PDA

View Full Version : 14 اگست....شہداکے لہوکی روشنی



سیما
08-14-2011, 04:56 AM
اگست 1947ءکہ جس دن دنیا کے نقشہ پر ایک نیا وطن بنام اسلامی جمہوریہ پاکستان معرض وجود میں آیا۔ محض ایک تبدیلی یا تقسیم ہند نہ تھی بلکہ اس ایک دن کے قیام کی خاطر اسلامیان برصغیر نے 100 سال سے زیادہ عرصہ تک فرنگی جبرو استبداد ‘ظلم وستم‘ انگریزی تہذیب وثقافت نظریات اور عیارومکاردشمن کے مدمقابل سر فروشی‘ جوانمردی‘ استقامت اور اسلامی اقدارکے تحفظ وبقا کے علاوہ جذبہ حریت کا پرچم سربلند رکھنے والے شہیدوں کے لہو سے روشن وہ عہدسازدن تھا۔ جب ہمارے آباو اجداد نے انگریزکی تاریک راہوں سے نکل کر نورایماں سے منور شاہراہ اسلام پرگامزن رہنے اور مملکت میں اسلام کو بطور دین ودستور نافذالعمل کرنے کا عزم صمیم کیاتھا۔ موجودہ نسل اس دن کو محض جشن و طرب اور رنگینیوں سے مرصع کھیل تماشے کا دن سمجھتی ہے حالانکہ آج کا دن ان لاکھوں شہیدوں کی قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کا دن ہے جو ظالم وغاصب بدیسی انگریز حکمرانوں کے خلاف علم جہاد بلندکرتے ہوئے تاریک راہوں میں شہیدکردیے گئے یا تقسیم کے ہنگاموں میں ہجرت کے دوران ظالم سکھوں اور ہندو¶ں کی سنگینوں کی خون کی پیاس بجھاتے رہے۔ آج 64 برس پہلے نگاہ دوڑائی جائے تو ماحول یکسر تبدیل دکھائی دیتاہے کل بے سروسامانی تھی‘ نہ بجلی تھی یہ کارخانے تھے نہ دفاترمیں میزکرسیاں تھیں نہ قلم دوات ہوتے تھے۔ ہرطرف کسمپرسی کا ڈیرہ تھا تاہم عام آدمی سے لے کر سربراہ حکومت تک ایثار وقربانی کامرصع تھا۔ ہرطرف امن وامان تھا۔ اسلامی اخوت و بھائی چارہ تھا۔ پاکستان ایک نظریاتی مملکت کے طورپر منصہ مشہود پرظاہرہوا ہندو¶ں کا خیال تھا کہ یہ پھول بہت جلد مرجھاجائے گا چونکہ اس نوزائیدہ مملکت میں کچھ بھی تو نہیں ہے۔ جذبہ آزادی سے سرشار اہل اسلام نے ان کے خواب بہت جلد چکنا چورکردیے اور مملکت خداداد پاکستان اخلاص وخدمت کے جذبوں کے حائل قوم کے ایثار کی بدولت دیکھتے ہی دیکھتے دنیا میں ممتاز مقام کی حامل ہوتی چلی گئی۔ ہماری بدقسمتی دشمنوں کی سازشیں پیچھا نہ چھوڑتیں اورہمارے نااہل بے حمیت‘ آزادی کی قدروقیمت سے ناآشنا قیادتیں وحکومتیں قومی مفاد کی بجائے ذاتی اغراض میں الجھ کر باہمی سیاسی چپقلشوں میں اپنی توانائیاں جھونکتی رہیں اور دشمن ہمارے خلاف ریشہ دوانیاں کرتا رہا یہاں تک کہ ہمارا ایک بازو ہم سے کاٹ دیاگیا اور اسلامی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک لاکھ مسلمان فوج نے کفرکے سامنے ہتھیار ڈال دیے۔ ملک دولخت ہوگیا اور امید تھی کہ شاید اب ہمارے ہوش ٹھکانے آجائیں گے اور ہم بحیثیت ملت نئے عزم وحوصلے سے دنیا میں اپنا کھویا ہوا وقار حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ تاہم بدقسمتی نے شاید مکمل طورپر ڈیرے ڈال رکھے ہیں کہ باقی ماندہ ملک بھی گزشتہ چالیس برسوں سے عدم استحکام کا شکارہے۔ آج کیفیت یہ ہے کہ اگرچہ ہم واحد اسلامی ایٹمی قوت اور دنیا میں ساتویں ایٹمی صلاحیت کے حامل ہیں تاہم ہماری حالت یہ ہے کہ ہم کرپشن‘ لوٹ مار اور بدترین طرزحکمرانیوں کی بدولت ترقی معکوس میں مبتلا ہیں۔ ہمارا انفرااسٹرکچر مکمل تباہ وبرباد ہوچکاہے۔ بنیادی ضروریات مثلاً پانی‘بجلی‘ روزگار‘امن وامان‘ تعلیم صحت یہ سب چیزیں عنقا ہوچکی ہیں۔ کراچی جو معیشت کی شہہ رگ ہے۔ تاجروں اورصنعتکاروں سے خالی ہوتاجارہاہے ۔ قتل وغارت‘ بھتہ خوری اور آئے دن ہونے والی خونریزی نے سرمایہ کاروں کو شدید عدم تحفظ کا شکاربنادیاہے جس کی وجہ سے بیرونی سرمایہ تو در کنار مقامی سرمایہ بھی بیرون ملک فرار ہورہاہے۔ ریلوے کا نظام آخری سانسیں لے رہاہے رینٹل پاور پروجیکٹس اربوں روپے کرایہ اداکرنے کے باوجود ایک یونٹ بجلی بھی فراہم نہیں کرپارہے ۔ بجلی کے نجی اداروں نے عوام کو عذاب مسلسل میں مبتلاکررکھاہے جبکہ کارخانوں میں پیداواری عمل نچلی ترین سطح پر آچکاہے۔ روزانہ افزوں گرانی‘ بے روزگاری‘ جرائم میں اضافہ بلکہ حکومتی اداروں کا ملوث ہونا اس ملک وقوم کی آبیاری کرنے والے ان لاکھوں شہیدوں کے مقدس لہو کے ساتھ غداری اور عزت مآب ماوں‘ بہنوں اور بیٹیوں کی عصمتوں کی پامالی پر رقص ابلیس کے مترادف ہے۔ کسی بھی لیڈر یا جماعت میں ملک وقوم کی ہمدردی یا جذبہ حریت باقی نہیں رہا۔ سب نمبر گیممیں مصروف ہیں۔ روزانہ لاشیں گررہی ہیں۔ بیوائیں اپنے سہاگ کھورہی ہیں بچے اپنے باپوں کے خون آلود لاشے دیکھتے اور دلوں میں دوسروں کے لیے نفرتوں کو پروان چڑھاتے ہوئے انتقامی جذبات ابھارتے دکھائی دیتے ہیں جبکہ ہمارے دشمن نزدیک ودور اپنے سازشی محلات میں داد عیش دیتے ہوئے مسکرارہیں اور نت نئی سازشوں کے تانے بانے بننے میں مصروف ہیں ۔آج کراچی سے لے کر وزیرستان تک چہار جانب قائدکا پاکستان لہولہوہے۔ آج ہمارے تحریک آزادی کے وہ شہداءجنہوں نے قیام وبقائے وطن کی خاطر اپنی جانیں جاں آفریں کے سپردکیں۔ ان کی روحیں نجانے کس اذیت کا شکارہوں گی کہ اغراض ومقاصد کیاتھے اور آج وطن عزیز کا حلیہ ہی بدل کر رہ گیاہے۔ امانت ودیانت کا دور دور تک پتا نہیں۔ حکمراں طبقات قومی خزانوں کو جس بے دردی سے لوٹنے میں مصروف ہیں۔ وہ تو ایک طرف غیر ملکی قوتوں کا روز بروز بڑھتا ہوا عمل دخل اور کارروائیاں وطن عزیز کی سلامتی کے لیے انتہائی خطرناک ہیں۔ کیا آج 64 برس بعد بھی جشن آزادی کا اہتمام کرتے ہوئے چراغاں کرنے والوں کو یہ احساس بھی ہے کہ اس چراغاں میں لاکھوں شہداءکے مقدس لہو کی تیش اور روشنی جگمگارہی ہے۔ کاش آج ہم بحیثیت قوم اللہ تعالیٰ سے کیے گئے عہدکی پاسداری کرتے ہوئے 14 اگست کو اپنی اصلاح اعمال کرتے ہوئے مجموعی توبہ واستغفار کے ذریعے رب تعالیٰ کو راضی کریں کہ یہ ملک 27 رمضان المبارک کے دن معرض وجود میں آیا اور آج پھر رمضان المبارک ہم پر سایہ فگن ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اس قوم پر رحم فرمائے اور آزادی کے تقاضے پورے کرنے کی توفیق بخشے۔ اسلامی تعلیمات ہمیں بتاتی ہیںکہ جب انسان اللہ تعالیٰ کے حضور حاضرہوگا تو اللہ تعالیٰ انسان سے پوچھے گا کہ تم کتنی دیردنیا میں رہی؟ اس کے جواب میں انسان کہے گا کہ ایک دن یا اس سے کچھ زیادہ۔انسان دنیا میں ساٹھ‘ ستر سال اور بسا اوقات سوسال یا اس سے زیادہ گزارکررخصت ہوتاہے۔ لیکن دوسری دنیا میں انسان کے 100 سال کا شعور ایک دن کے شعور کے برابر ہوجائے گا۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہوگی کہ انسان کا شعور دنیا کے شعور سے دور اور آخرت کے شعور کے قریب ہوجائے گا اور آخرت کی زندگی کے مقابلے پر دنیا کی زندگی ایک دن یا اس سے بھی کم ہے۔ اسلامی تہذیب میں دنیا اور آخرت کے تعلق کی ایک صورت یہ ہے۔اس صورت کی مزید وضاحت ایک حدیث شریف میں موجود ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن صحابہ کرام ؓ کو بتایاکہ دنیا انسان کے ہاتھ کی سب سے چھوٹی انگلی پر ٹھہرجانے والے پانی کی طرح ہے اور آخرت کی زندگی اس کے مقابلے پر ایک سمندرکی طرح ہے۔اسلام میں دنیا اورآخرت کے تعلق کی ایک صورت یہ ہے کہ رسول اکرم ایک روز صحابہ کرام کے ساتھ کہیں تشریف لے جارہے تھے کہ آپ کو راستے میں بکری کا ایک مرا ہوا بچہ ملا۔ حضوراکرم ﷺ نے صحابہ سے پوچھا کہ تم میں سے کون اسے خریدنا پسند کرے گا؟ صحابہ نے کہاکہ ہم تو اسے مفت بھی لینا پسند نہ کریں گے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ دنیا بکری کے اس مرے ہوئے بچے سے زیادہ حقیر ہے۔ اس کے مقابلے پر ایک حدیث شریف کا مفہوم یہ ہے کہ جنت کی حورکا دوپٹہ بھی دنیا ومافیہا سے بہترہے۔یہ دنیا اور آخرت کے تعلق کی حقیقی نوعیت ہے اور ہماری زندگی اور اس کی ترجیحات کو دنیا اور آخرت کے اس تعلق کے مطابق ہونا چاہیے لیکن امر واقع یہ ہے کہ ہماری بیشتر تمنائیں‘ آرزوئیں اورخواہشیں دنیا سے متعلق ہیں۔ ہمارے اکثر خواب دنیا کے رنگوں سے اپنا تانا بانا بنتے ہیں۔ ہماری زندگی کی بہترین صلاحیتیں آخرت کے بجائے دنیا کے لیے وقف ہوتی ہیں۔ ہمارے علم اور معاملات کا غالب حصہ دنیا سے تعلق رکھتاہے۔ ہمارے وقت کا بہترین حصہ آخرت کے بجائے دنیا کے لیے وقف ہے۔ ہماری سرگرمیوں میں سے اکثر کا حوالہ دنیاہے۔ ہماری توانائی کا بیشتر حصہ آخرت کے بجائے دنیا پر صرف ہوتاہے۔ ہمارے حصے میں آنے والی تعریف کا بڑا حصہ دنیا سے متعلق ہے۔ ہماری اکثر خوشیاں اور مسرتیں دنیا سے برآمدہوتی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہماری زندگی اور اس کی ترجیحات دنیا اورآخرت کے تعلق کی نوعیت کی ضد ہیں۔ ہم عملاً ایک دن کو ایک کھرب سال پر ترجیح دینے والے بنے ہوئے ہیں۔ ہم نے پانی کے ایک قطرے کو سمندر پر فوقیت دے رکھی ہے۔ ہم نے بکری کے مردہ بچے کو اپنی زندگی کا دستور بناکر اسے آخرت کی تمام نعمتوں پر غالب کرلیاہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کے باوجود بھی ہمارا خیال ہے کہ ہم ذہین ہیں۔ ہم صاحب علم ہیں۔ ہم صاحب شعور ہیں۔ ہم انسانی ترقی کی معراج پر پہنچی ہوئی انسانیت کا حصہ ہیں۔ ہم 21 ویں صدی کی فضا میں سانس لینے والی انسانی برادری میں شامل ہیں۔ یہ دعوے اتنے مضحکہ خیز ہیں کہ انسان ان پر ہنسنا چاہے تو اسے ان پر ہنسی کے بجائے رونا آجائے۔ یہاں سوال یہ ہے کہ آخرت پر دنیا کے غلبے کے ظاہرکی تفصیل کیاہے۔؟اس سلسلے میں دومظاہرکا مطالعہ پوری زندگی کے بیان کے لیے کافی ہے۔ سب سے اہم مظہر ہماری زندگی میں مذہب کی اہمیت ہے۔ مذہب اور دنیا کا تعلق یہ ہے کہ دنیا مذہب کا حصہ ہے مذہب دنیا کا حصہ نہیں ہے مگر ہماری زندگی میں مذہب دنیا کا حصہ بن گیاہے۔ اس کا اثر عبادت کے تصور پر یہ پڑا ہے کہ اول تو مسلم معاشرے کی اکثریت نماز ہی نہیں پڑھتی اور جولوگ نماز پڑھتے ہیں ان میں سے اکثر کے یہاں عبادت کا شعور اور اس کی روح مفقود ہوتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ عبادت ہماری زندگی پراثر انداز ہونے والی حقیقت نہیں رہی۔مذہب اوردنیاکے بگڑے ہوئے تعلق کا اثر ہمارے علم پر بہت گہرا پڑا ہے۔ اس اثرکی ایک صورت یہ ہے کہ علم کی ضرورت کا شعور باقی نہیں رہا اور دین ودنیا کے علوم الگ ہوگئے۔ اس پر طرہ یہ کہ ہماری علمی کائنات پر دنیا کے علوم کا غلبہ ہوگیا اور دین کا علم اس کائنات کا ایک ذرہ بن کر رہ گیا۔ ہم اپنے بچوںکو پہلی جماعت سے ایم اے تک ہرکلاس میں اگر سات مضامین پڑھاتے ہیں تو اسلامیات ان میں سے محض ایک مضمون ہوتی ہے۔ علم کی دنیا میں مذہب اور دنیا کا یہ عدم توازن ہمارے بچوں کا شعور حیات خلق کرتاہے۔ خدا‘ اسلامی قدر اور آخرت سے اس کے تعلق کی نوعیت متعین کرتاہے۔ ہماری زندگی میں مذہب کی ایک اہمیت یہ ہے کہ ہمارے ذہین ترین نوجوان ڈاکٹر بنتے ہیں۔ انجینئر بنتے ہیں۔ ایم بی اے کرتے ہیں۔ اطلاعاتی ٹیکنالوجی میں مہارت حاصل کرتے ہیں اورکم ذہین بچوں اور نوجوانوں کو ہم مدارس کی طرف دھکیل دیتے ہیں۔ حالانکہ ہماری تاریخ کے تمام بہترین ادوارمیں ذہین ترین لوگ مذہب اور اس کے علم کے لیے خود کو وقف کرلیتے تھے۔ اس صورتحال کو دیکھاجائے تو معلوم ہوجاتاہے کہ مذہب اور دنیا کے مابین ہماری ترجیح کیاہی؟آخرت پر دنیا کے غلبے کا دوسرا بڑا مظہر یہ ہے کہ ہم صرف دنیا کی تعلیم کو دین کی تعلیم پرفوقیت دے کر نہیں رہ جاتے بلکہ دینا کی تعلیم کو صرف معاش کے لیے وقف کردیتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتاہے کہ ہماری زندگی معاش کی نذرہوجاتی ہے۔ ہماری عمر کا بہترین عرصہ 25 سے 60 سال کے درمیان ہے اور یہ پورا کا پورا عرصہ معاشی جدوجہد میں صرف ہوجاتاہے۔ ہمارے دن کا بہترین وقت صبح سے شام تک کا وقت ہے اور یہ وقت ہم معاش کے کولہو کا بیل بن کر گزاردیتے ہیں۔ بلاشبہ اسلام معاش کمانے سے منع نہیں کرتا بلکہ اپنے متعلقین کے لیے رزق حلال کمانا ایک مذہبی تقاضا ہے لیکن معاش کو زندگی کا ایک جزو سمجھنے اور اسے زندگی کا کل بنانے میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ آخرت پر دنیا کی فوقیت کے اس منظرنامے کے اسباب کیاہیں ؟۔قرآن مجید فرقان حمید اعلان کرتاہے کہ انسان جلد باز واقع ہواہے۔ وہ ہرکام کا فوری نتیجہ چاہتاہے۔ بلاشبہ آخرت دائمی ہے لیکن دنیا کی زندگی کے مقابلے پر موخرہے۔ یعنی تاخیرسے آنے والی ہے اس کے مقابلے پر دنیا انسان کو فوری طورپر حاصل ہوجاتی ہے۔ لیکن دنیا کے نقد اور آخرت کے تاخیرسے ملنے کا احساس ایمان کی کمزوری اور ذہانت کی قلت کا حامل ہے۔ ایمان قوی ہوتاہے تو انسان کو آخرت سامنے کھڑی نظرآتی ہے اور دنیا آنکھوں سے اوجھل ہوجاتی ہے۔ آخرت ٹھوس بن جاتی ہے اور دنیا خیال کی طرح محسوس ہوتی ہے۔ قرآن اور حدیث کا علم بتاتاہے کہ انسان کا سب سے بڑا موقف اس کا نسیان یعنی بھولنے کی عادت ہے۔ غورکیاجائے تو لفظ انسان دراصل نسیان ہی سے مشتق ہے۔ انسان کو جب تک خدا یاد رہتاہے وہ گناہ کی غلطی بھی نہیں کرتا لیکن جیسے ہی وہ نسیان میںمبتلا ہوتاہے اپنے خالق‘ مالک اوررازق کو بھولتاہے۔ اس کے شعورکی نوعیت تبدیل ہوجاتی ہے۔ وہ عارضی کو دائمی پر ترجیح دینے لگتاہے۔ اس کے لیے دنیا آخرت سے زیادہ اہم ہوجاتی ہے۔انسان کا ایک بڑا مسئلہ ماحول کا جبرہے۔ ماحول کا جبر اتنی ہولناک چیز ہے کہ رسول اکرمﷺ نے فرمایا ہے کہ بچہ اپنی فطرت یعنی اسلام پر پیدا ہوتاہے لیکن اس کے والدین اسے یہودی عیسائی اور مجوسی بنادیتے ہیں۔ ہمارے ماحول کا جبر یہ ہے کہ ہماری انفرادی اور اجتماعی زندگی پر مغرب اس کے تصورات اور اس کی ترجیحات کا غلبہ ہے اور مغرب میں سب کچھ دنیا ہے۔ بلاشبہ ہم مغرب کے زیراثر آخرت کو بھولے نہیں ہیں لیکن مغرب کے علمی تہذیبی سماجی اور معاشی غلبے نے ہمارے یہاں دنیا اور آخرت کے تعلق کو یکسر بدل دیاہے اور ہم ماحول کے جبرکو توڑنے میں پوری طرح کامیاب نہیں ہیں۔
جسارت نیوز