ میں حقانی مجلس شوریٰ سرگرم دکھائی دیتی ہے‘ وہ دراصل بلوچستان میں بھارت کی بدامنی اور علیحدگی پسندی کی لگائی آگ پر تیل چھڑک کر اسے مزید بھڑکانہ چاہتا ہے۔
آخر ہم کب تک امریکہ کی پاکستان دشمن خواہشات کی تکمیل میں ممدومعاون ہوتے رہیں گے‘ آج امریکہ و بھارت کی بالادستی قبول نہ کرنے کے بیانات دینے کی ضرورت نہیں‘ بلکہ حکمرانوں کو کچھ عملی طور پر بھی کرنا ہو گا۔ امریکہ خطے میں بھارت کو تھانیدار کے روپ میں دیکھنا چاہتا ہے۔ نہ صرف پاکستان‘ بلکہ چین اور ایران بھی امریکہ کی اس پالیسی سے ناخوش ہیں۔ پاکستان اور چین کے بھارت کے ساتھ تعلقات تو پوری دنیا پر واضح ہیں‘ اب امریکہ نے اسکی پشت پناہی کرنا شروع کی ہے‘ تو ایران نے بھی بھارت کے ساتھ تعلقات پر نظرثانی کا آغاز کر دیا ہے۔ ایران کی طرف سے بھارت کو تیل کی بندش ایک احسن فیصلہ اور خطے میں امریکہ و بھارت کی بالادستی قبول نہ کرنے کیلئے گرینڈ الائنس کی طرف ایک قدم بھی ہے۔ اس الائنس میں بھارت کی کارروائیوں کی زد میں آئے ممالک بنگلہ دیش‘ سری لنکا‘ بھوٹان‘ مالدیپ اور نیپال بھی شامل ہو سکتے ہیں۔
خدا کیلئے ہماری سیاسی و عسکری قیادت باہم مل بیٹھ کر قومی مفادات پر مبنی پالیسیاں بنائے‘ امریکہ کی جنگ بہت لڑ لی‘ اس سے جیسے تیسے بھی ممکن ہو‘ چھٹکارا حاصل کیا جائے ۔ جب یہ واضح ہے کہ امریکہ نے اعزاز یافتہ اپنے سب سے بڑے شہری غلام نبی فائی کو پاکستان پر دباﺅ بڑھانے کیلئے گرفتار کیا ہے تو اس پر مزید اعتماد کی کوئی گنجائش نہیں رہ جاتی لہٰذا امریکہ کو باور کرایا جائے کہ اب پاکستان میں امریکی ساختہ نہیں‘ میڈاِن پاکستان فیصلہ ہونگے اور انہی پر عملدرآمد ہو گا۔ غیرت‘ حمیت‘ خودداری و خودمختاری اور قومی وقار کا تقاضہ ہے کہ طوطا چشم امریکہ کے دامن سے لپٹے رہنے کے بجائے پاکستان کے تحفظ اور مفادات کیلئے فیصلے کئے جائیں۔اگر ہماری عسکری و سیاسی قیادت نے ہمت کرکے امریکی وزیر خارجہ کے بیان پر ردعمل ظاہر کیا ہے تو اس پر نہ صرف عملدرآمد کی ضرورت ہے بلکہ اس پر سختی سے ڈٹے رہنے کی بھی ضرورت ہے اور قوم تقاضہ کرتی ہے کہ یہ فیصلہ کور کمانڈرز کانفرنس میں کئے گئے فیصلوں کی طرح ریت کی دیوار ثابت نہ ہو۔
بھارت کیساتھ مذاکرات میں
کشمیری قیادت کو شامل کیا جائے
کشمیری رہنما میر واعظ عمر فاروق نے کہا ہے کہ بھارت سے مذاکرات تجارت نہیں بنیادی تنازعات حل کرنے کیلئے ہونے چاہئیں، پاک بھارت مذاکراتی عمل میں کشمیر جیسے بین الاقوامی تنازعہ کے حل کیلئے کشمیری قیادت کو بھی شامل کرنا چاہیے۔
بھارت 63 سال سے کشمیریوں کے حقوق کو پامال کرکے اپنا تسلط جمائے ہوئے ہے۔ 7 لاکھ قابض فوج نے وادی کو چھاﺅنی میں تبدیل کر رکھا ہے۔ بھارت کشمیریوں پر ڈھائے جانےوالے ظلم و ستم کو چھپانے کیلئے دو چار مہینے کے بعد پاکستان کیساتھ مذاکرات مذاکرات کھیلنا شروع کر دیتا ہے تاکہ اقوام عالم کی آنکھوں میں دھول جھونک کر اپنے مذموم مقاصد میں کامیابی حاصل کرتا رہے۔ کشمیری لیڈروں نے بھارت سے مذاکرات کے وقت شرط عائد کی تھی کہ پاکستان کو ان مذاکرات میں شامل کیا جائے۔ اب پاکستان کو بھی چاہیے کہ وہ بھارت کیساتھ ہونے والے مذاکرات میں کشمیری قیادت کو ساتھ رکھے اور مذاکرات کو محض وقت گزاری نہ بننے دے بلکہ اصل تنازع کشمیر کو سرفہرست رکھے کیونکہ جب تک مسئلہ کشمیرحل نہیں ہوتا تب تک پاک بھارت تعلقات درست نہیں ہو سکتے۔ بھارت اگر واقعی خطے میں امن کا خواہاں ہے اور چاہتا ہے کہ وہ ہمسائیوں کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لائے اور مسئلہ کشمیر کو اٹوٹ انگ قرار دینے کے بجائے کشمیریوں کو رائے دینے کا حق دے کر تو فی الفور علاقائی تنازعات کو حل کرنے کی جانب بڑھے۔
وزیر خارجہ حنا ربانی کھر کی اصل کامیابی بھارت کو مذاکرات پر آمادہ کرنا نہیں بلکہ ان مذاکرات میں مسئلہ کشمیر کو سر فہرست رکھ کر بات کرنے میں ہے، وزیر خارجہ کل پرسوں بھارت کا دورہ کر رہی ہیں، انہیں چاہیے کہ اس دورے میں کشمیری لیڈر شپ کو بھی ساتھ رکھیں اور بھارت کیساتھ مذاکرات میں بھی کشمیریوں کے حقوق اور انکی آزادی پر زور دیں، کیونکہ پاکستانی وزیر خارجہ کی حیثیت پوری دنیا میں پاکستان اور کشمیر کے وکیل کی ہے۔ اب تو بیلجیئم کے ارکان پارلیمنٹ نے بھی کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو تسلیم کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ان کا بنیادی حق ہے۔ لہٰذا کشمیریوں کے بنیادی حقِ آزادی کیلئے ان کے مقدمے کو مضبوط سے مضبوط کرکے پیش کیا جائے اور بھارت کو اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر حل کرنے پر مجبور کیا جائے۔
کراچی میںپھر خونریزی
کراچی کے علاقے ملیر کھوکھر اپار اور لانڈھی میں فائرنگ کے مختلف واقعات میں متحدہ قومی موومنٹ اور مہاجر قومی موومنٹ (حقیقی) کے کارکنوں سمیت 19 افراد جاں بحق اور 38 زخمی ہو گئے، جبکہ کراچی کی کشیدہ صورت حال کیخلاف ایم کیو ایم اور (ن) لیگ نے سینٹ اور قومی اسمبلی سے واک آﺅٹ کیا۔
عروس البلاد کی ناگفتہ بہ صورت حال کے پیش نظر دشمن عناصر پاکستان کو ناکام ریاست کا طوق پہنانے پر مصر ہیں۔ ڈیڑھ کروڑ کے لگ بھگ کراچی کے شہری مسلسل خوف کے عالم میں مبتلا ہیں۔ دفتروں اور دکانوں پر جانے کیلئے جب گھروں سے نکلتے ہیں تو ان کے بیوی بچے ان کی بحفاظت گھر واپسی کی دعائیں مانگتے ہیں۔ مسلح جتھوں نے شہر کے علاقے آپس میں بانٹ رکھے ہیں، گزشتہ روز حقیقی گروپ اور متحدہ کے 19 کارکن موت کے گھاٹ اتار دیئے گئے، آناً فاناً شہر میں خون کی نہریں بہا دی گئیں جبکہ ہمارے حکمران اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کردار خاموش تماشائی اور مقتولین کے ورثا کے زخموں پر نمک چھڑکنے سے کم نہیں، سیاسی جماعتیں شور و غل اور بیان بازی تک محدود ہیں۔ ایک دو ہفتے کے بعد درجن کے قریب لاشیں گرنے کے بعد صدر مملکت اور وزیر اعظم نوٹس لیتے ہیں۔ وزیر داخلہ فوراً کراچی پہنچتے ہیں تو قاتل اپنے اپنے گھونسلوں میں پرندوں کی طرح چھپ جاتے ہیں۔ وقتی طور پر خون بہنا بند ہو جاتاہے لیکن کچھ عرصہ بعد وہ سلسلہ دوبارہ شروع ہو جاتا ہے۔ اب تو صورت حال باایںجارسید کہ خانہ جنگی کسی ایک علاقے تک محدود نہیں بلکہ گلی محلوں میں پھیل چکی ہے۔ اجارہ داری کے متمنی علاقائی تسلط قائم کرنے کیلئے بے گناہوں کو قتل کرکے اپنی دھاگ بٹھانے کی تگ و دو میں ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ کا یہ کہنا کہ کراچی میں اسلحہ اسرائیل سے آ رہا ہے، یہ حقیقت اظہر من الشمس ہے کہ شیطانی اتحاد ثلاثہ پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش میں ہے۔ وہ اسلحے اور اپنے ایجنٹوں کے ذریعے بدامنی پھیلا رہے ہےں لیکن کیا اسرائیلی ساخت کا اسلحہ کراچی پہنچنا قانون نافذ کرنے والے اداوں کیلئے لمحہ فکریہ نہیں؟ سیکورٹی ادارے اسلحے کا کھوج لگانے میں کیوں ناکام ہیں؟ سیاسی جماعتیں علاقوں پر اپنی اجارہ داری قائم کرنے سے گریز کریںاور کراچی کو پاکستان کے ہر شہری کیلئے محفوظ تر بنانے میں کردار ادا کریں کیونکہ دشمن ہمارے صنعتی دارالحکومت کو بدامنی کا گہوارہ بنا کر معاشی طور پر ہمیں کمزور کرنا چاہتا ہے۔ اس لئے خدارا پاکستان پر رحم کرتے ہوئے ہر جماعت کراچی میں امن قائم کرنے میں کردار ادا کرے۔ ایک ہی جماعت کے دو گروپ ایک دوسرے کے گلے کاٹ رہے ہیں‘ ٹھنڈے دل و دماغ سے سوچیں کہ وہ کہیں پاکستان بالخصوص کراچی کو بدامنی کا گڑھ بنائے رکھنے کی خواہش رکھنے والے دشمن کا آلہ کارتو نہیں بن رہے؟

نوائے وقت

بےباک
08-05-2011, 12:40 PM
بہت خؤب سیما صاحبہ
اچھی شئرینگ کی آپ نے، ;););)