PDA

View Full Version : ایم کیو ایم اور پیپلزپارٹی کا تازہ ملاپ



سیما
08-09-2011, 04:22 PM
مبارک ہو، مبارک ہو.... پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم کے مذاکرات کامیاب ہوگئے اور 400 سے زیادہ افرادکی بھینٹ کے بعد سیاست کے دیوتاوں کا جلال ختم ہوگیا۔ اب جاہ و جمال کے ساتھ خوشی ہے اور”رقص میں ہے سارا جہاں“۔پیپلزپارٹی نے پہلے کمشنری نظام کے نفاذ اور بلدیاتی نظام کے خاتمے پر مٹھائی کھانے اور کھلانے کا ”کامیاب مظاہرہ“کیا تھا اور اس بات کی قطعی پروا نہیں کی تھی کہ انسانی لہو کا بہتا دریا سیلاب بن گیاہے۔ اب وہ کمشنری نظام کو دوبارہ فائلوں میں بندکرنے اور ایم کیو ایم کی مرضی کا نظام واپس لانے پر مٹھائی کھانے اورکھلانے کا مظاہرہ کرکے داد پاسکتی ہے۔کراچی کی پانچ اضلاع میں تقسیم ختم کردی گئی ہے اور حیدرآباد کی چار اضلاع میں تقسیم بحال ہوگئی ہے۔ اب ایم کیو ایم نصف حکومت اور نصف اپوزیشن کے کردارکے بجائے مکمل حکومت کا کردار ادا کرسکتی ہے۔سیاستدان مٹھائی کھانے اورکھلانے کے بہانے ڈھونڈتے ہیں، اور چونکہ یہ دور ہی کھانے کھلانے بلکہ پینے پلانے کا ہے لہٰذا مٹھائی کھانے پرکسی کو کیا اعتراض ہوسکتاہی!یکم اگست کو رمضان المبارک کے ”استقبال“ کے لیے 30 افراد کے لہوکا نذرانہ دینے اور 60 گاڑیاں جلادینے پر بھی کسی نے اعتراض یا تنقید کرنے کی جرا¿ت نہیں کی تھی کیونکہ حکومت بنانے‘ چلانے اورکسی ایک دن اپنی دھاک بٹھانے کے لیے اتنا ”خرچہ“ تو ہوجاتا ہے‘ چنانچہ اسے ”فضول خرچی“ نہیں بلکہ ضرورت سمجھا جائے۔ البتہ اگلے روز یکم رمضان کا خیال رکھتے ہوئے احتیاط برتی گئی اور صرف 7 افراد کا ”خرچہ“ ہوا۔ تاہم قابلِ تعریف بات یہ ہے کہ حکومت نے نئی ”انعامی اسکیم“ کا اعلان کرکے عوام کو خوش کردیا۔زمین پر رہتے ہوئے زمین کو دنگے فساد‘ قتل وغارت اور جلاو گھیراو سے پاک کرنے اور اس پرقابو پانے میں ناکامی کا تاثر دور کرنے کے لیے کسی ”سنیاسی بابا“ کی طرح رحمن بابا نے کراچی کی فضائی نگرانی کی خوشخبری سناتے ہوئے اعلان کیا کہ قتل وغارت میں ملوث افرادکی نشاندہی‘ ان کی تصویر یا ویڈیو فراہم کرنے والوں کو 50 لاکھ سے ایک کروڑ روپے تک انعام دیا جائے گا۔ عوام بہت خوش ہوئے کہ کم ازکم رحمن بابا کو ان کا اتنا خیال ہے‘ لہٰذا وہ حکومت کی ساری ”بھینٹ “ اور ”فضول خرچی“ بھول گئی، کیونکہ اتنا بڑا انعام جیتنے کے لیے کام بہت آسان بتایا گیا تھا.... لیکن عوام کے لیے مشکل یہ تھی کہ وہ تصویر یا ویڈیو سے خود رحمن بابا اور ان کے دوستوں کو کس طرح نکالیں‘ کیونکہ ہر تصویر میں وہ اس طرح بیچ میں آرہے ہیں کہ نکالنا مشکل ہے۔ اسی دوران الطاف حسین کے بیان نے عوام کو تصویر یا ویڈیو کے ذریعے انعام جیتنے کی مشکل سے زیادہ مشکل سے دوچارکردیا‘ کیونکہ الطاف حسین نے کراچی کے عوام کو مشورہ دیا تھا کہ وہ ایک ماہ کا راشن خریدلیں‘ خواہ اس کے لیے قیمتی چیزیں ہی کیوں نہ فروخت کرنی پڑیں۔ماضی میں الطاف حسین نے عوام کو ٹی وی اور فریج بیچ کر اسلحہ خریدنے کا مشورہ دیا تھا جس کا ناسمجھ لوگ مذاق اڑایا کرتے تھے۔ اب اس مہنگائی کے دور میں جب ایک دن کی سبزی اور ایک ہفتے کا راشن لینے پر دن میں تارے نظر آجاتے ہیں‘ وہ ایک ماہ کا راشن کس طرح خریدیں؟ان کے پاس قیمتی چیزوں میں جان سب سے قیمتی چیز رہ گئی ہے‘ مگر اس کے دام بھی اتنے گرگئے ہیں کہ آلو، ٹماٹر، گاجر، مولی کے دام بھی اتنے نہ گرتے ہوں گے۔ چنانچہ جس طرح مذبح میں بکرے گنے جاتے ہیں‘ اسی طرح شہرکے مُردہ خانوں میں لاشوں کی گنتی ہوتی ہے اور اخبارات ایک تعداد پر متفق نظرنہیں آتے۔ 3 اگست کو رحمن بابا نے ہمیشہ کی طرح اخبارات کو یہ کہہ کر حیران کردیا کہ میرے آتے ہی ٹارگٹ کلنگ ختم ہوگئی‘ اب صرف پرانی لاشیں مل رہی ہیں۔ گویا کراچی کوئی ویران اور دشوار پہاڑی سلسلے کا اندھا غار ہے جہاں لوگ مرجائیں تو لاشیں پڑی رہتی ہیں اور پرانی ہوجاتی ہیں۔ واضح رہے کہ 3 اگست کو کراچی کے مختلف علاقوں سے مزید 4 لاشیں برآمد ہوئی تھیں۔دوسری جانب الطاف حسین نے 3 اگست کو کراچی سمیت سندھ کے 6 شہروں میں ایم کیو ایم کے ذمہ داروں سے ٹیلی فونک خطاب کرتے ہوئے صدر‘ وزیراعظم اور وزیراعلیٰ پرکراچی میں قاتلوں اور دہشت گردوں کی پشت پناہی کا الزام لگایا اور فوج کو قیام امن کی ذمہ داری سنبھالنے کی پھر دعوت دے دی۔انہوں نے جہاں اس بات کو تسلیم کرنے سے انکارکیا کہ کراچی میں ایم کیو ایم‘ اے این پی اور پیپلزپارٹی میں فساد ہورہا ہے‘ وہیں 1964ءسے اب تک کراچی میں مہاجروں کے نشانہ بننے اور امتیازی سلوک کا شکوہ بھی کیا۔اسی روز اسلام آباد میں صدر زرداری نے کراچی کی صورت حال پر اجلاس منعقد کیا اور وزیراعظم‘ وزیراعلیٰ سندھ اور صوبائی و وفاقی وزراءکے ساتھ کراچی میں ہلاک ہوجانے والوں کے لیے فاتحہ پڑھی.... یہ اور بات ہے کہ تصویر یہ بتانے سے قاصر ہے کہ وہ کراچی کے لیے فاتحہ پڑھ رہے ہیں یا کراچی کے مرنے والوں کے لیی؟ ادھر کراچی میں رحمن بابا نے 4 اگست کو بھی ایم کیو ایم کی حکومت میں واپسی کے لیے مذاکرات جاری رکھے اور دو دن میں گورنر سندھ سے تیسری ملاقات کرکے صدر کا خاص پیغام پہنچایا۔ جبکہ آگ لگانے والے جادو کے کمالات کے ماہر ذوالفقار مرزا کا بیان بھی حیران کن طور پر یہ تھا کہ ”ایم کیو ایم والے ہمارے بھائی ہیں‘ پھردوبارہ حکومت میں شامل ہوجائیں گے“۔مگر الطاف حسین کو اپنی تقریر پر سندھی قوم پرستوں‘ ادیبوں، دانشوروں کے شدید ردعمل کے بعد معافی مانگنی پڑی۔ انہوں نے سندھی قوم پرستوں کو یقین دلایا کہ میرا جینا مرنا سندھ دھرتی کے ساتھ ہے۔ انہوں نے ایک ماہ کا راشن جمع کرنے والے بیان کی وضاحت بھی پیش کی۔اس مرحلے پر ہمیں الطاف حسین کی 8 جنوری 2001ءکی تقریر اور اپنے ماضی کے مجموعی کردار پرسندھی قوم سے معافی بھی یاد آئی جس میں ان کا ایک جملہ یہ تھا: ”پلیزٹرسٹ می“۔ لیکن وقت نے بتایاکہ 10 سال کے بعد بھی سندھی قوم پرستوں اور دانشوروں نے ان پر ٹرسٹ نہیں کیا۔ الطاف حسین نے اب اگست 2011ءمیں جو معافی مانگی ہے وہ قبول ہوگی یا نہیں؟ اور آنے والے برسوں میں اعتماد کا بحران ہمیں کہاں لے جائے گا؟....یہ بہت اہم سوالات ہیں۔ جب 6 اگست کو ایم کیو ایم اور پیپلزپارٹی کے مذاکرات کامیاب ہونے کی خبر سے ”مبارک مبارک“ کا شور برپا تھا تو اسی روزکراچی میں مزید 11 افراد فائرنگ میں مارے گئے اور شہر خوف وہراس کا شکار رہا۔یہ مظلوم شہر سیاست کے دیوتاوں سے بہت عرصے سے معافی کا طلب گار ہے۔ الطاف حسین اور ذوالفقار مرزا کی معافیاں تو قبول ہورہی ہیں مگر اس شہرکی معافی کب قبول ہوگی؟


جسارت