PDA

View Full Version : ہم رمضان المبارک کیسے گزاریں !



سیما
07-25-2011, 08:06 PM
رمضان المبارک ہماری زندگی میں ایک مرتبہ پھر ہم پر سایہ فگن ہورہاہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ!©©” ہوشیار(عقل مند) توانا وہ ہے جو اپنے نفس کو قابو میں رکھے اور آخرت کی نجات و کامیابی کے لیے عمل کرے اور نادان و ناتواں وہ ہے جو اپنے آپ کو اپنی خواہشاتِ نفس کا تابع کردے اور بجائے احکام خداوندی کے اپنے نفس کے تقاضوں پر چلے اور اللہ سے اُمیدیں باندھے۔“ استقبال رمضان آنحضرت کی ایک حدیث سے اشارہ ملتا ہے کہ آپنے پندرہ شعبان کے بعد اہل ایمان کو روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے تاکہ لوگ تازہ دم ہو کر رمضان کے روزے تلاوت اورنوافل وغیرہ کریں اور ان میں جسمانی کمزوری لاحق نہ ہو جائے۔ آپنے فرمایا:”جب آدھا شعبان گزرجائے تو تم نفلی روزے نہ رکھو۔“ رمضان کے ہر کام کاستر گنا اجر۔ رمضان المبارک میں ہر کام کاا جروثواب ستر گنا بڑھ جاتا ہے۔ اس کا کیا سبب ہے۔ غورسے قرآن کا مطالعہ کیا جائے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ اس مہینہ میںقرآن مجید نازل ہوا ہے جس میں مسلمانوں کو مکمل ضابطہ¿ حیات اور نظامِ زندگی عطا کیا گیا ہے لہٰذا رمضان میں بڑے پیمانہ پر قرآن کی تلاوت ترجمہ و تفہیم اور کچھ حصہ حفظ کرنے کا اہتمام کیا جائے۔ فرض نمازوں اور تراویح کا باجماعت اہتمام۔ رمضان المبارک کا چاند نظر آتے ہی مسلم گھرانوں میں فرحت و انبساط کی لہر دوڑ جاتی ہے اور وہ چانددیکھ کریہ دُعاکرتے ہیں: ترجمہ:۔اللہ سب سے بڑاہے۔اے اللہ تواسے ہم پر طلوع کر امن، ایمان، سلامتی اوراسلام کے ساتھ اور اس چیز کی توفیق کے ساتھ جس سے تو محبت کرتا ہے اور جسے پسندکرتا ہے۔ [اے چاند!]ہمارا رب اور تیرا رب اللہ ہے۔ مغرب کی نماز کے ساتھ ہی غیر معمولی طور پر ہر آدمی اپنے معاملات اور کام سمیٹ کر نماز عشاءاور نماز تراویح میں شرکت کے لیے تیاریاں شروع کر دیتا ہے۔ اس بات کا اہتمام کریں کہ عشاءکی اذان کے ساتھ ہی ہرآدمی مسجد پہنچے اوراس کا ہدف یہ ہو کہ وہ پہلی صف میں جگہ حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کرے کیونکہ پہلی صف کا ثواب بہت زیادہ ہے۔ ورنہ تکبیر تحریمہ تو کسی صورت فوت نہ ہونے پائے۔دوسرا کام یہ کرے کہ گھر سے وضو بنا کر آئے اور مسجد میں پہنچ کر تحیة الوضو اور تحیة المسجد کی نیت کر کے دو،دو رکعت نماز ادا کرے اور اس کے بعد دو یا چار نوافل ادا کرنا ممکن ہو تووہ بھی ضرورادا کرے۔احادیث مبارکہ میں اس کا بڑا اجر وثواب بیان ہوا ہے۔ ہمیں کام اس عزم وہمت اور کوشش سے کرنے چاہئیں کہ یہ ہمارا زندگی بھر کا معمول بن جائے۔فرض نمازوں کے ہم پابند ہیں اس لیے تمام نمازوں کے لیے درج بالا باتوں کا التزام کرناچاہیی، البتہ یہاں تیسری بات جو میں خصوصیت سے کہنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ نمازتراویح کا بھی ہم سب لوگ اہتمام کریں۔ ایک تو اس لئے کہ کل قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے ہاں فرض نمازوں کے محاسبہ کے وقت ممکن ہے یہ نوافل اﷲ کی خاص رحمت سے ہمارے کام آجائیں۔ دوسرے اس لیے بھی کہ قیامِ رمضان کے اس مختصر عمل کو حدیث پاک میں حضرت ابوذرغفاریؓ کے ایک سوال کے جواب میں آنحضرتنے فرمایا ہے کہ ”جوشخص یہ نماز[تراویح] پڑھتا ہے اس کو پوری رات کے قیام کا ثواب ملے گا۔“ تیسرے یہ کہ یہ نماز دراصل زیادہ سے زیادہ قرآن مجید کوسننے کے ل©یے ہے لہٰذاآٹھ اوربیس رکعت کی بحث سے بالاتر ہو کر پورے قرآن مجیدکوسننے کے لیے ایسی مسجد کا انتخاب کیا جائے جہاں نماز تراویح پورے خشوع و خضوع،اطمینان و سکون اور خوش الحانی کے ساتھ پڑھنے کا اہتمام ہو۔آنحضرت دوسروں سے قرآن سننے کو پسند فرماتے اور لمبی قرا¿ت کے ساتھ نہایت تسلی کے ساتھ نماز پڑھنے کا اہتمام کرتے تھے۔ بہر حال نمازِ تراویح میں پورا قرآن سننے کا ہم سب کو اہتمام کرنا چاہیے۔ بیس والی مسجد میں آٹھ پڑھ کر گھر بھاگ جانے سے پورے قرآن کا ثواب نہیں مل سکتا ۔ تراویح کے بعدجلدی سوجائیی نماز تراویح کے بعد یہ اہتمام ضروری ہے کہ جلدی سو جائیں تاکہ سحری کے لیے بر وقت اُٹھا جا سکے کیونکہ سحری کے وقت کچھ کھانے پینے کا عمل مسنون ہے اور حضورنے اس کی تاکید فرمائی ہے ۔اس دوران اللہ تعالیٰ توفیق بخشے تو دو، چار،آٹھ نوافل ادا کرنا بھی نفع کا سودا ہوگا۔ ممکن ہو تو اس عمل کو بھی اختیار کیا جائے۔ روزوں کا اثر معمولات زندگی پرروزہ اسلام کا چوتھا ستون ہے اور یہ ہر عاقل و بالغ مسلمان مردو عورت پر فرض ہے بشرطیکہ کوئی شرعی عذر رکاوٹ نہ ہو۔اللہ تعالیٰ نے روزہ انسان پر تزکیہ¿ نفس اور تقوٰی و طہارت حاصل کرنے کے لیے فرض کیا ہے لہٰذا ہمارا فرض ہے کہ اس کے جملہ مقاصد اور تقاضوں کو سامنے رکھ کرروزہ رکھیں۔ حضرت سہل بن سعدؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲنے فرمایا: ”جنت کے آٹھ دروازے ہیں۔ ان میں سے ایک دروازے کانام ریان ”سیراب کرنے والا“ہے۔ اس دروازے سے صرف روزے داروںکا داخلہ ہوگا۔“ (بخاری، مسلم بحوالہ مشکوٰة حدیث:۷۵۹۱ حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ نے فرمایا: ”جس شخص نے رمضان کے روزے (اﷲ پر) ایمان رکھتے ہوئے احتساب کے ساتھ رکھے تو اس کے پہلے گناہ معاف ہوجاتے ہیں اور جس شخص نے رمضان میں (اﷲ پر) ایمان رکھتے ہوئے احتساب کے ساتھ قیام کیا تواس کے پہلے گناہ معاف ہوجاتے ہیں اور جس شخص نے شب قدر کا قیام ( اﷲ پر) ایما ن رکھتے ہوئے احتساب کے ساتھ کیا تو اس کے پہلے گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔ “(بخاری مسلم بحوالہ مشکوٰة حدیث نمبر: ۸۵۹۱)حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲنے فرمایا: ”جو شخص جھوٹ بولنے اور اس کے مطابق عمل کرنے کو نہیں چھوڑتا، تو اﷲ کو کچھ پرواہ نہیں کہ وہ (روزے میں ) کھانا پینا چھوڑ دے۔ “(صحیح بخاری بحوالہ مشکوٰة حدیث نمبر: ۹۹۹۱)حضرت ابوہریرہؓسے روایت ہے کہ رسول اﷲ نے فرمایا: ”کتنے روزے دار ہیں جن کو ان کے روزوں سے صرف بھوک اور پیاس حاصل ہوتی ہے اور کتنے رات کو قیام کرنے والے ہیں کہ ان کو ان کے قیام سے صرف ”رت جگا“ حاصل ہوتا ہے۔“ (سنن دارمی بحوالہ مشکوٰة حدیث نمبر: ۴۱۰۲) لہٰذاروزے کا تقاضا ہے کہ ہم فرائض کا اہتمام کریں اور منکرات سے بچیں اور حلا ل و حرام کی تمیزکریں،رزق حلال اور صدق مقال کااہتمام کریں اور باہم ہر مسلمان ایک دوسرے کی خیرخواہی کا حق ادا کری،پڑوسیوں،رشتے داروں، اولاد، والدین،ملازمین غرض سب کے حقوق ادا کریں تب جا کر روزے کے حقیقی مقاصد حاصل کرنے میں ہم کامیاب ہوسکتے ہیں۔ سحری کھانے کا اہتمام کیجیی روزے کا آغاز ہر مسلمان سحری سے کرتا ہے اور روزے کا اختتام افطار پر ہوتا ہے۔ ایک تو ہر آدمی جہاں جس حال میں ہے افطار کرتاہے اور کر سکتا ہے لیکن اسلام اجتماعیت کا دین ہے اس لیے وہ سب لوگوں کو جہاں ایک کلمہ پر جمع کرتا ہے اور اس کی عبادات نماز،زکوٰة،حج اجتماعیت کا درس دیتی ہیں اسی طرح روزہ بھی اسلام کے اجتماعی نظام کا مظہر اور ریفریشر کورس ہے۔ چانددیکھ کر روزہ رکھا جاتا ہی،سحرو افطار کا نظام سب کے لیے یکساں ہی،یوم عید بھی مسلمانوں کی شیرازہ بندی کو پروان چڑھاتی ہے۔افطار بھی اسی قبیل سے ہے۔حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ نے فرمایا: آدم کے بیٹے کے تمام نیک اعمال کا بدلہ دس گنا سے لے کر سات سو گنا تک دیاجائے گا۔ حدیث قدسی ہے کہ ” سوائے روزے کے۔ بلاشبہ وہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوںگا۔ انسان اپنی شہوت اور کھانے پینے کو میری رضا کے لیے چھوڑتا ہے۔ روزہ دار کو دو خوشیاں حاصل ہوتی ہیں۔ ایک خوشی جب وہ روزہ افطار کرتا ہے اوردوسری خوشی جب اس کی اس کے پروردگار سے ملاقات ہوگی اور روزے دار کے منہ کی بو اﷲ کے ہاں کستوری کی مہک سے بہتر ہے اور روزہ (گناہوں سے )محفوظ رکھتا ہے اور جب تم روزہ سے ہو تو فحش گفتگو سے احتراز کرو اور جھگڑانہ کرو ۔ اگر کوئی شخص گالیاں دے یا لڑائی کرے تو اسے (معذرت کرتے ہوئی) کہو میں روزے سے ہوں۔“ (بخاری مسلم بحوالہ مشکوٰة حدیث نمبر:۹۵۹۱)۔ رمضان المبارک اور اعتکاف آنحضرترمضان المبارک کے آخری عشرے میں اعتکاف بیٹھتے تھے۔ ایک سال بوجوہ ناغہ ہوا توآپ اگلے سال بیس دن اعتکاف بیٹھے۔ہم میں سے ہر آدمی کو یہ سنت ادا کرنی چاہیے۔اعتکاف کے لیے مسجد شرط ہے۔ آخری عشرہ اور بالخصوص آخری عشرے کی طاق راتوں کو شب بیداری کا اہتمام کیا جا سکتا ہے۔اجتماعی مطالعہ قرآن،مطالعہ حدیث، مطالعہ لٹریچر، حفظ قرآن اور دُعاوں کے یاد کرنے کرانے میں ایک دوسرے سے تعاون حاصل کیا جاسکتا ہے۔ رمضان کی طاق راتوں کا اعتکاف رمضان المبارک کے آخری عشرے کی پانچ راتیں،۱۲۔۳۲،۵۲،۷۲ اور ۹۲ کی راتیں اعتکاف اور شب بیداری کے لیے مختص ہیں ۔”حضرت عبد اﷲ بن انیسؓسے روایت ہے کہ میں نے عرض کیا ، اے اﷲ کے رسول! میں جنگل میں سکونت پذیر ہوں اور میں وہاں اﷲ کی مہربانی کے ساتھ نماز ادا کرتا ہوں۔ آپ مجھے ایسی رات کے بارے میں بتائیں کہ جس کے لیے میں مسجد نبوی میں آجاوں؟آپنے فرمایا: ت¿یسویں کی رات آجاو۔ اس کے بیٹے سے دریافت کیا گیا کہ تمھارے والد کیسے کیا کرتے تھی؟ اس نے بیان کیا کہ وہ مسجد نبوی جاتے اورجب نماز عصر ادا کرتے تو پھر وہاں سے صبح کی نماز ادا کرنے تک نہیں نکلتے تھے۔ جب صبح کی نماز ادا کرلیتے تو سواری کو مسجد نبوی کے دروازے پر پاتے اور اس پر سوار ہوکر چلے جاتے۔ “ (ابو داود بحوالہ مشکوٰة حدیث ۔۴۹۰۲)۔ رمضان اور انفاق فی سبیل اللہ رمضان اور انفاق کا چولی دامن کا تعلق ہی، آنحضرتکاارشادہے۔”حضرت ابن عباسؓسے روایت ہے کہ رسول اﷲ نے صدقہ فطر کو فرض قرار دیا ہے [تاکہ]روزے لغو اور بے ہودہ باتوں سے پا ک ہوجائیں اور مسکینوں کے کھانے پینے کا سامان میسر آئے۔ “ (سنن ابو داود بحوالہ مشکوٰة حدیث نمبر:۸۱۸۱)لیکن صدقةالفطر کے طور پر کیا دیا جائی؟ ہر غریب و امیر گندم دینے پر اکتفا کرتا ہے۔ یہ بھی اپنی جگہ درست ہے۔ گندم دے دی جائے تو صدقةالفطر ادا ہوجائے گا۔ تاہم ضرورت اس کی ہے کہ کھاتے پیتے لوگوں کوبتایا جائے کہ گندم کے علاوہ بطور صدقة الفطر کچھ اور چیزیں بھی دی جاسکتی ہیںیا ان کی قیمت دی جا سکتی ہے جن میں سے چند کا تذکرہ درجِ ذیل حدیث میں ہے۔”حضرت ابو سعید خدریسے روایت ہے کہ ہم اجناس میں سے ایک صاع جَویا کھجور میں سے ایک صاع ، پنیر یا منقہ میں سے ایک صاع صدقہ فطر ادا کیا کرتے تھے۔ “(بخاری مسلم بحوالہ مشکوٰة حدیث نمبر:۶۱۸۱)۔ رمضان اور زکوٰة اُمت مسلمہ میں جو لوگ صاحب نصاب ہیں وہ بالعموم رمضان میں زکوٰة ادا کرتے ہیں ۔ ایک مرتبہ پھر میں یہ بات دہراوں گا کہ رمضان المبارک کے کسی بھی لمحے کو ضائع نہ کیا جائے اورہر لمحہ کو بامقصد بنا دیا جائے کیونکہ یہ لمحات ہی ہمارے کل کو روشن اور تابندہ کرنے والے ہیں اور ہماری اس دنیا کو بھی سنوارنے والے ہیں۔ اس لیے ان تاریخ ساز لمحات کی کماحقہ،قدر کیجیے ۔”حضرت عائشہؓسے روایت ہے کہ میں نے رسول اﷲ سے عرض کیا :اے اﷲ کے رسول! آپ مجھے بتائیں کہ اگر مجھے معلوم ہوجائے کہ فلاں رات شب قدر ہے تو اس میں مجھے کیا کرنا چاہیے ۔آپنے فرمایاتو کہہ!”اَلھُمَّ اِنکَ عَفُوُّ تُحِّبُ العَفوَ فَاعفُ عَنّیِ “مسند احمد، سنن ابن ماجہ، جامع الترمذی بحوالہ مشکوة حدیث نمبر ۱۹۰۲)”اے اﷲ! بلاشبہ تو معاف کرنے والا ہے۔ معاف کرنے کو پسند کرتا ہے ،تو مجھے معاف کردے۔“دُعاہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں ماہ رمضان المبارک کی برکات سے زیادہ سے زیادہ مستفید ہونے کی توفیق عطاءفرمائے ،آمین۔

جسارت

tabi
07-25-2011, 08:28 PM
ameen

تانیہ
07-28-2011, 11:37 PM
آمین
جزاک اللہ