PDA

View Full Version : ایک آپ بیتی



واصف حسین
08-24-2011, 12:35 PM
ایک آپ بیتی از واصف حسین
(1)


دنیا ایک عجیب جگہ ہے اور یہاں عارضی قیام اپنے ساتھ واقعات کا ایک تسلسل لیکر آتا ہے۔میرے اس دنیا میں ۵۰ دن کے قیام میں مجھ پر محبت، نفرت، مقصد، کوشش اوریقین کی رمزیں آشکار ہوئیں۔

جب میں اپنا وجود محسوس کرنا شروع کیا تو خود کو ایک خول میں قید پایا۔اس خول میں میرے لیے حرکت کی کوئی گنجائش نہ تھی۔ میں خود کو پابند اور محصور محسوس کر رہا تھا۔ذرا سا سر یا پاؤں ہلانا بھی محال تھا۔میں سوچتا تھا کہ کیا میرا وجود ہمیشہ کے لیے اس قید میں رہے گا۔ کیا اس قید سے نجات کا کوئی ممکنہ حل ہے۔ دماغ کہتا کہ نہیں، یہ قید تمھاری قوت سے بہت زیادہ مضبوط ہے مگر دل کہتا کہ اگر وجود ملا ہے تو رہائی بھی ملے گی۔اسی گوںمگوں میں شب و روز بسر ہونے لگے۔پنجوں اور چونچ سے اپنے قید خانے کی دیوارں کو نوچنے کی کوشش کرتا اور تھک ہار کر سو رہتا۔جب آنکھ کھلتی تو پھر سے وہی قیدخانہ میری بےبسی پر خندہ زن ہوتا۔اسی سوتے جاگتے کے دوران میں نے پوری قوت مجتمع کر کے ایک چونچ ماری تو میرے قید خانے کی دیوار میں باریک سا سوراخ ہو گیا اور اندر کے اندھیرے میں باہر کی روشنی کی کرن نمودار ہوئی۔ اگرچہ یہ روشنی کی ایک باریک لکیر تھی مگر میری آنکھیں جو اندھیرے کی عادی تھیں اس سے چندھیا گئیں اور میں سکتے کی حالت میں بے سدھ ہو گیا۔ نجانے کتنی دیر اس عالم میں گزری اور پھر میرے تجسس نے حوصلہ بڑھایا اور میں نے چونچ اور پنجوں سے مسلسل ضربیں لگانی شروع کر دیں۔ قیدخانے کا شگاف بڑھنے لگا اور میں باہر کی دنیا دیکھنے کے لیے بیتاب ہونے لگا۔تھکاوٹ سے بدن چور ہونے کے باوجود باہر نکل سکنے کی خوشی میں مسلسل چونچ اور پاؤں چلاتا رہا اور آخر کار میری کوششیں رنگ لائیں اور میں اس قید سے آزاد تھا۔باہر ایک نئی دنیا میری منتظر تھی۔ میرے چاروں طرف میرے ہی جیسے چوزے موجود تھے اور یقیناً ان سب نے بھی اپنے قیدخانے سے نکلنے کے لیے اتنی ہی محنت کی تھی اور سب آزادی کی خوشی میں نعرے لگا رہے تھے۔ میں بھی ان ہی میں شامل تھا۔ابھی میں اس ماحول سے پوری طرح آشنا بھی نہ ہوا تھا کہ ہم سب کو یہاں سے نکال کر کھلی جگہ لے جایا گیا۔ ہمارے اوپر کسی چیز کا اسپرے کیا گیا۔مجھے بعد میں معلوم ہوا کہ یہ اسپرے ہمیں مختلف بیماریوں سے بچانے کے لیے کیا گیا تھا۔میں نے سوچا کہ اگر ہماری صحت کے لیے اگر اتنا تردد کیا گیا ہے تو قیدخانے میں ہم سے اتنی مشقت کیوں لی گئی۔ ہمارے قیدخانے کو ہماری محنت کے بغیر ہی کیوں نہ کھول دیا گیا۔
اس دنیا میں کوئی بھی چیز بلا جواز نہیں رکھی گئی۔سننے میں تو بہت بھلا لگتا ہے کہ بغیر مشقت کے چوزے کو انڈے سے نکل آنے کا موقع دیا جائے مگر اس مشقت کے پیچھے بھی ایک حکمت ہے۔چوزہ انڈے سے نکلتے ہی چلنے پھرنے، خود سے کھانے اور کسی حد تک اپنی حفاظت کرنے کے قابل ہوتا ہے۔اگر چوزے نے انڈے کے اندر مشقت نہ کی ہو تو اس کا جسم یہ سب کرنے کے قابل نہیں ہو گا اور بعد میں اسے ایسے مواقع بھی میسر نہ ہوں گے کہ وہ اپنے جسم کو آنے والے وقت کے لیے تیار کر سکے۔ جو چوزہ اس مشقت سے گزرے بغیر پیدا ہو گا وہ کبھی چلنے کے قابل نہیں ہو گا۔ زندگی میں آنے والے مشکلات اصل میں صلاحیت پیدا کرتی ہیں اور ان ہی کو بروکار لاتے ہوئے زندگی میں کامیابی حاصل ہوتی ہے۔

۔۔۔ جاری ہے ۔۔۔

بےباک
08-24-2011, 01:50 PM
چوزے کی کہانی ، خود چوزے کی زبانی ، مزے کی آب بیتی ہے ،
ماشاء اللہ ،آپ کی قلم پر گرفت بہت اچھی ہے
اگلی قسط کا بےچینی سے انتظار رھے گا ،
:-):-):-):-):-):-)

واصف حسین
08-29-2011, 05:33 PM
(2)

ابھی میں اسی مخمصے میں تھا کہ ہمیں مختلف گروہوں میں بانٹا جانے لگا۔ معلوم نہیں کہ گروہ بنانے کا جواز کیا تھا مگر جس طرح انسان اپنے نظام تعلیم سے گزر کر مختلف طبقوں میں بانٹا جاتا ہے ہمیں بھی الگ کیا جا رہا تھا۔مجھے بھی ایک گروہ کا حصہ بنا کر ایک ڈبے میں بند کر دیا گیا اور میرا کسی انجانی منزل کی طرف سفر شروع ہوگیا۔

جب اس ڈبے کی قید سے نکلا تو لگا کہ میں جنت میں پہنچ گیا ہوں۔ہم سب کو ایک کھلی جگہ چھوڑا کیا جہاں لذیذ خوارک اور پانی موجود تھا اور کھانے پینے پر کوئی روک ٹوک نہیں تھی۔ ماحول اور موسم بھی سازگار تھا۔ نہ تو بہت گرمی اور نہ ہی سردی۔ ساتھ میں بہت سے ساتھی اور ہم جنس۔ مجھے بھوک بھی لگ رہی تھی اور پیاس بھی اس لیے میں کھانے پر ٹوٹ پڑا۔خوب سیر ہو کر کھایا اور پانی پی کر ایک کونے میں سستانے لگا۔ابھی ٓنکھ لگی ہی تھی کہ ایک چوزہ میرے طرف آیا اور مجھ سے بات چیت کرنے لگا۔یہ اس جنت نما مقام پر میرا پہلا دوست بنا۔ہم نے انڈے کے اندر کی مشقت اور پھر گروہ بندی اور اپنی یہاں تک آمد کے بارے میں ڈھیروں باتیں کیں۔میرا دوست کہنے لگا "یار ہم بہت خوش قسمت ہیں کہ ایسی خوبصورت جگہ ملی۔کھانے کو لذیذ خوراک، عمدہ موسم اور بہت سے ساتھی"۔ میں نے اسکی ہاں میں ہاں ملائی۔ واقعی ہم بہت خوش قسمت تھے۔ہم دونوں مل کر اس جگہ کی سیر کرنے لگے۔ بعد میں معلوم ہوا کہ اس جگہ کا نام فارم ہے اور یہاں ہماری دیکھ بھال اور خوراک کے لیے عمدہ نظام موجود ہے۔پورا فارم گھومنے میں ہمیں کافی وقت لگا۔ دل میں یہ خدشہ بھی تھا کہ ہم چلتے چلتے اس جنت سے باہر ہی نہ نکل جائیں مگر جہاں تک ہم گئے یہی خوبصورت ماحول ہمارے ساتھ تھا اور جگہ جگہ کھانے اور پینے کا بندبست تھا۔ہم کسی شہنشاہ کی طرح گھوم رہے تھے اور ہر جگہ ہماری ضروریات کا سامان بہم موجود تھا۔رات ہوئی اور پھر صبح اور میں نے محسوس کیا کہ اس جنت میں کافی گندگی پھیل گئی تھی۔ایک سوچ آئی کہ اس گندگی کا کیا علاج ہو گا۔ابھی اسی سوچ میں تھا کہ فارم کے ایک کونے میں ہلچل محسوس ہوئی۔ کیا دیکھتا ہوں کہ چوزوں کو ایک طرف کر کے صفائی کی جا رہی ہے۔ایک حصہ صاف ہونے کے بعد ہمیں صاف ہو جانے والی طرف لے جایا گیا اور ہماری جنت پھر سے صاف شفاف تھی۔اب تو مجھے یقین ہو گیا کہ ہم بہت ہی منتخب گروہ ہیں۔ہماری اتنی مدارات کا بندوبست تھا۔کھانا پینا اور چہل قدمی ہمارا روز کا معمول ہو گیا اور ایک ہفتے میں ہی ہم نے قد کاٹھ نکالنا شروع کر دیا۔اب میں فارم کی جالی والی منڈیر پر بھی چڑھ سکتا تھا۔چہل قدمی سے اکھتا کر اکثر میں اور میرا دوست اس منڈیر پر چڑھ جاتے اور جالی سے باہر کا نظارہ کرتے۔

جالی کے باہر ہمیں درخت اور پرندے نظر آتے۔ باہر نہ تو خوراک کا انتظام تھا اور نہ ہی پانی ہے۔یہ منظر دیکھ کر ایک طرف تو ہم خدا کا شکر ادا کرتے کہ ہمیں ایسی خوبصورت جگہ ملی اور دوسری طرف تجسس کرتے کہ باہر کی دنیا میں اور کیا راز پوشیدہ ہیں۔

ایک دن ہم معمول کے مطابق سیر ہو کر کھانے کے بعد منڈیر پر بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک پرندہ جالی کے قریب آ گیا۔یہ پرندہ قد کاٹھ میں ہم سے کافی چھوٹا تھا۔ میں نے آواز لگائی "بھائی بات سننا"۔ پرندہ ادھر ادھر دیکھنے لگا۔ میں نے جالی پر اپنی چونچ مار کر پھر اس کو متوجہ کیا۔پرندہ قریب آیا اور کہنے لگا کیا بات ہے۔
میں: آپ کون ہو بھائی۔
پرندہ: میں چڑیا ہوں۔
میں:مجھے چوزہ کہتے ہیں۔کیا ہم بات چیت کر سکتے ہیں۔
چڑیا : مجھے معلوم ہے کہ تم چوزے ہو۔ مگر میں زیادہ دیر یہاں نہیں رک سکتی۔ اگر تمھارا رکھوالا آ گیا تو مجھے یہاں دیکھ کر نقصان پہنچا سکتا ہے۔
میں: نہیں وہ ایسا کچھ نہیں کرے گا۔ وہ تو ہم سب کو کھانا، پینا اور اچھا ماحول دیتا ہے۔اور روز ہمارے لیے صفائی بھی کرتا ہے۔
چڑیا: کیا تمھیں پتا ہے وہ یہ سب کیوں کرتا ہے؟
میں: ہاں۔ کیونکہ ہم ایک منتخب گروہ کے چوزے ہیں اور اللہ نے ہمارے لیے سامانِ آسایئش اور عمدہ کھانا مہیا کیا ہے۔کیا تمھارے لیے ایسا کوئی بندوبست نہیں۔
چڑیا:بے شک اللہ نے میرے لیے بھی رزق کا بندوبست کیا ہے مگر میں آزاد ہوں اور اپنی محنت سے اسے تلاش کرتی ہوں۔صبح کو بھوکی گھونسلے سے نکلتی ہوں اور شام میں کبھی میرا اور میرے بچوں کا پیٹ خالی نہیں ہوا۔

اتنے میں کسی طرف سے "میاوں" کی آواز آئی اور چڑیا ایکدم سے اڑ گئی۔ میں نے آواز کے رخ پر دیکھا تو ایک خونخوار جانور پر نظر پڑی۔ خوف سے میرا خون خشک ہو گیا اور میں اپنی جگہ سےحرکت بھی نہ کر سکا۔میرا دوست چھلانگ لگا کر بھاگ کیا اور میں سکتے کی حالت میں بیٹھا رہا۔ بعد میں مجھے معلوم ہوا کہ وہ بلی تھی۔ بلی کچھ دیر باہر ہی سے مجھے گھورتی اور غراتی رہی لیکن جالی کے اندر آنا اس کے لیے ناممکن تھا۔ تھوڑی دیر میں بلی مایوس ہو کر چلی گئی تو میری جان میں جان آئی۔

۔۔۔ جاری ہے ۔۔۔

بےباک
09-04-2011, 01:21 AM
محترم واصف صاحب ، بہت ہی خوب جناب
بہت اچھی طرح کہانی لکھی گئی ہے ، چوزے کے جذبات کی خوب ترجمانی کی گئی ہے ، بلکہ آب بیتی ہی چوزے کی طرف سے لکھی گئی ہے ،
اس آپ بیتی کا اگلا جزء جلدی پیش کرین ،:-):-):-):-):-):-)

واصف حسین
09-05-2011, 09:30 AM
(3)

بلی کے خوف سے دو دن تک ہم منڈیر پر چڑھنے کی ہمت نہ کر سکے۔ کھانے پینے کا معمول جاری تھا اور روزانہ صفائی بھی ہوتی تھی۔ کبھی کبھی ہمارے رکھوالے کے ساتھ ایک اور آدمی بھی فارم پر آتا جوکہ ڈاکٹر تھا۔ وہ ہم میں سے کسی ایک کو پکڑ کر احتیاط سے معائنہ کرتا اور چھوڑ دیتا۔ہم اتنے خوش قسمت تھے کہ یہاں ہماری صحت و تندرستی کا بھی عمدہ انتظام موجود تھا۔میرے دل میں خیال آیا کہ وہ بیچاری چڑیا اپنا علاج کہاں سے کراتی ہو گی۔بلیوں اور دوسری خونخوار جانوروں سے کیسے خود کو محفوظ رکھتی ہو گی۔مجھے چڑیا کا وہ سوال بھی پریشان کر رہا تھا کہ ہماری اتنی خاطرمدارت کیوں ہو رہی ہے۔چڑیا کو تو میں نے کہہ دیا تھا کہ ہم ایک منتخب گروہ ہیں اس لیے ہماری مدارت ہو رہی ہے مگر اپنے دل کی اب اس خوش فہمی سے تسلی نہیں ہو رہی تھی۔میں نے اپنے دوست سے بات کرنے کا فیصلہ کیا اور اسکے کی طرف بڑھا۔
میں:یار چڑیا کی کہی ہوئی بات میرے دل میں کھٹک رہی ہے کہ ہم پر اتنی عنایات کیوں ہیں۔اس کے پیچھے راز کیا ہے۔
دوست: تم بھی نا یار ناحق پریشان ہو رہے ہو۔کتنے دن ہو گئے ہمیں یہاں عیاشی اڑاتے ہوئے۔ کبھی کسی چیز کی کمی ہوئی ہے۔ ہم واقعی ایک منتخب گروہ کے چوزے ہیں اور یہ ہمارا حق ہے کہ ہم اس جنت نما مقام پر خوشیوں میں رہیں۔
میں: یار مگر چڑیا کی بات میں بھی وزن ہے کہ آخر اس کا مقصد کیا ہے؟
دوست: میرے بھولے دوست چڑیا ہمیں بہکانے کی کوشش کر رہی تھی۔ وہ خود توایک اذیت ناک زندگی بسر کر رہی ہے اور ہماری خاطر مدارت دیکھ کر حسد میں مبتلا ہے۔ اس کی باتوں کو خاطر میں مت لا۔ کھا پی اور عیاشی کر۔
دوست کی باتیں قابل فہم تھیں۔یقیناً چڑیا ہمارے حسد میں مبتلا تھی۔دماغ کی کسوٹی پر دوست کی تاویلیں پوری اتر رہی تھیں مگر دل میں موجود خلش ابھی قائم تھی۔ میں منڈیر پر چڑھ گیا اور باہر کا نظارہ کرنے لگا۔دل کے کسی کونے میں خواہش موجود تھی کہ چڑیا سے پھر بات چیت ہو جائے۔تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ مجھے چڑیا نظر آ گئی۔ میں نے اسے زور زور سے پکارنا اور جالی پر چونچ مارنا شروع کیا تاکہ وہ میری طرف متوجہ ہو۔ مجھے دیکھ کر چڑیا جالی کے قریب آ گئی۔
میں:کیسے مزاج ہیں۔
چڑیا: پریشانی میں ہوں۔ رات کو تیز آندھی اور بارش سے میرا گھونسلا ٹوٹ گیا۔اور دو انڈے بھی گر گئے جو بلی چٹ کر گئی۔
میں: بہت افسوس ہوا یہ سن کر۔اگر تم بھی میری طرح منتخب گروہ میں ہوتی یہ مصیبت نہ ٹوٹتی تم پر۔
چڑیا:ہزار شکر کہ میں تمھاری طرح اسیری کی زندگی نہیں کاٹ رہی۔میرا جینے کا اپنا مقصد ہے اور میں کسی دوسرے کے مقصد کے لیے زندہ نہیں ہوں۔
میں:یقیناً تم یہ سب اس لیے کہہ رہی ہو کہ تم ہماری پرتعیش زندگی سے حسد کرتی ہو۔
چڑیا(مسکراتے ہوئے):آزاد زندگی گزارنے والے اسیروں سے حسد نہیں کرتے۔تمھاری زندگی کی ڈور تمھارے ہاتھ میں ہی نہیں۔جو تمھاری اتنی دیکھ بھال کر رہا ہے تمھاری زندگی اور موت صرف اس کا مقصد پورا کرتی ہے۔
میں:یہ کیسے ممکن ہے ۔ہم اس جنت میں اپنی مرضی کے مالک ہیں۔ جب چاہیں سوئیں جب مرضی اٹھیں۔ جتنا جی میں آئے کھائیں۔ ہم پر کسی بھی قسم کی روک ٹوک نہیں۔
چڑیا: ٹھیک کہتے ہو۔ جب تک تمھارا عمل تمھارے رکھوالے کی مقصد کی طرف جاتا ہے تم اپنی مرضی کے مالک ہو۔ مگر جیسے ہی تمھارا عمل اس کے مقصد کے برعکس ہو گا تمھاری مرضی کا دخل ختم ہو جائے گا۔
میں: ایسا کیا عمل ہے جو اس کے مقصد کے منافی ہے۔ میں تصدیق کرنا چاہتا ہوں کہ تمھاری بات میں کتنی صداقت ہے۔
چڑیا: اس قید نے نکل بھاگنے کی کوشش کرو۔
میں: (قہقہ لگا تے ہوئے) دیکھا نا۔ یہی تمھارا حسد ہے۔ تم ہمیں بھی اس جنت سے نکلوا کر کٹھن دنیا میں لانا چاہتی ہو۔تم سے ہماری یہ عیاشی دیکھی نہیں جاتی۔
چڑیا: اس اسیر کا کچھ نہیں ہو سکتا جس میں خوئے غلامی اس درجہ موجود ہو۔ جو کوتاہ بین اور بےہمت ہو۔ جس میں کچھ کھونے کی ہمت نہ ہو۔۔۔۔۔۔۔
چڑیا نجانے کیا کیا کہتی رہی مگر میں اب اس کی باتوں میں آنے والا نہیں تھا۔ مجھے یقین ہو گیا تھا کہ حسد میں جل بھن کر وہ ہمیں اس جنت سے نکلوانا چاہتی ہے۔
چڑیا یوں ہی بڑبڑاتی ہوئی اڑ گئی اور میں دوبارہ باہر کے نظارے میں محو ہو گیا۔

۔۔۔ جاری ہے ۔۔۔

واصف حسین
09-05-2011, 09:32 AM
(4)

شب و روز اسی سکون اور عیاشی میں گزرتے رہے اور ہم دن بدن صحت مند اور فربہ ہو تے رہے۔ اس دن کے بعد چڑیا میرے بلانے کے باوجود قریب نہ آئی اور نہ ہی اس نے مجھ سے بات کرنا گوارا کیا۔ایک دن منڈیر پر بیٹھے مجھے بلی دوبارہ نظر آئی۔گزشتہ تجربے سے مجھے معلوم ہو گیا تھا کہ وہ میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتی مگر خوف اپنی جگہ قائم تھا۔ ہمت کر کے میں نے بلی کو آواز دی۔بلی نے غرا کر میری طرف دیکھا تو میں سہم گیا۔مگر خوف پر قابو پاتے ہوئے بولا
میں: تم میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتی کیونکہ میں ایک منتخب گروہ کا چوزہ ہوں۔میرے لیے کھانے کا عمدہ نظام اور حفاظت کا معقول بندوبست ہے۔
بلی: ٹھیک کہتے ہو مگر اس سب میں تمھارا کیا کمال ہے۔تمھاری زندگی تو کسی اور کا مقصد پورا کرنے کے لیے ہے۔
میں: ان فلسفیانہ باتوں میں آنے والا میں نہیں۔اور نہ ہی میں اس جنت کو چھوڑ کر تلخ زندگی کا خواہاں ہوں۔
بلی: اسیروں کی زندگی تب تک قائم رہتی ہے جب تک اسیر کرنے والے کا اس میں فائدہ ہو۔ جب تمھاری زندگی سے زیادہ فائدہ تمھارے رکھوالے کو تمھاری موت میں ہو گا تو تمھاری موت بھی ایسی ہی دردناک ہو گی۔
میں: کیسی نادانی کی باتیں کرتی ہو۔جو میرا اتنا خیال رکھتا ہے، مجھے لذیذ کھانا دیتا ہے، میرے ذرا سی پریشانی جس کو رات رات بھر جگاتی ہے وہ بھلا میری موت کا کیوں خواہاں ہو گا۔
بلی: تم ابھی بچے ہو اور میں اس انسان کی رگ رگ سے واقف ہوں۔یہ کسی بھی چیز کو اپنے مقصد کے سوا نہیں پوچھتا۔گھوڑا، گدھا، بھینس، گائے، بکری ،اونٹ، کتا غرض ہر جانور کو یہ اپنے مقصد کے لیے ہی استعمال کرتا ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ تمھاری اتنی خدمت وہ کس لیے کر رہا ہے مگر میرا تجربہ مجھے بتاتا ہے کہ اس سب کے پیچھے بھی اس کا کوئی نہ کوئی فائدہ ضرور ہے۔
میں: تم کچھ بھی کہو میں تمھاری باتوں میں آ کر باہر نہیں آؤں گا کیونکہ اس جالی کے باہر تم مجھے لقمہ بنا لو گی۔
بلی: بالکل بناؤں گی کہ میری سرشت ہی گوشت خوری ہے۔ مگر دنیا میں بسنے والے تمام چوزے میری پہنچ میں نہیں۔ میرا نوالہ وہی چوزہ بنے گا جس میں خود کو بچانے کی صلاحیت نہیں ہو گی۔
میں: تو کیا دنیا میں ایسے چوزے بھی ہیں جن کو یہ پر تعیش زندگی میسر نہیں؟
بلی: بالکل ہیں۔اور وہ اپنی صلاحیت اور کوشش سے آزاد گھومتے ہیں اور 8 سے دس سال کی زندگی گزارتے ہیں۔
میں: اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم یہاں 8 سےدس سال کی پرتعیش زندگی گزاریں گے۔
بلی : نہیں۔اپنی طبعی زندگی گزارنے کے لیے خود انحصاری لازمی ہے۔دوسروں کے بل بوتے پر کوئی بھی اپنی طبعی زندگی پوری نہیں کر سکتا۔
اتنے میں میری رکھوالے کی نظر اس بلی پر پڑی۔ اسے جالی کے اتنے قریب دیکھ کر وہ آگ بگولا ہو گیا اور بلی پر پتھر برسانے لگا۔بلی فوراً بھاگی اور درختوں میں غائب ہو گئی۔وہ جالی کے پاس آیا اور بغور دیکھنے لگا کہ کسی جگہ سے جالی کمزور تو نہیں ہو گئی۔مجھے اس پر اور بھی پیار آیا کہ اسے ہماری حفاظت کا کتنا خیال ہے۔
ہمیں اس جگہ پر چار ہفتے ہو گئے تھے۔ہم اگرچہ چار ہفتے کے چوزے تھے مگر خوش خوراکی اور عمدہ ماحول نے ہمیں خوب موٹا تازہ کر دیا تھا اور ہم دیکھنے میں مکمل مرغ تھے۔میں اپنی قد کاٹھ سے بہت خوش تھا۔ایسی صحت اور ڈیل ڈول اس جنت کے باہر کی اذیت ناک دنیا میں ممکن نہ تھی۔

۔۔۔ جاری ہے ۔۔۔

واصف حسین
09-06-2011, 09:08 PM
(5)

وقت کا پہیہ اپنی رفتار سے چلتا رہا اور دو ہفتے اور گزر گئے۔ اب اس جنت میں ہمیں چھ ہفتے ہو گئے تھے۔رات کا اندھیرا ابھی صبح کی روشنی سے برسرپیکار ہی تھا کہ فارم میں ایک ہلچل مچ گئی۔ہمیں ایک ایک کر کے پکڑا اور گاڑی میں سوار کیا جا رہا تھا۔گاڑی میں ایک بڑا پنجرہ تھا مگر فارم کی نسبت بہت چھوٹا تھا۔ہمیں اس پنجرے میں ڈالا جانے لگا۔دیکھتے ہی دیکھتے میرے ساتھی فارم سے نکل کر پنجرے میں منتقل ہوتے گئے۔ مجھے اور میرے دوست کو بھی پکڑ کر پنجرے میں ڈال دیا گیا۔صبح کی ہلکی ہلکی روشنی پھیل چکی تھی جب گاڑی روانہ ہوئی۔یہ ایک کھلا پنجرہ تھا اور میں باہر کی دنیا دیکھ سکتا تھا۔وہ اذیت ناک دنیا جس میں جس میں خوراک کی کمی اور درندوں کا ہردم دھڑکا تھا۔گاڑی چلتی رہی اور میں دیکھتا رہا۔سڑک کے دونوں طرف کھیت تھے اور کھیتوں میں گندم لگی تھی۔ چڑیاں اور دیگر پرندے ان کھیتوں میں دانہ تلاش کر کے اپنی بھوک مٹا رہے تھے۔ادھر ادھر آزادی سے گھومتے پرندے۔ مجھے حیرت ہوئی کہ باہر کی دنیا میں بھی خوراک کا حصول زیادہ مشکل دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ گاڑی چلتی رہی اور کھیتوں کے ساتھ ساتھ پانی کے نالے اور چشمے نظر آئے۔ پھر کھیت ختم ہوئے اور عمارتیں شروع ہو گئیں۔یہاں بھی پرندوں کو اپنی کوشش سے کھانا اور پانی میسر تھا۔ کہیں روٹی کے ٹکڑے نظر آئے اور کہیں پانی کے نل۔ صبح سویرے اٹھ جانے والے پرندے ان سے اپنی بھوک اور پیاس مٹا رہے تھے۔ مگر ہم تو منتخب گروہ کے چوزے تھے ہمیں اس محنت سے کیا کام۔ ہمارے لیے تو پرتعیش زندگی تھی۔
گاڑی ایک جگہ جا کر رک گئی۔ اب کافی دن نکل آیا تھا اور دھوپ کی تمازت ہمیں جھلسا رہی تھی۔اور اس پنجرے میں ہم گویا ایک دوسرے کے اوپر سوار تھے۔ایک چوزے نے حرکت کی تو اس کے پنجے میرے منہ پر لگے۔ میں نے غصے سے اس کی طرف دیکھا اور ایک لات ماری مگر جگہ کم ہونے کی وجہ سے لات دوسرے کو لگی اور اس نے مجھے ٹھونگ ماری اور میں درد سے بلبلا اٹھا۔عافیت اسی میں نظر آئی کہ ساکت رہا جائے۔تھوڑی دیر میں وہاں اور بھی گاڑیاں پہنچ گئیں اور ان سب میں بھی ہمارے ہی جیسے چوزے بھرے تھے۔دھوپ کی تیزی میں شدت آ گئی تھی اور میں پیاس سے ہلکان ہو رہا تھا۔ میری چونچ کھلی تھی اور حلق میں کانٹے چبھ رہے تھے۔
خدا خدا کر کے گاڑی چلی اور ہوا لگنے سے یک گونہ سکون محسوس ہوا۔میں شدت سے انتظار کرنے لگا کہ گاڑی اب ہمیں واپس ہماری جنت میں لے جائے گی اور ہماری خاطر مدارت کا سلسلہ جہاں سے رکا تھا پھر شروع ہو جائے گا۔
گاڑی کچھ دیر چلنے کے بعد رک گئی اور میں جلد از جلد واپس فارم میں پہنچنے کے لیے بیتاب ہو گیا۔میں سرکتے سرکتے خارجی دروازے کے قریب ہو گیا اور ساتھ ہی مجھ اٹھا کر اس پنجرے سے نکال لیا گیا مگر جہاں مجھے چھوڑا گیا وہ میری جنت تو نہ تھی بلکہ گاڑی کے پنجرے سے بھی چھوٹا ایک پنجرہ تھا۔اس سے پہلے کہ میں سنبھل پاتا میرے اوپر دو اور چوزے آ کر گرے اور ہم سمٹ سمٹا کر ایک دوسرے کو جگہ دینے لگے۔یہ پنجرہ بہت چھوٹا تھا اور ہم ایک دوسرے کے اوپر ٹھنسے ہوئے تھے۔فارم سے آنے والے تمام چوزے تو یہاں سما ہی نہیں سکتے تھے۔ مگر یہاں اسی طرح کے اور پنجرے بھی تھے اور ہم سب کو ان پنجروں میں ٹھونس کر گاڑی خالی کر دی گئی۔
جب کچھ اوسان بحال ہوئے تو میں نے ارد گرد گا جائزہ لینا شروع کیا۔تمام طرف پنجروں میں چوزے ٹھنسے ہوئے تھے۔ ماحول میں خون کی بو پھیلی ہوئی تھی۔ہر پنجرے میں خوراک اور پانی کا ایک ایک برتن موجود تو تھا مگر اتنے زیادہ چوزے ہونے کی وجہ سے کوئی بھی ٹھیک سے خوراک اور پانی تک نہیں پہنچ سکتا تھا۔سامنے درخت کا ایک ٹکڑا اور کچھ اوزار پڑے تھے۔ماحول پر ایک یاسیت چھائی ہوئی تھی۔

۔۔۔ جاری ہے ۔۔۔

واصف حسین
09-07-2011, 06:48 PM
(6)

پنجروں کے سامنے جو درخت کا ٹکڑا تھا اس کے ساتھ ایک آدمی کھڑا تھا۔ ایک شخص اس کے پاس آیا اور کچھ بات چیت کی تو وہ درخت کے ٹکڑے کے پاس سے ہٹ کر پنجرے کی طرف آیا اور ایک چوزے کو باہرنکال لیا۔تھوڑی دیر میں مجھے چوزے کی چیخیں سنائی دیں اور میں خوف سے کانپنے لگا۔چند لمحوں کے بعد وہ چوزہ درخت کے ٹکڑے پر پڑا تھا اور وہ آدمی بے دردی سے اس کے ٹکڑے کر رہا تھا۔وہ چوزہ جس نے 8 سے دس سال کی طبعی عمر گزارنی تھی ٹکڑوں کی شکل میں لفافے میں ڈالا جا رہا تھا۔مجھے بلی کی بات یاد آرہی تھی کہ "خود انحصاری کے بغیر طبعی عمر پوری نہیں کی جا سکتی"۔دوسروں پر انحصار کرنے والے کی زندگی کا اپنا کوئی مقصد نہیں ہوتا اور اسکی زندگی اور موت کا دارومدار اس بات پر ہوتا ہے کہ دوسرے کے مقصد کے لیے اس کی زندگی زیادہ اہم ہے یا موت۔
یہ ہولناک منظر میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا اور خوف کے مارے میرا برا حال تھا۔دماغ نے اس واقعہ کی تاولیں گھڑنا شروع کیں ۔ یقناً اس چوزے نے کوئی فاش غلطی کی تھی جس کی اس کو سزا دی گئی تھی یا پھر یہ چوزہ غلط راستہ اختیار کر کے منتخب گروہ میں شامل ہوا تھا اور راز فاش ہونے پر اسے سزا دی گئی تھی۔ان تاویلوں سے کچھ تسلی تو ہوئی مگر دل میں ایک خلش سی بہرحال موجود تھی۔ابھی زیادہ دیر نہیں گزری تھی کہ وہ آدمی پھر پنجرے کے پاس آیا اور ایک اور چوزے کو باہر نکال لیا۔ ایک اور ہولناک منظر دیکھنے کی مجھ میں تاب نہیں تھی اس لیے میں پنجرے میں اندر کی طرف سرک گیا اور میرے پنجے پانی کے برتن سے ٹکراے۔پانی محسوس کر کے پیاس اور بھوک کا احساس ستانے لگا۔ میں نے ہمت کر کے اپنا رخ پانی کی طرف کیا اور پانی پینے لگا۔اتنے میں پانی کے لیے جدوجہد کرنے والے ایک چوزے نے مجھے ٹھونگ ماری درد کی ایک ٹیس میرے بدن میں پھیل گئی اور میں نے نفرت سے سوچا کہ اب اگر وہ آدمی پنجرے کی طرف آئے تو اسی چوزے کو لے جائے۔
وقفے وقفے سے ایک ایک کر کے چوزے پنجرے سے نکلتے رہے اور ہماری جگہ کھلی ہوتی گئی۔دماغ مسلسل تسلی دیتا رہا کہ میں تو منتخب گروہ کا چوزہ ہوں اور جو دوسروں کے ساتھ ہو رہا ہے وہ میرے ساتھ قطعاً نہیں ہو گا۔ جانے والے چوزے کی چیخ و پکار کا اب اسی قدر اثر ہوتا تھا جتنا کہ دھماکے میں مرنے والوں کا سن کرپاکستانی قوم پر ہوتا ہے یعنی صرف یہ پوچھا جاتا ہے کہ کتنے مر گئے اور پھر اپنی زندگی کے گرداب میں رواں ہو جاتے ہیں۔

۔۔۔جاری ہے۔۔۔

واصف حسین
09-07-2011, 06:49 PM
(7)

دماغ کی لاکھ تاویلوں کے باوجود آخر وہ لمحہ آ گیا جس کا دل میں ڈر تھا۔آدمی پنجرے کے پاس آیا اور مجھے اٹھا لیا۔دماغ نے کہا پریشانی کی کوئی بات نہیں فارم میں بھی تو ہمیں متعدد با پکڑ کر معائنہ کیا گیا تھا مگر دل نے دماغ کی بات سننے سے انکار کر دیا اور میں خود کو اس گرفت سے آزاد کرانے کے لیے پر پھڑ پھڑانے لگا اور شور مچانے لگا۔مگر گرفت مضبوط تھی اور مجھے اٹھا کر ایک ترازو میں ڈالا گیا۔اس کے بعد میرے پروں کو مروڑ کے مضبوطی سے پکڑا گیا اور ایک تیز دھار چھری میری گردن پر پھیر دی گئی۔ میں درد سے چلا رہا تھا۔مجھے ایک بڑے ڈبے میں پھینک دیا گیا اور میں کٹی گردن کے ساتھ تڑپ رہا تھا۔
میرے اندر میری پوری زندگی کے واقعات گردش کرنے لگے۔ کس طرح میں انڈے کی قید میں بے بس تھا۔ پھر میری کوششوں کے آگے ایک سخت خول نے ہار مان لی۔ میری کتنی خاطر مدارت ہوئی اور کس طرح میں ایک فربہ اور صحت مند چوزہ بنا۔بلی اور چڑیا نے کس طرح مجھے میرے انجام سے آگاہ کرنے کی کوشش کی۔فارم سے نکل کر میں نے آزاد پرندوں کو کیسی خوشی میں اڑتے دیکھا اور پھر اس پنجرے میں اپنے ساتھیوں کا انجام دیکھ کر بھی میں اسی خوش فہمی میں رہا کہ میرے ساتھ ایسا نہیں ہو گا۔
دماغ نے کہا تیری تقدیر میں یہ اذیت ناک موت تھی۔
دل بولا تو کس منہ سے تقدیر کا شکوہ کرتا ہے۔تو نے اپنی تقدیر بدلنے کے لیے کیا کوشش کی۔
دماغ نے کہا تیرے پاس کوشش کرنے کا موقع ہی کب تھا۔
دل نے کہا بلی اور چڑیا کی کہی ہوئی باتیں کیا تیرے سمجھنے کے لیے کافی نہ تھیں۔مگر تو تو تن آسانی کا شکار ہو گیا تھا۔اپنے قید خانے کو اپنی جنت کہتا تھا۔تو کوشش کرنے کے لیے آمادہ ہی نہ تھا۔
دماغ کہنے لگا تو کیا میں بلی کی باتوں میں آ کر خود کو اس کا لقمہ بنا لیتا یا چڑیا کے کہنے پر باہر کی اذیت ناک زندگی قبول کر لیتا؟
دل نے کہا دنیا میں اور بھی تو چوزے ہیں جو آزاد پھرتے ہیں اور اپنی طبعی زندگی پوری کرتے ہیں۔ وہ کسی اور کا مقصد پورا کرنے کے لیے اپنی جان نہیں دیتے۔
دماغ بولا میری کوشش کا کیا فائدہ ہونا تھا۔ ہمارا رکھوالا کیا مجھے باہر نکل جانے دیتا۔
دل بولا ناکامی یہ نہیں کہ کوشش کا پھل نہ ملے بلکہ اصل ناکامی یہ ہے کہ کوشش ہی نہ کی جائے۔
دماغ تو اتھاہ تاریکیوں میں ڈوب گیا مگر دل ابھی بھی بول رہا تھا۔دل کہہ رہا تھا کہ اگر وقت مرگ کسک، خلش اور پچھتاوا ساتھ نہ لے جانا ہو تو زندگی کے حالات کیسے ہی کیوں نہ ہوں اپنا مقصد خود بناؤ اور اس کے لیے کوشش جاری رکھو۔ زندگی جدوجہدِ پیہم کا نام ہے۔اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کوشش کامیاب ہوئی کہ نہیں۔ جینا صرف کوشش کا نام ہے اور اگر زندگی کوشش سے خالی ہے تو وہ موت سے بھی بدتر ہے۔
اگر تمھارا اپنا مقصد اور کوشش نہیں ہے تو تمھاری زندگی دوسروں کا مقصد پورا کرے گی اور تمھاری موت بھی۔اور جب وقت کا پہیہ تمھارے وجود لیے تھم جائے گا تو ایک خلش روز قیامت تک تمھیں کاٹتی رہے گی۔ یہ خلش عذاب قبر ہے اور یہی خلش وہ نشان ہے جو قیامت کے روز گناہ گاروں کو چہرےسے شناخت کروانے کا باعث ہو گی۔

۔۔۔ختم شد۔۔۔

بےباک
09-08-2011, 09:25 AM
بہت خوب جناب ،
:-):-):-) آپ بیتی کے انداز میں اچھے خیالات سے آگاہی فرمائی ،

بہت زبردست واصف حسین صاحب

واصف حسین
09-08-2011, 10:47 AM
اگر اس آپ بیتی میں پاکستانی قوم کا عکس نظر آیا تو میری کوشش رائگاں نہیں گئی.

پسندیدگی اور تعریف کا شکریہ

سرحدی
09-09-2011, 10:51 AM
ماشاء اللہ، بہت خوب ، زبردست آب بیتی ہے۔ انتہائی سبق آموز اور غوروفکر کی طرف لے جانے والی
ماں کا پیٹ(ایک دنیا)، دنیا کی پرتعیش زندگی (ایک الگ دنیا جسے انسان اپنا مقصد اور اپنی جنت سمجھ لیتا ہے)، آخرت (باقی رہنی والی دنیا) جس کے حصول کی جدوجہد اور کوشش سے انسان غافل رہتا ہے۔
اس آپ بیتی میں آپ نے صرف پاکستانی قوم کا ہی نہیں بلکہ پوری انسانیت کا عکس دکھادیا آپ نے۔
جزاک اللہ ، بہت کچھ سوچھنے پر مجبور کردیا آپ نے۔۔۔ اُمید ہے کہ اس طرح کے سبق آموز مضامین جاری رکھیں گے۔

واصف حسین
09-09-2011, 12:14 PM
پسند کرنے کا شکریہ ..دعاؤں میں یاد رکھیے گا

این اے ناصر
05-05-2012, 10:37 AM
شئیرنگ کاشکریہ۔