PDA

View Full Version : وطن کے پاسبان ،



بےباک
08-05-2011, 12:53 PM
سحر ہونے تک ، وطن کے پاسبان ......... ڈاکٹر عبدالقدیر خان

یوں تو ہمارے پیارے ملک کی محبت میں کئی شعراء نے نہایت خوبصورت نغمے لکھے ہیں لیکن جو نغمہ دل کو ہلا دیتا ہے اور تیر کی طرح لگتا ہے وہ کلیم عثمانی کا نغمہ ہے جس کو نہایت خوبصورت انداز میں ہمارے بلبل پاکستان مہدی حسن نے گایا ہے۔ جب بھی میں یہ مصرع سنتا ہوں
یہ وطن تمھارا ہے ۔ تم ہو پاسبان اس کے تو ایک عجیب سی کیفیت طاری ہوجاتی ہے۔ ایک اور نغمہ جو اسی قسم کی کیفیت طاری کرتا ہے وہ کرم حیدری کا ہے:
اے وطن ، پیارے وطن
جس کو مرحوم استاد امانت علی خان نے بہت ہی سریلی آواز میں گایا ہے۔ یہ دونوں نغمات آپ کو مَسحور کردیتے ہیں۔ دونوں میں وطن سے محبت کا جذبہ پھوٹ پھوٹ کر ٹپکتا ہے۔ آپ کو اپنے پیارے وطن سے بے ساختہ محبت ہونے لگتی ہے۔ میں جب بھی یہ نغمہ جات سنتا ہوں تو سب کام چھوڑ کر آنکھیں بند کرکے اپنے پیارے وطن اور اسکو اللہ تعلی کی جانب سے عطا کردہ نعمتوں کے بارہ میں سوچنے لگتا ہوں پھر دل درد سے دُکھنے لگتا ہے کہ ہم نے یعنی ہمارے سیاستدانوں اور حکمرانوں نے ان نعمتوں کو کسطرح لعنتوں میں تبدیل کردیا ہے اور عوام کو جیتے جی جہنم کے عذاب سے روشناس کرادیا ہے۔
دیکھئے کالم کے عنوان سے آپ سمجھ گئے ہونگے کہ میرا مطلب ہماری افواج بلکہ خاص طور پر فوج کے بارے میں ہے۔ آجکل سیاست دانوں ، حکمرانوں اور بعض صحافی حضرات نے ہماری فوج کے خلاف ایک’ جہاد‘ شروع کیا ہوا ہے اور کچھ سیاستداں جو اسی فوج کے پروردہ ہیں یا اس کے سایہ میں آج عیاشی کررہے ہیں اس پر گندے اور ناجائز الزامات لگارہے ہیں اور بدنام کررہے ہیں۔ اور وہ چند اشخاص کے غلط اور خود غرضانہ اِقدامات کو پوری فوج کا عمل قرار دینے کی کوشش کررہے ہیں۔ مجھ سے زیادہ فوج کو اور فوجی افسران کو شاید ہی کوئی غیر فوجی جانتا ہوگا اور مجھ سے اور میرے خاندان سے زیادہ شاید ہی کوئی ان کی نمک حرامی اور احسان فراموشی کا شکار رہا ہوگا مگر ہمیں یہاں چند بدمعاش اور خود غرض افسران کے اعمال اور لاکھوں محبان، پاسبان وطن نوجوانوں اور ا فسران کی حب الوطنی اور دی ہوئی قربانیوں اور قربانیوں کے لئے تیار رہنے والوں میں فرق کرنا چاہئے۔ آپ ایوب خان، ضیاء الحق اور سب سے بدتر مشرف کے کردار کو لاکھوں محبان، پاسبانِ پاکستان کے کردار کے ناپ کا پیمانہ نہ بنائیں۔ مجھے پورااحساس ہے کہ ڈرون حملوں، ایبٹ آباد، مہران نیول بیس کراچی،گمشدہ افراد کا معاملہ اور بے صبرے رینجرز کی قتل و غارتگری نے عوام کے اعتماد کو ہلا دیاہے اور بہت بڑا دھچکہ دیا ہے اور وہ یہ سوچنے لگے ہیں کہ کیا ہم جو بھوکے رہ کر اور اربوں روپیہ ان پر خرچ کرتے ہیں وہ بیکار ہی گیا ہے اور اس کے نتیجہ میں فوج اور آئی ایس آئی پر سخت تنقید کرنے لگے ہیں۔ مگر بعض اوقات ہر ملک اور ہر فوج کے ساتھ ایسے واقعات پیش آجاتے ہیں۔ چند لوگ جو اس وقت عَلم بردار ہیں یا تو ڈکٹیٹروں کی باقیات ہیں اور کچھ اسی فوج کے زیر سایہ عیّاشی میں مصروف ہیں اور یہ دولت کے انبار جمع کررہے ہیں۔
جیسا کہ میں ابھی عرض کرچکا ہوں کہ عوام پوری فوج کو تختہ نشانہ بنانے لگتے ہیں۔ فوج میں تقریباً آٹھ لاکھ افراد ہیں اور سو دو سو خود غرض، بدکردار اور بَد دماغ افسران کی کارکردگی کو ہمیں ان کو جانچنے کا پیمانہ نہیں بنا نا چاہئے بلکہ ہمیں سمجھداری سے دونوں کے کرداروں کا موازنہ کرنا چاہئے اور اسی مناسبت سے ردعمل کا اظہارکرنا چاہئے۔ اور ہمیشہ ان ہزاروں جوانوں کی قربانیوں کو یاد رکھنا چاہئے جنہوں نے اپنی جانیں دے کر اور جانیں دینے کو تیار رہ کر آزاد قوم اور باعزّت شہریوں کی طرح رہنے کے قابل بنایا ہے۔ جیسا کہ میں نے ابھی عرض کیا ہے ہر ملک میں، ہر قوم میں ، ہر فوج میں کچھ ناگوار واقعات پیش آتے ہیں اور پوری دنیا میں خفیہ ادارے کچھ نہ کچھ زیادتیاں کرتے رہتے ہیں فرق یہ ہے کہ ترقی یافتہ اور تہذیب یافتہ ممالک میں ایسی زیادتیوں کو فوراً اجاگر کردیا جاتا ہے اور مجرموں کو سخت سزا دی جاتی ہے۔ ہم نے ایسے قابل نفرت اور قابل اعتراض واقعات بوسنیا، چیشنیا، عراق، افغانستان اور ابھی لیبیا اور سوڈان میں دیکھے ہیں۔ جب میں اپنے محب وطن، محافظ وطن بے چارے فوجیوں کو دیکھتا ہوں کہ کس طرح ہر مصیبت ان پر نازل ہورہی ہے تو مشہور فارسی شاعر انوری# کا یہ شعر یاد آجاتا ہے۔
ہَر بلائے کزِ آسماں اُفتد
خانہٴ اَنوری# رامی پُرسَد
انوری# پر مصیبتوں کا پہاڑ ٹوٹا ہوا تھا اور اس وجہ سے اس بے چارے کو کہنا پڑا تھا کہ جو مصیبت آسمان سے آتی ہے وہ انوری# کے گھر کا پتہ پوچھتی ہے اور وہاں پہونچ جاتی ہے بس یہی حال افواج پاکستان کا ہے۔ ہر بُرائی ان کے حصّہ میں ڈالدی جاتی ہے۔
جنوری 1976 میں بھٹو صاحب کی درخواست پر میں اور میری بیگم اور دو پچیاں ہالینڈ میں سب کچھ چھوڑ کر پاکستان میں رُک گئے اور وہاں نہایت اعلیٰ ملازمت اور روشن مستقبل کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے خدا حافظ کہدیا اور کبھی مڑ کر نہیں دیکھا۔ کہوٹہ کے قَیام، ایٹم بم اور میزائل وغیرہ کی تیاری اب ہمارے ملک کی تاریخ کا سنہرا باب ہے۔ یہاں میں آپ کو فوجی افسران سے میرے تعلقات ، رابطے اور ان کی حب الوطنی کے واقعات پر روشنی ڈالنا چاہتا ہوں۔اپنے نہایت محب وطن اور قابل ساتھیوں کی مدد سے ہم نے بہت ہی کم عرصہ میں اس پسماندہ ملک کو ایٹمی اور میزائل قوّت بنا دیا۔ ہم نے بمشکل تین سو ملین ڈالر پورے پروگرام پر صرف کئے تھے۔ ہم نے اس خطہ کی اہمیت کو بدل دیا اور مغربی ممالک کا خواب کہ پاکستان اب ہندوستان کے زیر سایہ رہے گا خاک میں ملا دیا تھا۔ بھٹو صاحب کی ہدایت پر میرا سب سے پہلے رابطہ جنرل ٹکا خان سے ہوا وہ اس وقت فوج کے سربراہ تھے، سیدھے سادھے سپاہی، بہت ہی خلوص ومحبت سے ملے اور مجھے فوج کی جانب سے تمام سہولتیں میسر کرنے کا وعدہ کیا اور اپنے ایم ایس برگیڈیر فقیر (فقیرا) کو اس سلسلہ میں ہدایات دیدیں کہ وہ CGS کوہدایات دیدیں۔ کچھ عرصہ بعد جنرل ضیاء فوج کے سربراہ مقرر ہوئے اور بھٹو صاحب سے ہماری میٹنگز میں وہ شامل ہونے لگے۔ میری درخواست پر اُنھوں نے برگیڈیر زاہد علی اکبر خان (بعد میں لیفٹنٹ جنرل، کورکمانڈر راولپنڈی) اور چند دوسرے انجینئروں کو میرے پاس متعین کردیا۔ یقین کیجئے یہ اس قدر خوشگوار تجربہ تھا میں یہ سوچنے پر مجبور ہوگیا کہ پروجیکٹ میں زیادہ سے زیادہ فوجی بھرتی کرلوں۔ میں نے سوچا کہ خواہ مشرقی پاکستان ہو یا اس سے پہلے 1965 جنگ ہوں ہمیشہ یہی لوگ جان دینے میں سب سے آگے تھے، پھر یہ کہ خواہ کشمیر کی برف پوش پہاڑیاں، یا چولستان یا تھر کاریگستان یا سیاچین کی فلک بوس قاتل پہاڑیاں ہمارے نوجوان ایک لفظِ شکایت لائے بغیر خدمات انجام دیتے ہیں، نہ وہاں بجلی، نہ گیس، نہ آرام دہ بستر اور نہ ہی والدین، اہل و عیال کی قربت پھر بھی چہرہ پر مسکراہٹ اور جان دینے پر آمادہ، ان تمام باتوں کو مدنظر رکھ کر میں نے حاضر سروس اور ریٹائرڈ فوجی اپنے ادارہ میں بھرتی کرنا شروع کئے۔ جب جنرل ضیاء نے حکومت سنبھالی اور کہوٹہ آئے تو دیکھتے ہی بولے ڈاکٹر صاحب یہ تو فوجی ادارہ اور گیریزن معلوم ہوتی ہے۔ میں نے مذاقاً کہا کہ سر یہ آپ کا ہی ادارہ ہے ہم سائنسدان اور انجینئر تو مہمان ہیں کام ختم ہوگیا تو حوالے کرکے چلے جائینگے اور میری ریٹائرمنٹ کے بعدیہ ہی ہوا۔ اُس وقت میرے پا س تین ہزار کا اسٹاف تھا جس میں سے سترہ سو سے زیادہ فوجی تھے۔ میں نے نہ صرف ایڈمنسٹریشن، بلکہ میڈیکل، ٹرانسپورٹ، خریداری، سیکیورٹی وغیرہ کے تمام محکمہ جات میں فوجی تعنیات کئے اس کے علاوہ تمام تعمیراتی کام بھی فوجیوں کے حوالے کردیا۔ مجھے آج بھی ان افسران کی کارکردگی اور حب الوطنی یاد ہے اور اس پر فخر ہے۔ میرے کچھ غیر فوجی رفقائے کار اس بات سے خوش نہ تھے کہ میں فوجیوں کو ادارہ میں بھرتی کررہا ہوں مگر بعد میں ماحول نہایت خوشگوار ہوگیا اور ان کو احساس ہوا کہ یہ افسران بغیر حیلہ و بہانہ بازی فوراً کام انجام دیتے تھے۔ برگیڈیر زاہد کی ٹیم کے علاوہ میرے پاس فوج سے کئی بہت اچھے اور مفید انجینئرز بھی کام کررہے تھے۔ سول ورکس والوں میں جنرل انیس علی سیّد، کرنل اسلم، برگیڈیرسجاول خان، برگیڈیرحبیب زماں، کرنل محمود، کرنل جاوید، برگیڈیر مظہر، برگیڈیر سعید بیگ اور ان کے ساتھیوں نے نہایت اعلیٰ خدمات انجام دیں۔ اسی طرح ائیرکموڈور حبیب الرحمٰن کی بھی خدمات ہیں ۔ان کے علاوہ کرنل ایوب، کرنل رفیق،میجر مجید، میجر انور، کیپٹن صدیق، کیپٹن عالم، کیپٹن فدا حسین شاہ، میجر صدیق اور میجر اسلام کی خدمات کہوٹہ کی تاریخ کا سنہری باب ہیں۔ کیپٹن عالم اور میجر اسلام میرے اسٹاف آفیسر اور پرنسپل اسٹاف آفیسر تھے اور کیپٹن صدیق پروٹوکول آفیسر تھے۔ ان کے علاوہ ٹیکنیکل میدان میں کرنل قاضی رشید علی، کرنل مجید، کرنل ذوالفقار، برگیڈیر عزیز، برگیڈیر قیوم، برگیڈیر جعفر،برگیڈیر سکندر حیات، برگیڈیر بہرام علی خان، برگیڈیر رفیع، کرنل ضیاء، کرنل ذوالفقار، برگیڈیر افتخار نے اپنی مہارت کے معجزے دکھائے ۔ کرنل رحمن، کرنل نیازی ، برگیڈیر صغیر، برگیڈیرصفدر نواب وغیرہ وغیرہ نے نہایت اہم اور اعلیٰ خدمات انجام دیں اور ہر فرض نہایت خوش اسلوبی سے وقت پر ادا کیا۔ میڈیکل میں جنرل چوہان، جنرل بٹ، کرنل نذیر، جنرل اشفاق، جنرل کمال شاہ، کرنل نعیم ، کرنل ناگرااور کئی دوسرے قابل ڈاکٹروں نے ہمیں تندرست و توانا رکھا اور پروجیکٹ کو کامیابی سے مکمل کرنے کا موقع دیا۔ لاتعداد دوسرے جونیئرافسران وجوانوں نے بھی نہایت قابل قدر خدمات انجام دی تھیں جن سب کے نام لکھنا یہاں مشکل ہے۔ میرے سویلین سائنسدانوں اور انجینئروں نے جو خدمات انجام دی ہیں وہ ہماری تاریخ کا سنہری باب ہیں کبھی ایک کالم ان پر بھی لکھونگاان اوپر بیان کردہ فوجی افسران نے اور میرے سویلین محب وطن اور نہایت قابل سائنسدانوں، انجینئروں اور ٹیکنیکل اسٹاف نے کہوٹہ کی کہانی کی کامیابی میں جو رول ادا کئے ہیں وہ ہماری تاریخ میں ہمیشہ سنہری حروف میں لکھا رہے گا۔ انھوں نے ایک ناممکن کام کو ممکن کر دکھایا تھا۔

سیما
05-08-2012, 03:24 AM
بہت بہت شکریہ

pervaz khan
06-26-2012, 09:20 PM
بہت اعلی:جزاک اللہ

انجینئرفانی
10-07-2012, 05:56 AM
زبردست