PDA

View Full Version : بندہ ممنون!



سیما
08-25-2011, 05:46 AM
ایک سروے رپورٹ کے مطابق عمران خان عوامی مقبولیت کی دوڑمیں سب سے آگے ہیں اور اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ وہ کرکٹرہیں‘بہت خوب صورت دوڑلگاتے ہیں ‘ان کی دوڑکے بارے میں ایک بھارتی کرکٹر نے کہا تھا کہ جب عمران خان بولنگ کراتے ہیں تو بھگوان کی نظریں بھی ان پر جم جاتی ہیں اور حقیقت بھی یہی ہے کہ عمران خان جس خوب صورت انداز میں دوڑلگاتے ہیں اس کی مثال کہیں نہیں۔ رپورٹ کے مطابق مقبولیت کے اعتبارسے سابق جنرل پرویزمشرف دوسرے نمبرپرہیں۔ عمران خان اورجنرل صاحب کی مقبولیت کی ایک یہی وجہ ہے اور وہ ہے جناب آصف علی زرداری کی طرزحکمرانی۔ اس کے باوجود ایسے دانش وروں کی کمی نہیں جو زرداری صاحب کو عظیم سیاست دان قراردے رہے ہیں۔ وعدہ خلافی اور قوم کی بے توقیری سیاست ہے تو یقیناً زرداری صاحب پاکستان کی تاریخ کے سب سے بڑے سیاست دان ہیں۔ وفاقی وزیراطلاعات ونشریات فردوس عاشق اعوان نے عشق کی انتہاءکردی ہے ‘فرماتی ہیں آصف علی زرداری چلتے پھرتے سیاسی انسٹی ٹیوٹ ہیں مسلم لیگ ن کو چاہیے کہ وہ ان کے سامنے زانوئے تلمذ طے کرلے۔ زانوئے تلمذ کون طے کرتاہے یہ تو وقت بتائے گا مگر یہ طے ہوچکاہے کہ زرداری صاحب کا عروج تہہ وبالا ہونے والاہے زوال انہیں گودلینے کے لیے بے تاب ہورہاہے۔ یہ بحث بہت پرانی ہوچکی ہے کہ وطن عزیز میں کون سی طرز حکمرانی بہتررہے گی۔ اکثریت ہمیشہ یہ کہتی رہی ہے کہ پاکستان اسلام کے نام پر معرض وجود میں آیا تھا ‘ اسلامی نظام حکومت ہی ہونا چاہیے ۔دوسری رائے جمہوریت کے حق میں رہی ہے مگر زرداری حکومت نے جمہوریت کو جس طرح رسوا کیاہے وہ باعث عبرت ہے جسے پی پی والے باعث غیرت سمجھ رہے ہیں۔ فوج کے حق میں آوازیں بلند ہونے لگی ہیں۔ جس کے جواب میں کہاجاتاہے کہ فوجی راج بھی عوامی امنگوں اورخواہشات کی تکمیل میں ناکام رہاہے مگر یہ آدھا سچ ہے پورا سچ ہے یہ ہے کہ فوجی حکومتوں کی ناکامی کے ذمہ دار سیاست دان بھی ہیں۔ فوج جب اقتدارمیں آتی ہے تو سب سے توقع کرتی ہے کہ ایک حکم پر اٹین شن ہوجائیں گے‘کوئیک مارچ شروع کردیں گے۔ فوج میں نظم وضبط کی بہت اہمیت ہوتی ہے ہرکام اتفاق رائے سے ہوتاہے۔ فوج میں ہرماہ یونٹ کمانڈر دربارلگاتاہے اورسپاہیوں کے مسائل حل کرتاہے۔ ہم نے بارہا یہ منظر دیکھاہے۔ ایک بار دربارمیںکسی سپاہی نے کہا ۔سر! سالانہ رخصت کے لیے مجھے ہرسال اپنی مرحومہ دادی کی موت کا بہانہ کرنا پڑتاہے۔ ایک اورسپاہی نے کہاکہ سر سالانہ رخصت کے لیے مجھے ہرسال شادی کا ڈراما کرنا پڑتاہے۔ کرنل صاحب یہ سن کر بہت ہنسے اور حکم دیا کہ آئندہ سالانہ رخصت کے لیے کسی بہانے کی ضرورت نہیں۔ صرف سالانہ رخصت ہی لکھاجائے۔گزشتہ دنوں چیف جسٹس پنجاب بہاولپور کے دورے پر تشریف لائے تو انہوں نے خود کو ججز اور وکلاءتک ہی محدود رکھا اور حکم صادر فرمایاکہ 2005ءسے 2010ءتک دائرہونے والے مقدمات کا فیصلہ فوری سنایاجائے اگر چیف جسٹس پنجاب عدالتوں میں دھکے کھانے والوں کو بھی شرف ملاقات سے نوازتے تو انہیں علم ہوتا عدالتوں میں زیرسماعت مقدمات ایسے بھی ہیں جن کی پیشیاں تیسری نسل بھگت رہی ہے۔ قبل ازیں چیف جسٹس پاکستان عالمی وقار! چوہدری افتخار محمد نے فرمایا تھاکہ 2000ءسے 2005ءتک کے مقدمات 2006ءتک نمٹائے جائیں مگر لاڈلے وکلاءنے اس حکم کے خلاف ایسا اودھم مچایا کہ چیف صاحب کا فرمان اس میں دب کر رہ گیا۔ سیانے سچ ہی کہاکرتے ہیں۔ ممنون کو سر اٹھاکر جینے کا حق نہیں ہوتا۔ شاکر وممنون کا بندہ بے دام ہونا آداب معاشرت کا قابل احترم حصہ ہے۔

بشکریہ جسارت نیوز