PDA

View Full Version : کلام از واصف حسین



واصف حسین
08-24-2011, 11:59 AM
ایک آزاد نظم جو میں نے اپنے کالج کے زمانے میں لکھی تھی یہ غالباً 1989 کی بات ہے.

میں ایک اندھیری رات میں
برسوں کی مسافت طے کر کے
گھبرا گھبرا کر
کبھی کبھی
جو تجھے پکاروں
تو یہ لوگ جو ہنستے ہیں
پتھر ماریں
دیوانہ کہہ کے پکاریں
لیکن
میں تیرے ملن کی آس میں
پتھر کھاوں
آوازے سنوں
گلیوں میں پھروں
پر تم ہو کہ
اب تک بھی مجھ سے
پوشیدہ ہو

بےباک
08-24-2011, 01:59 PM
خوب واصف صاحب ، آپ میں بھی شاعرانہ ذوق خوب بھرا ہوا ہے ، بہت ہی خوب جناب
جب کالج کے زمانے میں آپ نے شروعات کی تھیں تو آپ نے مزید بھی کچھ لکھا ضرور ہو گا ،
آپ سے وہ بھی لکھنے کی درخؤاست ہے ،خوب شاعرانہ ذوق پایا ہے آپ نے ،
:-):-):-):-)

تانیہ
08-25-2011, 12:28 AM
واہ
بہت خوب

پاکستانی
08-25-2011, 01:50 AM
ماشاء اللہ

کوئی تازہ کلام سنایئے

واصف حسین
08-25-2011, 05:22 PM
عشاق سب کے سب تھے ہم آواز سرِ محفل
کہ گراں ہیں ہم پہ جاناں تیرے ناز سرِ محفل

ایک میں ہی تھا وہ عاشق جسے تو نہ جان پایا
نہ اٹھا سکے گا کوئی تیرے ناز سرِ محفل

اس زندگی کا کیا ہے میں تو مر کے لوٹ آوں
کبھی دے کے دیکھ مجھ کو تو آواز سرِ محفل

میں چھپا گیا تھا سب سے میرے دل میں*بات تھی جو
میرے رازداں نے کھولا میرا راز سرِ محفل

تیرا دل ہے ایک پنچھی اس کیا خبر کے ہر سو
ہیں دبوچنے کی دھن میں کئی باز سرِ محفل

واصف یہ تیرے دل اداسی ہے کہ محرومی
تجھے کیوں نہیں ہے بھاتا کوئی ساز سرِ محفل

(واصف حسین)
دسمبر 2006

واصف حسین
08-26-2011, 11:52 PM
شک ہے کہ یقیں ہے یہ حقیقت کہ گماں ہے
یہ جسم ہے میرا کہ میری روح بھی یہاں ہے

میں ڈھونڈتا پھرتا تھا جسے ہر سمت جہاں میں
معلوم ہوا اسکا میرے دل میں مکاں ہے

دنیا سے دل لگاتا ہے؟ اسکی اصل ہے یہ
دھوکہ ہے، تماشا ہے، فقط ایک گماں ہے

موت و حیات بھی ہے تیری خام خیالی
گو ختم ہوا جسم، زندگی تو رواں ہے

واصف کا بھی شمار کرو دنیا داروں میں
گو فقر سے لبریز ہی اس کا یہ بیاں ہے

واصف حسین
فروری 2011

پاکستانی
08-27-2011, 01:41 AM
ماشاءاللہ .. بہت خوب واصف بھائی، لاجواب شاعری ہے.

واصف حسین
08-29-2011, 02:23 PM
پسندیدگی کا شکریہ.

بےباک
08-29-2011, 07:51 PM
موت و حیات بھی ہے تیری خام خیالی
گو ختم ہوا جسم، زندگی تو رواں ہے

واصف کا بھی شمار کرو دنیا داروں میں
گو فقر سے لبریز ہی اس کا یہ بیاں ہے

بہت خوب جناب ، زبردست ، بہت اچھی شاعری ہے ،

واصف حسین
08-30-2011, 12:00 AM
بےباک بھائی اور پاکستانی بھائی اس پزیرائی پر آپ کا مشکور ہوں. ایک چھوٹے بحر کی غزل پیش خدمت ہے.

-------------
ہم خود سے ہیں انجان بہت
ہیں اسی لیے ناکام بہت
تو شاہکار ہے قدرت کا
ہے تیری یہی پہچان بہت
کیوں غم اور ماتم کرتے ہو
جگ چھوڑ گئے انسان بہت
جو سجدہ صرف ہو رب کے لیے
وہ سجدہ نہیں آسان بہت
الست کا وعدہ کر تو لیا
اب پوجتا ہے اصنام بہت
واصف تیرے دل کہ یہ حالت
ایمان نہیں، ارمان بہت

واصف حسین
جنوری 2011

واصف حسین
09-06-2011, 10:37 AM
زندگی یاس اور حسرت پہ تو نہیں موقوف
زندگی عیش اور عسرت پہ تو نہیں موقوف

نہ ثروت و رتبہ ہے اور نہ مال و متاع
کامیابی کثرت دولت پہ تو نہیں موقوف

ثواب کے لیے ہر عمل کر رہا ہے تو
ثواب نعمت و جنت پہ تو نہیں موقوف

جہان اور بھی ہیں موت تو ہے رختِ سفر
حیات منزلِ تربت پہ تو نہیں موقوف

یہ تیرے عمل کا انجام ہے ارے واصف
وبال شومئی قسمت پہ تو نہیں موقوف

واصف حسین
ستمبر 2011

تانیہ
09-06-2011, 11:07 AM
واہ واصف حسین جی
بہت خوب

واصف حسین
09-06-2011, 08:57 PM
اتنی سی ہے فقط میرے جیون کی کہانی
پچھتاوا بڑھاپے کا، بے عمل جوانی

یا حذف کر دے باب یہ اعمال کا میرے
یا پھر مجھے لوٹا دے میرا عہدِ جوانی

مقصد تجھے معلوم ہے کیا زیست کا تیری
یا تیری زندگی ہے فقط رزق اور پانی

آسودہ ہوں پر بال ہے اک شیشہِ دل میں
یہ بات مگر دل کے سوا کس نے ہے جانی

ثبت کر کے میرے ہونٹوں پہ خموشی کہ مہر
بتلاتے ہیں محفل میں اپنے دل کی کہانی

واصف ابھی بھی وقت سدھرنے کا ہے باقی
کیا یاد ہے تجھ کو کہ یہ دنیا ہے فانی

واصف حسین
اپریل 2011

محمدمعروف
09-06-2011, 09:15 PM
ماشاء اللہ اشعار کے اندر خوب نصیحتیں کی ہیں آپ نے

این اے ناصر
03-31-2012, 12:39 PM
واہ بہت خوب۔ شکریہ