PDA

View Full Version : رمضان کے متعلق صحیحین کی احادیث کا مجموعہ



شہزادی
08-21-2011, 09:07 PM
صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 1776 حدیث مرفوع مکررات 26
عبداللہ بن مسلمہ، مالک، ابوالزناد، اعرج، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ روزہ ڈھال ہے، اس لیے نہ تو بری بات کرے اور نہ جہالت کی بات کرے اگر کوئی شخص اس سے جھگڑا کرے یا گالی گلوچ کرے تو کہہ دے میں روزہ دار ہوں، دوبار کہہ دے۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے بہتر ہے وہ کھانا پینا اور اپنی مرغوب چیزوں کو روزوں کی خاطر چھوڑ دیتا ہے اور میں اس کا بدلہ دیتا ہوں اور نیکی دس گنا ملتی ہے۔

صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 1778 حدیث مرفوع مکررات 7
خالد بن مخلد، سلیمان بن بلال، ابوحازم، سہل نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ جنت میں ایک دروازہ ہے جس کو ریان کہتے ہیں قیامت کے دن اس دروازے سے روزے دار ہی داخل ہوں گے کوئی دوسرا داخل نہ ہوگا، کہا جائے گا کہ روزہ دار کہاں ہیں؟ وہ لوگ کھڑے ہوں گے اس دروازہ سے ان کے سوا کوئی داخل نہ ہو سکے گا، جب وہ داخل ہو جائیں گے تو وہ دروازہ بند ہو جائے گا اور اس میں کوئی داخل نہ ہوگا

صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 1780 حدیث مرفوع مکررات 57
قتیبہ اسماعیل بن جعفر، ابوسہیل اپنے والد سے وہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب رمضان کا مہینہ آتا ہے، تو جنت کے دروازے کھل جاتے ہیں۔
صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 1781 حدیث مرفوع مکررات 9
یحیی بن بکیر، لیث، عقیل، ابن شہاب، ابن ابی انس تیمیوں کے غلام، ابی انس، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جب رمضان کا مہینہ آتا ہے تو آسمان کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور شیطان زنجیروں میں جکڑ دئیے جاتے ہیں۔

صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 1783 حدیث مرفوع مکررات 57
مسلم بن ابراہیم، ہشام، یحیی بن ابی سلمہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا کہ جو شخص شب قدر میں ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے کھڑا ہو، اسکے اگلے گناہ بخش دئیے جاتے ہیں اور جس نے ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے رمضان کے روزے رکھے اس کے اگلے گناہ بخش دئیے جاتے ہیں.

صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 1784 حدیث مرفوع مکررات 9
موسی بن اسماعیل، ابراہیم بن سعد، ابن شہاب، عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ، ابن عباس سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نفع پہنچانے میں لوگوں سے سب سے زیادہ سخی ہو جاتے تھے، اور جبرائیل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے رمضان میں جب ملتے تو اور بھی سخی ہو جاتے تھے، اور جبرائیل آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے رمضان میں ہر ایک رات میں ملتے تھے۔ یہاں تک کہ رمضان گزر جاتا ہے جبرائیل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے قرآن پڑھتے تھے جب جبرائیل آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ملتے تھے تو چلتی ہو اسے بھی زیادہ آپ سخی ہو جاتے تھے۔

صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 1785 حدیث مرفوع مکررات 11
آدم بن ابی ایاس، ابن ابی ذئب، سعید مقبری اپنے والد سے وہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے جھوٹ بولنا اور اس پر عمل کرنا ترک نہ کیا تو اللہ تعالی کو اس کے کھانا پینا چھوڑ دینے کی کوئی ضرورت نہیں۔

صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 1786 حدیث قدسی مکررات 26
ابراہیم بن موسی، ہشام بن یوسف، ابن جریج، عطاء، ابوصالح زیات ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالی نے فرمایا انسان کے ہر عمل کا بدلہ ہے، مگر روزہ کہ وہ خاص میرے لئے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دیتا ہوں اور روزہ ڈھال ہے۔ جب تم میں سے کسی کے روزے کا دن ہو، تو نہ شور مچائے اور نہ فحش باتیں کرے اگر کوئی شخص اس سے جھگڑا کرے یا گالی گلوچ کرے تو کہہ دے میں روزہ دار آدمی ہوں اور قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی جان ہے روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے ہاں مشک کی خوشبو سے زیادہ بہتر ہے روزہ دار کو دو خوشیاں حاصل ہوتی ہیں، جب افطار کرتا ہے۔ تو خوش ہوتا ہے اور جب اپنے رب سے ملے گا تو روزہ کے سبب سے خوش ہوگا۔

صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 1788 حدیث متواتر حدیث مرفوع مکررات 34
عبداللہ بن مسلمہ، مالک، نافع، عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رمضان کا تذکرہ کیا تو فرمایا کہ جب تک چاند نہ دیکھ لو روزہ نہ رکھو اور نہ ہی افطار کرو، یہاں تک کہ چاند دیکھ لو اور اگر ابر چھایا ہوا ہو تو تیس دن پورے کرو۔

صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 1802 حدیث مرفوع مکررات 18
مسلم بن ابراہیم، ہشام، قتادہ، انس، زید بن ثابت روایت کرتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سحری کھائی پھر آپ نماز کے لئے کھڑے ہوئے۔ انس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں نے پوچھا اذان اور سحری میں کتنا فصل تھا؟ انہوں نے کہا کہ پچاس آیتیں پڑھنے کے برابر۔

صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 1804 حدیث متواتر حدیث مرفوع مکررات 5
آدم بن ابی ایاس، شعبہ، عبدالعزیز بن صہیب، انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سحری کھاؤ اس لیے کہ سحری کھانے میں برکت ہوتی ہے۔

صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 1810 حدیث مرفوع مکررات 16
احمد بن صالح، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، عروہ اور ابوبکر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو رمضان میں بغیر احتلام کے یعنی جماع سے نہانے کی ضرورت ہوئی اور صبح ہوتی تو آپ غسل کرتے اور روزہ رکھتے۔

صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 1812 حدیث مرفوع مکررات 7
عبدان، یزید بن زریع، ہشام، ابن سیرین، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا کہ جب کوئی بھول کر کھائے یا پئیے تو اپنا روزہ پورا کرے اس کو اللہ نے کھلایا اور پلایا ہے۔

صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 1815 حدیث مرفوع مکررات 22
ابوالیمان، شعیب، زہری، حمید بن الرحمن، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ کہ آپ کے پاس ایک شخص آیا اور عرض کیا یا رسول اللہ! میں تو ہلاک ہو گیا۔ آپ نے دریافت کیا کیا بات ہے؟ اس نے بتایا کہ میں نے اپنی بیوی سے روزہ کی حالت میں جماع کر لیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے پاس کوئی غلام ہے جسے تم آزاد کر سکو؟ اس نے کہا کہ نہیں۔ آپ نے فرمایا کیا تم دو مہینے متواتر روزے رکھ سکتے ہو اس نے کہا نہیں آپ نے فرمایا کہ کیا تم ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا سکتے ہو؟ اس نے کہا نہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تھوڑی دیر خاموش رہے ہم اس حال میں تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک تھیلا لایا گیا جس میں کھجوریں تھیں اور عرق سے مراد مکتل ہے۔ آپ نے دریافت کیا کہ سوال کرنے والا کہاں ہے؟ اس نے کہا میں ہوں، آپ نے فرمایا اسے لے جا اور خیرات کردے۔ اس شخص نے پوچھا کیا اس کو دوں، جو مجھ سے زیادہ محتاج ہے، یا رسول اللہ! مدینہ کے دونوں پتھریلے میدانوں کے درمیان کوئی ایسا گھر نہیں، جو میرے گھر والوں سے زیادہ محتاج ہو، نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے، یہاں تک کہ آپ کے اگلے دانت کھل اٹھے، پھر آپ نے فرمایا اپنے گھر والوں کو کھلا۔

صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 1817 حدیث مرفوع مکررات 36
معلی بن اسد، وہیب، ایوب، عکرمہ، ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حالت احرام میں پچھنے لگوائے اور روزہ کی حالت میں پچھنے لگوائے۔

صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 1821 حدیث مرفوع مکررات 26
مسدد، یحیی، ہشام، عروہ، عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ حمزہ بن عمرو اسلمی نے عرض کیا یا رسول اللہ میں متواتر روزے رکھتا ہوں، ح، عبداللہ بن یوسف، مالک، ہشام بن عروہ، عروہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا زوجہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ حمزہ بن عمرو اسلمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ میں سفر میں روزے رکھتا ہوں اور وہ بہت زیادہ روزے رکھتے تھے، آپ نے فرمایا اگر تو چاہے تو روزے رکھے اور اگر تو چاہے تو افطار کرلے۔

صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 1823 حدیث مرفوع مکررات 5
عبداللہ بن یوسف، یحیی بن حمزہ، عبدالرحمن بن یزید بن جابر، اسماعیل بن عبیداللہ ، ام درداء رضی اللہ عنہا، ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت کرتی ہیں انہوں نے بیان کیا کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں روانہ ہوئے، گرمی کا دن تھا۔ آدمی سخت گرمی کے سبب سے اپنا ہاتھ اپنے سر پر رکھ لیتا تھا اور ہم میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابن رواحہ رضی اللہ عنہ کے سوا اور کوئی شخص روزہ دار نہیں تھا۔

صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 1826 حدیث مرفوع مکررات 24
موسی ٰ بن اسماعیل، ابوعوانہ، منصور، مجاہد، طاؤس، ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ سے مکہ کی طرف روانہ ہوئے، آپ روزہ رکھتے رہے یہاں تک کہ جب عسفان پہنچے، تو پانی مانگا، پھر آپ نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے تاکہ لوگوں کو دکھائیں پھر آپ افطار کرتے رہے یہاں تک کہ مدینہ پہنچے اور یہ رمضان کا واقعہ ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ رکھا اور افطار بھی کیا جس کا روزہ رکھے اور جو چاہے افطار کرے۔

صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 1827 حدیث موقوف مکررات 2
عیاش، عبدالاعلیٰ، عبیداللہ ، نافع، ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے یہ آیت پڑھی، (فِدْيَةٌ طَعَامُ مَسَاکِينَ) ، اور کہا کہ یہ منسوخ ہے۔

صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 1829 حدیث مرفوع مکررات 23
ابن ابی مریم، محمد بن جعفر، زید، عیاض، حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عورت جب حائضہ ہو جاتی ہے تو کیا وہ نماز اور روزہ نہیں دیتی اور (یہی) اس کے دین کی کمی سے ہے۔

صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 1830 حدیث مرفوع مکررات 3
محمد بن خالد، محمد بن موسیٰ بن اعین، موسیٰ بن اعین، عمرو بن حارث عبیداللہ بن ابی جعفر، محمد بن جعفر، عروہ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اس حال میں مر جائے کے اسکے ذمے روزے واجب ہوں، تو اس کے وارث اس کی طرف سے روزے رکھ لیں، ابن وہب نے عمر سے اس کے متابع حدیث روایت کیا اور اس کو یحیی بن ایوب نے ابن ابی جعفر سے روایت کیا۔

صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 1831 حدیث مرفوع مکررات 10
محمد بن عبدالرحیم، معاویہ بن عمر، زائدہ، اعمش، مسلم بطین، سعید بن جبیر، ابن عباس سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری ماں مر گئی اور اس کے ذمے ایک مہینہ کے روزے واجب تھے کیا میں اسکی طرف سے قضا رکھ لوں؟ آپ نے فرمایا کہ ہاں اللہ کا قرض ادا کئے جانے کا زیادہ مستحق ہے سلیمان نے بیان کیا کہ حکم اور سلمہ نے کہا کہ ہم لوگ بیٹھے ہوئے تھے جس وقت مسلم یہ حدیث بیان کی ان دونوں نے بیان کیا کہ ہم لوگوں نے مجاہد سے سنا کہ یہ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے منقول ہے، ہم سے اعمش نے بیان کیا انہوں نے حکم اور مسلم بطین اور سلمہ بن کہیل سے اور انہوں نے سعید بن جبیر اور عطا اور مجاہد سے، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے بیان کیا کہ ایک نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا میری بہن مر گئی اور یحیی اور ابومعاویہ نے بیان کیا کہ مجھ سے اعمش نے بواسطہ مسلم، سعید، ابن عباس رضی اللہ عنہ روایت کیا کہ ایک عورت نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا کہ میری ماں مر گئی اور عبیداللہ نے بواسطہ زید بن ابی انیسہ، حکم، سعید بن جبیر، ابن عباس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک عورت نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ میری ماں مر گئی اور اس پر نذر کے روزے واجب تھے، اور ابوحریز نے بیان کہ مجھ سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک عورت نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا میری ماں مر گئی۔ اور اس پر پندرہ روزے واجب تھے۔

صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 1835 حدیث متواتر حدیث مرفوع مکررات 5
عبداللہ بن یوسف، مالک، ابی حازم، سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگ ہمیشہ بھلائی کے ساتھ رہیں گے جب تک افطار میں جلدی کریں گے۔

صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 1837 حدیث مرفوع مکررات 3
عبداللہ بن ابی شیبہ، ابواسامہ، ہشام بن عروہ، فاطمہ بنت منذر، اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا سے روایت کرتی ہیں انہوں نے بیان کیا کہ کہ ہم لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک ابر آلود دن میں افطار کیا پھر آفتاب نکل آیا، ہشام سے پوچھا گیا کہ ان لوگوں کو قضا کا حکم دیا گیا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اس کے سوا کیا چارہ کار ہے اور معمر نے بیان کیا میں نے ہشام سے سنا کہ مجھے معلوم نہیں کہ ان لوگوں نے اس نے روزے کی قضا کی یا نہیں۔

صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 1851 حدیث متواتر حدیث مرفوع مکررات 6
محمد، ابوخالد احمر، حمید بیان کرتے ہیں کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے روزوں کے بارے میں متعلق دریافت کیا تو انہوں نے کہا کہ میں کسی مہینہ میں آپ کو روزہ کی حالت میں دیکھنا چاہتا تو دیکھ لیتا اور افطار کی حالت میں دیکھنا چاہتا تو یہ بھی دیکھ لیتا اور رات کو بیداری کی حالت میں اور سوئے ہوئے جس حال میں دیکھنا چاہتا دیکھ لیتا، اور کوئی خز یاحریر ریشمیں کپڑے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتھیلی سے زیادہ نرم و نازک نہیں دیکھا اور نہ مشک اور عنبر کی خوشبو سونگھی جو رسول اللہ کی خوشبو سے پاکیذہ اور بہتر ہو۔

صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 1859 حدیث مرفوع مکررات 14
ابومعمر، عبدالوارث، ابوالتیاح، ابوعثمان، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ مجھے میرے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم نے تین باتوں کی وصیت فرمائی ہر مہینے میں تین دن روزے رکھنا، چاشت کی دو رکعتیں پڑھنا اور سونے سے پہلے وتر کی وصیت فرمائی۔

صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 1870 حدیث متواتر حدیث مرفوع مکررات 68
موسی بن اسماعیل، وہیب، عمرو بن یحیی اپنے والد سے وہ ابوسعیدخدری رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ کے دن روزہ رکھنے سے منع فرمایا اور صماء اور ایک کپڑے میں احتباء کرنے سے اور فجر اور عصر کے بعد نماز پڑھنے سے منع فرمایا۔

صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 1874 حدیث متواتر حدیث موقوف مکررات 3
محمد بن بشار، غندر، شعبہ، عبداللہ بن عیسیٰ، زہری، عروہ عائشہ رضی اللہ عنہا وسالم دونوں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایام تشریق میں روزہ رکھنے کی اجازت نہیں دی گئی مگر اس کے لئے جس کے پاس قربانی کا جانور نہ ہو۔

صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 1884 حدیث مرفوع مکررات 57
یحیی، بن بکیر، لیث، عقیل، ابن شہاب، ابوسلمہ، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ وہ شخص جو رمضان کی راتوں میں ایمان کے ساتھ ثواب کی نیت سے کھڑا ہو تو اس کے اگلے گناہ بخش دئیے جاتے ہیں۔

صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 1885 حدیث مرفوع حدیث موقوف مکررات 57
عبداللہ بن یوسف، مالک، ابن شہاب، حمید بن عبدالرحمن، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص رمضان کی راتوں میں ثواب کے لئے ایمان کے ساتھ (عبادت کے لئے) کھڑا ہو، تو اس کے اگلے گناہ بخش دئیے جاتے ہیں۔ ابن شہاب کا بیان ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوگئی اور حالت یہی رہی، پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی ابتدائی خلافت کے زمانہ میں یہی حال رہا
اور بسند ابن شہاب، عروہ بن زبیر، عبدالرحمن بن عبدالقاری منقول ہے عبدالرحمن نے بیان کیا کہ میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ رمضان کی ایک رات مسجد کی طرف نکلا، وہاں لوگوں کو دیکھا کہ کوئی الگ نماز پڑھ رہا ہے اور کہیں ایک شخص نماز پڑھ رہا ہے تو اس کے ساتھ کچھ لوگ نماز پڑھتے ہیں، عمر نے فرمایا کہ میرا خیال ہے کہ ان سب کو ایک قاری پر متفق کروں تو زیادہ بہتر ہوگا پھر اس کا عزم کر کے ان کو ابی بن کعب پر جمع کر دیا۔ پھر میں ان کیساتھ دوسری رات میں نکلا لوگ اپنے قاری کیساتھ نماز پڑھ رہے تھے، عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ یہ اچھی بدعت ہے، اور رات کا وہ حصہ یعنی آخری رات جس میں لوگ سو جاتے ہیں اس سے بہتر ہے جس میں کھڑے ہو جاتے ہیں اور ابتدائی حصہ میں کھڑے ہوتے تھے۔

صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 1886 حدیث متواتر حدیث مرفوع مکررات 16
اسماعیل، مالک، ابن شہاب، عروہ بن زبیر، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی اور یہ رمضان میں ہوا تھا۔
ح، یحیی بن بکیر، لیث، عقیل، ابن شہاب، عروہ سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک درمیانی رات میں (رمضان کی) نکلے۔ آپ نے مسجد میں نماز پڑھی اور لوگوں نے بھی آپ کے پیچھے نماز پڑھی۔ صبح کو لوگوں نے اس کا ایک دوسرے پر چرچا کیا۔ دوسرے دن اس سے زیادہ لوگ جمع ہوئے اور آپ کے ساتھ نماز پڑھی پھر صبح ہوئی تو اس کو لوگوں نے ایک دوسرے سے بیان کیا۔ تیسری رات میں اس سے زیادہ آدمی جمع ہوئے۔چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے۔ آپ نے نماز پڑھی تو لوگوں نے بھی آپ کے ساتھ نماز پڑھی، جب چوتھی رات آئی تو مسجد میں لوگوں کا اس میں سمانا دشوار ہو گیا لیکن آپ صبح کی نماز کے لئے نکلے جب صبح کی نماز ادا کی تو لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا! امابعد، مجھ سے تم لوگوں کی موجودگی پوشیدہ نہیں تھی، لیکن مجھے خوف ہوا کہ کہیں تم پر فرض نہ ہو جائے، اور تم اس کے ادا کرنے سے عاجز آجاؤ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی اور حالت یہی رہی

صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 1887 حدیث متواتر حدیث مرفوع مکررات 143
اسماعیل، مالک، سعید مقبری، ابوسلمہ بن عبدالرحمن سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے (ابوسلمہ) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی نماز رمضان میں کیسی تھی۔ انہوں نے جواب دیا کہ رمضان میں اور اس کے علاوہ دونوں میں گیارہ رکعتوں سے زیادہ نہ بڑھتے تھے۔ چار رکعتیں پڑھتے تھے۔ ان کے طول و حسن کو نہ پوچھو۔ پھر چار رکعتیں پڑھتے جن کے طول و حسن کا کیا کہنا۔ پھر تین رکعتیں پڑھتیں تھے۔ تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ آپ وتر پڑھنے سے پہلے سو جاتے ہیں، آپ نے فرمایا کہ اے عائشہ رضی اللہ عنہا میری دونوں آنکھیں سوتی ہیں لیکن میرا دل نہیں سوتا۔

صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 1888 حدیث مرفوع مکررات 3
علی بن عبداللہ ، سفیان، زہری، ابوسلمہ، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا جس نے ایمان کیساتھ ثواب کی نیت سے رمضان کے روزے رکھے اسکے اگلے گناہ بخش دئیے جاتے ہیں اور جو شب قدر میں ایمان کے ساتھ ثواب کی نیت سے (عبادت کے لئے) کھڑا ہوا تو اس کے اگلے گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں۔ سلیمان بن کثیر نے زہری سے اس کی متابعت میں روایت کی۔

صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 1889 حدیث مرفوع مکررات 10
عبداللہ بن یوسف، مالک، نافع، ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے چند لوگوں کو شب قدر خواب میں آخری سات راتوں میں دکھلائی گئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں دیکھتا ہوں کہ تمہارے خواب آخری سات راتوں میں متفق ہو گئے ہیں، اس لئے جو شخص اس کا تلاش کرنے والا ہے اس کو آخری سات راتوں میں تلاش کرے۔

صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 1890 حدیث مرفوع مکررات 21
معاذ بن فضالہ، ہشام، یحیی، ابوسلمہ سے روایت کرتے ہیں کہ ابوسعید جو میرے دوست تھے۔ ان سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رمضان کے درمیانی عشرے میں اعتکاف کیا، آپ بیس کی صبح کو باہر نکلے اور ہم لوگوں کو خطبہ سنایا فرمایا کہ مجھے شب قدر دکھائی گئی پھر میں اسے بھول گیا یا یہ فرمایا کہ میں بھلا دیا گیا۔ اس لئے اسے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرو اور میں نے خواب میں دیکھا کہ میں پانی اور کیچڑ میں سجدہ کر رہا ہوں، اسلئے جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اعتکاف کیا ہے واپس ہو جائے اور آسمان میں بدلی کا کوئی ٹکڑا بھی ہم کو نظر نہیں آرہا تھا کہ بادل کا ایک ٹکڑا نمودار ہوا اور بارش ہونے لگی، یہاں تک کہ مسجد کی چھت سے پانی بہنے لگا۔ جو کھجور کی ٹہنیوں سے بنی ہوئی تھی اور نماز پڑھی گئی، تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پانی اور کیچڑ میں سجدہ کرتے ہوئے دیکھا یہاں تک کہ آپکی پیشانی میں مجھے کیچڑ کا اثر دکھائی دیا۔
صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 1890 حدیث مرفوع مکررات 21
معاذ بن فضالہ، ہشام، یحیی، ابوسلمہ سے روایت کرتے ہیں کہ ابوسعید جو میرے دوست تھے۔ ان سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رمضان کے درمیانی عشرے میں اعتکاف کیا، آپ بیس کی صبح کو باہر نکلے اور ہم لوگوں کو خطبہ سنایا فرمایا کہ مجھے شب قدر دکھائی گئی پھر میں اسے بھول گیا یا یہ فرمایا کہ میں بھلا دیا گیا۔ اس لئے اسے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرو اور میں نے خواب میں دیکھا کہ میں پانی اور کیچڑ میں سجدہ کر رہا ہوں.

صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 1891 حدیث مرفوع مکررات 5
قتیبہ بن سعید، اسماعیل بن جعفر، ابوسہیل، اپنے والد سے وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شب قدر کو رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرو۔

صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 1892 حدیث مرفوع مکررات 21
ابراہیم بن حمزہ، ابن ابی حازم، دراوردی، یزید بن محمد ابراہیم، ابوسلمہ، حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے درمیانی عشرے میں اعتکاف کرتے تھے۔ جب بیسویں رات گزر جاتی اور اکیسویں رات آجاتی تو اپنے گھر کو واپس آجاتے اور جو لوگ آپ کے ساتھ اعتکاف میں ہوتے وہ بھی واپس ہو جاتے ایک مرتبہ ایک رمضان میں آپ اس رات کو اعتکاف میں رہے جس میں آپ واپس ہو جاتے تھے۔ اس کے بعد آپ نے لوگوں کے سامنے خطبہ دیا اور جو کچھ اللہ نے چاہا اس کا حکم دیا پھر فرمایا میں اس عشرے میں اعتکاف کرتا تھا مگر اب آشکارا ہوا کہ اس آخری عشرے میں اعتکاف کروں، اس لئے جو لوگ میرے ساتھ اعتکاف میں ہیں وہ اپنے اعتکاف کی جگہ میں ٹھہرے رہیں اور مجھے خواب میں شب قدر دکھائی گئی، پھر وہ مجھ سے بھلا دی گئی۔ اس لئے اسے آخری عشرے اور ہر طاق راتوں میں تلاش کرو اور میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ پانی اور کیچڑ میں سجدہ کر رہا ہوں پھر رات میں آسمان سے پانی برسا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نماز پڑھنے کی جگہ سے مسجد ٹپکنے لگی وہ اکیسویں کی رات تھی میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ آپ نماز صبح سے فارغ ہوئے اور آپ کا چہرہ کیچڑ اور پانی سے بھر ہوا تھا۔

صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 1893 حدیث مرفوع مکررات 5
محمد بن مثنیٰ، یحیی، ہشام، عروہ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتی ہیں کہ آپ نے فرمایا شب قدر کو ڈھونڈو۔

صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 1894 حدیث مرفوع مکررات 5
محمد، عبدہ، ہشام بن عروہ، عروہ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ شب قدر کو رمضان کے آخری عشرے میں تلاش کرو۔

صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 1895 حدیث مرفوع مکررات 3
موسی بن اسماعیل، وہیب، ایوب، عکرمہ، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ یہ شب قدر کو رمضان کے آخری عشرے میں تلاش کرو، اور شب قدر ان راتوں میں، جب نو یا سات یا پانچ (راتیں) باقی رہ جائیں۔ عبدالوہاب نے ایوب سے اور خالد نے بواسطہ عکرمہ، ابن عباس رضی اللہ عنہ روایت کی، کہ چوبیسویں رات میں تلاش کرو۔

صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 1896 حدیث مرفوع مکررات 3
عبداللہ بن ابی الاسود، عبدالواحد، عاصم، ابی مجلز وعکرمہ، ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ شب قدر آخری عشرے میں سے جب نو راتیں گزر جائیں یا سات راتیں باقی رہ جائیں۔

صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 1897 حدیث مرفوع مکررات 3
محمد بن مثنیٰ، خالد بن حارث، حمید، انس، عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے تاکہ ہمیں شب قدر کے بارے بتائیں (کہ کس رات میں ہے) دو مسلمان آپس میں جھگڑنے لگے۔ آپ نے فرمایا کہ میں اس لئے نکلا تھا کہ تمہیں شب قدر کے بارے میں بتاؤں لیکن فلاں فلاں شخص جھگڑنے لگے اس لیے اس کا علم مجھ سے اٹھا لیا گیا اور ممکن ہے کہ اس میں تمہاری بہتری ہو، اس لیے اس کو آخری عشرے کی نویں، ساتویں اور پانچویں راتوں میں تلاش کرو۔

صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 1898 حدیث مرفوع مکررات 8
علی بن عبداللہ ، سفیان، ابویعفور، ابوالضحیٰ، مسروق، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ جب آخری عشرہ آجاتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنا تہہ بند مضبوط باندھتے (بہت زیادہ مستعد ہو جاتے) رات کو خود جاگتے اور گھر والوں کو بھی جگاتے۔

صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 1899 حدیث مرفوع مکررات 22
اسمعیل بن عبداللہ ، ابن وہب، یونس، نافع، عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف کیا کرتے تھے۔
صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 1900 حدیث مرفوع مکررات 29
عبداللہ بن یوسف، لیث، عقیل بن شہاب، عروہ بن زبیر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا زوجہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف کرتے تھے، یہاں تک کہ اللہ نے آپ کو اٹھا لیا پھر آپ کے بعد آپ کی بیویاں بھی اعتکاف کرتی تھیں۔

صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 1902 حدیث مرفوع مکررات 122
محمد بن مثنیٰ، یحیی ، ہشام، عروہ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنا سر میری طرف جھکا دیتے، اس حال میں کہ آپ مسجد میں معتکف ہوتے اور میں اس میں کنگھی کرتی درآںحالانکہ میں حائضہ تھی۔

صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 1903 حدیث مرفوع مکررات 27
قتیبہ، لیث، ابن شہاب، عروہ، عمرہ بنت عبدالرحمن حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا زوجہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا سر میری طرف جھکا دیتے، حالانکہ آپ مسجد میں (حالت اعتکاف میں) ہوتے اور میں اس میں کنگھی کرتی اور جب اعتکاف میں ہوتے تو بغیر کسی ضرورت کے گھر میں داخل نہ ہوتے۔

صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 1908 حدیث مرفوع مکررات 13
ابوالیمان، شعیب، زہری، علی بن حسین، حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا زوجہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ملاقات کی غرض سے آئیں، اس وقت آپ مسجد میں رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف میں تھے، آپ کے نزدیک تھوڑی دیر گفتگو کی، پھر چلنے کو کھڑی ہوئیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کے ساتھ کھڑے ہوئے، تاکہ ان کو پہنچا دیں یہاں تک کہ باب ام سلمہ کے پاس مسجد کے دروازے تک پہنچیں، دو انصاری مرد گزرے ان دونوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ تم دونوں ٹھہرو، یہ صفیہ بنت حیی (میری بیوی) ہے۔ دونوں نے کہا سبحان اللہ یا رسول اللہ! آپ کے متعلق کوئی بد گمانی ہو سکتی ہے، ان دونوں پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا شاق گزرا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ شیطان خون کی طرح انسان کے جسم میں پھرتا ہے اور مجھے خوف ہوا کہ کہیں وہ تمہارے دلوں میں بد گمانی پیدا نہ کرے۔

صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 1917 حدیث مرفوع مکررات 11
عبداللہ بن ابی شیبہ، ابوبکر، ابوحصین، ابوصالح، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہر رمضان میں دس دن اعتکاف کرتے تھے، جب وہ سال آیا جس میں آپ کی وفات ہوئی تو بیس دن اعتکاف کیا۔

صحیح مسلم:جلد دوم:حدیث نمبر 1 حدیث مرفوع مکررات 57
یحیی بن ایوب، قتیبہ، ابن حجر، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جب رمضان المبارک آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور دوزخ کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں اور شیاطین کو قید کردیا جاتا ہے۔

صحیح مسلم:جلد دوم:حدیث نمبر 24 حدیث مرفوع مکررات 15
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، ابوبکر، وکیع، علی بن مبارک، یحیی بن ابن کثیر، ابی سلمہ، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تم رمضان المبارک سے نہ ایک دن اور نہ ہی دو دن پہلے روزہ رکھو سوائے اس آدمی کے جو اس دن روزہ رکھتا تھا تو اسے چاہیے کہ وہ رکھ لے۔
صحیح مسلم:جلد دوم:حدیث نمبر 56 حدیث مرفوع مکررات 5
قتیبہ بن سعید، لیث، موسیٰ بن علی، ابی قیس، مولی عمرو بن عاص، حضرت عمر بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہمارے روزے اور اہل کتاب کے روزے کے درمیان سحری کھانے کا فرق ہے۔

صحیح مسلم:جلد دوم:حدیث نمبر 81 حدیث متواتر حدیث مرفوع مکررات 25
ابوبکر بن ابی شیبہ، علی بن مسہر، عبید اللہ بن عمر، قاسم، سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روزہ کی حالت میں میرا بوسہ لے لیا کرتے تھے اور تم میں سے کون ہے جو اپنے جذبات کو قابو میں کر سکے جس طرح کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے جذبات پر کنٹرول تھا۔

صحیح مسلم:جلد دوم:حدیث نمبر 82 حدیث متواتر حدیث مرفوع مکررات 25
یحیی بن یحیی، ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، یحیی، ابومعاویہ، اعمش، ابراہیم، اسود، علقمہ، سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ روزہ کی حالت میں اپنی ازواج مطہرات کو بوسہ لے لیا کرتے تھے اور روزہ کی حالت میں ان سے بغلگیر ہو جایا کرتے تھے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو تم میں سے سب سے زیادہ اپنے جذبات کو کنٹرول میں رکھنے والے تھے۔

صحیح مسلم:جلد دوم:حدیث نمبر 191 حدیث موقوف مکررات 14
قتیبہ بن سعید، بکر یعنی ابن مضر، عمرو بن حارث، بکیر، یزید مولی سلمہ، حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت کریمہ نازل ہوئی (وَعَلَی الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْکِينٍ) اور جو لوگ روزہ رکھنے کی طاقت رکھتے ہوں وہ روزہ کے بدلہ میں ایک مسکین کو کھانا کھلا دیں جس آدمی کا روزہ چھوڑنے کا ارادہ ہوتا تو وہ فدیہ دے دیتا یہاں تک کہ اس کے بعد والی آیت نازل ہوئی جس نے اس حکم کو منسوخ کردیا۔

صحیح مسلم:جلد دوم:حدیث نمبر 203 حدیث مرفوع مکررات 14
علی بن حجر، علی بن مسہر، ابوالحسن، عبداللہ بن عطاء، حضرت عبداللہ بن بریدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ایک عورت آئی اور اس نے عرض کیا کہ میں نے اپنی ماں پر ایک باندی صدقہ کی تھی اور وہ فوت ہوگئی ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تیرا اجر لازم ہے اور وراثت نے تجھ پر اسے لوٹا دیا اس عورت نے عرض کیا کہ اس پر ایک ماہ کے روزے بھی لازم تھے کیا میں اس کی طرف سے روزے رکھوں؟ آپ نے فرمایا تو اس کی طرف سے روزے رکھ لے اس عورت نے عرض کیا کہ میرں ماں نے حج نہیں کیا تھا کیا میں اس کی طرف سے حج بھی کر لوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اس کی طرف سے حج بھی کر لے۔

صحیح مسلم:جلد دوم:حدیث نمبر 208 حدیث مرفوع مکررات 7
ابوبکر بن ابی شیبہ، عمروناقد، زہیر بن حرب، سفیان بن عیینہ، ابی زناد، اعرج، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کسی کو کوئی کھانے کی طرف بلائے اس حال میں کہ وہ روزہ دار ہو تو اسے چاہئے کہ وہ کہے کہ میں روزہ دار ہوں۔

صحیح مسلم:جلد دوم:حدیث نمبر 212 حدیث قدسی مکررات 26
محمد بن رافع، عبدالرزاق، ابن جریج، عطاء، ابی صالح، حضرت اب صالح زیات سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ عزوجل فرماتے ہیں کہ ابن آدم کا ہر عمل روزوں کا علاوہ اسی کے لئے ہے اور روزہ خاص میرے لئے ہے اور میں ہی روزوں کا بدلہ دوں گا اور روزہ ڈھال ہے تو جب تم میں سے کوئی روزہ رکھے تو وہ اس دن نہ بے ہودہ گفتگو کرے اور نہ کوئی فحش کام کرے اور اگر کوئی اسے گالی دے یا اس سے جھگڑے تو اسے چاہئے کہ وہ آگے سے کہہ دے کہ میں روزہ سے ہوں میں روزہ سے ہوں قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جان ہے کہ روزہ رکھنے والے کے منہ کی بو اللہ کے ہاں قیامت کے دن مشک کی خوشبو سے زیادہ خوشبودار ہوگا اور روزہ رکھنے والے کے لئے دو خوشیاں ہیں جس کی وجہ سے وہ خوش ہوگا جب روزہ افطار کرتا ہے تو وہ اپنی اس افطاری سے خوش ہوتا ہے جب وہ اپنے رب سے ملے گا تو وہ اپنے روزہ سے خوش ہوگا۔

صحیح مسلم:جلد دوم:حدیث نمبر 213 حدیث قدسی مکررات 26
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابومعاویہ، وکیع، اعمش، زہیر بن حرب، جریر، اعمش، ابوسعید، وکیع، اعمش، ابی صالح، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابن آدم کے ہر عمل میں سے نیک عمل کو دس گنا تک بڑھا دیا جاتا ہے۔ اللہ نے فرمایا سوائے روزے کے کیونکہ وہ میرے لئے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا کیونکہ روزہ رکھنے والا میری وجہ سے اپنی شہوت اور اپنے کھانے سے رکا رہتا ہے۔ روزہ رکھنے والے کے لئے دوخوشیاں ہیں ایک اسے افطاری کے وقت خوشی حاصل ہوتی ہے اور دوسری خوشی اپنے رب عزوجل سے ملاقات کے وقت حاصل ہوگی اور روزہ رکھنے والے کے منہ کی بو اللہ عزوجل کے ہاں مشک کی خوشبو سے زیادہ پاکیزہ (خوشبودار) ہے۔

صحیح مسلم:جلد دوم:حدیث نمبر 217 حدیث مرفوع مکررات 14
محمد بن رمح بن مہاجر، لیث، ابن ہاد، سہیل بن ابی صالح، نعمان بن ابی عیاش، حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو بندہ بھی اللہ تعالی کے راستے میں ایک دن روزہ رکھتا ہے اللہ تعالی اس دن کی وجہ سے اس کے چہرے کو دوزخ کی آگ سے ستر سال کی دوری کے برابر کر دے گا۔
صحیح مسلم:جلد دوم:حدیث نمبر 264 حدیث مرفوع مکررات 6
یحیی بن ایوب، قتیبہ بن سعید، علی بن حجر، اسماعیل، ابن ایوب، اسماعیل بن جعفر، سعد بن سعید بن قیس، عمر بن ثابت بن حارث خزرجی، حضرت ابوایوب انصاری سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان کیا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جو آدمی رمضان کے روزے رکھے پھر اس کے بعد شوال کے چھ روزے رکھے یہ ہمیشہ روزے رکھنے کی طرح ہے۔

صحیح مسلم:جلد دوم:حدیث نمبر 267 حدیث مرفوع مکررات 10
یحیی بن یحیی، مالک بن نافع، حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ میں سے کچھ آدمیوں کو خواب میں رمضان کے آخری ہفتہ میں لیلة القدر دکھائی گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میں دیکھتا ہوں کہ تمہارا خواب میں دیکھنا آخری سات راتوں کے مطابق ہے تو جو آدمی لیلة القدر کو حاصل کرنا چاہتا ہے تو اسے چاہئے کہ وہ اسے آخری سات راتوں میں تلاش کرے۔

صحیح مسلم:جلد دوم:حدیث نمبر 271 حدیث مرفوع مکررات 10
محمد بن مثنی، محمد بن جعفر، شعبہ، عقبہ، ابن حریث، حضرت ابن عمر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا لیلةالقدر کو رمضان کے آخری عشرہ میں تلاش کرو کیونکہ اگر تم میں سے کوئی کمزور ہو یا عاجز ہو تو ہو آخری سات راتوں میں سستی نہ کرے۔

صحیح مسلم:جلد دوم:حدیث نمبر 280 حدیث مرفوع مکررات 21
محمد بن مثنی، ابوبکر بن خلاد، عبدالاعلی، سعید، ابی نضرہ، حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رمضان کے درمیانی عشرہ میں اعتکاف فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لیلة القدر کے ظاہر ہونے سے پہلے اسے تلاش کیا راوی کہتے ہیں کہ جب درمیانی عشرہ پورا ہوگیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خیمہ کو نکالنے کا حکم فرمایا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آگاہ کیا گیا کہ لیلةالقدر آخری عشرہ میں ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر خیمہ لگانے کا حکم فرمایا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کے پاس تشریف لائے اور فرمایا اے لوگوں مجھے لیلةالقدر کے بارے میں بتایا گیا تھا اور میں اس کی خبر دینے کے لئے نکلا تھا کہ دو آدمی لڑتے ہوئے نظر آئے ان کے ساتھ شیطان تھا تو میں اسے بھول گیا ہوں تو اب تم لیلةالقدر کو رمضان کے آخری عشرہ نویں، ساتویں اور پانچویں رات میں تلاش کرو راوی کہتا ہے کہ میں نے کہا ابوسعید ہم سے زیادہ گنتی کو تم جانتے ہو تو وہ کہنے لگے کہ ہاں اس بارے میں ہم تم سے زیادہ حق رکھتے ہیں راوی نے کہا کہ میں نے عرض کیا کہ نویں اور ساتویں اور پانچویں کا کیا مطلب ہے؟ انہوں نے فرمایا حضرت ابوسعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ اکیسویں رات گزارنے کے بعد جو بائیسویں رات آتی ہے وہی نویں رات ہے اور جب بائیسویں رات گزارنے کے بعد چوبیسویں رات آتی ہے وہی ساتویں رات ہے اور جب پچیسویں رات گزارنے کے بعد چھبیسویں رات آتی ہے تو وہی پانچویں رات ہے۔


صحیح مسلم:جلد دوم:حدیث نمبر 281 حدیث مرفوع مکررات 1
سعید بن عمرو بن سہل بن اسحاق بن محمد بن اشعث ابن قیس کندی، علی بن خشرم، ابوضمرہ، ضحاک بن عثمان، ابن خشرم، ضحاک بن عثمان، ابی نضر مولی عمر بن عبید اللہ، بسر ابن سعید، حضرت عبداللہ بن انیس سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے لیلۃ القدر دکھائی گئی پھر اسے بھلا دیا گیا اور میں نے اس کی صبح دیکھا کہ میں پانی اور مٹی میں سجدہ کر رہا ہوں راوی کہتے ہیں کہ تیئسویں رات بارش ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو آپ کی پیشانی اور ناک پر پانی اور مٹی کے نشان تھے حضرت عبید اللہ ابن انیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ تیئسویں رات کو لیلة القدر فرماتے تھے

صحیح مسلم:جلد دوم:حدیث نمبر 283 حدیث مرفوع مکررات 8
محمد بن حاتم، ابن ابی عمر، ابن عیینہ، ابن حاتم سفیان بن عیینہ، عبدة، عاصم بن ابی النجود، حضرت زر بن حبیش رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا اور عرض کیا کہ آپ کے بھائی حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ جو آدمی سارا سال قیام کرے گا تو وہ لیلة القدر کو پالے گا حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ اللہ اس پر رحم فرمائے وہ یہ چاہتے تھے کہ کہیں لوگ ایک ہی رات پر نہ بھروسہ کر کے بیٹھ جائیں ورنہ یقینا وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ لیلةالقدر رمضان میں ہے اور وہ بھی رمضان کے آخری عشرے میں ہے اور وہ رات ستائیسویں رات ہے پھر انہوں نے بغیر استثناء ان شاء اللہ کے بغیر کے قسم کھائی کہ لیلةالقدر ستائیسویں رات ہے میں نے عرض کیا اے ابوالمنذر! آپ یہ بات کس وجہ سے فرما رہے ہیں؟ انہوں نے فرمایا کہ اس دلیل اور نشانی کی بنا پر کہ جس کی خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں دی ہے کہ یہ وہ رات ہے کہ اس رات کے بعد کے دن جو سورج طلوع ہوتا ہے تو اس کی شعائیں نہیں ہوتیں۔

صحیح مسلم:جلد دوم:حدیث نمبر 284 حدیث مرفوع مکررات 8
محمد بن مثنی، محمد بن جعفر، شعبہ، عبدہ بن ابی لبابة، حضرت زر بن حبیش حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ حضرت ابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے لیلةالقدر کے بارے میں فرمایا اللہ کی قسم! میں اس رات کو جانتا ہوں شعبہ نے کہا کہ حضرت ابی فرماتے ہیں کہ مجھے سب سے زیادہ اس بات پر یقین ہے کہ یہ وہی رات ہے کہ جس رات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں قیام کا حکم فرمایا اور وہ ستائیسویں رات ہے شعبہ کو حضرت ابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ان الفاظ میں شک ہے کہ یہ وہی رات ہے کہ جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں حکم فرمایا۔

صحیح مسلم:جلد دوم:حدیث نمبر 294 حدیث متواتر حدیث مرفوع مکررات 8
قتیبہ بن سعید، ابوکامل جحدری، عبدالواحد بن زیاد، قتیبہ، عبدالواحد، حسن بن عبید اللہ، ابراہیم، اسود بن یزید، سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رمضان کے آخری عشرہ میں اتنی ریاضت کرتے تھے کہ اس کے علاوہ اور دنوں میں اتنی ریاضت نہیں کرتے تھے

پاکستانی
08-22-2011, 01:09 AM
جزاک اللہ

اللہ آپ کو جزائے خیر دے ... آمین