PDA

View Full Version : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حُسن تبسم



tabi
07-25-2011, 05:17 PM
بسم اللہ الرحمن الرحیم
تبسم اور ہنسی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اُسوہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مسکراتے یا خوش ہوتے آپ کا چہرۂ انور روشن روشن نظر آنے لگتا۔ حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ غزوۂ تبوک میں شریک نہ ہوئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ سے واپس تشریف لائے، منافقوں نے عدم شرکت کے بہانے بنائے، لیکن تین صحابہ کرام نے جن میں حضرت کعب رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے، اپنی کوتاہی کا اعتراف کر لیا، پچاس راتوں کے مسلسل کرب کے بعد ان کی توبہ کی قبولیت پر مشتمل آیات نازل ہو ئیں، حضرت کعب رضی اللہ عنہ کو خوشخبری ملی فوراً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کعب رضی اللہ عنہ کو دیکھ کر خوشی سے مسکرائے، حضرت کعب بیان کرتے ہیں:
وَ کَانَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِذَا سُرَّ اسْتَنَارَ وَجْہُہ کَاَنَّہ قِطْعَۃُ قَمَرٍ ۔[صحیح بخاری، رقم:4418 ]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب خوش ہوتے آپ کا چہرۂ انور روشن ہو جاتا گویا کہ آپ کا چہرہ چاند کا ٹکڑا ہے۔

حضرت جریر بن عبدا للہ البجلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
مَا حَجَبَنِی النَّبِیُّ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مُنْذُ اَسْلَمْتُ وَ لاَ رَاٰنِیْ اِلاَّ تَبَسَّمَ فِیْ وَجْہِیْ۔[صحیح بخاری، رقم:3035،6089 ]
میں نے جب سے اسلام قبول کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رہااور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ مجھے مسکرا کر دیکھا۔

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:
مَا رَاَیْتُ النَّبِیَّ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مُسْتَجْمِعًا قَطُّ ضَاحِکاً حَتّٰی اَرٰی مِنْہُ لَہَوَاتِہ اِنَّمَا کَانَ یَتَبَسَّمُ ۔[صحیح بخاری، رقم: 4828، 6092]
میں نے کبھی بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس قدر ہنستے ہوئے نہیں دیکھا کہ آپ کے حلق کا کوا نظر آتا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم صرف مسکرایا کرتے تھے۔

حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قہقہہ لگا کر نہیں ہنستے تھے صرف مسکراتے تھے۔

علامہ یوسف بن اسماعیل النبہانی’’ وسائل الوصول ‘‘میں تحریر فرماتے ہیں:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکراتے ہوئے اور بڑی خندہ پیشانی کے ساتھ گفتگو فرماتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ بھی آپ ہی کی طرح قہقہے نہیں لگاتے تھے صرف مسکراتے تھے۔[شمائل ترمذی، رقم217 ]

بعض احادیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہنسنا بھی مروی ہے، اور ہنستے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی داڑھیں ظاہر ہونے کا ذکر ہے۔

علماء نے ان روایات میں اس طرح تطبیق دی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم عموماً تبسم ہی فرمایا کرتے تھے مگر کبھی کبھار آپ ہنستے بھی تھے۔[فتح الباری، ج10، ص617]