PDA

View Full Version : رمضان المبارک کی ایک ایک ساعت کو روح میں اتاریں



سیما
07-31-2011, 06:32 PM
صفدر ھمٰدانی ، بتاریخ July 31, 2011
مبارک ہو ان سب نفوس کو کہ جنکی حیات میں ایک اور ماہ رمضان المبارک آیا ہے اور وہ جو اس دنیا میں نہیں رہے ہم ان سب کی مغفرت کی دعا کریں کہ اللہ پاک اپنی رحمتوں کے صدقے انکی مغفرت کرے. رمضان صرف بھوکے پیاسے رہنے کا نام نہیں بلکہ تطہیر روح و قلب ہے اور اسکی ایک ایک ساعت کو روح میں اتارنے مطلب قلب المنقلبون ہے.
روزہ وہ عظیم فریضہ ہے جس کو رب ذوالجلال نے اپنی طرف منسوب فرمایا ہے اور قیامت کے دن رب تعالیٰ اس کا بدلہ اور اجر بغیر کسی واسطہ کے بذات خود روزہ دار کو عنایت فرمائیں گے چنانچہ حدیث قدسی میں ارشاد ہے ”الصوم لی وانا اجزی به“ روزہ میرا ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا۔
آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جنت کو شروع سال سے آخر سال تک رمضان المبارک کی خاطر آراستہ کیا جاتاہے اور خوشبوﺅں کی دھونی دی جاتی ہے پس جب رمضان المبارک کی پہلی رات ہوتی ہے تو عرش کے نیچے سے ایک ہوا چلتی ہے جس کا نام مشیرہ ہے جس کے جھونکوں کی وجہ سے جنت کے درختوں کے پتے اور کواڑوں کے حلقے بجنے لگتے ہیں جس سے ایسی دل آواز سریلی آواز نکلتی ہے کہ سننے والوں نے اس سے اچھی آواز کبھی نہیں سنی پس خوشنما آنکھوں والی حوریں اپنے مکانوں سے نکل کر جنت کے بالا خانوں میں کھڑی ہوکر آواز دیتی ہیں کہ کوئی ہے اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں ہم سے منگنی کرنے والا تاکہ حق تعالیٰ شانہ اس کو ہم سے جوڑ دیں پھر وہی حوریں جنت کے دروغہ سے پوچھتی ہیں کہ یہ کیسی رات ہے وہ لبیک کہہ کر جواب دیتے ہیں: ”اے خوب صورت اور خوب سیرت عورتو یہ رمضان المبارک کی پہلی رات ہے اور حق تعالیٰ شانہ رضوان (جنت کے دروغہ) سے فرماتے ہیں کہ جنت کے دروازے محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کی امت کے روزہ داروں کے لیے کھول دو اور جہنم کے دروغہ مالک سے فرماتے ہیں محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کی امت کے روزہ داروں پر جہنم کے دروازے بند کردو اور حضرت جبرائیل علیہ السلام کو حکم ہوتا ہے کہ زمین پر جاؤ اور سرکش شیاطین کو قید کرو اور گلے میں طوق ڈال کر دریا میں پھینک دو کہ میرے محبوب صلی اﷲ علیہ وسلم کی امت کے روزہ داروں کو خراب نہ کریں۔
رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ رمضان کی جب پہلی رات ہوتی ہے تو شیاطین کو بند کردیا جاتا ہے اور مضبوط باندھ دیا جاتا ہے اور سرکش جنوں کو بھی بند کردیا جاتا ہے اور دوزخ کے دروازے بند کردیئے جاتے ہیں اس کا کوئی بھی دروازہ نہیں کھولا جاتا اور بہشت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور اس کا کوئی بھی دروازہ بند نہیں کیا جاتا اور ایک آواز دینے والا آواز دیتا ہے اے نیکی کے طالب آگے بڑھ کہ نیکی کا وقت ہے اور اے بدی کے چاہنے والے بدی سے رک جا اور اپنے نفس کو گناہوں سے باز رکھ کیونکہ یہ وقت گناہوں سے توبہ کرنے کا اور ان کو چھوڑنے کا ہے اور خدا تعالیٰ کے لیے ہے اور بہت سے بندوں کو اﷲ تعالیٰ معاف فرماتے ہیں دوزخ کی آگ سے بحرمت اس ماہ مبارک کے اور یہ آزاد کرنا رمضان شریف کی ہر رات میں ہے شب قدر کے ساتھ مخصوص نہیں۔

عالمی اخبار

بےباک
08-05-2011, 01:36 AM
جزاک اللہ سیما صاحبہ ،
:23_30_126[1]::23_30_126[1]:th_smilie_schild