PDA

View Full Version : ہر خوبصورت چیز کو نظر لگ جاتی ہے



سیما
08-13-2011, 05:42 AM
ماہ ِ مبارک ِ رمضان کا تصور زہن میں خیروبرکت، رحمت و مغفرت اور ثمرات کی شبیہیں تخلیق کرتا ہے۔ اسکی آمد سے قبل ہی اسکے استقبال کی تیاریوں کا سلسلہ ہمارے مذہب اور ہماری ثقافت کا یکساں حصہ ہے۔ دنیا کے دیگر خطوں میں بھی اس ماہ کو مذہبی عقیدت اور دینی جذبات سے منایا جاتا ہے مگر بر ِصغیر پاک و ہند کی مذہبی ثقافت میں اس مبارک مہینے کے جو رنگ ہیں وہ شاید ہی دنیا کے کسی اور خطے میں نظر آئیں۔ یہاں سحری سے لیکر افطاری تک اور افطاری سے لیکر سحری تک ایک عجیب ہی سماں دیکھنے کو ملتا ہے۔ نیند سے بیداری کے لیئے جہاں سائنس کی ترقی نے بیشمار زرائع فراہم کردئے، وہیں آج بھی سحری کے لئے بیدار کرنے والوں کا اپنا طریقہ ہنوز رائج ہے۔ جدید گھڑیوں کے بلند آواز الارم ہوں یا موبائل فونوں میں نصب الارم، سحری کے لیئے جگانے والوں کا برسوں پرانا ڈھول ان جدید آلات پر اب بھی سبقت حاصل کیئے ہوئے ہے۔

اگر کچھ عرصہ قبل تک کا رمضان یاد کریں تو سحری کے لیئے بیداری کے ساتھ ہی دودھ دہی کی دکانوں اور تندوروں کی رونقیں بحال ہوجاتی تھیں جہاں سحری کا سامان لینے والوں کا رش ہر گزرتے لمحے کے ساتھ بڑھتا ہی چلا جاتا تھا۔ گھروں سے پراٹھوں کی خوشبو والا دھواں گلیوں میں پھیل کر ہوا کو بھی پراٹھا زدہ کردیتا تھا۔ گھروں میں سحری کے دسترخوان پر اختتام ِ سحر کا تیزی سے بڑھتا ہوا وقت پہلا پراٹھا حاصل کرنے کی تگ و دو میں بہن بھائیوں میں نوک جھونک بھی کروا دیتا تھا جسے گھر کے بزرگ بروقت مداخلت کرکے پیار و محبت کی ہوا میں تحلیل کروادیتے تھے۔ پھر مسجدوں کی رونقیں بڑھ جاتی تھیں۔ باجماعت نماز کے بعد محلے کے لڑکوں کا گلیوں میں کرکٹ کھیلنا بھی اسی مہینے کا ہی ایک رنگ ہواکرتا تھا۔ دن بھر کی دنیاوی مصروفیات کے بعد سہہ پہر کو گھروں میں تلاوت کی محفلیں ماحول کی روحانیت کو چارچاند لگا دیتی تھیں۔ بعد از عصر افطار کی تیاریوں کا جو سلسلہ شروع ہوتا تھا تو روزے کے آخری لمحے تک جاری رہتا تھا۔ گھر کی خواتین مختلف پکوانوں کی تیاریوں میں ایسے جت جاتی تھیں کہ گویا روزے کا مقصد ہی افطار تیار کرنا ہو، جبکہ مرد حضرات اس دوران میں بازار کے چکر کاٹ کاٹ کر خود کاٹ کھانے کو تیار ہوچکے ہوتے تھے۔ کبھی پھل لارہے ہیں تو کبھی دہی۔ کبھی چاٹ مصالحہ لانا بھول گئے تو کبھی جلیبیاں۔ بازار کے انہی چکروں میں افطار کا وقت سر پر پہنچ جاتا تھا۔ ایسے میں بچے کیوں کسی سے پیچھے رہیں۔ ادھر امی اور باجی پکوڑے، دہی بڑے اور چاٹ کے قاب سجاتی جارہی ہیں جنہیں اٹھا کر وہ محلے پڑوس میں بانٹتے ہوئے بھاگے بھاگے پھر رہے ہیں۔ اسی دوران اپنے گھر کی گھنٹی بھی بارہا بجتی اور دروازے پر کسی اور گھر کی ٹرے افطاری سے سجی موصول ہوتی یا کوئی فقیر صدقہ خیرات کی امید لیئے جھولی پھیلائے نظر آتا۔ دوسرے مہینوں کے برعکس اس مبارک ماہ میں ہرایک کی یہی کوشش ہوتی کہ کوئی گداگر خالی ہاتھ نہ جائے۔

افطار سے دس منٹ قبل ٹی وی بھی کھل جاتا تھا جس پر نشر ہونے والی نعتوں کی آوازیں فضا میں چاشنی بکھیرتی ہوئی محسوس ہوتیں۔ اسی دوران دسترخوان بھی ہر گزرتے لمحے کے ساتھ چھوٹا پڑتا جاتا جسکے گرد افراد اور جسکے سینے پر ڈشیں بڑھتی جاتیں۔ بوقت ِ افطار شہری انتظامیہ کی جانب سے سائرن بھی بجائے جاتے تھے جو ماہ ِ رمضان کی ایک خاص نشانی تصور کئے جاتے تھے۔ افطار کے بعد نمازوں، تراویح اور دیگر عبادات کا سلسلہ یا تو سوتے وقت تک جاری رہتا یا بازار جانے تک۔ آغاز ِ رمضان سے ہی عید کے استقبال کے لئے بازار سج جاتے جن میں ہر گزرتے دن کے ساتھ رش بڑھتا جاتا۔ اور آخری عشرے میں یہ بازار اس حد تک پھیل چکے ہوتے کہ شہر کے شہر اپنے اندر سمو لیتے۔ نئے کپڑے، نئے جوتے، چوڑیاں۔ مہندی، خوشبوئیں، چپلیں اور نجانے کیا کیا خریدا جاتا۔ عید کی آمد تک اس ماہ میں معیشت کا پہیہ ایسا چلتا کہ پورا سال میں مجموعی طور پر بھی نہ چلا ہوتا۔ اور یوں یہ مہینہ اپنی رحمتوں اور برکتوں کو سمیٹتا ہوا شوال کے چاند کی اوٹ میں گیارہ مہینوں تک سو جاتا۔ چاند رات کی اپنی ہی علیحدہ داستانیں ہیں کہ کسطرح یہ رات ہمارے گھروں میں جوش و جذبے سے منائی جاتی تھی۔

پرانے لوگوں کا ہی کہنا ہے کہ ہر خوبصورت چیز کو نظر لگ جاتی ہے۔ جہاں اس خوبصورت ملک اور اسکی حسین ثقافت کو نظر لگی، وہیں اسمیں منائے جانیوالے ماہ ِ مبارک کی رونقوں کو بھی کسی حاسد کی نظر ِ بد لگ گئی۔ اب حال یہ ہے کہ جب یہ مبارک مہینہ ہمیں اپنی جانب بڑھتا ہوا نظر آتا ہے تو یکدم 2005 میں آنیوالا زلزلہ زہن کو مرتعش کرکے رکھ دیتا ہے۔ یادوں میں وہ مناظر تازہ ہوجاتے ہیں جب اپنی آنکھوں سے اپنے ہی پڑوس میں ایک پوری رہائشی عمارت کو زمین بوس ہوتے اور سینکڑوں افراد کو لقمہءاجل بنتے دیکھا۔ آنکھیں ابھی ان مناظر کی سفاکی کی تاب نہ لا پائی تھیں کہ کانوں نے کشمیر کی تباہی کی منحوس خبر سنی۔ کتنے درد بھرے تھے وہ لمحات جب پورا شہر عمارتوں سے باہر سڑکوں پر تھا اور ہر لمحے یہ زمین پلٹے کھارہی تھی۔ پھر پوری دنیا جوش میں آئی اور آنا”فانا” امدادی کاروائیاں شروع ہوئیں۔ پاکستان تو کیا، دنیا بھر سے رضاکاران یہاں آنا شروع ہوئے اور اس ماہ ِ مبارک کی برکتوں کو سمیٹتے ہوئے اپنی اپنی جنتیں تعمیر کرنے لگے۔ وہ پورا رمضان اپنی عام ڈگر سے ہٹ کر زلزلے کی نذر ہی رہا۔ وہ عید بھی عید نہ تھی، بلکہ حزن و ملال کا ایک موقع محسوس ہوئی۔ جب اگلا رمضان آیا تو وہ دلخراش یادیں ایک بار پھر تازہ ہو گئیں اور ہم اپنے بچپن کے رمضان کی حسرت کرنے لگے، مگر لگنے والی نظر بہت تیز تھی، وہ بچپن کا رمضان کھا چکی تھی۔ زلزلے کی یادوں میں لپٹا ہرسال کا رمضان گزرنے لگا۔ زلزلے کی یادوں کا تیسرا سال تھا کہ مبارک ماہ کے تیسرے روزے کا افطار اسلام آباد کے مصروف اور اعلٰی ترین ہوٹل میں آتشین دھماکے کے ساتھ ہوا۔ اس دھماکے میں جاں بحق اور زخمی ہونیوالوں کی لاشیں اور کٹے پٹے اور جھلسے بدن آج بھی میری یادداشت میں تازہ ہیں جنہیں ہسپتال میں میں نے اپنی آنکھوں سے تڑپتے دیکھا۔ تیسرے روزے سے آخری روزے تک ایک دن بھی رمضان کا وہ لطف محسوس ہی نہ ہو سکا جوہمیشہ سے اسکا خاصہ تھا۔ ہم ترستے ہی رہے کہ اس لطف کو دوبارہ حاصل کر سکیں، مگر کہاں! 2010 میں آنیوالے سیلاب نے پچھلی تمام تباہ کاریوں کے ریکارڈ توڑ ڈالے اور ہورا رمضان پانی پانی ہوکر گزرگیا۔

اور آج یہ عالم ہے کہ دوسرے روزے کو میں یہ سطور لکھ رہا ہوں اور میرا شہر کراچی شیطان کی قید میں جل رہا ہے۔ مگر یہ کیا؟ ہم نے تو سنا تھا کہ ماہ ِ رمضان میں شیطان تو خود قید میں چلا جاتا ہے۔ تو پھر یہ کون ہے؟ اچھا۔۔۔۔۔ شیطان خود تو مقید ہوگیا مگر اپنی پیروکار انسان نما مخلوق کو اپنی ذمہ داری سونپ گیا جسے یہ اسکی امیدوں سے بڑھ کر پورا کرنے میں مگن ہے۔

آج بھی رمضان کا مہینہ ہے۔ آج بھی سحری اور افطاری ہو رہی ہے۔ نمازیں اور تراویح بھی جاری ہیں۔ گھروں اور مساجد میں تلاوت اور نعت خوانی بھی ہورہی ہے۔ مگر یوں محسوس ہورہا ہے کہ جیسے خدا نے رحمت اور برکت کو اس ملک کی حدود میں اس ماہ میں سے اٹھا لیا ہے۔ ہم ترس رہے ہیں اس ماہ کی انہی رونقوں کو، جن سے فیضیاب ہوتے ہوئے ساری زندگی گزاری تھی۔ روزہ تو رکھ لیا مگر اطمنان ِ قلب حاصل نہ ہوسکا۔

یااللہ! تو ہمارے وہ تمام گناہ معاف فرما دے جو تیری ناراضگی کا باعث ہوئے اور نتیجتا” تو نے اپنی خیر کو ہم سے دور کردیا۔ مالک! اس ماہ کی ان مبارک ساعات میں میرے اس وطن کو شیطان کے ان لعین چیلوں سے چھٹکارا عطا فرما اور اس مہینے کی وہ رونقیں لوٹا دے جن سے اسی ماہ میں وجود میں آنیوالا تیرا یہ حسین تحفہ ملک جگمگاتا تھا۔ بار الہا! اپنے حبیب (ص) کے صدقے اسکو لگنے والی نحس نظر کو اس سے دور فرما اور ہمارے لئے اس ماہ کی فیوض و برکات کو جاری فرما۔ آمین۔


عالمی اخبار

سیما
08-13-2011, 05:46 AM
اللہ پاک ہی ہے جو پاکستان کی دیکھ بھال کر رہا ہے ،ورنہ کسی دشمن نے تو اس کو توڑنے کی بہت کوشش کی بلکہ ہر ممکن کوشش کی پر جسے اللہ رکھے اگے نھی آتا کیا لکھوں :(کوئ بات نھی آپ ہی اگے لکھ لیں جو یہ پوسٹ پڑھے گا یا گی :shy: اچھا

اب یاد آیا ، جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے ،