PDA

View Full Version : شبٍ قدر کی تلاش



شہزادی
08-21-2011, 09:27 PM
شب قدر کی تلاش

اس مہینے میں ایک ایسی رات ہے جو ہزار مہینوں سے بہترہے۔ اس سے مراد لیلۃ القدر ہے۔ یعنی وہ رات جس میں قرآن مجید نازل ہوا۔ جیسا کہ خود قرآن مجید میں ارشاد ہوا ہے۔
انا انزلنٰہ فی لیلۃ القدر ۔ وما ادرٰک ما لیلۃ القدر۔ لیلۃ القدر خیر من الف شھر
ہم نے اس قرآن کو شب قدر میں نازل کیا اور تم کیا جانو شب قدر کیا ہے۔ شب قدر ہزار مہینوں سے زیادہ بہتر ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ قرآن مجید کا نزول انسانیت کے لیے عظیم الشان خیر کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس لیے فرمایا گیا کہ وہ رات جس میں یہ قرآن مجید نازل ہوا ہے ہزار مہینوں سے زیادہ بہتر ہے۔ دوسرے الفاظ میں پوری انسانی تاریخ میں کبھی ہزار مہینوں*میں بھی انسانیت کی بھلائی کے لیے وہ کام نہیں ہوا ہے جو اس ایک رات میں ہوا ہے۔ ہزار مہینوں کے لفظ کو گنے ہوئے ہزار نہ سمجھنا چاہئے بلکہ اس سے بہت بڑی کثرت مراد ہے۔ چنانچہ اس رات میں جس آدمی نے اس سے لو لگائی، اس نے بہت بڑی بھلائی حاصل کر لی۔ کیونکہ اس رات بندے کا اللہ کی طرف رجوع کرنا یہی معنی تو رکھتا ہے کہ اسے اس رات کی اہمیت کا پورا پورا احساس ہے اور وہ یہ جانتا ہے کہ اس میں اللہ تعالیٰ* نے بنی نوع انسان پر یہ کتنا بڑا احسان کیا ہے کہ اپنا کلام نازل فرمایا۔ اس لیے جس آدمی نے اس رات میں عبادت کا اہتمام کیا، گویا اس نے اللہ تعالٰی کا شکر ادا کیا اور اپنے عمل سے ثابت کیا کہ اس کے دل میں قرآن مجید کی صحیح قدر و قیمت کا احساس موجود ہے۔
لیلۃ القدر کی تلاش میں حکمت

اس مقام پر یہ بات سمجھ لینی چاہئے کہ لیلۃ القدر کے متعلق یہ وضاحت نہیں کی گئی کہ وہ کون سی رات ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ بتایا ہے وہ بس یہ ہے کہ رہ رات رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں آتی ہے۔ یعنی وہ رات اکیسویں ہو سکتی ہے بائسویں نہیں، تیسویں ہو سکتی ہے چوبیسویں نہیں وعلیٰ ہٰذالقیاس۔ وہ آخری عشرے کی طاق رات ہے۔ یہ فرمانے کے بعد اس بات کو بغیر تعین کے چھوڑ دیا گیا کہ وہ کون سی رات ہے۔ عام طور پر لوگ ستائسویں رمضان کے بارے میں یہ خیال رکھتے ہیں کہ وہ لیلۃ القدر ہے۔ لیکن یہ بات قطعیت کے ساتھ نہیں کہی جا سکتی کہ رمضان کی ستائسویں شب ہی لیلۃ القدر ہے۔ البتہ جو بات تعین کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ وہ آخری عشرے کی کوئی طاق رات ہے۔
لیلۃ القدر کا قطعی تعین نہ کرنے میں یہ حکمت کارفرما نظر آتی ہے کہ آدمی ہر طاق رات میں اس امید پر اللہ کے حضور کھڑا ہو کر عبادت کرے کہ شاید یہی لیلۃ القدر ہے۔ لیلۃ القدر اگر اس نے پائی تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ وہ جس چیز کا طالب تھا وہ چیز اسے مل گئی۔ اس کے بعد اس نے جو چند راتیں اللہ کی عبادت میں گزاریں تو وہ اس کی نیکی میں مزید اضافے کا موجب بنیں گی۔
اس مقام پر ایک اور بات ذہن نشین رہنی چاہئے کہ چونکہ ساری دننا میں رمضان کی تاریخیں ایک نہیں ہوتیں اور ان میں ردو بدل ہوتا رہتا ہے اس لیے یہ بات یقین سے کہنا مشکل ہے کہ کس آدمی کو واقعی وہ اصل رات میسر آ گئی ہے۔ اس لیے ایک طالب صادق کو ہر رمضان میں اسے تلاش کرنا چاہئے۔
رمضان کا جو آخری عشرہ اعتکاف کے لیے مقرر کیا گیا ہے اس میں ایک حکمت یہ بھی ہے کہ اعتکاف کا ثواب آدمی کو الگ ملے اور چونکہ اعتکاف کی حالت میں اس کی تمام طاق راتیں عبادت میں گزریں گی اس لیے اس بات کی توقع کی جا سکتی ہے کہ اسے ان میں*کبھی نہ کبھی وہ رات لازما مل جائے گی۔
بڑی محرومی
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:*جو اس رات کی بھلائی سے محروم رہا، وہ بس محروم ہی رہا (احمد، نسائی(۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر ایک شخص اس رات میں اللہ کی عبادت کے لیے کھڑا نہیں ہوتا تو گویا اسے قرآن مجید کی اس نعمت عظمٰی کا احساس ہی نہیں ہے جو اس رات میں اللہ تعالیٰ نے اتاری تھی۔ اگر اسے اس بات کا احساس ہوتا تو وہ ضرور رات کے وقت عبادت کے لیے کھڑا ہوتا اور شکر ادا کرتا کہ اے اللہ ! یہ تیرا احسان عظیم ہے کہ تو نے مجھے قرآن جیسی نعمت عطا فرمائی۔ بے شک یہ بھی تیرا احسان ہے کہ تو نے مجھے کھانے کے لیے روٹی اور پہنے کے لیے لباس عنایت فرمایا۔ لیکن تیرا اصل احسان عظیم مجھ پر یہ ہے کہ تو نے مجھے ہدایت دی اور دین حق کی روشنی دکھائی۔ مجھے تاریکیوں میں بھٹکنے سے بچایا اور علم حقیقت کی وہ روشن شمع عطا کی جس کی وجہ سے میں دنیا میں سیدھے راستے پر چل کر اس قابل ہوا کہ تیری خوشنودی حاصل کر سکوں۔ پس جس شخص کو اس نعمت کی قدر و قیمت کا احساس ہو گا وہ اس رات میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کے لیے کھڑا ہو گا اور اس کی بھلائی لوٹ لے جائے گا۔ لیکن جو شخص اس رات میں ادائے شکر کے لیے خدا کے حضور کھڑا نہیں ہوا وہ اس کی بھلائی سے محروم رہ گیا اور درحقیقت ایک بہت بڑی بھلائی سے محروم رہ گیا۔

سقراط
08-21-2011, 10:35 PM
زبردست زبردست آخری عشرے کے حوالے سے بہترین مضمون لگایا میں تو رمضان میں ہر طاق رات عبادت کی کوشش کرتا ہوں

پاکستانی
08-21-2011, 11:32 PM
جزاک اللہ



تو غنی از دو عالم من فقیر
روز محشر عذر ہائے من پذیر
گر ثومی بینی حابم ناگریز !
از نگاہ مصطفٰے پنہاں بگیر