PDA

View Full Version : رمضان کااستقبال کریں



شہزادی
08-21-2011, 09:15 PM
رمضان کااستقبال کریں
یہ خداکالاکھ لاکھ شکرواحسان اوربے پایاں کرم ہے کہ اس نے محض اپنے فضل ورحمت سے ہمیں کئ رمضان سے مستفید ہونے کی نعمت مرحمت فرمائی ۔یہ دوسری بات ہے کہ ہم اپنی نالائقیوں اورنااہلی کی وجہ سے رمضان المبارک جیسے خیر کثیر والے مہینہ سے پورافائدہ نہ اٹھاسکے اوراس مبارک مہینہ کو دیگر مہینوں کی طرح لاپرواہی اورغفلت کی نذرکردیا۔اللہ تبارک وتعالیٰ ہماری اس کوتاہی کو معاف فرمائے اورآنے والے رمضان المبارک کی بے پایاں رحمتوں سے مستفید ہونے کی توفیق دے۔آمین
جس طرح انسان کسی بھی تقریب یافنکشن کی تیاری اس کے واقع ہونے پہلے کرتاہے۔عید کی تیاریاں شعبان سے ہی شروع ہوجاتی ہیں۔بقرعید کی تیاریاں کافی پہلے سے لوگ کرنے لگتے ہیں۔ انسانی زندگی میں جو خوشی کے مواقع ہوتے ہیں اس کیلئے طویل عرصے قبل تیاریوں کاآغاز کردیاجاتاہے۔اسی طرح رمضان المبارک جو ایک عظیم اوربابرکت مہینہ ہے جس کے فضائل تمام مہینوں سے زیادہ ہیں اوریہ کہاجائے توغلط نہ ہوگا کہ یہ تمام مہینوں کا سردار ہے۔ بلکہ اس ماہ مبارک کی ایک اورخصوصیت یہ ہے کہ جس طرح کپڑے میلے کچیلے ہونے کے بعد لانڈری یا دھوبی کوصفائی کیلئے دیاجاتاہے ۔خود انسان اپنی جسمانی پاکی وصفائی کا اہتمام کرتاہے ۔اسی طرح سال بھر میں ایک مرتبہ گناہوں اورسیئات کی وجہ سے روح پر جومیل اورگردوغبار آگیاہے اس کو دور کرنے کیلئے اللہ تبارک وتعالیٰ نے ہمیں یہ رمضان کا مہینہ عطافرمایاہے۔ہمیں چاہئے کہ اس مہینہ کو بھرپور طورپر طاعات اورنیکی کے کاموں میں استعمال کرکے اپنی روح کو دوبارہ سے پاکیزہ اورپاک وصاف کرلیں۔
رمضان المبارک کے فضائل ومناقب بے شمار اورحد وحساب سے باہر ہیں۔ توکیااس عظیم بابرکت مہینہ کی تیاری ہمیں قبل از وقت نہیں کرنی چاہئے؟ضرور کرنی چاہئے۔ اگر ہم نہیں کرتے تویہ ہماری ایمانی کمزوری ہے جسے ہمیں دور کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عادات اوراحوال کی سب سے بڑی عالمہ اوررسول اللہ کی خلوتوں کی امین اورجلوتوں کی گواہ ام المومنین حضرت عائشہرضی اللہ عنہا فرماتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب روزہ رکھنے لگتے تھے تو ہم کہتے تھے کہ اب افطار نہیں کریں گے، اور جب روزہ رکھنا چھوڑدیتے تھے تو ہم کہتے تھے کہ اب روزہ نہیں رکھیں گے.اور میں نے نہیں دیکھا ہے کہ رسول اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے علاوہ کسی مہینہ میں مکمل ایک ماہ روزہ رکھا، اور میں نے نہیں دیکھا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ سلم رمضان کے بعد شعبان مہینہ سے زیادہ کسی مہینہ میں روزہ رکھتے ہوں،،
(بخاری کتاب الصوم باب:٥٢حدیث:٧٣٦(
انہیں سے مروی ہے وہ فرماتی ہیں کہ٫٫میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیکھا ہے کہ شعبان سے زیادہ(رمضان کے بعد) کسی مہینہ میں روزہ رکھتے ہوں،چند دن چھوڑ کر پورے ماہ روزہ رکھتے تھے،،
) ترمذی کتاب الصوم باب:٣٧حدیث: ٧٣٦(
انہیں سے مروی ہے کہ٫٫مہینوں میں سب سے زیادہ شعبان میں روزہ رکھناپسند کرتے تھے اور ساتھ ہی رمضان کو بھی ملا لیتے ،، )ابو داؤد کتاب الصوم باب:٥٧حدیث:٢٤٣١(
اسی طرح ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی کہ ٫٫میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو شعبان اور رمضان کے علاوہ کسی اور دو مہینے مسلسل روزہ رکھتے ہوئے نہیں دیکھا ،،(ترمذی کتاب الصوم باب:٣٧حدیث:٧٣٦(
ان حادیث سے معلوم ہوتاہے کہ رمضان المبارک کا اہتمام شعبان بلکہ رجب سے ہی شروع کردیناچاہئے اوراپنے امور اوراوقات کو زیادہ سے زیادہ عبادت کیلئے فارغ کرناچاہئے۔رسول پاک رمضان کے بعد سب سے زیادہ روزے شعبان میں رکھتے تھے تاکہ رمضان سے ایک گونہ مناسبت ہوجائے ویساہرایک شخص اپنی استطاعت کے بقدر کرسکتاہے تاکہ اچانک رمضان کے روزے شاق اوردشوار نہ معلوم ہوں۔
رمضان المبارک اتنابابرکت اورباعظمت مہینہ ہے اوراس میں خداکی رحمتیں اتنی برستی ہیں کہ حضرت جبرئیل نے ایسے شخص کیلئے بددعا کی ہے جورمضان کا مہینہ پائے اوراس کی مغفرت نہ ہو۔یعنی اس مہینہ میں رحمت خداوندی سے محروم وہی شخص ہوسکتاہے جو اپنی کوتاہی ،غفلت اورلاپرواہی کی وجہ سے اس مہینہ کی قدرنہ کرسکے۔لہذا ہمیں اللہ سے دعاکرتے رہناچاہئے کہ اللہ ہمیں رمضان المبارک کا مہینہ نصیب فرمائے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی رمضان کا مہینہ ملنے کی جناب باری تعالیٰ میں دعاکرتے تھے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ رجب کے مہینہ میں دعافرمایاکرتے تھے کہ اے اللہ ہمیں رجب اورشعبان کے مہینہ میں برکت عطافرمااوررمضان نصیب فرما۔
اسلاف کے بارے مین منقول ہے کہ وہ سال کے چھ مہینہ خدا سے دعاکرتے تھے کہ اے اللہ ہمیں رمضان المبارک نصیب فرما۔رمضان میں وہ خدا سے دعاکرتے تھے کہ اے اللہ ہماری عبادتوں کو قبول فرمااوررمضان گزرنے کے بعد وہ خدا سے دعاکرتے تھے کہ اے اللہ ہم سے جوکوتاہیاں اورلغزشتیں رمضان کی عظمت اوراس کے حق کو ادکرنے میں ہوئی ہیں اس سے درگزرفرما۔یہ تواسلاف کاحال تھا جو رمضان المبارک کی عظمت سے واقف تھے۔
ہمیں چاہئے کہ شعبان کے مہینہ میں رجب اورشعبان کے مہینہ میں رمضان کی جوتیاریاں نہ ہوسکیں اس کی خدا سے معافی مانگتے ہوئے اب بقیہ ایام کو رمضان المبارک کی تیاریوں میں گزاراجائے ۔رمضان المبار کی تیاریوں سے یہ قطعی مراد نہیں کہ آپ لباس اورکھانے پینے کی تیاریوں میں مصروف ہوجائیں بلکہ دینی امور کو زیادہ سے زیادہ کرنا ابھی سے شروع کردیں۔ ابھی سے تلاوت قرآن کریم نوافل اورمستحبات کی بجاآوری کااہتمام کرلیں اپنےمحلہ اورپڑوس میں رہنے والوں سے غمگساری کریں۔ یہ دیکھیں کہ آپ کاکوئی پڑوسی بھوکا تونہیں ہے۔کہیں ایساتونہیں کہ کوئی علاج کے اخرجات نہ ہونے کی وجہ سے موت کے منہ میں جارہاہے۔ آج کل کے حالات میں یہ بھی دیکھئے کہ کسی خاندان کے کمانے والے کی گمشدگی اوراس کے قید وبند میں ہونے کی وجہ سے وہ خاندان فاقہ کشی تونہیں کررہاہے۔آج ہمارے معاشرے میں یوں توباتیں کرنے والے بہت ہیں۔ قائدین باریش اوربے ریش دونوں کی کمی نہیں ہے۔ ان کی باتوں میں ایران وتوران اورامریکہ ویورپ کے مسلمانوں کا درد وغم جھلکے گا لیکن وہ امریکہ اوریورپ کے مسلمانوں کی پریشانی پر پریشان ہونے والے قائدین ،زعمائے ملت اورعلمائے کرام اپنے پاس پڑوس کے مسلمانوں کے حالات سے بے خبرہوں گے۔یہ ایک عام غلط فہمی مسلمانوں کے بیچ ہوتی جارہی ہے اورماشاء اللہ بہت سے دیندار اوردینی ذوق رکھنے والے بھی اس کی گرفت میں ہیں کہ وہ پڑوسیوں کے حقوق کا توخیال نہیں رکھتے۔ رشتہ داروں میں جو غریب اورضرورت مند ہیں ان کی پرواہ اورفکر انہیں نہیں ہوتی لیکن ہرسال رمضان میں عمرہ کرنے ضرور جاتے ہیں ۔یاد رکھیں۔رسول اللہ نے پڑوسیوں کے حقوق کی بہت زیادہ تاکید کی ہے۔ خود نبی پاک کاارشاد ہے کہ حضرت جبرئیل نے پڑوسیوں کے حقوق کی مجھ کو اتنی زیادہ تاکید کی کہ مجھے اندیشہ ہوا کہ وہ پڑوسیوں کووراثت میں بھی شریک کردیں گے ۔ حدیث کا مفہوم کچھ ایساہی ہے۔اب اگر رمضان میں بھی ہم نے پڑوسیوں کا خیال نہیں رکھا اوران کو عام دنوں کی طرح چھوڑے رکھاتوکیافائدہ اس بھوکے اورپیاسے رہنے سے۔ کیافائدہ لاکھوں روپئے خرچ کرکے عمرہ کرنے سے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں آتاہے کہ آپ رمضان میں بہت کشادہ دست ہوجایاکرتے تھے اورآپ صلی اللہ علیہ وسلم کاجودوسخا اس ماہ میں بہت زیادہ بڑھ جایاکرتاتھا ۔عموماً دیکھاجاتاہے کہ ہم دروازہ پر آنے والے فقیروں کو توکچھ دے دیتے ہیں لیکن ایسے ضرورت مند لوگ جو شرم وحیا اورخودداری کی وجہ سے مانگ نہیں سکتے ان کا خیال نہیں کرتے۔حالانکہ قرآن کریم میں ایسے لوگوں کو دینے کی زیادہ تاکید آ ئی ہے جو شرم وحیااورخودداری کی وجہ سے مانگتے نہیں لیکن وہ ضرورت مند اورمحتاج بھی ہوتے ہیں۔آج ہم اپنے صدقات وزکوۃ کا بیشتر حصہ ان لوگوں پر لٹاتے ہیں جن قرآن کریم نے لپٹ کر مانگنے والا قراردیا ہے یعنی جب تک کچھ نہ دے دو تب تک وہ جان نہیں چھوڑتے جب کہ زیادہ ضرورت ایسے لوگوں کو دینے کی ہے جو ہمارے سماج اورمعاشرے میں بلکہ ہمارے گھرکے اردگرد ہی ہیں اورشرم وحیا کی وجہ سے نہیں مانگتے۔
آج ہمارا حال یہ ہے کہ ہم نہ رمضان کی عظمت اوراس کے حقوق کو پہچانتے ہیں ،نہ یہ جانتے ہیں کہ رمضان المبارک اللہ تبارک وتعالیٰ کا کتنا بڑا عطیہ اورفضل ومہربانی ہے اس امت پر ،نہ ہمیں اس کی خبر ہے کہ اگر ہم نے رمضان المبارک کی کماحقہ قدر کرکے اورباری تعالی کے حضور رو کر گڑگڑا کر اپنے گناہوں کی معافی طلب کرکے اپنی مغفرت نہیں کرالی توہم حضرت جبرئیل امین کی بددعا کے مصداق ہوں گے مزید برآن اس پر رسول پاک نے آمین کہاہے۔جس مہینہ کو ہمیں نیکیوں کا سیزن ،رحمت الہی لوٹنے کا دورسمجھناچاہئے اوراس کے حصول کیلئے تن من دھن لگادیناچاہئے اب حال یہ ہے کہ رمضان المبارک کو کاروبار اورتجارت کا سیزن سمجھاجاتاہے اورکوشش کی جاتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ روپئے پیسے کمائے جائیں۔ چاہے نماز چھوٹے۔ فرائض چھوٹیں۔واجبات سنن نوافل مستحبات چھوٹیں۔ حق تویہ تھا کہ اس مہینہ کو نیکیوں اورثواب کا اورعنداللہ اجرعظیم کا مہینہ سمجھاجاتا اورپوری کوشش یہ ہوتی کہ بھلے ہی دوپیسے کا نقصان ہو لیکن ثواب اورنیکیوں سے محروم نہ رہاجائے۔ بلکہ ایسے لوگ جو اس مہینہ میں تجارت سے ہٹ کر عبادات میں لگتے ہیں لوگ انہیں بدھو اوربے وقوف اورزمانہ کے تقاضوں سے غافل سمجھتے ہیں۔ سچ کہارسول اللہ ﷺ نے۔بدالاسلام غریباً وسیعود غریباً فطوبی للغرباء
کچھ حدیث برادر محترام ابوعبداللہ کی فضائل شعبان سے لئے گئے ہیں۔ اللہ ان کو جزائے خیر دے آمین