PDA

View Full Version : خواتین کےمتعلق نبی رحمت صلی الله علیہ وسلم کے فرامین



زوہا
08-23-2011, 12:26 PM
حضرت ابن عمر رضی الله عنھما سے روایت ہے کہ حضور اقدس صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ عورت چھپا کر رکھنے کی چیز ہے، سو عورت جب نکلتی ہے تو شیطان اس کو اچک لیتا ہے۔
تشریح ۔ اس حدیث شریف میں اوّل تو عورت کا مقام بیان کیاگیا ہے، یعنی وہ چھپاکر رکھنے کی چیز ہے۔ عورت کو بحیثیت عورت گھر کے اندر رہنا لازم ہے اس کے بعد فرمایا کہ جب عورت گھر سے نکلتی ہے تو شیطان اس کی طرف نظریں اٹھا اٹھا کرتاکناشروع کردیتا ہے۔
مطلب یہ ہے کہ جب عورت باہر نکلے گی تو شیطان کی یہ کوشش ہوگی کہ لوگ اس کے خدوخال اور حسن وجمال اور لباس وپوشاک پر نظر ڈال ڈال کر لطف اندوز ہوں،اس کے بعد فرمایا کہ عورت اس وقت سب سے زیادہ الله کے قریب ہوتی ہے جب کہ وہ اپنے گھر کے اندر ہو۔
جن عورتوں کو الله کی نزدیکی کی طلب اور رغبت ہو وہ گھر ہی کے اندر رہنے کو پسند کرتی ہیں اور حتی الامکان گھر سے باہر نکلنے سے گریز کرتی ہیں۔
اسلام نے عورتوں کو ہدایت دی ہے کہ جہاں تک ممکن ہو اپنے گھر کے اندر ہی رہیں، کسی مجبوری سے باہر نکلنے کی جو اجازت دی گئی ہے اس میں متعدد شرائط لگائی ہیں۔ مثلاً خوشبو نہ لگائے، راستہ کے کنارہ سے چلے، باہر نکلتے وقت پورے بدن پر موٹی چادر ڈال کر یا برقع پہن کر نکلے اور بہتر یہی ہے کہ برقع پہنا جائے،سفر شرعی بغیر محرم کے نہ کرے۔
عورت کی عزت، عصمت وعفت پردہ میں ہے
یہ بات سب کو معلوم ہونی چا ہیے کہ اسلام حیا اور شرم، عفت وعصمت غیرت وحمیت والا دین ہے اور دینِ اسلام نے انسانیت کو بہت اونچا مقام عطا فرمایا ہے ۔ انسان اور حیوان میں جو امتیازی فرق ہے وہ اسلام کے احکام کی وجہ سے واضح ہوجاتا ہے ۔ اسلام یہ ہرگز گوارا نہیں کرتا کہ انسان میں حیوانیت آجائے اور چوپایوں کی طرح زندگی گزارے ، مسلمان عورتوں کی عزت گھر کے اندرٹھہرے رہنے اور بلاضرورت باہر نہ نکلنے میں ہے۔
جو عورت خوشبو لگاکر مردوں کے پاس سے گزرے وہ حُکمًا زناکار ہے
حضرت ابو موسیٰ اشعری سے روایت ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ نظر بد ڈالنے والی ہر آنکھ زنا کار ہے اور کوئی عورت جب عطر لگا کر مردوں کی مجلس کے قریب سے گزرے تو وہ ایسی ایسی ہے یعنی زناکار ہے ۔
تشریح۔
اس حدیث میں اوّل تو قاعدہ کلیہ بیان فرمایا کہ بدنظری کرنے والی ہر آنکھ زناکار ہے، یہ حکم مردوں اور عورتوں دونوں کو شامل ہے، جو مرد نامحرم عورتوں کو دیکھے یا جو عورت نامحرم مردوں کو دیکھے ایسے مرد اور عورت کی آنکھ زناکار ہے، اگر چہ یہ اصل زنا نہیں ہے۔ لیکن زنا کے اسباب کو بھی الله کے رسول صلی الله علیہ وسلم نے زنا فرمایا ہے۔
چنانچہ ایک حدیث میں ارشاد فرمایا ہے کہ آنکھوں کا زنا دیکھنا ہے اور کانوں کا زناسننا ہے اور زبان کا زنا بات کرنا ہے اور ہاتھوں کا زنا پکڑنا ہے اور پاؤں کا زنا چل کر جانا ہے۔ اور دل کا زنا ، بدکاری وخواہشات کی تمنا کرنا ہے اور شرمگاہ اس کی امید جھٹلا دیتی ہے یا سچا کردیتی ہے۔
اس سے معلوم ہوا کہ نا محرم مرد اور عورت کا ایک دوسرے پر نظر ڈالنا بھی زنا ہے اور بدنیتی کے ساتھ یا صرف لذت کے لیے نامحرم مرد عورت کا آپس میں بات کرنا اور سننا بھی زنا ہے، کسی نا محرم مرد یا عورت کی طرف بری نیت سے چل کر جانا یا ہاتھ سے چھونا یہ سب زنا ہے اور زنا جس کو حقیقی زنا کہا جاتا ہے وہ دونوں شرمگاہوں کا مل جانا ہے ۔
اس حدیث شریف میں آنکھوں کا زنا بیان فرماکر حضور اقدس صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو عورت خوشبو لگاکر مردوں کی مجلس کے پاس سے گزرے اس کا یہ عمل بھی زنا ہے۔ جاننا چاہیے کسی مرد وعورت میں جب زناکاری کے تعلقات ہوتے ہیں تو فوری طور پر نہیں ہوتے، بلکہ اصل زنا سے پہلے بہت سے ایسے کام کیے جاتے ہیں جو آپس میں قریب سے قریب تر کرتے جاتے ہیں۔
اسی وجہ سے شریعت مطہرہ نے زنا کے دواعی اور محرکات واسباب کو بھی زنا قرار دیا ہے اس لیے عورت کو ہر طرح کے غیر مردوں سے بچ کر رہنا لازم اور ضروری ہے۔ یہاں تک کہ ایسا موقع بھی آنے نہ دے کہ کوئی غیر مرد اس کی خوشبو بھی پا سکے۔
سسرال والے مردوں سے پردہ کی ضرورت
حضرت عقبہ بن عامر سے روایت ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ نامحرم عورتوں کے پاس مت جایا کرو۔ ایک شخص نے عرض کیا یا رسول الله!عورت کے سسرال کے مردوں کے متعلق کیا حکم ہے آنحضرت صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ سسرال کے رشتہ دار تو موت ہیں۔
اس حدیث میں جو سب سے زیادہ قابل توجہ چیز ہے وہ یہ ہے کہ آنحضرت صلی الله علیہ وسلم نے عورت کے سسرال کے مردوں کو موت سے تشبیہ دی ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ عورت اپنے جیٹھ ، دیور اور نندوئی وغیرہ سے اور اسی طرح سسرال کے نا محرم مردوں سے گہرا پردہ کرے۔ یوں تو ہر نامحرم سے پردہ کرنا ضروری ہے، لیکن جیٹھ، دیور اور ان کے دوسرے رشتہ داروں کے سامنے آنے سے اس طرح بچنا ضروری ہے جیسے لوگ موت سے بچنے کو ضروری خیال کرتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ ان رشتہ داروں کے ساتھ بہت زیادہ اختلاط کیا جاتا ہے اور ہنسی دل لگی تک نوبتیں آجاتی ہیں اور شوہر یہ سمجھتا ہے کہ یہ تو اپنے لوگ ہیں، ان سے کیا روک ٹوک کی جائے، لیکن جب دونوں طرف سے جذبات ہوں اور کثرت سے آنا جانا ہو اور شوہر گھر سے باہر ہو تو رفتہ رفتہ خطرہ کی صورت بن جاتی ہے، ان ہی حالات کے پیش نظر آنحضرت صلی الله علیہ وسلم نے سسرال کے مردوں سے بچے رہنے اور سخت پردہ کرنے کی تاکید فرمادی ہے اور ان لوگوں کو موت کے ساتھ تشبیہ دے کر یہ بتا دیا ہے کہ ان لوگوں سے ایسے دور رہو جیسے موت سے دور رہتے ہو۔
ہر قسم کے نامحرموں سے پردہ ضروری ہے
بعض عورتیں اپنے دیور کی چھوٹی عمر میں پرورش کرتی ہیں اور جب وہ بڑا ہو جاتا ہے تو اس سے پردہ کرنے کو برا محسوس کرتی ہیں اور عیب سمجھتی ہیں اور اگرمسئلہ بتایا جاتا ہے کہ یہ نامحرم ہے اس سے پردہ ضروری ہے تو کہتی ہیں کہ اس کو ہم نے چھوٹاسا پالا ہے، رات دن ساتھ رہا ہے، اس سے کیا پردہ ہے؟ یہ بہت بڑے گناہ کی بات ہے کہ آدمی گناہ بھی کرے اور حکم شریعت کے مقابلہ میں حجت بازی پر اتر آئے۔ یوں تو الله کے رسول صلی الله علیہ وسلم نے دیور کو موت کے ساتھ تشبیہ دی ہے اور جہالت کی وجہ سے عورتیں ان کے سامنے آنے کو ضروری سمجھتی ہیں، یہ ہے مسلمان عورتوں کی حقیقت۔
نوٹ۔پردہ حق شرع ہے، شوہر کا حق نہیں، بہت سی عورتیں سمجھتی ہیں کہ شوہر جس سے پردہ کرائے اس سے پردہ کیا جائے اور اسی طرح شوہر جس کے سامنے آنے کو کہے اس کے سامنے آجائیں، یہ سوچ اور سمجھ سراسر غلط ہے ،شوہر یا کسی دوسرے شخص کے کہنے سے گناہ کرنے کی اجازت نہیں ہوتی، خوب سمجھنا چاہیے۔
نابینا سے پردہ کرنے کا حکم
ام المؤمنین حضرت ام سلمہ فرماتی ہیں کہ میں اور میمونہ ہم دونوں رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے پاس تھیں کہ اچانک حضرت عبد الله ابن ام مکتوم سامنے آگئے اور رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے پاس آنے لگے (چونکہ عبد الله نابینا تھے تو ہم دونوں نے ان سے پردہ کرنے کا ارادہ نہیں کیا اور اپنی جگہ بیٹھی رہیں)
رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ان سے پردہ کرو۔ میں نے عرض کیا اے الله کے رسول! کیا وہ نابینا نہیں ہیں جو ہمیں نہیں دیکھ سکتے۔ اس کے جواب میں رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کیا تم دونوں بھی نا بنیا ہو ،کیا تم دونوں ان کو نہیں دیکھ رہی ہو؟
تشریح۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عورتیں بھی جہاں تک ممکن ہو سکے مردوں پر نظر نہ ڈالیں۔ حضرت عبد الله ابن ام مکتوم نابینا تھے، پاک باز صحابی تھے، حضور اقدس صلی الله علیہ وسلم کی دونوں بیویاں نہایت پاک دامن تھیں۔ اس کے باوجودآپ صلی الله علیہ وسلم نے دونوں بیویوں کو حکم فرمایا کہ حضرت عبد الله رضی الله عنہ سے پردہ کریں، یعنی ان پر نظر نہ ڈالیں ۔ حقیقت یہ ہے جہاں بد نظری کا ذرا بھی احتمال نہ تھا وہاں اس قدر سختی فرمائی گئی تو آج کل عورتوں کے لیے اس امر کی کس طرح اجازت ہوسکتی ہے کہ مردوں کو جھانکا تاکا کریں۔
یہ الگ بات ہے کہ اگر کوئی عورت کسی مجبوری سے سفر میں نکلی اور راستہ چلتے ہوئے بلا اختیار راہ گیروں پر نظر پڑ گئی تو وہ دوسری بات ہے، لیکن قصدا وارادة مردوں پر نظر ڈالنا منع ہے ،
سورة نور کی آیت گزر چکی جس میں مردوں اور عورتوں کو نظریں نیچی کرنے کا حکم فرمایا ،اسی سے بیاہ شادی کی قبیح رسم کی ممانعت بھی معلوم ہوئی کہ جب دولہا دلھن کو لے کر رخصت ہونے لگتا ہے تو اس کو سلامی کے لیے اندر بلایا جاتا ہے اور وہاں پر عورتیں خواہ وہ دور دراز سے آنے والی ہی کیوں نہ ہوں سب دولہا کو دیکھتی ہیں اور سالیاں اس سے مذاق کرتی ہیں۔ کوئی اس کا جوتا چھپاتی ہے اور کوئی اس کے منہ میں چونا لگاتی ہے،
اس طرح عورتوں کے بھرے مجمع میں ایک غیر محرم مرد کا آجانا ،جو جوانی سے بھر پور ہو اور بہترین لباس وپوشاک پہنے ہوئے ہو ،یہ کسی طرح بھی درست نہیں ہے ۔ جبکہ عورتوں کا مقصد صرف دولھا کو دیکھنا ہوتا ہے اوریہی وجہ ہے کہ سلامی کی مجلس برخواست ہونے کے بعد عورتیں بڑی دلچسپی سے دولھا کی شکل وصورت ، لباس وپوشاک پر تبصرہ کرتی ہیں۔
نیک عورت دنیا کی بہترین شئے ہے
حضرت عبد الله بن عمرروایت کرتے ہیں کہ حضور صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ پوری دنیا نفع حاصل کرنے کی چیز ہے اور دنیا کی چیزوں میں سب سے بہتر چیز، جس سے نفع حاصل کیا جاوے، نیک عورت ہے ۔
دیکھنے میں انسان بحیثیت انسان سب کے اعضاء وجوارح یکساں ہیں اگر چہ شکل وصورت میں مختلف ہیں، مگر ایک انسان کو اس کے ایمان واخلاق حسنہ اور اعمال صالحہ کی وجہ سے دوسرے انسان پر فضیلت حاصل ہے، انسان کا کالا ہونا، یا گورا ہونا، یا خاص ملک کا باشندہ ہونا موٹا تازہ ہونا یہ کوئی فضیلت کی بات نہیں اگر آدمی حسن وجمال کے اعتبار سے دوسرے سے بڑھ کر ہو اور رنگ وروپ کے اعتبار سے بہتر ہو، لیکن اس میں اگر کسی کی ہمدردی نہ ہو تو اس کی خوبصورتی اسے انسانیت کے شرف سے متصف نہیں کر سکتی ،
اسی طرح اگر کسی انسان کے پاس مال ودولت بہت زیادہ ہے ،لیکن وہ بد اخلاق ہے ،حریص اور کنجوس ہے تو محض مال کی وجہ سے اسے کوئی امتیازی شان حاصل نہیں ہوسکتی۔ ہاں !اگر کوئی شخص ،خواہ مرد ہو یا عورت ،دین دار ہو یعنی صاحب خلق عظیم، خاتم النبیین حضرت محمد مصطفے صلی الله علیہ وسلم کا متبع ہے۔
آپ کے اخلاق کا پیرو ہے تو وہ باکمال انسان ہے اور انسانیت کے شرف سے مالامال ہے۔ اس کا نفس مہذب ہے، وہ انس والفت کا مجسمہ ہے اور محبت واخوت کا چراغ ہے ،دوسروں کی خاطر تکلیف برداشت کر سکتا ہے۔ احباب واصحاب سے نباہ کا خوگر ہے۔
اس سے جو قریب ہوگا خوش رہے گا ،اس کی الفت اور محبت سفر کے ساتھیوں کو اور گھر کے پڑوسیوں کو گرویدہ کرلے گی۔ اگر ایسے شخص کے ساتھ کسی عورت کا نکاح ہوگیا تو وہ عورت اس کے اخلاق حسنہ اور اعمال صالحہ کی وجہ سے زندگی بھر خوش رہے گی۔
لوگ آج کل دین کو نہیں دیکھتے ،دوسری چیزیں دیکھ کر لڑکی کی شادی کر دیتے ہیں، کوئی تو دنیوی تعلیم دیکھ کر اور کوئی مال ودولت دیکھ کر رشتہ کر دیتا ہے اور کوئی دنیوی عہدہ وملازمت دیکھ کر لڑکی دے دیتا ہے۔ یہ لوگ مسائل نہ جاننے کی وجہ سے تین طلاق دے کر بھی عورت کو اپنے پاس رکھتے ہیں۔
واضح رہے کہ جس طرح شوہر خدا ترس اور د ین دار تلاش کرنے کی ضرورت ہے، اسی طرح یہ بھی ضروری ہے کہ عورت د ین دار تلاش کی جائے، جو اعمال صالحہ کی خوگر ہو مذکورہ حدیث میں یہی مقصود ہے اور اسی مضمون کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ عورت کی د ین داری دیکھ کر نکاح کر لو، اس کا مال وجمال ،نیز مرتبہ وحیثیت نہ دیکھو ،
اگر عورت د ین دار نہ ہوگی تو نہ شوہر کے حقوق ادا کرے گی اور نہ اولاد کو د ین دار بنائے گی۔ شوہر کا مال بے جا اڑائے گی ۔ نامحرموں کے سامنے بے پردہ ہوکر آئے گی، اس واسطے حضور علیہ السلام نے فرمایا ”خیر متاع الدنیا المرأة الصالحة“۔ یعنی دنیا میں نفع حاصل کرنے کی جتنی چیزیں ہیں ان میں سب سے بہتر چیز نیک عورت ہے۔
بہت سے لوگ خوبصورت عورت پر دیوانے ہوجاتے ہیں، اس کی سفید کھال تو دیکھ لیتے ہیں مگر سیاہ قلب کو نہیں دیکھتے ۔ وہ ہے تو دیکھنے میں خوبصورت لیکن نہ روزہ رکھتی ہے ،نہ نماز پڑھتی ہے ،نہ تلاوت پر پابند ہے ۔
غرض دین سے لاتعلق ہے، دن بھر غیبتوں میں مبتلا اور ساس نندوں سے لڑائی میں مشغول رہتی ہے۔ اور شوہر کی پوری آمدنی پر قبضہ کرلیتی ہے ۔چنانچہ آج کل پڑھی لکھی لڑکیاں بھی معاشرہ میں مصیبت بن گئی ہیں ، لڑکیوں کو صرف میٹرک ہی نہیں ،بلکہ بی ائے، ایم اے اور پی ایچ ڈی تک تعلیم دلاتے ہیں،
اب ان کی شادی کے لیے لڑکا تلاش کرتے ہیں اور ایسا شخص تلاش کیا جاتا ہے جو تعلیم میں ان کے برابر یا ان سے زیادہ ہو، ایسا شخص ملتا نہیں، اگر ملتا بھی ہے تو پھر لڑکی والے ان کی شرائط پوری نہیں کر پاتے، اب لامحالہ تیس تیس سال، بلکہ اس سے بھی زیادہ عمر تک کی لڑکیاں یوں گھر بیٹھی رہتی ہیں ۔
شوہر کی اطاعت اور حقوق کے متعلق چند احادیث مبارکہ
الله تعالیٰ نے شوہر کا بڑا حق بتایا ہے اور اس کو بہت بزرگی دی ہے۔شوہر کو راضی کرنا اور خوش کرنا بڑی عبادت ہے۔ اور شوہر کو ناخوش کرنا اور ناراض کرنا بہت بڑا گناہ ہے۔
حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو عورت پانچوں وقت کی نماز پڑھتی رہی اور رمضان المبارک کے روزے رکھتی رہی اور اپنی عزت وآبرو کو بچاتی رہی ،یعنی پاک دامن رہی اور شوہر کی تابع داری اور فرماں برداری کرتی رہی تو اس کو اختیار ہے کہ جس دروازہ سے چاہے جنت میں چلی جائے۔(مشکوٰة 281)
حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا جس عورت کی موت اس حالت میں آئے کہ اس کا شوہر اس سے راضی ہو تو وہ جنتی ہے۔ ( مشکوٰة ص 281، ترمذی ص219)
حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر میں خدا کے سوا کسی اور کو سجدہ کرنے کے لیے کہتا تو عورت کو ضرور حکم دیتا کہ اپنے میاں کو سجدہ کیا کرے۔ )مشکوٰة ص281، ترمذی ص 219)
حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ جب مرد اپنی بیوی کو اپنی حاجت پوری کرنے کے لیے بلائے تو ضرور اس کے پاس آجائے ،اگر چہ چولھے پر بیٹھی ہو ،سب چھوڑ چھاڑ کر چلی آئے۔( مشکوٰة ص281، ترمذی ص219)
حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب کسی مرد نے اپنے پاس اپنی عورت کو لیٹنے کے لیے بلایا اور وہ نہیں آئی، پھر وہ بھی اسی طرح غصہ میں لیٹ گیا تو صبح تک سارے فرشتے اس عورت پر لعنت کرتے رہتے ہیں۔ (مشکوٰة ص 280، بخاری ص782 ج2)
حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا دنیا میں جب کوئی عورت اپنے میاں کو ستاتی ہے تو جو حور قیامت میں اس کی بیوی بنے گی یوں کہتی ہے کہ خدا تیرا ناس کرے تو اس کو مت ستا، یہ تو تیرے پاس مہمان ہے ، تھوڑے دنوں میں تجھ کو چھوڑ کر ہمارے پاس چلا آئے گا۔ (مشکوٰة ص 280، ابن ماجہ ص145)
کسی نے حضور صلی الله علیہ وسلم سے پوچھا کہ یا رسول الله! سب سے اچھی عورت کونسی ہے؟ آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایاکہ وہ عورت جب شوہر اس کی طرف دیکھے تو خوش کردے اور جب کچھ کہے تو بات مانے اور جان ومال میں کچھ اس کے خلاف نہ کرے جو اس کو ناگوار ہو۔ ( مشکوٰة ص283 ،نسائی ص71 ج2)
خدا اور رسول کے بعد سب سے زیادہ حق شوہر کا ہے، واضح رہے کہ دین کے کام اور شریعت کے سوا باقی سب کاموں میں خاوند کا حق سب سے زیادہ ہے ۔ اگر خاوند کا حکم دین کے خلاف ہو تو اب اس کے مقابلہ میں کسی کے حکم کو بھی ترجیح نہ ہوگی لہٰذا خاوند کا حق الله ورسول کے بعد سب سے زیادہ ہے ۔
خاوند اگرایک ایسے کام کا حکم کرے جو شریعت کے خلاف ہے تو ایسی صورت میں خاوند کے حکم کو نہیں مانا جائے گا، بلکہ شریعت کے حکم کودیکھا جائے گا۔

پاکستانی
08-23-2011, 02:17 PM
جزاک اللہ