PDA

View Full Version : اب یہ لگتا ہے کہ یہ امت عہد جاہلیہ کی طرف پلٹ گئی



سیما
08-21-2011, 05:12 AM
شمس جیلانی
ہم بہت دنوں سے اپنی قوم کے ساتھ سر مار رہے تھے کہ بھا ئی رمضان المبا رک کا فا ئدہ اٹھاتے ہو ئے توبہ کر کے متقیوں میں دا خل ہو جا ؤ، تاکہ اللہ سبحانہ تعالیٰ دوبارہ نوازنے لگے کیونکہ آج تک بشمول ِ حضور(ص) جتنے بھی نبی (ع) آئے ان کا ذکر قر آن میں کرتے ہو ئے اللہ سبحانہ تعالیٰ نے ان کے یہ ہی الفاط دہرا ئے ہیں کہ اگر تم ایمان لے آوگے تو اللہ سبحانہ تعالیٰ تمہا رے گناہ معاف کر دے گا، با رش بر سا ئے گا تمہاری کھیتی ہری کر دےگاغرضیکہ وہ ہر طر ح تمہیں نوازے گا۔ امید تو تھی کہ شاید یہ رمضان پاکستان اور پاکستا نیوں کی کا یا پلٹ کا با عث ہو گا۔ کیونکہ کہتے ہیں کہ جب لو ہا گرم ہو تو چوٹ لگانے سے وہ اپنی ماہیّت بدل دیتا ہے۔ لہذا یہاں بھی چونکہ چا روں طرف قوم عذاب دیکھ رہی ہے لہذا شاید خود کوبد لے ۔مگر ان کی حالت وہ ہے کہ بقول محترم صفدر ھمدانی صا حب کے یہ قر آنی الفاظ میں “اندھے بہرے اور گونگے “کی عملی تفسیر بنے ہو ئے ہیں تمہاری کو ششیں بیکار ہیں ، یہ اب کبھی واپس نہیں آئیں گے؟
وہی ہوا کہ انہوں نے بجا ئے توبہ کر نے کے عہد جا ہلیہ کی طرف رجعت کرنا نہ صرف پسند کیا بلکہ اس کی طرف چھلانگ لگا دی۔ بوری میں لا شیں توسالوں سے مل رہی تھیں کہ یہ بد عت مرد ِ حق ضیاالحق کے دور سے شروع ہو ئی تھی، مگر مثلہ شدہ ( لاشیں بگڑی ہو ئی ) نہیں ہو تی تھیں ۔ جو پچھلے چند دنوں سے ملنے لگیں کہ پہلے ان کی آنکھیں نکا لیں گئیں، شکلیں بگا ڑی گئیں ، پھر بوری میں بند کر کے پھینک دیا گیا ؟ ان کا جرم یہ تھا کہ وہ کسی پا رٹی سے وابستہ تھے؟ یہ بیماری آج سے چودہ سال سے پہلے تک عام تھی اور عربوں میں رواج تھا کہ جنگ میں دشمن کی گردن کا ٹنے پر اکتفا نہیں کر تے تھے ،بلکہ ان کی شکلیں بھی بگاڑ دیتے تھے۔ یہ سلسلہ حضور (ص) کے زمانے میں اللہ کے حکم پر بند ہواکہ اس نے سورہ نمبر ١٦ اور آیت نمبر١١٢٦ور ١٢٧نازل فر ما کر بند کر دیا۔ ان آیات کی شان نزول یہ تھی کہ جنگ بدر میں کفارِ مکہ کے بہت سے سردار ما رے گئے تھے جن میں سب سے زیا دہ تعداد بنو امیہ کی تھی ۔ لہذا حضرت سفیان (رض) کی بیوی اور حضرت معا ویہ (رض)کی واالدہ محترمہ ہندہ بنت عتبہ نے قسم کھا ئی کہ میں حضرت حمزہ (رض)کا کلیجہ نکال کر چبا ؤنگی؟ وہ موقعہ اسے مل گیا اور وہ غزوہ عہد میں جہاد کر تے ہو ئے شہید ہو گئے۔ اس نے ان کی میت کی بے حرمتی کی اور اپنی قسم اس طرح پو ری کی کہ حضور (ص) کوان کی میت دیکھ کر بہت دکھ پہونچا۔ ظاہر ہے کہ اس وقت کے مسلمان ہم جیسے تو تھے ؟نبی (ص)کا دکھ ساری امت کا دکھ تھا؟ لہذا سب نے قسم کھا ئی کہ ہم کو اللہ نے آئندہ کا میاب کیا تو ہم بھی اس سے زیادہ بری طرح بدلا لیں گے اور ان کی اس سے زیادہ در گت بنا ئیں گے ؟
یہ بات اللہ سبحانہ تعالیٰ کو پسند نہیں آئی ا لہذا فری طور پر یہ آیات نازل فر ما ئیں کہ “یہ تمہارا حق ہے کہ تمہیں جتنی تکلیف پہنچی ہے اتنا ہی بدلہ لو، مگر اس سے زیادہ نہیں اور معاف کردو تو سب سے بہتر ہے کہ اللہ معاف کر نے والوں کو پسند فرماتا ہے “اس کے بعد تمام صحابہ کرام (رض) کو حضور (ص)نے ہدا یت فر ما دی کہ آئندہ کو ئی کسی کامثلہ نہیں کر یگا۔ اس طرح یہ عہد ِ جہالت کی رسم چو دہ سو سال سے بند تھی۔ اور حضور (ص) ہر جنگ سے پہلے مجا ہدین کو ہدا یت فرما تے کہ دیکھو مثلہ نہ کرنا ؟ مگر ہم نے سنت زندہ کر نے کے بجا ئے یہ لعنت زندہ کر دی کہ اپنے سیاسی دشمنوں کی پہلے آنکھیں نکالو، شکلیں بگاڑو پھر دفن کر نے کے بجا ئے بوری میں بند کر کے سڑکوں پر پھینک دو؟ چونکہ بہت دنوں سے کراچی میں یہ سیاست چل رہی ہے کہ جو تم کروگے وہ ہم کریں گے۔ اب آگے کیا ہو گا یہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ بس ایسا لگتا ہے کہ ہم نے من حیثیت القوم اللہ کی نا فر مانی کا فیصلہ کر لیاہے؟
جب کوئی معاشرہ اس حد تک بگڑ جا ئے تو اللہ تعالیٰ کی سنت رہی ہے کہ وہ اس قوم کو تباہ کر دیتا ہے۔ قر آن کہتا ہے کہ ہمیں جس قوم کو تباہ کرنا ہو تا ہے سب سے پہلے ان کے سرداروں میں بگاڑ پیدا ہو تا ہے اور پھر ان کی دیکھا دیکھی امتی بھی وہی روش اختیار کر لیتے ہیں اور وہ منزل آجاتی ہے جہاں برا ئی کا کوئی احساس نہیں رہتا۔ ہر نا خوب ہو جا تا ہے۔ ہم اب وہاں پہونچ چکے ہیں اللہ ہر روز وارنگ دےر ہا ؟کبھی سیلاب بھیجتا ہے، کبھی زلزلہ بھیجتا ہے ۔ مگر امت ہے کہ ٹس سے مس نہیں ہو رہی؟ بلکہ گِدھوں کی طرح انتظار میں رہتی ہے کب کو ئی آسمانی افتاد آئے اور وہ ان کے نام پر پیسہ بنا ئے ؟ پہلے لوگ برے کام کر کے شر ما یا کرتے تھے، مگر اب اپنا حق سمجھ کرکر تے ہیں اور برسرِعام کرتے ہیں ۔ چاروں طرف لوٹ مار مچی ہو ئی ہے۔ ملک میں قبضہ گروپ بنے ہو ئے ہیں ۔ وہ کمزوروں کی زمینوں پر، مکانوں پر قبضہ کر لیتے ہیں اور اگر مظلوم مز احمت کریں، تو انہیں گولی ما ر دیتے ہیں پھر اپنی اس کا میابی پر جشن منا تے ہیں ۔
پولس ان کے ما تحت ہے جو صبح و شام ان کو سلام کرتی ہے؟ لہذا فر یاد کہاں درج کرا ئیں ، انصا ف کہا ں سے پا ئیں ؟ عدالتیں اس حد تک بے بس ہیں کہ مذاق بنی ہو ئی ہیں ۔ اس کا حل صرف اور صرف توبہ تھااور یہ مہینہ مغفرت کا تھا۔لیکن ہم نے کبھی بھی وقت پر فا ئدہ نہیں اٹھا یا! یہ مہینہ بھی گزر گیا اس میں بجا ئے توبہ کر نے کے برا ئیاں اور بڑھیں ۔ سرکشی اور بڑھی ۔ مگر ہم اسی غلط فہمی میں ہیں کہ ہم مسلمان ہیں حضور (ص) کی امت ہیں ؟مگر مسلمان تو ذخیرہ اندوز ہوتا ، رشوت خور نہیں ہو تا بلیک ما رکیٹر نہیں ہوتا، قاتل نہیں ہو تا، جھوٹا نہیں ہو تا، ظالم نہیں ہو تا، بد عہد نہیں ہو تا، زانی اور شرابی اور جواری نہیں ہوتا۔ وہ آپس میں ایک دوسرے کے لیئےسیسہ پلا ئی دیوار ہو تا ہے جس کی اک دوسرے سے تقویت پکڑتی ہے، مگر صرف اچھے کاموں میں؟برے کاموں میں نہیں کیو نکہ مسلمان صرف مظلوموں کی مدد کرتا ہے ظالموں کی نہیں۔
اللہ نے قر آن میں فرما یاا ہے کہ“ تم آپس میں دشمن تھے ہم نے تمہا رے دلوں میں محبت ڈالدی “ صرف ہمیں یہ جتانے کے لیئے کہ “دیکھو میری رسی کو مت چھوڑنا ورنہ وہیں پہونچ جا ؤ گے جہاں سے چلے تھے کہ ایک دو سرے کہ پھر پہلے کی طرح دشمن ہو جا ؤگے ۔ مگر ہم نے الٹی چھلانگ لگا دی اب ہم ہر حکم کا الٹ کر تے ہیں کیوں؟ کیا ،ہم زما نہ جا ہلیہ میں واپس تو نہیں پہونچ گئے ۔جس سے کہ حضرت عمر (رض) اتنا ڈرتے تھے کہ وہ ایران فتح کر نے کو تیار نہیں تھے۔ کہ ان سے ملنے جلنے سے وہی بر ی عادات مسلمانوں میں بھی آجا ئیں گی جو ان میں ہیں۔
یہ وہ تھے، جن کا تقویٰ مشہور تھا، جن کا انصاف مشہور تھا، جنہوں نے دنیا کو بہت کچھ دیا، ایک فلا حی ریاست کا تصور بھی دیا ۔ یہ جو آج ترقی یا فتہ ملکوں میں آپ بچہ الا ؤنس، بیوہ الا ونس ضعیفی الا ؤنس وغیرہ دیکھ رہے ہیں، یہ سب انہیں کی دین ہے ۔مگر ان سے ایک مرتبہ ذراسی چوک ہو گئی کہ انہیں حضور (ص)کی ایک سنت وقت پر یا د نہیں آئی کہ خشک سالی کو حضور (ص) کس طرح دور کیا کر تے تھے ؟ عالم یہ ہو گیا کہ زمین با رش نہ ہو نے کی وجہ سے پھٹ گئی ۔ زمین اور آسمان آگ اگلنے لگے۔انہوں (رض) نے شہد اور گھی جو کہ ان کی مر غوب غذا تھی استعمال کرنا بند کر دی کیونکہ یہ اب امت کی پہونچ سے با ہر تھا۔ اللہ سے گڑگڑا کر دعامانگی ۔
رحمت عالم (ص) کی رحمت جو ش میں آئی ایک بزرگ صحابی (رض) کو بشا رت ہو ئی کہ جا ؤ اور عمر (رض) کو میرا پیغام پہو نچا دوکہ میری سنت پر عمل کر ے ۔وہ صبح اٹھ کر سیدھے حضرت عمر کے در وازے پر پہونچے اور جب ان (رض) کے غلام نے اس بیوقت آنے کی وجہ پو چھی ؟تو انہوں (رض) نےفر ما یا کہ ان سے کہو کہ حضور (ص) کا ایلچی ان (ص) ان کا پیغام پہونچانے آیا ہے ۔ اطلاع ملتے ہی وہ ننگے پا ؤں با ہر نکل آئے ،تو انہوں (رض) یہ پیغام پہو نچا یا کہ عمر (رض) سےکہو کہ وہ میری سنت کیوں بھول گیا جس پر میں ایسے موا قعوں پر عمل کیا کر تا تھا ؟ فو را ً انہیں یاد آگیا انہوں نے نماز استسقا کا اعلان کرایا اور نماز کے بعد دعا مانگی کہ اے اللہ ! جب ہم میں تیرے نبی (ص) موجود تھے ،تو ہم ان کے واسطے سے دعاکیا کرتے تھے، اب ہم میں ان (ص) کے چچا حضرت عباس (رض) موجود ہیں ،تجھے ان (رض)کا واسطہ ،ہم پر رحم کھا اور با رش بر سا دے؟ ابھی دعا کے لیئے اٹھے ہوئے ہاتھ منہ تک نہیں گئے تھےکہ دعا ابھی ختم نہیں ہو ئی تھی کے ابن ِ نے کثیر (رح) لکھا ہے کہ گھٹا ئیںآئیں اور مو سلا دھار بارش شروع ہو گئی اور لوگوں کو گھر لینا مشکل ہو گیا۔
وہ تو صرف بھول گئے تھے وہ جنکا تقویٰ مشہور تھا ایمانداری مشہورتھی ،عدل مشہور تھا سا دگی مشہور تھی ۔ ان کی صرف بھول پر اتنی بڑی سر زنش ہو ئی تو ہم تو ہر برا ئی جان کر رہے ہیں ہما ری کیا سزا ہو نا چاہیئے وہ آپ خود ہی لکھ لیں، میں اور کچھ نہی لکھونگا۔ ابھی بھی رمضان باقی ہے اور وہ معاف کرنے کو ہر وقت تیار رہتا ہے ۔ یہ بھی حضرت عمر (رض) کا ہی قول ہے کہ “ اللہ سے کسی کو کوئی رشتہ داری نہیں ہے سوائے اطا عت کہ “ یہ بات انہوں (رض) نے حضور (ص) کے ماموں حضرت سعد بن ابی وقاص سے اس وقت فر ما ئی تھی جب ان کو گورنر بنا کر بھیج رہے تھے کہ دیکھو نبی (ص) کی رشتہ داری تمہیں مغرور نہ کر دے ورنہ ہلاک ہو جا ؤگے۔ ان کے لیئے آسانیاں پیدا کر نا مشکل نہیں اور اس کو سننا کہ تمہیں عوام کیا کہتے ہیں ۔ یہ جن (رض) کو ڈرایا جا رہا تھا وہ ماموں بھی تھے اور حضور (ص) کے ہم عمر ہونے کی وجہ سے دوست بھی ۔ جبکہ ہم تو صرف نام و نہاد امتی ہیں ۔
جبکہ قر آن کہتا ہے کہ عمل کے بغیر ایمان کچھ نہیں اور ایمان کے بغیر عمل کچھ نہیں اور یہ ہی فرمان نبوی (ص)بھی ہے اور یہ ہی باب علم حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا فرمان ہے۔ آخر تم کس کے ماننے والے ہو؟ اور کس بل بوتے پر خود کو بغیر عمل کے امتی کہہ رہے ہو؟ تم یہ سند کہاں سے لا ئے ہو کہ ہم کچھ بھی کریں مگر امتی ضرور رہیں گے اور بخشے جا ئیں گے ؟ خواب ِ غفلت سے جا گو پہلے بھی ساری قومیں اسی غلط فہمی میں مبتلا ہوکر تباہ ہو ئیں ۔ کیونکہ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے یہ بھی فر ما دیا ہے کہ میں اپنی سنت (طریقہ کار ) تبدیل نہیں کرتا۔
بشکریہ عالمی اخبار

پاکستانی
08-21-2011, 04:21 PM
ہممم بہت جاندار آرٹیکل ہے.

اور سچ ہے کہ


عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی
یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے

اور

وہی ديرينہ بيماری ، وہی نا محکمی دل کی
علاج اس کا وہی آب نشاط انگيز ہے ساقی
نہيں ہے نااميد اقبال اپنی کشت ويراں سے
ذرا نم ہو تو يہ مٹی بہت زرخيز ہے ساقی

اور

دل سوز سے خالی ہے ، نگہ پاک نہيں ہے
پھر اس ميں عجب کيا کہ تو بے باک نہيں ہے
ہے ذوق تجلی بھی اسی خاک ميں پنہاں
غافل! تو نرا صاحب ادراک نہيں ہے

بےباک
08-22-2011, 10:39 PM
بہت ہی خوب جزاک اللہ
سیما صاحبہ کاش ہمارے عمل بھی ایسے ہوتے ،