PDA

View Full Version : روزوں کے ستر 70مسائل



شہزادی
08-21-2011, 09:03 PM
مقدمة

الحمد لله نحمده ونستعينه ونستغفره ونعوذ بالله من شرور أنفسنا وسيئات أعمالنا ، من يهده الله فلا مضلّ له ، ومن يضلل فلا هادي له ، وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لاشريك له وأشهد أن محمدا عبده ورسوله

أما بعد :

اللہ تعالی کی تعریف وشکر ہے ، ہم اس کی حمد بیان کرتے ہیں ، اور اس سے ہی مدد طلب کرتے ہیں ، اوراسی سے ہی بخشش طلب کرتے ، اوراپنے نفسوں کی شر اوربرے اعمال سے اللہ تعالی کی پناہ میں آتے ہیں ۔

جسے اللہ تعالی ھدایت سے نوازے اسے کوئي گمراہ نہیں کرسکتا ، اورجسے وہ گمراہ کردے اسے کوئي راہ نہیں دکھا سکتا ، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالی کے علاوہ کوئي معبود برحق نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئي شریک نہيں ، اورمیں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالی کے بندے اوراس کے رسول ہیں ۔

امابعد :

بلاشبہ اللہ تعالی نے اپنے بندوں پر فضل کرم اوراحسان کرتے ہوئے خیروبھلائي کا موسم سایہ فگن کیا ہے ، یہ ایسے ایام ہیں جن میں حسنات ونیکیاں زيادہ ہوتی اور گناہوں کو مٹایا جاتا اوردرجات میں بلندی ہوتی ہے ۔

اس موسم میں مومنوں کے نفوس اپنے مولا و آقا کی طرف متوجہ ہوتے ہیں ، یقینا وہ شخص کامیاب وکامران ہوا جس نے اپنے نفس کا تزکیہ کرلیا ، اور نفس کی پیروی میں پڑنے والا شخص خائب وخاسر ہوا ۔

اللہ سبحانہ وتعالی نے مخلوق کو اپنی عبادت کےلیے پیدا فرمایا ہے جس کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالی نے فرمایا :

{ میں نے تو جن وانس کو اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے } ۔

اورعبادات میں سب سے عظیم عبادت اللہ تعالی کے فرض کردہ روزے ہیں جس کے بارہ میں اللہ تعالی نے اس طرح فرمایا : { تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں جس طرح کہ تم سے پہلے لوگوں پرفرض کیے گئے تھے تا کہ تم تقوی اختیار کرو } ۔

اللہ تعالی نے مسلمانوں کوروزہ رکھنے کی ترغیب دیتے ہوئے فرمایا :

{ اور تمہارے لیے بہتر کام روزے رکھنا ہی ہے اگر تم باعلم ہو } ۔

اوراللہ تعالی نے اس فرضيت پر شکر ادا کرنے کی راہنمائي کرتے ہوئے فرمایا :

{ اوراللہ تعالی کی دی ہوئي ہدایت پر اس کی بڑائياں بیان کرو اوراس کا شکرادا کرو } ۔

اوران روزہ کو ان کے لیے محبوب اورپسندیدہ بنایا اوران پر آسانی اورتخفیف کی تا کہ لوگوں کو اپنی عادات اورمالوف کردہ اشیاء ترک کرنا بوجھ محسوس نہ ہو اللہ تعالی نے فرمایا :

{ گنتی کے چند دن ہیں } ۔

اوراللہ تعالی نے اپنے بندوں پر تنگی اورحرج کاخیال رکھتے ہوئے رحمدلی کرتے ہوئے فرمایا :

{ تم میں سے جوبھی مریض ہویا مسافر ہو تو وہ دوسرے دنوں میں گنتی مکمل کرے }

لھذا اس میں کوئي تعجب والی بات نہیں کہ اس ماہ مبارک میں مومنوں کے دل اللہ رب رحیم کی طرف متوجہ ہوں اوراس کے عذاب سے خوفزدہ ہونے کے ساتھ ساتھ اللہ تعالی سے اجروثواب اور فلاح وکامیابی کی امید رکھیں ۔

جب اس عظیم عبادت کی بہت ہی قدروقیمت ہے لھذا اس ماہ مبارک کے روزوں کے احکام جاننے ضروری ہیں ، تاکہ مسلمان کو علم ہوسکے کہ اس پر کونسا عمل واجب اورضروری ہے اورحرام کیا ہے تا کہ اس سے اجتناب کیا جاسکے ، اورکونسی چيز مباح ہے جس کے رکنے سے وہ اپنے آپ پر تنگی نہ کرتا پھرے ۔

یہ مختصر سا کتابچہ روزوں کے احکام اوراس کی سنن وآداب کا خلاصہ ہے ، میں نے اس میں اختصارکا خیال رکھا ہے ، امید ہے کہ اللہ تعالی میرے اور مسلمان بھائيوں کے لیے اسے مفید بنائے ، والحمد للہ رب العالمین ۔

روزے کی تعریف :

1 - الصوم لغت عرب میں الامساک یعنی رکنے کو کہتے ہیں ۔

شرعی اصطلاح میں طلوع فجر سے لیکر غروب شمس تک مفطرات یعنی روزہ توڑنے والی اشیاء سے نیت کے ساتھ رکنے کو روزہ کہا جاتا ہے ۔

روزے کے احکام :



2 - امت کا اجماع ہے کہ ماہ رمضان المبارک کے روزے رکھنا فرض ہیں ،اس کی دلیل مندرجہ ذيل فرمان باری تعالی ہے :

{ اے ایمان والو تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر بھی فرض کیے گئے تھے تا کہ تم تقوی اختیار کرو } ۔

روزے کی فرضيت پر سنت نبویہ میں بھی دلائل پائے جاتےہيں جن میں سے ایک دلیل مندرجہ ذیل فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے :

( اسلام کی بنیاد پانچ چيزوں پر ہے ۔۔۔۔ اور رمضان المبارک کے روزے رکھنا ) صحیح بخاری دیکھیں فتح الباری ( 1 / 49 ) ۔

جس شخص نے بھی بغیر کسی ‏عذر کے رمضان کا روزہ نہ رکھا اس نے گناہ کبیرہ کا ارتکاب کیا ، اس لیے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی خواب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا :

( جب ہم پہاڑ کے پر پہنچے تو وہاں شدید قسم کی چیخ وپکار تھی میں نے کہا یہ آوازيں کیسی ہیں ؟ وہ کہنے لگے : یہ جہنمیوں کی آہ بکا ہے ، پھر مجھے اور آگے لے جایا گيا تومیں نے دیکھا کہ کچھ لوگوں کو کونچوں کے بل لٹکایا ہوا تھاان کی باچھیں کٹی ہوئي تھیں اوران سے خون بہہ رہا تھا ، نبی صلی اللہ علیہ نے فرمایا : میں نے فرشتوں سے پوچھا یہ کون ہیں ؟

وہ کہنے لگے : یہ وہ لوگ ہیں جو افطاری سے قبل ہی روزہ کھول دیتے تھے ) صحیح الترغیب ( 1/ 420 ) ۔

امام ذھبی رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں :

مومنوں کے یہ بات طے شدہ ہے کہ رمضان ا لمبارک میں بغیر کسی عذر کے روزہ ترک کرنے والا شخص زانی اورشرابی سے بھی زيادہ برا اورشریر ہے ، بلکہ اس کے اسلام میں ہی شک کرتے ہيں ، اوراسے زندیق اورگمراہ تصور کرتے ہیں ۔

شیخ الاسلام رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں :

اگر کوئي شخص رمضان المبارک میں روزہ نہ رکھنے کی حرمت کا علم ہوتے ہوئے بھی روزہ افطار کرنا حلال سمجھے تو وہ واجب القتل ہے ، اوراگر فاسق ہو تو رمضان میں روزہ نہ رکھنے کی بنا پر اسے سزا دی جائے گی ۔

دیکھیں مجموع الفتاوی ( 25 / 265 ) ۔



روزے کی فضیلت



3 - روزے کی بہت عظيم فضیلت ہے جس کے بیان میں بہت سی احادیث وارد ہيں ذیل میں ہم چند ایک صحیح احادیث نقل کرتے ہيں :

روزہ ایسا عمل ہے جو اللہ تعالی نے اپنے ساتھ خاص کیا ہے اوریہ وہ روزہ دار کو خود ہی بلاحساب اجروثواب سے نوازے گا جیسا کہ حدیث میں ہے :

( سوائے روزے کے اس لیے کہ روزہ میرے لیے ہے اورمیں ہی اس کا اجر دونگا ) صحح بخاری حدیث نمبر ( 1904 ) ، صحیح الترغیب ( 1 / 407 ) ۔

اوریہ کہ روزے کے پلے کا کوئي عمل نہيں ، دیکھیں سنن نسائي ( 3 / 345 ) اورصحیح الترغیب ( 1 / 413 ) ۔

یہ بھی فضیلت ہے کہ روزہ دار کی دعا رد نہيں ہوتی ۔ دیکھيں سنن بیھقی ( 3 / 345 ) اورسلسلۃ احادیث الصحیحۃ ( 1797 ) ۔

اوریہ کہ روزہ دار کے لیے دو خوشیاں ہیں ، جب وہ افطاری کرتا ہے تواپنی افطاری سے خوش ہوتا ہے ، اورجب اپنے رب سے ملاقات کرے گا تو اپنے روزے کی وجہ سے خوش ہوگا ۔ دیکھیں صحیح مسلم ( 2 / 807 ) ۔

اور یہ بھی فضیلت ہے کہ روزہ قیامت کے دن روزہ دار کے لیے سفارش کرتے ہوئے کہے گا : اے رب میں نے اسے دن کو کھانے پینے اورشھوات سے روک دیا تھا اب اس کے بارہ میں میرے سفارش قبول فرما ۔

دیکھیں مسند احمد ( 2 / 174 ) ھیثمی رحمہ اللہ نے اس کی سند کو حسن کہا ہے دیکھیں المجمع ( 3 / 181 ) صحیح الترغیب ( 1 / 411 ) ۔

اللہ تعالی کے ہاں روزہ دار کے مونہہ کی بو کستوری سے بھی زيادہ اچھی ہے ۔ دیکھیں صحیح مسلم ( 2 / 807 ) ۔

اوریہ کہ : جہنم کی آگ سے روزہ بچاؤ اورڈھال ہے ۔

دیکھیں مسنداحمد ( 2 / 402 ) صحیح الترغیب ( 1 / 411 ) صحیح الجامع ( 3880 ) ۔

جس نے بھی فی سبیل اللہ ایک دن کا روزہ رکھا اللہ تعالی اس دن کے بدلے میں اسے جہنم سے ستر برس دور کردے گا ۔

دیکھیں صحیح مسلم ( 2 / 808 ) ۔

اوریہ بھی فضیلت ہے کہ : جس نے بھی ایک اللہ تعالی کی رضا کے لیے ایک دن کا روزہ رکھا اس کی وجہ وہ جنت میں داخل ہوگا ۔ مسند احمد ( 5 / 391 ) صحیح الترغیب ( 1 / 412 ) ۔

اورجنت میں الریان نامی ایک دروازہ ہے جس میں سے صرف روزہ دار ہی داخل ہوں ان کے علاوہ کوئي اورداخل نہيں ہوسکتا جب روزہ دار داخل ہوجائيں گے تو یہ دروازہ بند کردیا جائے گا ۔

صحیح بخاری حدیث نمبر ( 1797 ) ۔

اور رمضان المبارک کے روزے رکن اسلام ہیں اورماہ رمضان میں ہی قرآن مجید نازل کیاگيا ، اوراسی ماہ مبارک میں لیلۃ القدر ہے جو ایک ہزار راتوں سے بھی زيادہ افضل ہے ۔

جب رمضان المبارک شروع ہوتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اورجہنم کے دروازے بند کردیے جاتے ہیں اورشیطانوں کو جکڑ دیا جاتا ہے ۔ صحیح بخاری حدیث نمبر ( 3277 ) ۔

رمضان المبارک کے روزے دس ماہ کے برابر ہیں ۔ دیکھیں مسند احمد ( 5 / 280 ) صحیح الترغیب ( 1 / 421 ) ۔

جس نے بھی رمضان المبارک میں ایمان اوراجروثواب کی نیت سے روزے رکھے اس کے پچھلے تمام گناہ معاف کردیے جاتے ہیں ۔

دیکھیں صحیح بخاری حدیث نمبر ( 37 ) ۔

ہر افطار کے وقت اللہ تعالی جہنم سے آزادی دیتا ہے ۔ دیکھیں مسند احمد ( 5 / 256 ) صحیح الترغیب ( 1 / 419 ) ۔



روزے کے فوائد



4 - روزے کی بہت ساری حکمتیں اورفوائد ہیں جن کا دارومدار تقوی ہی ہے جس کا اللہ تعالی اپنے فرمان " تا کہ تم تقوی اختیار کرو " میں بیان کیا ہے ۔

اس کی تفصیل یہ ہے کہ : جب اللہ تعالی کی رضامندی چاہتے ہوئے اوراس کے ‏عذاب کے خوف سے مسلمان حلال چيزوں سے بھی روزے کی حالت میں رک جاتا ہے تو وہ بالاولی حرام اشیاء سے اجتناب کرے گا ۔

اوریہ کہ جب انسان کا پیٹ خالی ہواوراسے بھوک ہو تو اس کے حواس سے بھوک جاتی رہتی ہے ، اورجب اس کا پیٹ بھرا ہوا ہو تواس کی زبان ، آنکھیں ، ہاتھ اورشرمگاہ بھوکی ہوجاتی ہے ، لھذا روزہ شیطان کو ذلیل کرتا اورشھوت کو توڑتا اور اعضاء کی حفاظت کرتا ہے ۔

جب روزہ دار بھوک اورپیاس کی شدت پاتا ہے تو اسے فقراء اورمساکین کے حالات کا احساس ہوتا ہے جس کی بنا پر وہ ان پر رحم کرتے ہوئے ان کی بھوک مٹانے کی کوشش کرتا ہے ، کیونکہ کسی چيز کی خبر اسے دیکھنے کی طرح نہيں ہوتی ، اورنہ ہی سوار پیدل چلنے کے بغیر پیدل چلنے والی کی مشقت کو جان سکتا ہے ۔

روزہ خواہشات سے اجتناب اورگناہوں سے دوررہنے کے ارادہ کو زيادہ کرتا ہے ، کیونکہ اس میں طبیعت کودبانا اورنفس کو مالوف اشیاء سے دور کرنا ہوتا ہے ، اورروزہ میں نظم کا عادی بنایا جاتا ہے اوروعدوں کو بروقت پورا کرنے کی مشق ہوتی ہے جس کی بنا پر بدنظمی کرنے والوں کا علاج ہے ، لیکن یہ سب کچھ اس وقت ہے جب عقل وبصیرت سے کام لیا جائے ۔

اسی طرح روزے میں مسلمانوں کی وحدت کا اعلان ہے لھذا سب مسلمان ایک ہی ماہ میں اکٹھے روزہ رکھتے اوراکٹھے ہی افطار کرتے ہیں ۔

روزوں میں مبلغین اورواعظین حضرات کےلیے فرصت اورسنہری موقع ہوتا ہے کہ وہ لوگوں تک دعوت دین پہنچاسکیں ، دیکھیں اس ماہ مبارک میں لوگوں کے دل مسجدوں کی طرف کھنچے چلے آرہے ہیں بلکہ بعض تو وہ بھی ہوتے ہیں جوپہلی بار مسجد میں داخل ہوئے ہيں ۔

اورکچھ وہ بھی ہیں جوبہت مدت بعد مسجد کا رخ کررہے ہیں ، اوروہ اس وقت نادر رقت کی حالت میں ہیں جوکبھی کبھی ہوتی ہے ، اس لیے اس فرصت کو موقع غنیمت جانتے ہوئے درس اوروعظ کے ذریعہ لوگوں کو دعوت دینی چاہیے ، اورایک دوسرے سے نیکی وبھلائي میں تعاون کرنا چاہیے ۔

واعظ اورداعی کوبالکل دوسروں میں ہی مشغول نہیں رہنا چاہیے کہ وہ اپنے آپ کو بھول ہی جائے اوراس شمع کی طرح ہو جودوسروں کوتو روشنی دیتی ہے اوراپنا آپ جلاتی رہتی یا پھر ایسے ہو کہ چراغ تلے اندھیرا ؟ ۔



روزوں کے آداب و سنن



5 - روزے کے آداب اورسنن ۔

ان میں کچھ تو واجب اورکچھ مستحب ہیں جن کو ذیل میں ذکر کیا جاتا ہے :

سحری کھانے کی حرص اوراس میں تاخیر کرنا ۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :

( سحری کیا کرو کیونکہ سحری کھانے میں برکت ہے ) صحیح بخاری ( 4 / 139 ) ۔

یہ کھانا بابرکت ہے ، اورسحری کھانے میں اہل کتاب کی مخالفت بھی پائي جاتی ہے ، اورپھر مومن کی سب سے بہترین سحری کھجوریں ہیں ۔ دیکھیں سنن ابوداود حدیث نمبر ( 2345 ) صحیح الترغیب ( 1 / 448 ) ۔

افطاری میں جلدی کرنی چاہیے اس لیے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :

( جب تک لوگ افطاری جلدی کرتے رہیں گے ان میں خیروبھلائي موجود رہے گی ) صحیح بخاری ( 4 / 198 ) ۔

اسے حدیث میں بیان کی گئي اشیاء سے روزہ افطار کرنا چاہیے ، انس رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ :

( نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے قبل چند رطب ( تازہ کھجور) سے افطاری کرتے اگر رطب نہ ہوتیں تو چند ایک پکی ہوئي کھجوریں کھا لیتے ، اوراگر یہ بھی نہ ہوتیں تو ایک آدھ پانی کا گھونٹ پی کر افطار کرتے تھے ) سنن ترمذی ( 3 / 79 ) امام ترمذی رحمہ اللہ تعالی نے اس حدیث کو حسن غریب کہا اورعلامہ البانی رحمہ اللہ تعالی نے ارواء الغلیل ( 922 ) میں اسے صحیح قرار دیا ہے ۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم افطاری کے بعد مندرجہ ذيل دعا پڑھا کرتے تھے :

ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب افطاری کرتے تویہ دعا پڑھا کرتے تھے :

( ذهب الظمأ ، وابتلت العروق ، وثبت الأجر إن شاء الله ) پیاس جاتی رہی اوررگیں تر ہوگئيں اورانشاء اللہ اجر ثابت ہوگيا ۔

سنن ابوداود ( 2 / 765 ) دار قطنی نے اسے حسن قرار دیا ہے دیکھیں سنن دار قطنی ( 2 / 185 ) ۔

بے ہودہ بات چيت اوراعمال سے اجتناب کرنا ، اس لیے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :

( تم میں سے جب کوئي روزہ سے ہو تووہ گناہ کےکام نہ کرے ) رفث معصیت وگناہ کوکہاجاتا ہے ۔

اورایک حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :

( جوکوئي بے ہودہ باتیں اوران پر عمل کرنا نہیں چھوڑتا تو اللہ تعالی کواس کے بھوکے اورپیاسے رہنے کی کوئي ضرورت نہیں ) صحیح بخاری حدیث نمبر ( 1903 ) ۔

لھذا روزہ دار کے لیے ضروری ہے کہ وہ ہرحرام کردہ چيز سے اجتناب کرے مثلا چغلی وغیبت اورفحش گوئي وجھوٹ وغیرہ سے پرہیز کرے کیونکہ ان پر عمل پیرا ہونے سے بعض اوقات اس کےروزے کا اجر ہی ضا‏ئع ہوجاتا ہے ۔

ایک حدیث میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :

( بہت سے روزہ دارایسے ہیں جنہیں بھوک کے علاوہ کچھ بھی حاصل نہیں ہوتا ) سنن ابن ماجہ ( 1 / 539 ) صحیح الترغیب ( 1 / 453 ) ۔

نیکیوں کوختم کرنے اوربرائيوں کو کھینچنے والی اشیاء میں فلمیں اورڈراموں اورکھیل کود میں وقت اوراسی طرح فارغ بیٹھے رہنے اوربرے اخلاق اوروقت ضائع کرنے والوں کے ساتھ راستوں اورگلی محلہ میں آوارہ گھومنا ، اورگاڑیوں سے کھیلنا ، راستوں اور فٹ پاتھوں پر بھیڑ کرنا ، یہ سب اشیاء نیکیوں کو ختم کرتی اوربرائي پیدا کرتی ہيں ۔

حتی کہ یہ ماہ مبارک جو تھجد اورقیام اللیل کا مہینہ تھا اکثر لوگ تو سارا دن سو کرگزار دیتے ہیں تا کہ بھوک وپیاس کا احساس نہ ہوسکے ، جس کی بنا پر باجماعت نمازيں ضائع ہوتی ہیں اوربعض اوقات تو نماز کے وقت میں بھی ادائيگي نہیں ہوتی ، پھر رات کو کھیل کود اورشھوات میں پڑے رہتےہیں ، اوربعض لوگ تورمضان کے آنے پر پریشان ہوجاتے ہیں کہ ان کی لذتیں جاتی رہیں گی اورکچھ لوگ رمضان المبارک میں کفار ممالک میں چلے جاتے ہيں تا کہ تا کہ وہاں پر وہ کچھ کرسکیں جواپنے ملک میں کرنا مشکل ہے ! ۔

حتی کہ اب تو مساجد بھی منکرات سے خالی نہیں رہتیں بلکہ عورتیں نماز پڑھنے کے بہانے سے عطروخوشبو اورطرح طرح کی پرفیومز اسعتمال کرلے بے پردہ ہوکرنکلتی ہیں جس سے فتنہ پیدا ہوتا ہے ، حتی کہ بیت اللہ بھی ان آفات سے خالی نظر نہیں آتا ۔

اورکچھ لوگوں نے تو رمضان المبارک مانگنے اورسوال کرنے کا سیزن بنا رکھا ہے حالانکہ وہ محتاج نہيں اور اس سے سوال کے لیے دست دراز کرنا صحیح نہيں ، اوربعض لوگ تو اس ماہ مبارک میں آتشبازي اورپٹاخے وغیرہ کے کھیل میں مشغول ہوتے ہيں ، اورکچھ منچلے تو بازاروں اورشاپنگ سینٹروں میں گھومتے اورتالیاں و سیٹیاں بجاتےنظر آتے ہیں ۔

اورکچھ عورتیں توسلائی اورخوبصورتی کےپیچھے پڑي رہتی ہیں ، اوررمضان کے آخری عشرہ میں نئے نئے ماڈل کے ملبوسات بازارمیں آتے ہیں جو لوگوں کو اجروثواب اورنیکیوں سے محروم کرنے کا با‏عث بنتے ہیں ۔

٭ روزہ دار کوشور شرابا نہیں کرنا چاہیے کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :

( اگر روزہ دار سے کوئي شخص لڑائي جھگڑا کرے یا اسے گالی گلوچ ہو تو اسے یہ کہنا چاہیے میرا روزہ ہے ) صحیح بخاری حدیث نمبر ( 1894 ) ۔

اس حدیث میں ایک نصیحت تو خود روزہ دارکوہے اوردوسری اس سے لڑنے والے شخص کو کی گئي ہے ، لیکن اس دور میں اگربہت سے روزہ داروں کے اخلاق کو دیکھا جائے تو اس اخلاق فاضلہ کے خلاف ہی ان کے اخلاق ہوتے ہیں لھذا روزہ دار کو چاہیے کہ وہ صبر وتحمل کا مظاہرہ کرے ۔

اور اسی طرح اسے وقار اورسکینت اختیار کرنی چاہیے لیکن اس کے برعکس آپ دیکھیں گے کہ بہت سے ڈرائیور مغرب کی اذان کے وقت جنونی قسم کی ڈرائيونگ کرتے ہیں ۔

٭ کھانا پینے میں کمی کرنی چاہیے ، اس لیے کہ حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :

( ابن آدم کا بھرا ہوا پیٹ سب سے برا برتن ہے ۔۔۔۔ ) سنن ترمذي حدیث نمبر ( 2380 ) ۔

عقل مند توصرف زندہ رہنے کے لیے کھاتا ہے نہ کہ وہ کھانے کے لیے زندہ رہتا ہے ، رمضان المبارک میں انواع اقسام کےکھانے تیار کیے جاتے ہیں ، اورکھانے پکانے میں ایک دوسرے کا مقابلہ ہوتا ہے کہ کون اچھا پکانےوالا ہے ، حتی اس ماہ مبارک میں گھروالیوں اورملازماؤں کا اکثر وقت تو کھانا پکانے میں صرف ہوجاتا ہے ، جس کی بنا پر وہ عبادت سے محروم رہتیں ہیں ۔

اوراس ماہ مبارک میں سب سے زيادہ خرچہ کھانے پکانے پر ہی کیا جاتا ہے حالانکہ عام دنوں میں اس کا عشر عشیر بھی نہیں ہوتا ، بلکہ یہ مہینہ تو معدہ کے امراض اورموٹاپن پیدا ہونا کا مہینہ بن چکا ہے ، وہ لالچی اورحریص کی طرح کھاتے اورپیاسے اونٹ کی طرح پیتے ہیں ، اورجب نماز کی باری آئے تو سستی اورکاہلی سے نماز میں کھڑے ہوتے ہیں ، اورکچھ تو پہلی دورکعت ادا کرنے کے بعدہی بھاگ جاتے ہیں ۔

٭ روزہ میں علم ومال کی دولت ، اوربدن وعزت وشرف اوراخلاق کی دولت کو سخاوت کرکے لٹایا جاتا ہے ۔

صحیحین میں ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سب لوگوں سے يادہ خیروبھلائی کی جود وسخا کرنے والے تھے ، اوررمضان المبارک میں جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جبریل امین ملتے تو آپ اوربھی زيادہ جود وسخا کرتے جبریل امین ہر رات نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے قرآن مجید کا دور کیا کرتے تھے ، اورنبی صلی اللہ علیہ وسلم تیز آندھی سے بھی زيادہ خیروبھلائي کی جود وسخا کرنے والے تھے ۔

صحیح بخاری حدیث نمبر ( 6 ) ۔

اب ان لوگوں کا کیا ہوگا جنہوں نے جود وسخا کو بخل سے اوراللہ تعالی کی اطاعت میں نشاط کو سستی وکاہلی سے بدل ڈالا ہے ، وہ نہ تو اعمال ہی بہتر اوراچھے اور پختہ کرتے ہیں اور نہ ہی معاملات میں اچھا برتاؤ کرتے ہیں روزہ کووسیلہ بناتے ہیں ۔

روزہ رکھنا اور دوسرے کو کھلانا اگرکسی میں یہ دونوں چیزيں جمع ہوں تویہ جنت میں داخل ہونے کا ایک سبب ہے ، جیسا کہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنے فرمان میں بیان کیا ہے :

( یقینا جنت میں ایسے کمرے ہیں ان کا اندرونی حصہ باہر سے ہی نظرآتا ہے ، اوراندر سے اس کا باہر والاحصہ نظر آتا ہے ، اللہ تعالی نے یہ کمرے کھانا کھلانے ، اوربات چيت میں نرم رویہ اختیاروالے ، روزہ دار، اور رات کوجب لوگو سوئے ہوں تو نماز پڑھنے والے کے لیےتیار کیے ہیں ) مسند احمد ( 5 / 343 ) صحیح ابن خزیمہ حدیث نمبر ( 2137 ) علامہ البانی رحمہ اللہ تعالی نے اسے حسن لغیرہ قرار دیا ہے ۔

اور ایک روایت میں ہے کہ :

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ( جس نے کسی روزہ دارکوافطاری کروائی اسے بھی روزہ دارجیسا اجروثواب حاصل ہوگا ، اورروزہ دارکے اجروثواب میں کچھ کمی نہیں ہوگي ) سنن ترمذی ( 3 / 171 ) صحیح الترغیب ( 1 / 451 ) ۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں :

افطاری کروانے کا مطلب یہ ہے کہ اسے پیٹ بھر کے کھانا کھلایا جائے ۔ دیکھیں الاختیارات الفقھيۃ صفحہ نمبر ( 109 ) ۔

بہت سے سلف صالحین رحمہ اللہ تعالی نےفقراء کو ترجیح دیتے ہوئے اپنی افطاری فقراء ومساکین کو دے دی ، جن میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما ، مالک بن دینا ، احمد بن حنبل رحمہم اللہ شامل ہيں ، بلکہ عبداللہ بن عمررضي اللہ تعالی عنہما تو یتیموں اورمسکینوں کے بغیرافطاری ہی نہيں کرتے تھے ۔

اس ماہ مبارک میں کرنے والے ضروری کام :



٭ نفوس اورماحول کو عبادت کے لیے تیار کرنا ، اورتوبہ و اللہ تعالی کی طرف رجوع کرنے میں جلدی کرنا ، ماہ رمضان کے آنے پر خوشی محسوس کرنا ، روزے کو اچھے اوربہتر انداز اورپختگی سے رکھنا ، ، نماز تروایح میں خشوع وخضوع اختیار کرنا ، دوسرے عشرے میں نماز تراویح سے پیچھے نہ ہٹنا ، لیلۃ القدر کی تلاش اورعبادت کرنا ، ایک بارقرآن مجید پڑھنے کے بعد دوبارہ غوروفکر اورتدبر سے پڑھنا ، رمضان میں عمرہ حج کے برابر ہے ، فضیلت والے ماہ مبارک میں صدقہ وخیرات کرنا بڑے اوردوگنے اجروثواب کا باعث ہے ، رمضان المبارک میں اعتکاف سنت مؤکدہ ہے ۔

٭ رمضان المبارک شروع ہونے کی مبارکباد دینے میں کوئي حرج نہيں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی صحابہ کرام کو رمضان المبارک کے آنے کی خوشخبری دیا کرتے اوراس کا خیال رکھنے پر ابھارا کرتے تھے ۔

ابوھریرہ رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرےت ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

( تم پر رمضان المبارک کا بابرکت مہینہ سايہ فگن ہورہا ہے ، اللہ تعالی نے تم پر اس کے روزے فرض کیے ہیں ، اس مین آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں ، اورجہنم کے دروازے بند کردیے جاتے ہیں ، اوربڑے بڑے سرکش شیطان جکڑ دیے جاتے ہيں ، اس میں ایک رات ایسی ہے جو ہزار راتوں سے افضل ہے ، جوبھی رمضان کی خیر سے محروم کردیا گيا وہ محروم ہی ہے ) ۔

سنن نسائي ( 4 / 129 ) صحیح الترغیب ( 1 / 490 ) ۔

روزے کے بعض احکام



6 - کچھ روزے تو ایسے ہیں جو مسلسل رکھنے واجب ہیں مثلا رمضان المبارک اورکفارہ قتل اورکفارہ ظہار اور رمضان میں دن کےوقت روزے کی حالت میں جماع کے کفارہ میں رکھے جانے والے روزے ۔

اورکچھ روزے ایسے ہیں جس میں تسلسل لازم نہیں ، مثلا رمضان المبارک کی قضاء ، اورجوشخص قسم کا کفارہ میں رکھے جانے والے روزے اورحج میں قربانی نہ پانے والے کے دس روزے ، یہ جمہور کا مسلک ہے ، ( احرام کی حالت میں ممنوعہ عمل کرنے کے فدیہ میں رکھے جانے والے روزے ) راجح مسلک یہی ہے ، اوراسی طرح مطلقا نذر کےروزے جس میں اس نے تسلسل کی نیت نہ کی ہو ۔

7- نفلی روزے فرضی روزوں کی کمی کو پورا کرتے ہیں ، اس کی مثال عاشوراء اوریوم عرفہ ، اورایام بیض یعنی تیرہ چودہ اورپندرہ تاریخ کا روزہ ، پیر اورجمعرات کا روزہ ، اورشوال کے چھ روزے ، اورمحرم اورشعبان میں اکثریت سے روزے رکھنا ۔

8 – صرف اکیلا جمعہ کے دن کا روزہ رکھنا منع ہے جیسا کہ بخاری کی حدیث نمبر ( 1985 ) میں بھی مذکور ہے ، اوراسی طرح فرضی روزے کے علاوہ صرف ہفتہ کے دن کا روزہ رکھنا بھی منع ہے ۔ دیکھیں سنن ترمذی ( 3 / 111 ) ۔

مقصد یہ ہے کہ بغیر کسی سبب کے صرف جمعہ یا ہفتہ کا روزہ رکھا جائے یہ منع ہے ، اوراسی طرح سارا سال ہی روزہ رکھنے بھی منع ہیں ، اورروزمیں وصال بھی منع ہے یعنی دو یا دو سے زيادہ دن افطاری کیے بغیر ایک روزے کو دوسرے سے ملا لیا جائے ۔

عیدالفطر اورعید الاضحی اورایام تشریق یعنی گیارہ ، بارہ ، اورتیرہ ذوالحجہ کو روزہ رکھنا حرام ہے کیونکہ یہ کھانے پینے کے دن ہيں ، لیکن حج تمتع اورقران میں جس کے پاس قربانی نہ ہو وہ ان ایام کے روزے منی میں رکھ سکتا ہے ایسا کرنا اس کے لیے جائز ہے ۔

ماہ رمضان کی ابتداء



9- ماہ رمضان کی ابتداء چاند دیکھنے یا پھر شعبان کے تیس دن پورے ہونے پررمضان المبارک شروع ہوتا ہے ، لھذا جو بھی چاند دیکھے یا کسی ثقہ شخص کی جانب سے چاند دیکھے جانے کی خبر ملے تو اس پر روزہ رکھنا واجب ہے ۔

لیکن فلکی حسابات کی بناپر مہینہ شروع کرنے کا عمل بدعت ہے ، کیونکہ حدیث مین نبی صلی اللہ علیہ وسلم کااسی مسئلہ میں فرمان ہے کہ :

( چاند دیکھ روزہ رکھو اورچاند دیکھ کرہی روزے ختم کرو ) ۔

لھذا جب کسی مسلمان عاقل بالغ اورثقہ شخص کی جانب سے یہ خبر ملے کہ اس نے اپنی آنکھوں سے چاند دیکھا ہے تواس کی خبر پر عمل کرتے ہوئے روزے رکھے جائيں گے ۔



روزے کس پر فرض ہیں ؟



10 - ہرعاقل بالغ مقیم اورقادر اورموانع ( یعنی حیض و نفاس ) سےسالم مسلمان پر روزے رکھنا فرض ہیں ۔

بلوغت تین اشیاء میں سے ایک چيز کے پیدا ہونے پربلوغت ہوجاتی ہے : احتلام وغیرہ کے ذریعہ منی کا انزال ، زیرناف سخت بال اگنا ، عمر پندرہ برس مکمل ہوجانا ، لیکن لڑکی میں حیض کے اضافہ کے ساتھ چارچيزوں میں سے کسی ایک کے آنے پر بلوغت ثابت ہوجاتی ہے ، اس لیے حیض آنے پر لڑکی پر روزے فرض ہوجائيں گے جاہے اسے دس برس کی عمر سے قبل ہی حیض آجائے

11 - سات برس کی عمرکا بچہ اگر روزہ رکھنے کی طاقت رکھتا ہو تواسے بھی روزہ رکھنے کا حکم دیا جائے گا ، بعض اہل علم کا کہنا ہے کہ جب بچہ دس برس کی عمرمیں روزہ نہ رکھے تو اسے نمازترک کرنے کی طرح سزا دی جائے گی ۔ دیکھیں المغنی لابن قدامہ ( 3/ 90 ) ۔

بچہ کوروزے کا اجروثواب حاصل ہوگا اوراس کے والدین کو تربیت اورنیکی وبھلائي سکھانے کا اجرحاصل ہوگا حدیث میں ہے کہ :

ربیع بنت معوذ رضی اللہ تعالی عنہا عاشوراء کے روزے کی فرضیت کے بارہ میں کہتی ہیں :

جب عاشوراء کا روزہ فرض ہوا تو ہمارے بچے روزہ رکھتے تھے ، اورہم ان کے لیے روئی کے کھلونے بنا کررکھتے جب ان میں سے کوئي بھوک کی وجہ سے رونے لگتا تو ہم وہ کھلونا اسے دیتے اورافطاری تک اس کےپاس ہی رہتا ۔

صحیح بخاری حدیث نمبر ( 1960 ) ۔

اوربعض لوگ اپنے بچوں کے ساتھ روزوں کے معاملہ میں سستی سے کام لیتے ہیں ، بلکہ بعض اوقات تو ایسا بھی ہوتا ہے کہ بچہ شوق سے روزہ رکھ لیتا اوروہ اس کی طاقت بھی رکھتا ہے تواس کے والدین اپنے خیال میں اس پرشفقت کرتے ہوئے اسے روزہ توڑنے کا کہتے ہیں ، لیکن انہیں یہ علم نہیں کہ بچوں پر حقیقی شفقت تویہی ہے کہ وہ انہیں روزہ رکھنے کا عادی بنائيں ۔

اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے :

{ اے ایمان والو اپنے آپ اوراپنے گھروالوں کوجہنم کی آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن لوگ اورپتھر ہیں ، اس پر سخت قسم کے فرشتے مقرر ہیں جواللہ تعالی کے حکم کی نافرمانی نہيں کرتے بلکہ انہیں جو حکم دیا جاتا وہ اسے بجا لاتے ہیں } ۔

12 - جب کافر اسلام قبول کرلے یا پھر بچہ بالغ ہوجائے یا مجنون اورپاگل دن کے وقت ہوش قائم کرلے تو اسے باقی سارا دن کچھ بھی نہیں کھانا پینا چاہیے کیونکہ ان پر روزہ واجب ہوچکا ہے ، لیکن انہیں اس سے پہلے گزرے ہوئے روزے قضاء نہیں کرنا پڑیں گے ، اس لیے کہ اس وقت ان پرروزے فرض نہيں تھے ۔

13 - مجنون اورپاگل مرفوع عن القلم ہے ، لیکن اگر اسے بعض اوقات پاگل پن کا دورہ پڑتا ہو اوربعض اوقات وہ ہوش وہواس میں رہتا ہو توہوش کےوقت اس پر روزہ رکھنا واجب ہے لیکن جنون کی حالت میں نہيں ۔

اوراگر دن کے دوران اسے پر جنون کا دورہ پڑا تو اس کا روزہ باطل نہیں ہوگا ، جس طرح کہ اگر کوئي شخص بیماری یا کسی اورسبب سے بے ہوش ہوجائے کیونکہ اس نے روزے کی نیت تو عقل مندی کے وقت کی تھی ۔

دیکھیں مجالس شھر رمضان ابن عثیمین رحمہ اللہ تعالی صفحہ نمبر ( 28 ) ۔

14 - جوشخص رمضان کے دوران فوت ہوجائے تو اس پر یا اس کے ولی پر باقی ایام کے روزے نہيں ہیں ۔

15 - جوشخص رمضان کے روزوں کی فرضیت سے جاہل ہو یا پھر اسے کھانے اورجماع کی حرمت کے حکم سے جاہل ہو توجمہور علماء کرام اسے معذورکہتے ہیں کہ اگر اس جیسے لوگوں کو معذور مانا جاتا ہو ، مثلا جس شخص نے نیا اسلام قبول کیا ہے یا کوئي مسلمان دارالحرب میں بستا ہو اور، کفار کے مابین رہنے والامسلمان ۔

لیکن مسلمانوں کے مابین بسنے والا شخص تو پوچھنے اور تعلیم حاصل کرنے پر قادر ہے لھذا اسے معذور نہيں کہا جائے گا ۔

مسافر ۔



16 - سفر میں روزہ نہ رکھنے کی شرط یہ ہے کہ وہ عرف یا مسافت کے لحاظ سے سفر شمار ہو ( علماء کرام میں پائے جانے والے اختلاف کے باوجود ) یہ کہ شہر سے تجاوز کرچکا ہو شہر سےنکلنے سے قبل روزہ چھوڑنا جمہور علماء کرام کے ہاں صحیح نہيں ۔

ان کا کہنا ہے کہ سفرثابت نہيں ہوا بلکہ ابھی تک تو وہ مقیم اورحاضر ہی ہے ، اوراللہ تعالی کا فرمان ہے :

{ تم میں سے جو بھی اس ماہ کو پائے اسے روزہ رکھنا چاہیے } ۔

شہر سے نکلنے سے قبل اسے مسافرنہیں کہا جائے گا ، لیکن اگر وہ شھر میں ہی ہو تو اس کا حکم حاضراورمقیم کا ہی ہوگا جس کی بنا پر وہ نماز قصر نہيں کرےگا ۔

اوریہ بھی شرط ہے کہ وہ سفر معصیت کے لیے نہ ہو ( جمہور علماء کرام کے ہاں یہی شرط ہے ) ، اور سفر اس لیے نہ کرے کہ وہ روزہ افطار کرنے کا حیلہ ہو ۔

17 - امت اس پر متفق ہے کہ مسافر کےلیے روزہ نہ رکھنا جا‏ئز ہے چاہے وہ روزہ رکھنے کی طاقت رکھتا ہویا پھر وہ روزہ رکھنے سے عاجز ہی کیوں نہ ہو ، اوراگرچہ اسے روزہ رکھنے میں مشقت پیش آئے یا مشقت نہ ہو ، مثلا اس طرح کہ اگر کوئي شخص سائے میں سفر کررہا ہو اوراس کے ساتھ پانی بھی ہو اورخدمت کے لیے خادم بھی توایسے شخص کے لیے بھی روزہ افطار کرنا جائز ہے ہوگا اوروہ نماز بھی قصر ادا کرے گا ۔

دیکھیں : مجموع الفتاوی ( 25 / 210 ) ۔

18 - جوشخص رمضان المبارک میں سفر کرنے کا عزم کرے تواسے سفرسے پہلے روزہ افطار کرنے کی نیت نہيں کرنی چاہیے ، کیونکہ ہوسکتا ہے کہ اسے بیماری سفر سے روک دے ۔

دیکھیں تفسیر القرطبی ( 2 / 278 ) ۔

مسافراپنے شہر کو چھوڑنے سے قبل ہی روزہ افطار نہ کرے بلکہ جب وہ آبادی سے باہر نکل جائے تو پھر روزہ افطار کرے ، اسی طرح جب ہوائي جہاز آڑان بھرلے اورآبادی سے دور ہوجائے تو افطار کرنا چاہیے ، لیکن اگر ایرپورٹ شہر سے باہرہو تو وہ روزہ افطار کرسکتا ہے ، اوراگر ہوائي اڈا اس کے شہر میں ہی ہویا اس سے ملحق ہو تواسے روزہ افطار نہيں کرنا چاہیے کیونکہ وہ ابھی تک شہر میں ہی ہے ۔

19 - جب کوئي زمین پرغروب شمس کے بعد روزہ افطار کرے اورپھر ہوائي جہاز کے ذریعہ فضامیں پہنچے تو سورج دیکھ اسےکھانے پینے سے نہيں رکے گا ، کیونکہ وہ تو اس دن کا اپنا روزہ مکمل کرچکا ہے لھذا کسی عبادت کی ادائيگي کے بعد اسے دوبارہ ادا نہيں کیا جائے گا ۔

اوراگر ہوائي جہاز غروب شمس کے بعد اڑان بھر کرفضا میں پہنچے توفضا میں سورج نظرآنے تک روزہ افطار نہیں کیا جاسکتا ، اوراسی طرح پائلٹ کے لیے جائزنہیں کہ وہ افطاری کرنے کے لیےہوائي جہاز کی بلندی اتنی کم کردے جہاں سے سورج نظر نہ آئے کیونکہ یہ حیلہ ہے ، لیکن اگر وہ ہوائي جہاز کی مصلحت کی بنا پر بلندی میں کمی کرتا ہے توسورج کی ٹکیا غا‏ئب ہوجانے پر روزہ افطار کرسکتا ہے ۔

شیخ ابن بازرحمہ اللہ کا بالمشافہ فتوی ۔

20 - جوکوئي کسی ملک میں پہنچے اوروہاں چاریوم سے زيادہ ٹھرنے کی نیت کرے تو جمہورعلماء کرام کے ہاں اس پر روزے رکھنے واجب ہوں گے ، اوراسی طرح جو طالب علم پڑھائي کے لیے کچھ ماہ یا برسوں کےلیے شہر سے باہر جائے وہ مقیم کے حکم میں ہوگا ، جمہور جن میں آئمہ اربعہ بھی شامل ہیں کے ہاں وہ بھی مقیم کے حکم میں ہے اوراسے نماز مکمل کرنا ہوگي اور روزے رکھنا ہونگے ۔

اوراگر کوئي مسافر کسی بھی ملک سے گزر رہا ہو تو اس پر لازم نہيں کہ وہ دن کا باقی حصہ کچھ نہ کھائے پیۓ ، لیکن اگر وہ وہاں چاریوم سے زيادہ رہنے تووہ روزہ رکھے گااس لیے کہ وہ مقیم کے حکم میں ہے ۔

دیکھیں فتاوی الدعوۃ ابن باز رحمہ اللہ تعالی ( 977 ) ۔

21 - جوشخص مقیم ہونے کی صورت میں روزے کا آغاز کرے پھر دن کے دوران ہی سفر کرے تو اس کےلیے روزہ افطار کرنا جائز ہے ، اس لیےکہ اللہ تعالی نے سفر کو رخصت کا سبب قرار دیتے ہوئے فرمایا ہے :

{ جوکوئي بھی مریض یا مسافر ہو اسے دوسرے دنوں میں گنتی پوری کرے } ۔

22 - ہروقت سفر کرنے والے کے لیے بھی روزہ نہ رکھنا جائز ہے مثلا ڈاکیا جومسلمانوں کی مصلحت کے لیے سفر میں ہی رہتا ہے ( اوراسی طرح گاڑیوں کے ڈرائیور ، اورہوائي جہاز کے پائلٹ ، اورملازم حضرات اگرچہ وہ روزانہ ہی سفر پر رہتے ہوں لیکن انہيں قضاءمیں روزے رکھنا ہونگے )

اوراسی طرح وہ ملاح جس کی خشکی پر رہائش ہو لیکن وہ ملاح جس کےساتھ اس کی بیوی اورضروریات زندگی سب کشتی میں ہوں اوروہ ہر وقت سمندر میں سفر پر ہی رہتا ہو توایسا شخص نہ تو نماز قصرکرے گا اورنہ ہی روزہ افطار کرے گا ۔

اوراسی طرح وہ خانہ بدوش جوایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوتے رہتے ہوں اپنا ٹھکانہ بدلتے ہوئے سفر میں نماز بھی قصر کرسکتے ہیں اورروزہ بھی افطار کرسکتے ہیں ، لیکن جب وہ سردیوں اورگرمیوں والے اپنے ٹھکانہ پرپہنچ جائيں تووہ نماز مکمل پڑھیں گے اورروزہ بھی رکھیں گے، چاہے وہ اپنے جانوروں کے پیچھے ہی بھاگتے پھریں ۔

دیکھیں مجموع فتاوی ابن تمیمہ ( 25 / 213 ) ۔

23 - جب مسافر دن کے دوران سفر سے واپس آجائے تواس پرواجب ہے کہ وہ اس دن کے بقیہ حصہ میں کچھ بھی نہ کھائے پیۓ ، اس میں علماء کرام کے مابین نزاع مشہور ہے ، دیکھیں : مجموع الفتاوی ( 25 / 212 ) ۔

لیکن احتیاط اسی میں ہے کہ رمضان المبارک کی حرمت کا خیال رکھتے ہوئے اسے کچھ نہیں کھانا پینا چاہیے ، لیکن اس پراس دن کی قضاء واجب ہوگي چاہے وہ اس دن کھائے پیۓ یہ بغیر کھائے ہی گزارے ۔

24 - جب کسی ملک میں وہ رمضان کی ابتدا کرکے کسی دوسرے ملک میں جائے جہاں ایک دن قبل یا بعد میں رمضان شروع ہوا ہو تو اس کا حکم بھی ان کے ساتھ ہی ہوگا وہ ان کےساتھ ہی روزہ رکھے گا اوران کے ساتھ ہی عید کرےگا ، اگرچہ تیس سے بھی زيادہ روزے ہوجائيں ، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :

( روزہ اسی دن ہے جس دن تم روزہ رکھو ، اورعید اس دن ہے جس دن تم عید کرو ) ۔

اوراگر اس کے روزے انتیس سے بھی کم ہوجائيں توعید کے بعد اسے انتیس کرنا ہوں گے کیونکہ ھجری مہینہ انتیس یوم سے کم نہيں ہوتا ۔

دیکھیں فتاوی الشیخ عبدالعزيز بن باز فتاوی الصیام طبع دار الوطن صفحہ نمبر ( 15 - 16 ) ۔

مریض :



25 - ہروہ مرض جس کی وجہ سے انسان صحت کی تعریف سے خارج ہوجائے اس کی وجہ سے روزہ افطار کرنا جائز ہے ،اس کی دلیل اللہ تعالی کا مندرجہ ذيل فرمان ہے :

{ جو کوئی مریض ہویا مسافر وہ دوسروں دنوں میں گنتی پوری کریں }

لیکن ہلکی پھلکی بیماری مثلا زکام ، اورسردرد ، وغیرہ کی وجہ سے روزہ ترک کرنا جائز نہیں ۔

جب طبی طور پر یہ علم ہویا پھر کسی شخص کی عادت یا تجربہ کی وجہ سے یا پھر اس کا ظن غالب ہو کہ روزہ رکھنے سے مریض ہونے یا مرض میں زيادتی یا پھر مرض سے شفایابی میں تاخير کا باعث ہوگا تواس کےلیے روزہ چھوڑنا جائز ہے بلکہ اس کے حق میں روزہ رکھنا مکروہ ہے ۔

اوراگرمرض زيادہ ہو تو مریض پر واجب نہيں کہ وہ رات کو روزے کی نیت نہ کرے چاہے یہ احتمال ہو کہ وہ صبح تک صحیح ہوجائے گا ،کیونکہ معتبر تو موجودہ وقت ہے نہ کہ مستقبل ۔

26 - اوراگر روزہ رکھنا اس کے لیے بے ہوشی کا سبب بنتا ہو تواسے روزہ افطار کرنے کی اجازت ہے اوراس کےبدلے وہ قضا میں روزہ رکھے گا ۔

دیکھیں مجموع الفتاوی ( 25 / 217 ) ۔

اورجب کوئي روزہ دار روزہ کی حالت میں بے ہوش ہوجائے اورمغرب سے قبل یا پھر مغرب کے بعد ہوش میں آئے تواس کا روزہ صحیح ہوگا کیونکہ اس نے روزہ رکھا تھا ، اوراگر وہ فجر سے لیکر مغرب تک بے ہوش رہے توجمہور علماء کرام کے ہاں اس کا روزہ صحیح نہيں ۔

اوربے ہوشی والے شخص پر جمہور علماء کے نزدیک بھی قضاء واجب ہے چاہے یہ بے ہوشی جتنی بھی طویل ہو ۔

دیکھیں : المغنی مع الشرح الکبیر ( 1 / 412 ) ( 3 / 32 ) اورالموسوعۃ الفقھیۃ الکویتیۃ ( 5 / 268 ) ۔

بعض اہل علم کا فتوی ہے کہ : جوکوئي بے ہوش ہوجائے یا اسے کسی مصلحت کی بنا پرنیند کی دوائی دی جائے یا اسے سن کردیا جائے جس کی بنا پر اسے ہوش نہ رہے لھذا اگرتواس کی یہ حالت تین یا اس سے کم ایام ہوں تووہ سونے والے پر قیاس کرتے ہوئے قضاء کرے گا ، لیکن اگر تین ایام سے زيادہ بے ہوش رہے تو مجنون پر قیاس کرتے ہوئے قضاء کرے گا ۔

شیخ عبدالعزیزبن باز رحمہ اللہ تعالی کا بالمشافھہ فتوی ۔

26 - جس شخص کوبہت زیادہ بھوک کمزور کردے یا شدید قسم کی پیاس نڈھال کردے جس کی بنا پر اسے ہلاک ہونے کا خدشہ ہو یا ظن غالب کی بنا پریہ خدشہ ہوکہ اس کے ہوش وحواس قائم نہيں رہيں گے تواس حالت میں وہ روزہ چھوڑ سکتا ہے ، کیونکہ نفس کو بچانا واجب ہے ، لیکن جب وہم ہو تو پھر نہيں ۔

لیکن صرف شدت یا تھکاوٹ اورمرض کے خوف اوراحتمال کی بنا پر روزہ چھوڑنا جائز نہيں ، اورجولوگ مشقت والے کام کرتے ہیں انہیں اپنے کام کی بنا پر روزہ چھوڑنا جائز نہیں ، انہیں چاہیے کہ وہ رات کو ہی روزہ کی نیت کریں ،اوردن میں اگر انہیں روزہ نقصان دے اوران سے برداشت نہ ہوسکے یا پھر انہیں اپنے ہلاک ہونے کا خدشہ ہویا اس کی وجہ سے زيادہ مشقت کے شکار ہوں جس کی بنا پروہ روزہ افطار کرنے پر مجبور ہوجائيں توپھر وہ اپنی مشقت دور کرنے کے لیے افطار کرسکتے ہیں اوراتنا ہی کھائيں جوان کی قوت بحال کرے اورپھر باقی دن انہيں کھانے پینے سے پرہيز کرنا ہوگي ، اور اس دن کی بعد میں قضاء ادا کريں گے ۔

وہ مزدور جو لوہے وغیرہ کی بھٹیوں پر معدنیات پگلانے کا کام کرتے ہیں جس کی بنا پر وہ روزہ برداشت نہيں کرسکتے انہيں کوشش کرنی چاہیے کہ وہ کام رات کےوقت کریں ، یا پھر رمضان میں چھٹیاں حاصل کرلیں اگرچہ یہ چھٹیاں بغیر تنخواہ ہی حاصل ہوں ، لیکن اگر ایسا ممکن نہ ہوسکے توانہيں کوئي اورکام تلاش کرنا چاہیے جس میں دینی اوردنیاوی واجبات کوجمع کیا جاسکے ، کیونکہ جو شخص بھی اللہ تعالی کا تقوی اختیار کرتا ہے اللہ تعالی اس کےلیے کوئي راستہ نکال دیتا ہے ، اوراسے رزق بھی وہاں سے دیتا ہے جہاں سے اس کو وہم وگمان بھی نہيں ہوتا ۔

دیکھیں فتاوی اللجنۃ الدئمۃ ( 10 / 233 - 235 ) ۔

اورطلاب کے لیے امتحانات ایسا عذر نہيں کہ اس کی وجہ سے روزہ افطار کرلیا جائے ، اوراسی طرح روزہ چھوڑنے میں بھی والدین کی اطاعت نہیں کرنی چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کو امتحان کی بنا پر روزہ رکھنے سے منع کریں ، اس لیے کہ اللہ تعالی کی نافرمانی میں مخلو*ق کی اطاعت نہیں کرنی چاہیے ۔

دیکھیں : فتاوی اللجنۃ الدائمۃ ( 10 / 241 ) ۔

28 - جس مریض کی شفایابی کی امید ہو وہ اپنی شفایابی کا انتظار کرے اورصحت بحال ہونے کےبعد قضاء میں روزے رکھے گا ، اسے صرف کھانا ہی کھلانا ہی کافی نہیں ہوگا ، اور وہ مریض جس کی مرض دائمی ہواوراس کی شفایابی کی امید نہ ہواوراسی طرح وہ بوڑھا جوعاجز ہووہ بھی ہر دن کے بدلے میں ایک مسکین کو کھانا کھلائے جوعادی غلہ میں سے نصف صاع بنتی ہے ( موجود تول کے مطابق تقریبا ڈیڑھ کلو چاول ) ۔

یہ بھی جائز ہے کہ وہ سارا فدیہ اکٹھا کرے اورمہینہ کے آخر میں مساکین کو کھلائے یا پھر ہر دن ایک مسکین کو کھانا کھلائے ، اس پر واجب ہے کہ آیت پرعمل کرتے ہوئے مسکین کو غلہ دے کسی بھی مسکین کو نقد رقم دینے سے ادائيگي نہيں ہوگي ۔

دیکھیں فتاوی اللجنۃ الدائمۃ ( 10 / 198 ) ۔

یہ بھی ممکن ہے کہ وہ کسی ثقہ تنظیم کو کھانا خرید کر تقسیم کرنے پر وکیل بناتے ہوئے نقد رقم ادا کرے کہ وہ غلہ خرید کر اس کی جانب سےمساکین میں تقسیم کردے ۔

وہ مریض جس نےرمضان میں روزے چھوڑے اورقضاء کے لیے شفایابی کے انتظار میں تھا پھر اسے یہ علم ہوا کہ اس کا مرض دائمی ہے اس صورت میں اس پر واجب ہے کہ وہ ہر دن کے بدلے میں ایک مسکین کو کھانا کھلائے ۔ شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ تعالی کے فتاوی سے لیا گيا ۔

اورشفایابی کی امید والے مرض والا مریض اگراپنی بیماری میں ہی چل بسے تواس صورت میں نہ تواس پراورنہ ہی اس کے اولیاء پر کچھ ہے ، اورایسا مریض جوکسی دائمی مرض میں مبتلاتھااوراس نے اپنے چھوڑے ہوئے روزوں کا فدیہ مساکین کوادا کردیا ، لیکن کچھ مدت بعد طب میں اس کا علاج دریافت کرلیاگيا ، اوروہ اس علاج کےذریعہ شفایاب ہوگيا تواس پر گزشتہ روزوں کی کوئي چيز واجب نہيں کیونکہ اس نے اپنے واجب کردہ کو ادا کردیا تھا ۔

دیکھیں فتاوی اللجنۃ الدائمۃ ( 10 / 195 ) ۔

29 - وہ مریض جوشفایابی حاصل کرسکنے اورقضاء کی استطاعت کے باوجود بھی روزے قضاء نہ رکھ سکا اوراس سے پہلے ہی فوت ہوگیا تواس کے مال سے ہردن کے بدلے میں ایک مسکین کو کھانا دیا جائے گا ۔

اوراگر اس کے اقرباء میں سے کوئي اس کی جانب سے روزہ رکھنا چاہے تووہ رکھ سکتا ہے اوروہ روزہ صحیح ہوگا کیونکہ صحیحین میں روایت ہے کہ :

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :

( جوکوئي فوت ہوجائے اوراس کے ذمہ روزے ہوں تو اس کی جانب سے اس کا ولی روزے رکھے گا ) ۔

دیکھیں : فتاوی اللجنۃ الدائمۃ بحوالہ مجلہ الدعوۃ ( عربی ) ( 806 ) ۔

عاجز اوربوڑھا شخص



30 - بوڑھا اورقریب الموت شخص جس کی تمام طاقت ختم ہوچکی ہو اورہردن وہ موت کے قریب ہورہا ہو اورکمزوری بڑھتی چلی جائے اس پرروزے رکھنے لازم نہیں ، بلکہ ان دونوں کے لیے روزہ چھوڑنا جائز ہیں کیونکہ روزہ رکھنے میں ان کے لیے مشقت ہے ۔

ابن عباس رضي اللہ تعالی عنہما مندرجہ ذیل آیت کے بارہ میں کہا کرتے تھے :

{ اوران لوگوں پرجواس کی طاقت نہيں رکھتے ان پر ایک مسکین کا کھانا بطور فدیہ ہے } ۔

ابن عباس رضي اللہ تعالی عنہما کہتے ہیں کہ یہ آیت منسوخ نہيں بلکہ بوڑے مرد اورعورت کےلیے ہیں جوروزہ رکھنے کی طاقت نہيں رکھتے بلکہ وہ ہردن کے بدلے میں ایک مسکین کو کھانا کھلائيں گے ۔

دیکھیں صحیح بخاری کتاب التفسیر باب ایام معدودات ۔۔

اورایسا شخص جوکسی میں تمیز ہی نہ کرسکے اوربے وقوفی کی حدتک جا پہنچے تو اس پر اوراس کے گھروالوں پر کچھ نہيں کیونکہ وہ مکلف ہی نہیں رہا ، اوراگر بعض اوقات وہ تمیز کرتا ہو اوربعض اوقات ھذیان کی حالت ہو اورعقل فاسد ہوجاتی ہو توتمیز کی حالت میں روزہ واجب ہوگا ، لیکن حالت ھذیان میں روزہ واجب نہيں ۔

دیکھیں : مجالس شھر رمضان للشيخ ابن عثيمین رحمہ اللہ تعالی ( 28 )

31 - جودشمن سے جنگ کررہا یا دشمن نے اس کے ملک کا گھیراؤ کرلیا ہو اوراسے خدشہ ہو کہ روزہ اسے لڑائي سے کمزور کردے گا تواس لیے روزہ نہ رکھنا جائز ہے ، چاہے وہ سفر میں نہ بھی ہو ، اور اسی طرح اگر اسے لڑائي سے قبل روزہ افطار کرنے کی ضرورت ہو تووہ افطار کرسکتا ہے ۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کرام کو لڑائي سے قبل فرمایا تھا :

( تم صبح دشمن کا مقابلہ کرنے والے ہو لھذا روزہ نہ رکھنا تمہارے لیے زيادہ طاقت کا با‏عث ہوگا توصحابہ کرام نے روزہ نہ رکھا ) صحیح مسلم حدیث نمبر ( 1120 ) طبع عبدالباقی ۔

اورشیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ تعالی نے بھی یہی قول اختیار کیا ہے اوراہل شام کو اسی کا فتوی دیا تھا کیونکہ تتاریوں نے جب شامیوں پر حملہ کیا تو شیخ الاسلام وہیں تھے اوریہی فتوی جاری کیا ۔

32 - جس کے روزہ نہ رکھنے کا سبب ظاہر ہومثلا مریض تواس کےلیے بھی ظاہری روزہ نہ رکھنے میں کوئي حرج نہيں ، جس کا سبب مخفی ہو مثلا حيض تواس کے لیے اولی اوربہتر ہے کہ وہ روزہ بھی خفیہ ہی افطار کرے تا کہ اسے تہمت کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔

روزے کی نیت :



33 - فرضی روزے میں نیت کی شرط ہے اوراسی طرح ہر واجبی روزے میں بھی نیت کی شرط ہے مثلا قضاء ، اورکفارہ وغیرہ کے روزے اس لیے کہ حدیث میں فرمان نبوی ہے :

( جس نے رات کو روزے کی نیت نہ کی اس کا روزہ نہيں ہے ) سنن ابوداود حدیث نمبر ( 2454 ) امام بخاری وامام نسائی اورامام ترمذی رغیرہ نے تلخیص الحبیر ( 2 / 188 ) میں موقوف کہا ہے ۔

رات کےکسی حصہ میں نیت کرنا جائز ہے چاہے فجر سے ایک لحظہ قبل ہی کرلی جائے ، اورنیت یہ ہے کہ کسی فعل پر دل کا عزم کرنا نیت کہلاتا ہے ۔

نیت کے الفاظ کی ادائيگي بدعت ہے ، جسے یہ علم ہوکہ صبح رمضان ہے اوروہ روزہ رکھنے کا ارادہ بھی کرے تویہی اس کی نیت ہے ۔

دیکھیں مجموع فتاوی شیخ الاسلام ( 25 / 215 ) ۔

جس نے دن کے وقت روزہ افطار کرنے کی نیت کی لیکن افطار نہ کیا توراجح یہی ہے کہ اس کا روزہ صحیح ہے فاسد نہيں ہوا ، بلکہ وہ ایسے ہی ہے جیسے کوئي شخص نماز میں کلام کرنے کا ارادہ کرے لیکن کلام نہ کرے تواس کی نماز صحیح ہوگي ۔

بعض اہل علم کا کہتے ہيں کہ صرف نیت ختم کرنے سےہی اس کا روزہ ختم ہوجائے گا ، لھذا احتیاط یہ ہے کہ اس کی قضاء ادا کی جائے ، لیکن ارتداد کی وجہ سے بلاخلاف نیت ختم ہوجاتی ہے ۔

رمضان کے روزے رکھنے والا ہررات تجدید نیت کا محتاج نہيں بلکہ رمضان کے شروع میں ہی نیت کافی ہے ، لیکن اگرسفر یا کسی مرض کی بنا پر نیت ختم کردے توپھر عذر زائل ہونے کی صورت میں اسے تجدید نیت کرنا ہوگي ۔

34 - نفلی روزہ میں مطلقا شرط نہيں کہ رات کو نیت کی جائے کیونکہ حدیث میں ہے :

عا‏‏ئشہ رضي اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن گھرمیں داخل ہوئے اور فرمانے لگے کیا تمہارے پاس کچھ ہے تو ہم نے جواب دیا کچھ نہيں ہے ، تونبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے پھر میں روزہ سےہوں ۔

صحیح مسلم حدیث نمبر ( 2 / 809 ) عبدالباقی ۔

لیکن معین نفلی روزہ مثلا یوم عرفہ ، اورعاشوراء ، میں احتیاط یہ ہے کہ رات کو نیت کی جائے ۔

35 - جوشخص واجب روزہ کو شروع کردے مثلا قضاء اورنذر اورکفارہ وغیرہ اسے مکمل کرنا ضروری ہے ، اوراس میں بغیر کسی عذر کے روزہ افطار کرنا جائز نہیں ، لیکن نفلی روزے میں اسے اختیارہے کہ وہ افطار کرلے یا نہ کرے حدیث میں ہے :

( نفلی روزے والا اپنے آپ کا امیر ہے چاہے وہ روزہ رکھے اورچاہے تو افطار کرلے ) مسند احمد ( 6 / 342 )

نفلی روزہ والا بغیر کسی عذر بھی روزہ افطار کرسکتا ہے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی ایک بار روزہ سے تھے پھر بغیر کسی عذر کے کھا لیا جیسا کہ صحیح مسلم میں حدیث ہے :

عائشہ رضي اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہيں کہ ایک دن رسول صلی اللہ علیہ وسلم گھرمیں آئے تو کہنے لگے کچھ کھان