PDA

View Full Version : غزوہ ء بدر کی ریاستی حکمت عملی اور حب الوطنی کے تقاضے



ایم اے رضا
08-14-2011, 01:44 AM
ہمارے ہاں ہر باشعور غزوہ ء بدر کو اور اسکی اہمیت کو جانتا ہے لیکن ہر جگہ اس کو بیان کرتے وقت کچھ چیزیں سہوا یا جان بوجھ کر بیان نہیں کی جاتییں اور وہ ہے غزوہ بدر کا پس منظر جب مسلمان ہجرت کر کے مکہ گئے اور وہاں پر اسلام کی تبلیغ کا سلسلہ پر امن طریقے سے شروع کیا تو اس وقت 5 طرح کی ایجنیساں وجود مین آئیں 1 یہود2 نصاری3 کفار4 مشرکین5 منافقین ان پانچ ایجینسیوں نے مسلمانوں کے خلاف پہلے تو سرد جنگ شروع کی جو آہستہ آہستہ شب خون اور نقب زنی (دور حاضر کے خود کش حملے سمجھ لیں)میں بدل گئی اور ان وارداتوں میں دن بدن اضافہ ہوتا گیا منافقین کی ایجنسی کا سب سے بڑا کام مسلمانوں مین ڈر خوف پیدا کرنا تھا اس وقت ، کیونکہ مسلمان بہت کم تعداد میں تھے لیکن مسلمانوں کی حکمت عملی بہت اعلی تعداد میں تھی جسکو ہر وقت نگاہ نبوت کی رہنمائی ملتی رہتی اور وہ بڑھتی رہتی.یہود و نصاری کو مدینہ بہت پیارا تھا وہ اسے چھوڑنا نہ چاہتے تھے اور کسی بیرونی حملے کے ڈر سے مسلمانوں سے ڈائریکٹ کوئی بیر نہ رکھتے تھے لیکن مکہ کے لوگوں کو ضرور مس گائیڈ کرتے تھے یعنی افواہ رسانی کا سلسلہ جاری رہتا اور کفار و مشرکین کی ایجنییاں ان کے خلاف یہی کام کرتیں مسلمان نئے نئے جب مدینہ شفٹ ہوئے تو ایجینسیوں کی نظر میں تھا کہ مسلمانوں کے ایک طبقہ کے پاس ذریعہ معاش نہیں لہذا یہ آپس میں الجھیں گے اور ہمارے حملے کے بنا ہی کمزور پڑ جائیں گے اور ان میں جذبہ حب الوطنی ماند پڑ جائے گا لیکن قرباں جائیں آقا ص کی نگاہ نبوت پے آپ نے مواخات مدینہ فرمایا اور مسلمانوں کے جذبہ حب الوطنی کو ماند نہ ہونے دیا اور یہ حقیقت بات ہے کہ جب بھی ہم تنگدستی اور معاشی بدحالی کا شکار ہوئے ہیں ہمیں پیٹ کے علاوہ کوئی جذبہ یاد نہیں رہتا .اب ابوسفیان قافلہ تجارت کے ساتھ روانہ ہوئے تو ایجینیاں متحرک ہو گئیں کیونکہ انہیں پہلے ہی بہت تکلیف پہنچی کہ مسلمان مواخات کے بعد مظبوط سے مظبوط تر ہوتے جا رہے تھے اس لئے انہوں نے افواہوں کا سلسلہ شروع کیا اور ابوسفیان کو تشویش ہوئی کہ مسلمان حملہ کرنے والے ہیں اور یہ ایجینسیوں نے اسے بہکایا ادھر مکہ والوں کو یہ بات بتلائی کہ تم مسلمانوں کو تہس نہس کر دو وہ مٹھی بھر ہو کر تمھارا غرور خاک میں ملانے والے ہیں اب یہودونصاری کو ڈر پہنچا کہ کہیں مدینہ ہاتھ سے نہ نکل جائے ایک ہزار کا لشکر آ رہا ہے تو انہوں نے مسلمانوں سے معائدہ کیا ریاست مدینہ یعنی وطن مدینہ کی حفاظت کا اور مدینہ کے اندر رہ کر تاکہ اگر مسلمانوں کو کچھ ہو تو وہ کفارو مشرکین کو کہیں کہ ہم تو جنگ میں شریک ہی نہیں تھے لہذا ہمیں کچھ نہ کہا جائے اور منافقین اپنی اصل ڈیوٹی پر ڈٹے رہے اور اور مسلمانوں کوخوب ڈرانے کی کوشش کی مسلمانوں کا بھیس بدل کر اور یہ حقیقت ہے کہ جب کسی فکر کے لوگ اسی فکر میں خود دراڑ ڈالنے لگ جائیں یعنی مخالفتیں اپنی ہی کرنے لگ جائے تواسے باہر سے توڑنے کی یا مخالفت کی ضرورت نہیں رہتی اور وہ اندر ہی اندر دم توڑنے لگ جاتی ہے اس لئے منافقین کے اعتراضات پر باہر والے سمجھ جاتے کہ ان کے حوصلے توڑنے کے لئے ان کے گروہ میں لوگ موجود ہیں اور یہ حقیقت ہے کہ ہر دور میں ہمارے سلطانوں کے حوصلے میر جعفر اور میر صادق جیسے منافقین اور غداروں کی وجہ سے ٹوٹے.بالاخر جب کفار بھی نکل کھڑے ہوئے تو ادھر نبی آخر الزماں نے اللہ کے حضور عرض کی کہ اے اللہ یہ میری جمع پونجی لٹ گئی تو تیرا نام لیوا کوئی نہ بچے گا ادھر اللہ رب العزت نے خاتم النبیین سے 3 ہزار فرشتوں کا وعدہ فرما دیا تو آپ نے صحابہ سے مشورہ کیا جبگ کے حوالے سے مختلف آرا ملیں لیکن آپ ص نے جذبہ حب الوطنی بھی تو سکھانا تھا آپ نے فرمایا نہیں وطن مدینہ کی حفاظت اس کی سرحدوں پر کھڑے ہو کر کی جائے گی اور یہ وہ فیصلہ ہے جس نے قیامت تک کے لئے وطن کی حفاطت اور اس کے تقاضوں کو ماند نہیں ہونے دینا اس لئے کہ آقا ص کو اللہ نے فرشتوں کی مدد کا وعدہ دے رکھا تھا مسلمان وطن مدینہ میں رہ کر بھی لڑتے تب بھی فتح ونصرت ان کی ہوتی لیکن پیارے آقا نے غزوہ بدر کی اس ریاستی حکمت عملی کہ تحت یہ اصول دیا کہ