PDA

View Full Version : ہمارے نفسیاتی مسائل اور ان کا حل



محمدمعروف
07-31-2011, 04:40 PM
(حافظ سجاد احمد پراچہ‘ کراچی)
ہمارے معاشرے میں منفی سوچ بہت بڑھ چکی ہے نوجوان نسل میں مثبت سوچ اور رویہ بہت کم ہے عمومی طور پر ہر شخص دنیاوی مال و دولت سے معاشرے میں عزت اور مقام کا خواہش مند ہے مال و دولت کے حصول میں جائز و ناجائز تمام طریقے استعمال کیے جارہے ہیں
بے شک انسان بہت کمزور پیدا کیا گیا ہے انسان کی رہبری اور رہنمائی کیلئے ہر دور میں حضرات انبیاءعلیہم السلام کو مبعوث کیا گیا ہے تاکہ یہ کمزور مخلوق صراط مستقیم پر قائم رہ کرقوت اور طاقت حاصل کرلے۔ دنیا میں انسان پر ہر طرح کے حالات آتے ہیں انسان کبھی بھی ایک حال پر قائم نہیں رہتا۔ کائنات اور اس کی تمام چیزیں ایک اللہ وحدہ لاشریک کے قبضے میں ہیں وہی ان کا خالق و مالک ہے جیسے چاہتا ہے استعمال کرتا ہے۔ تمام حالات اللہ ہی کی طرف سے انسان کی آزمائش کے لیے بھیجے جاتے ہیں جب تک بندہ صراط مستقیم پر قائم رہتا ہے اطاعت و بندگی میں لگا رہتا ہے بندے کو ہر طرح سے عافیت و اطمینان حاصل رہتا ہے۔
انسان احساسات جذبات کا سمندر ہے جب تک احساسات میں توازن قائم رہتا ہے بندہ مطمئن رہتا ہے کسی احساس مثلاً محبت‘ نفرت‘ خوف وغیرہ کا حد سے بڑھ جانا بے چینی ہی پیدا نہیں کرتا بلکہ بعض اوقات پاگل پن اور دیوانگی جیسی کیفیات کا سبب بنتا ہے کسی احساس کے حد سے بڑھ جانے سے دوسرے احساسات مغلوب ہوجاتے ہیں۔ مختلف لوگوں میں احساسات کی کیفیات مختلف ہوتی ہیں بعض لوگ احساسات کے حوالے سے حساس اور بعض اس کے حوالے سے قوی ہوتے ہیں بعض لوگ اپنے آپ ہی میں گم رہتے ہیں ان پر کسی بات کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔
محبت‘ نفرت‘ خوف‘ رحم وغیرہ کے احساسات گھر‘ ماحول اور معاشرے کے اثرات کی وجہ سے غیرمتوازن ہوتے ہیں۔
تربیت پہلے دن والدین سے اور گھر کے ماحول سے شروع ہوجاتی ہے اگر والدین کے احساسات جذبات منفی ہوں یا غیرمتوازن ہوں تو اولاد پر گہرا اثر ہوتا ہے‘ بعض والدین معاشی تنگی یا کسی دوسرے بیرون دبائو کا شکار ہوں یا دونوں میں ذہنی ہم آہنگی نہ ہو تو اولاد کے اندر ضد‘ نفرت‘ احساس کمتری‘ چڑچڑاپن وغیرہ جیسی کیفیات پیدا ہوتی ہیں۔ 5 برس کی عمر کے بعد بچہ بیرونی ماحول کے اثرات قبول کرتا ہے اگر گھر کا ماحول مثبت ہو اور باہر کا ماحول منفی اثرات پرہو یا منفی اثرات زیادہ ہوں توطبیعتوں میں توازن قائم نہیں رہتا۔ بعض والدین بچوں کی ہر چاہت کو پورا کرتے ہیں بچے اپنی چاہت کے حوالے سے بہت حساس ہوجاتے ہیں اپنی ہر چاہت کا پورا ہونا طبیعت بن جاتی ہے ‘جب کہیں دل کی کوئی چاہت پوری نہیں ہوتی رنج و غم پیدا ہوجاتا ہے وقت و حالات کے ساتھ بعض اوقات طبیعت بدل جاتی ہے ورنہ موت تک دل کی ہر چاہت کے پورا کرنے کا بے حد جذبہ برقرار رہتا ہے ایسے لوگ دنیاوی شعبوں میں اکثر ناکام رہتے ہیں۔
ہمارے معاشرے میں نفسیاتی امراض تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ ذہنی دبائو ‘ ذہنی تنائو ‘ بے سکونی‘ بے چینی بڑھتی جارہی ہے۔ لوگ سکون آور دوائوں کا سہارا لے رہے ہیں۔ اصل علاج سکون آور دوائیں نہیں ہیں اصل وجہ اندر کے منفی جذبات و احساسات ہیں۔
ہمارے معاشرے میں منفی سوچ بہت بڑھ چکی ہے نوجوان نسل میں مثبت سوچ اور رویہ بہت کم ہے عمومی طور پر ہر شخص دنیاوی مال و دولت سے معاشرے میں عزت اور مقام کا خواہش مند ہے مال و دولت کے حصول میں جائز و ناجائز تمام طریقے استعمال کیے جارہے ہیں لیکن جن کے پاس مال و دولت کی فراوانی ہے وہ بھی بے چین ہیں‘ مال و دولت عہدہ اور منصب اندر کو بے چین رکھنے والا زہر ہے اگر اطاعت و بندگی سے حاصل نہ ہو اور بندہ اطاعت وبندگی پر قائم نہ ہو تو یہ ہمیشہ اندر کو پریشان اوربے چین رکھنے والا جذبہ ہے۔
منفی جذبات میں سب سے بڑا منفی جذبہ کبر ہے دوسروں کی تحقیرو تذلیل‘ دوسروں پر مسلط ہونا‘ ضد من مانی مقابلہ بازی تاکہ گردن اونچی رہے۔ دوسروں کو نیچا کرنا‘ دوسروں کے زوال پر خوش ہونا ترقی پر کڑھنا‘ اکڑنا اترانا‘ شیخی بازی‘ شک اور بدگمانی میں مبتلا رہنا‘ دوسروں کو کم تر سمجھنا‘ غیبت کرنا‘ گالیاں بکنا‘ انتقامی جذبات رکھنا‘ حد سے زیادہ غصہ کرنا‘ نعمتوں پر اکڑنا یا نعمتوں کو کم تر سمجھنا‘ دنیاوی اعتبار سے اپنے آپ کو گھٹیا سمجھنا‘ مال و دولت کی حرص اور تمنا میں گھلنا‘ عیب تلاش کرنا‘ دل میں نفرت رکھنا‘ حرام طریقوں سے جنسی لذت حاصل کرنا‘ جھوٹ بولنا‘ نشہ کرنا‘ دل کی ہر چاہت کو پورا کرنے کی کوشش کرنا‘ مادی اسباب کے حصول کی تمنا میں انتھک محنت کوشش کے بعد ناکام‘ مایوس اور ناامید ہوجانا‘ خود کو زیادہ چالاک سمجھدار سمجھنا وغیرہ جب کسی منفی جذبے میں شدت پیدا ہوتی ہے دماغ منتشر ہوجاتا ہے‘ ذہنی دبائو ‘ تنائو بہت بڑھ جاتا ہے۔ سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں متاثر ہوجاتی ہیں‘ پریشانی کی وجہ سے نیند نہیں آتی‘ 50 فیصد بیماریاں ذہنی پریشانی کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں۔
جو لوگ سکون آور دوائیں استعمال کرتے ہیں وہ یقینا منفی احساسات وجذبات کا شکار ہوجاتے ہیں۔ بعض اوقات منفی جذبات کی وجہ سے شدید کمزوری پیدا ہوجاتی ہے پھر کمزوری کو دور کرنے کیلئے طاقت کی دوائیں استعمال کرنا ضروری ہیں۔
منفی جذبات کا علاج مثبت جذبات ہیں‘ منفی ماحول کو ترک کردینا‘ منفی باتوں یا واقعات کا مثبت مطلب تعبیر کرنا ہے‘ منفی اثرات کو قبول نہ کرنا‘ اپنی طبیعت کو پوری کوشش کرکے مثبت انداز سے تعمیر کرنا‘ صبرشکر‘ تقدیر پر راضی رہنا‘ اللہ کے دین کی عطا‘ اس کی کرم فرمانیاں اس کی عنایتیں بے شمار ہیں‘ ہر حال میں پُرامید رہنا اور اس کی یاد میں لگے رہنا‘ بندگی کا مقتضی بھی ہے اور یہی ہماری سب پریشانیوں بے چینی اورغموں کا علاج بھی ہے۔
بشکریہ ماہنامہ عبقری

این اے ناصر
04-03-2012, 11:28 AM
مفیدمعلومات کے لیے بہت بہت شکریہ۔