PDA

View Full Version : پاکستان ۔ پربت سے سمندر تک



واصف حسین
08-24-2011, 12:30 PM
پاکستان ۔ پربت سے سمندر تک

تاحد نگاہ سفیدی ہی سفیدی ہے۔ یوں گماں ہوتا ہے کہ کسی محنتی رنگساز نے پورے ماحول پر چونا پھیر دیا ہو۔یہ چمکتا سفید رنگ یہاں پڑی برف کا ہے۔ جون کے مہینے میں اتنی برف اور ٹھنڈ اور برفیلی ہوائیں۔ یہ قدرت کا ڈیپ فریزر ہے اور یہاں پورا سال ایسی ہی برف موجود رہتی ہے۔ فلک بوس پہاڑیاں اور دل دھلا دینے والی کھائیاں۔ موسم اتنا شدید کہ یہاں سے قریب ترین انسانی بستی ۶ گھنٹے پیدل مسافت پر ہے۔برف، گلیشیر، برفانی دراڑیں، برفانی تودے یہاں کی سوغات ہیں۔اتنے سخت موسم اور حالات میں بھی دنیا کے نایاب جانور یہاں موجود ہیں۔ مارخور، برفانی چیتا اور برفانی لومڑی برفیلے پہاڑوں اور کھائیوں میں بسیرا جمائے ہوئے ہیں۔
اور پھر برف میں کمی آنا شروع ہوتی ہے۔ جو نشیب پہلے گلیشیر نظر آتے تھے اب نالوں کی شکل اختیار کرتے ہیں اور یہی نالے دریاوں کا طفلی وجود ہے۔ برف پوش پہاڑوں کی سنگلاخ چٹانیں نظر آتی ہیں اور پانی رواں دکھائی دیتا ہے۔درخت، پودے نظر نہیں آتے مگر گھاس اور سبزہ شدید موسم کا مقابلہ کر رہا ہے اور جہاں برف ہٹی گھاس نے اپنا فرض نبھانا شروع کردیا۔
اور پھر پہاڑ درختوں سے مزین ہونے لگے مگر یوں کہ جیسے فراک پہنے ہوں۔ایک متوازی لکیر جس سے اوپر کسی درخت کا نشان بھی نہیں اور اس سے نیچے درخت موجود ہیں۔اس کو خطِ اشجار(tree line) کہتے ہیں۔
اب درختوں کے بیچ پتھر کے بنے گھر نظر آتے ہیں۔ پھلدار درخت شدید سردی برداشت کر چکنے کے بعد اب دوبارہ زندگی کی طرف لوٹ رہے ہیں۔ہری ہری باریک کونپلیں عندیہ دے رہی ہیں کہ سردی کا زور ٹوٹ چکا ہے اور بہار کی آمد آمد ہے۔گھروں میں بسنے والے محنت کش کدالیں لیےاور ہل جوتے زمین کا سینہ چیر رہے ہیں۔
برف پوش چوٹیاں اب پس منظر میں نظر آ رہی ہیں اور ہر طرف پھول کھلے ہیں۔ یہ کسی باغ یا پارک میں لگے پھول نہیں بلکہ تا حد نگاہ پہاڑوں، وادیوں اور چٹانوں پر اگ آنے والے پھول ہیں۔نیلے نیلے، اودے اودے ، پیلے پیلے پھول گویا بہار کا استقبال ہیں۔یہاں درختوں کی کونپلیں پتوں میں بدل چکی ہیں۔پھلدار درخت پھولوں سے لد گئے ہیں اور گندم کے کھیتوں میں بیج ڈالے جا رہے ہیں۔
صاف شفاف پانی کی جھیلیں آئینے کی طرح جگمگا رہی ہیں۔ مچھلیوں کے شکاری اپنے جال اور کانٹے ڈالے منظر کا حصہ ہیں۔جھیل سے خارج ہونے والا پانی ایک نالے کی شکل میں آگے بڑھ رہا ہے اور نشیب و فراز طے کر کے دریا میں جا گرتا ہے۔دریا کاپانی بھی شفاف ہے اور ایک بل کھاتی سفید لکیر کی طرح نظر آ رہا ہے۔ کہیں یہ بپھرے ہوئے وحشی کی طرح جلال میں نظر آتا ہے تو کہیں آہوِ خوش خرام دکھائی دیتا ہے اور کہیں محسوس ہو تا ہے کہ یہ محو خواب ہے۔

۔۔۔جاری ہے۔۔۔

بےباک
08-24-2011, 01:56 PM
ماشاءاللہ پاکستان کی خوبصورتی کی تفصیل بہت اچھے طریقے سے پیش کرنے پر آپ کا بہت شکریہ ،
ہر علاقے کی سیر کراتے جائیں ، پہاڑوں سے لے کر سمندر تک کا سفر ، یقینا برف پگلنے کے مناظر زبردست ہوتے ہیں اور خود رو پھول اور درخت ، قدرت کا حسین شاھکار ہوتے ہیں ،
بہت اچھی طرح منظر کشی آپ کر رہے ہیں ، ماشاءاللہ ،

پاکستانی
08-25-2011, 01:49 AM
جزاک اللہ ... واصف بھائی
بہت خوب لکھتے ہیں آپ، ہماری اردو پیاری اردو (http://www.oururdu.com/forums) پے کافی ساری تحریریں پڑھی ہیں آپ کی ..... زور قلم اور زیادہ ...... جاری رکھیئے حضور

واصف حسین
09-20-2011, 09:52 AM
(2)
دریا پہاڑوں کے بیچوں بیچ بہہ رہا ہے۔اور پہاڑ کے ساتھ لپٹی سڑک ایک سیاہ لکیر جیسی نظرا ٓ رہی ہے۔اس پر گاہے گاہے کوئی جیپ یا ٹرک نظر آتا ہے۔گاڑی میں سے بھی نظارہ قابل دید ہے۔کہیں پہاڑ سےآتا پانی آبشار کی صورت میں سڑک کے پاس گرتا ہےاور اس کی پھوہار گاڑی پرپڑتی ہے اور کھلے شیشے سے ڈرائیورپر بھی۔نظر اٹھا کر اوپر دیکھیں تو پانی گویا پہاڑ کی چوٹی سے آتا محسوس ہوتا ہے۔اور پھر سڑک کے ساتھ ساتھ چند مکانات، ایک ادھ دوکان اور پھلدار درختوں کے جھنڈ جن پر سبز رنگ کے چھوٹے چھوٹے شگوفے پھل بننے کا عمل شروع کر چکے ہیں۔اور پھر دریا کو پار کرنے کا مقامی بندوبست۔دریا نیچے کہیں گہرائی میں منہ زور گھوڑے کی طرح رواں ہے اور اس کے اوپر ایک مضبوط رسی اور اس رسی پر چرخی سے ڈولتا لکڑی کا تختہ۔مقامی لوگ ایک دوسرے گاؤں آنے کے لیے یہی ڈونگے استعمال کرتے ہیں۔
اور پھر لکڑی کے تختوں اور آہنی رسیوں سے بنایا گیا پل جوکہ گاڑی کے وزن سے جھول رہا ہے۔گاڑی دریا کے اوپر کئی سو فٹ کی بلندی پر معلق ہے اور بپھرے ہوئے دریا کا شور دل دہلا رہا ہے۔گاڑی کی حرکت کے ساتھ پل بھی حرکت کرتا ہے۔آگے سڑک پر مٹی اور پتھر کا ڈھیر ہے اور ایک بلڈوزر اس کو ہٹانے میں مصروف ہے۔یہ تودا پہاڑ کی بلندی سے نیچے آیا ہے۔ یہ پہاڑوں کا اپنی برتری دکھانے کا ایک طریقہ ہے اور انسان اور مشین مل کر اس کو پھر سے ہٹا کر پہاڑوں کو یہ پیغام دیتے ہیں کہ تم بڑے سہی مگر اشرف المخلوقات کے سامنے تمھاری کوئی وقعت نہیں۔بلڈوزر اور اس کو چلانے والا ماہر کاریگر مٹی اور پتھر کے ڈھیر کو ہٹا کر راستہ بنارہا ہے ۔
سڑک پہاڑوں سے ہو کر پھر وادی میں اتر رہی ہے۔پہاڑوں کے بیچوں بیچ یہ نسبتاً ہموار مقام۔دریا بھی گویا پہاڑوں میں غرانے کے بعد وادی میں آرام کر رہا ہے تاکہ اگلے سفر کے لیے تازہ دم ہو جائے ۔ سڑک کے دونوں طرف پھلوں کے درخت اور کھیت ہیں۔ کھیتوں میں گندم اگ آئی ہے اور چھوٹے چھوٹے پودے کھیتوں کی خاکی رنگت کو سبزی مائل کر رہے ہیں۔درختوں کی شاخیں گہرے سبزپتوں اور چھوٹے چھوٹے سبز پھلوں سے لدی ہیں۔ ہر طرف ہریالی کا سماں ہے ۔

۔۔۔جاری ہے۔۔۔

واصف حسین
09-20-2011, 09:54 AM
(3)
پیچ در پیچ سڑک کا سلسلہ پھر شروع ہوتا ہے گویا دم لینے کے بعد ایک بار پھر ہمت انسان کا امتحان شروع ہوا ہے۔ دریا جو وادی کی سیرابی کے لیے چند لمحوں کے لیے پرسکون تھا اگلی وادی کی تلاش میں جھاگ اڑاتا نظر آتا ہے۔ چھوٹے چھوٹے پانی کے دھارے دریا میں مل کراپنی ہستی کو مٹا کر ابدیت حاصل کر رہے ہیں۔عشق بھی عجب شئے ہے کہ میں کو ختم کر کے خواہش وصال میں اپنے وجود سے بھی غافل ہو جاتا ہے اور جب خواہش وصل پوری ہوتی ہے تو عاشق کی اپنی ہستی فنا ہو جاتی ہے مگر وہ دوام پا جاتا ہے۔
آگے ایک دریا اور نظر آ رہا ہے جو یہی سفر کسی دوسرے راستے سے طے کر کے آیا ہے۔دونوں دریا متوازی سفر کر رہے ہیں گویا کہ ایک دوسرے کی قوت کو جانچ رہے ہیں یا یہ فیصلہ کر رہے ہوں کہ کس نے کس میں شامل ہونا ہے۔کس کی ہستی کس میں مدغم ہونی ہے۔دونوں اپنے ظرف کے مطابق کبھی غراتے ہیں اور کہیں سکون کا اظہار کرتے ہیں۔اور آخرکار باہم یکجا ہوتے ہیں اور ایک وجود بن کر اگلی منزل کی طرف رواں ہو جاتے ہیں۔ دریاؤں کی طرح یہاں شاہرائیں بھی ا ٓپس میں ملتی ہیں۔جس شاہراہ پر ہماری پرپیچ سڑک آ کر ملی ہے وہ ایک طرف تو بلندی کی طرف جا کر آخر چین میں داخل ہوتی ہے اور دوسری طرف نیچے کی طرف رخت سفر جاری رکھتی ہے۔
وادی میں گندم کے کھیتوں میں ہریالی ہے۔ ہر طرف سبزہ اور پھول ہیں۔ درخت پھلوں سے لدے ہیں اور دھوپ کی تمازت لے کر پکنے کا عمل شروع کر چکے ہیں۔ اکا دکا پھل زرد رنگت لے چکے ہیں اور جلد ہی اپنی ترشی کو مٹھاس سے بدلنے کے خواہشمند ہیں۔پس منظر میں دیو ہیکل پہاڑ اپنے سروں پر برف کی سفید ٹوپیاں پہنے اپنی عظمت دکھا رہے ہیں۔یہ ایک بڑی وادی ہے اور یہاں خوبصورت سڑکیں اور بازار نظرا ٓ رہے ہیں۔ خوبصورت لباسوں میں ملبوس مقامی لوگوں کے ساتھ ساتھ سیاحوں کا بھی ہجوم ہے۔
سیاح اپنی بساط کے مطابق اپنے پیاروں کے لیے وادی کے یادگار تحفے خرید رہے ہیں۔یہ قیمتی پتھروں کی دکان ہے۔ہیبت ناک اور پرشکوہ پہاڑوں سے نکلنے والے خوبصورت اور بیش قیمت پتھر شیشے کے طاقوں میں رکھے ہیں۔ سرخ، سبز، نیلے، ارغوانی، زرد غرض ہر رنگ کے شفاف نگینے قرینے سے رکھے گئے ہیں۔ساتھ ہی خشک میوہ جات کی دکان ہے۔یہاں کی سخت زندگی) کہ جہاں تازہ میوجات چند ماہ ہی میسر ہوتے ہیں( نے مقامی لوگوں کو میوہ جات خشک کرنے میں مہارت عطا کی ہے۔ دکان میں بادام اور اخروٹ جوکہ ہیں ہی خشک میوے کے علاوہ خوبانی، انجیر اور سیب بھی دستیاب ہیں جو یہاں کے مقامی لوگ سردیوں میں استعمال کے لیے خشک کرتے ہیں۔ساتھ ہی ایک دکان میں مقامی ہاتھوں کا بُنا ہوا کپڑا اور اس سے بنائی گئی خوبصورت پوشاکیں ان ہنرمندوں کی محنت اور مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔

۔۔۔جاری ہے۔۔۔

بےباک
09-21-2011, 09:15 AM
اسے جاری رکھیں ، یہ پاکستان کا سفر نامہ دلچسپ اور معلوماتی ہے ،
اور آپ کا تحریری انداز بہت خوب ہے ،:-):-)

واصف حسین
09-21-2011, 09:21 AM
پسندیدگی کا شکریہ ...دعاؤں میں یاد رکھیں.

واصف حسین
10-25-2011, 01:11 PM
(4)
دریا کے ساتھ ساتھ پیچ و خم کھاتی سڑک رواں ہے۔پہاڑوں پر لپٹی سڑک کسی مہیب اژدھے کی طرح بل کھاتی نشیب و فراز سے گزر رہی ہے۔سنگلاخ پہاڑوں کے سینے پر مونگ دلتی یہ سڑک پرعزم معماروں کی محنت کا ثمر ہے۔ ہر موڑ پر کتبہ نما یادگاریں بنی ہیں جن پر ان شہیدوں کے نام کندہ ہیں جو اس عظیم تعمیر کی تکمیل کے لیے جان کا نذانہ دے گئے۔سلام ہے ان کی ہمت اور حوصلے کو جن کے سامنے پرشکوہ پہاڑ بھی ہار مان گئے ۔
سڑک انہی نشیب و فراز سے ہوتی پہاڑوں کا سینہ چیرتی آگے بڑھتی جا رہی ہے۔پہاڑ کی بلندی سے اب سڑک اترائی کی طرف جا رہی ہے۔ دور نشیب میں درخت، مکان اور کھیت کسی بچے کے کھلونوں کی طرح دکھائی دے رہے ہیں۔اس وادی میں سڑک کے دونوں طرف دکانیں ہیں۔ مسافروں کے لیے چائے اور کھانا دستیاب ہے۔ ایک ادھ سرائے نما ہوٹل بھی ہے جہاں رات بسر کرنے کا انتظام موجود ہے۔اس کے علاوہ دیگر دکانیں بھی ہیں۔ ایک طرف گاڑیوں کا مکینک اپنی چھوٹی سی دکان سجائے بیٹھا ہے۔
کھیتوں میں گندم کی فصل لہلا رہی ہے۔ گندم کے پودوں پر بالیاں نکل آئی ہیں۔ درختوں پر پھل پکے ہوئے ہیں اور جا بجا خوبانی، سیب، آڑو اور آلوچے کے درخت پھلوں سے لدے پڑے ہیں۔اوپر چٹانوں پر خوبانی اور سیب کاٹ کرخشک ہونے کے لیے رکھے ہیں۔
سیاح اپنے کیمرے سنبھالے ان مناظر کو اپنی یادوں میں محفوظ کر رہے ہیں۔ مقامی لوگ ان سیاحوں کو اپنے درختوں کے پھل پیش کر رہے ہیں۔ایک سیاح اور مقامی کسان میں بحث ہو رہی ہے۔سیاح پیش کیے گئے پھل کی قیمت ادا کرنا چاہتا ہے جبکہ کسان بضد ہے کہ جو یہاں کھا لیا اس کی کوئ قیمت نہیں ہاں اگر زیادہ مقدار میں ساتھ لے جانا ہے تو قیمت پر بات ہو سکتی ہے۔
دریا قریب ہی سے گزر رہا ہے اور اس کی لہروں کا شور ماحول میں نغمگی بکھیر رہا ہے۔ درختوں پر خوبصورت پرندے ادھر ادھر پھدکتے پھر رہے ہیں۔

۔۔۔جاری ہے۔۔۔

سقراط
10-29-2011, 03:42 PM
کیا خوب لکھتے ہیں صاحب کتنے خوبصورت لفظوں کو کیا خوب انداز سے ترتیب دے کر خوبصورت مناضر کی خوب صورت منضر کشی کی ہے ایسا لگ رہا ہے آپ ابھی وہی بیٹھ کر تازہ ترین اپ ڈیٹ دے رہے ہیں
شاندار بلکہ جاندار

مزید کچھ لکھئے گا حضور انتظار رہے گا

این اے ناصر
05-05-2012, 10:36 AM
شئیرنگ کاشکریہ۔