PDA

View Full Version : کہتے ہیں کہ اب ہم سے خطاکار بہت ہیں



سقراط
08-19-2011, 10:01 PM
کہتے ہیں کہ اب ہم سے خطاکار بہت ہیں
اک رسمِ وفا تھی سو وفادار بہت ہیں

لہجے کی کھنک ہو کہ نگاہوں کی صداقت
یوسف کے لئے مصر کے بازار بہت ہیں

کچھ زخم کی رنگ میں گلِ تر کی قریں تھے
کچھ نقش کہ ہیں نقش بہ دیوار، بہت ہیں

راہوں میں کوئی آبلہ پا اب نہیں ملتا
رستے میں مگر قافلہ سالار بہت ہیں

اِک خواب کا احساں بھی اُٹھائے نہیں اُٹھتا
کیا کہیے کہ آسودۂ آزار بہت ہیں

کیوں اہلِ وفا! زحمتِ بیداد نگاہی
جینے کے لئے اور بھی آزار بہت ہیں

ہر جذبۂ بے تاب کے احکام ہزاروں
ہر لمحۂ بے خواب کے اصرار بہت ہیں

پلکوں تلک آ پہنچے نہ کرنوں کی تمازت
اب تک تو ادا آئینہ بردار بہت ہیں

ادا جعفری

پاکستانی
08-19-2011, 10:08 PM
واہ جی واہ بہت خوب

راہوں میں کوئی آبلہ پا اب نہیں ملتا
رستے میں مگر قافلہ سالار بہت ہیں


زندہ باد ادا جعفری

بےباک
08-20-2011, 06:35 PM
بہت ہی زبردست ،

خوب جناب ،
:-):-)

سقراط
08-20-2011, 08:02 PM
واہ جی واہ بہت خوب

راہوں میں کوئی آبلہ پا اب نہیں ملتا
رستے میں مگر قافلہ سالار بہت ہیں


زندہ باد ادا جعفری


پاکستانی زندہ باد :th_Pakistan_flag:

پاکستانی
08-20-2011, 11:20 PM
پاکستانی تو ہے زندہ باد


گزرے لمحوں کی کہانی ہیں
ہجر میں کٹی جوانی ہیں
بھوک پیاس کی نشانی ہیں
زم زم کے ہم پانی ہیں
آتی نہیں شعروشاعری
تک بندی میں ثانی ہیں
ہم پاکستانی ہیں

این اے ناصر
03-31-2012, 01:14 PM
واہ بہت خوب۔ شکریہ