PDA

View Full Version : بیوی کا عاشق



بےباک
08-25-2011, 04:50 PM
بیوی کا عاشق

کسی جگہ ایک بوڑھی مگر سمجھدار اور دانا عورت رہتی تھی جس کا خاوند اُس سے بہت ہی پیار کرتا تھا۔

دونوں میں محبت اس قدر شدید تھی کہ اُسکا خاوند اُس کیلئے محبت بھری شاعری کرتا اور اُس کیلئے شعر کہتا تھا۔

عمر جتنی زیادہ ہورہی تھی، باہمی محبت اور خوشی اُتنی ہی زیادہ بڑھ رہی تھی۔

جب اس عورت سے اُس کی دائمی محبت اور خوشیوں بھری زندگی کا راز پوچھا گیا

کہ آیا وہ ایک بہت ماہر اور اچھا کھانا پکانے والی ہے؟

یا وہ بہت ہی حسین و جمیل اور خوبصورت ہے؟

یا وہ بہت زیادہ عیال دار اور بچے پیدا کرنے والی عورت رہی ہے؟


یا اس محبت کا کوئی اور راز ہے؟

تو عورت نے یوں جواب دیا کہ

خوشیوں بھری زندگی کے اسباب اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی ذات کے بعد خود عورت کے اپنے ہاتھوں میں ہیں۔ اگر عورت چاہے تو وہ اپنے گھر کو جنت کی چھاؤں بنا سکتی ہے اوراگر یہی عورت چاہے تو اپنے گھر کو جہنم کی دہکتی ہوئی آگ سےبھی بھر سکتی ہے۔

مت سوچیئے کہ مال و دولت خوشیوں کا ایک سبب ہے۔ تاریخ کتنی مالدار عورتوں کی کہانیوں سے بھری پڑی ہے جن کے خاوند اُن کو اُنکے مال متاب سمیت چھوڑ کر کنارہ کش ہو گئے۔

اور نہ ہی عیالدار اور بہت زیادہ بچے پیدا کرنے والی عورت ہونا کوئی خوبی ہے۔ کئی عورتوں نے دس دس بچے پیدا کئے مگر نہ خاوند اُنکے مشکور ہوئے اور نہ ہی وہ اپنے خاوندوں سے کوئی خصوصی التفات اور محبت پا سکیں بلکہ طلاق تک نوبتیں جا پہنچیں۔

اچھے کھانا پکانا بھی کوئی خوبی نہیں ہے، سارا دن کچن میں رہ کرمزے مزے کے کھانے پکا کر بھی عورتیں خاوند کے غلط معاملہ کی شکایت کرتی نظر آتی ہیں اور خاوند کی نظروں میں اپنی کوئی عزت نہیں بنا پاتیں۔

تو پھر آپ ہی بتا دیں اس پُرسعادت اور خوشیوں بھری زندگی کا کیا راز ہے؟ اور آپ اپنے اورخاوند کے درمیان پیش آنے والے مسائل اور مشاکل سے کس طرح نپٹا کرتی تھیں؟

اُس نے جواب دیا: جس وقت میرا خاوند غصے میں آتا تھا اور بلا شبہ میرا خاوند بہت ہی غصیلا آدمی تھا، میں اُن لمحات میں ( نہایت ہی احترام کے ساتھ) مکمل خاموشی اختیار کر لیا کرتی تھی۔ یہاں ایک بات واضح کر دوں کہ احترام کےساتھ خاموشی کا یہ مطلب ہے کہ آنکھوں سے حقارت اور نفرت نہ جھلک رہی ہو اور نہ ہی مذاق اور سخریہ پن دکھائی دے رہا ہو۔ آدمی بہت عقلمند ہوتا ہے ایسی صورتحال اور ایسے معاملے کو بھانپ لیا کرتا ہے۔

اچھا تو آپ ایسی صورتحال میں کمرے سے باہر کیوں نہیں چلی جایا کرتی تھیں؟

اُس نے کہا: خبردار ایسی حرکت مت کرنا، اس سے تو ایسا لگے گا تم اُس سے فرار چاہتی ہو اور اُسکا نقطہ نظر نہیں جاننا چاہتی، خاموشی تو ضروری ہے ہی، اس کے ساتھ ساتھ خاوند جو کچھ کہے اُسے نہ صرف یہ کہ سُننا بلکہ اُس کے کہے سے اتفاق کرنا بھی اُتنا ہی اشد ضروری ہے۔ میرا خاوند جب اپنی باتیں پوری کر لیتا تو میں کمرے سے باہر چلی جایا کرتی تھی، کیونکہ اس ساری چیخ و پکار اور شور و شرابے والی گفتگو کے بعد میں سمجھتی تھی کہ اُسے آرام کی ضرورت ہوتی تھی۔ کمرے سے باہر نکل کر میں اپنے روزمرہ کے گھریلو کام کاج میں مشغول ہو جاتی تھی، بچوں کے کام کرتی، کھانا پکانے اور کپڑے دھونے میں وقت گزارتی اور اپنے دماغ کو اُس جنگ سے دور بھگانے کی کوشش کرتی جو میری خاوند نے میرے ساتھ کی تھی۔

تو آپ اس ماحول میں کیا کرتی تھیں؟ کئی دنوں کیلئے لا تعلقی اختیار کرلینا اور خاوند سے ہفتہ دس دن کیلئے بول چال چھوڑ دینا وغیرہ؟

اُس نے کہا: نہیں، ہرگز نہیں، بول چال چھوڑ دینے کی عادت انتہائی گھٹیا فعل اور خاوند کے ساتھ تعلقات کو بگاڑنے کیلئے دو رُخی تلوار کی مانند ہے۔ اگر تم اپنے خاوند سے بولنا چھوڑ دیتی ہو تو ہو سکتا ہے شروع شروع میں اُس کیلئے یہ بہت ہی تکلیف دہ عمل ہو۔ شروع میں وہ تم سے بولنا چاہے گا اور بولنے کی کوشش بھی کرے گا۔ لیکن جس طرح دن گزرتے جائیں گے وہ اِس کا عادی ہوتا چلا جائے گا۔ تم ایک ہفتہ کیلئے بولنا چھوڑو گی تو اُس میں تم سے دو ہفتوں تک نہ بولنے کی استعداد آ جائے گی اور ہو سکتا ہے کہ تمہارے بغیر بھی رہنا سیکھ لے۔ خاوند کو ایسی عادت ڈال دو کہ تمہارے بغیر اپنا دم بھی گھٹتا ہوا محسوس کرے گویا تم اُس کیلئے آکسیجن کی مانند ہو اور تم وہ پانی ہو جس کو پی کر وہ زندہ رہ رہا ہے۔اگر ہوا بننا ہے تو ٹھنڈی اور لطیف ہوا بنو نا کہ گرد آلود اور تیز آندھی۔

اُس کے بعد آپ کیا کیا کرتی تھیں؟

اُس عورت نے کہا: میں دو گھنٹوں کے بعد یا دو سے کچھ زیادہ گھنٹوں کے بعد جوس کا ایک گلاس یا پھر گرم چائے کا یک کپ بنا کر اُس کے پاس جاتی، اور اُسے نہایت ہی سلیقے سے کہتی، لیجیئے چائے پیجیئے۔ مجھے یقین ہوتا تھا کہ وہ اس لمحے اس چائے یا جوس کا متمنی ہوتا تھا۔ میرا یہ عمل اور اپنے خاوند کے ساتھ گفتگو اسطرح ہوتی تھی کہ گویا ہمارے درمیان کوئی غصے یا لڑائی والی بات ہوئی ہی نہیں۔

جبکہ اب میرا خاوند ہی مجھ سے اصرار کر کے بار بار پوچھتا تھا کہ کیا میں اُس سے ناراض تو نہیں ہوں۔جبکہ میرا ہر بار اُس سے یہی جواب ہوتا تھا کہ نہیں میں تو ہرگز ناراض نہیں ہوں۔ اسکے بعد وہ ہمیشہ اپنے درشت رویئے کی معذرت کرتا تھا اور مجھ سے گھنٹوں پیار بھری باتیں کرتا تھا۔

تو کیا آپ اُس کی ان پیار بھری باتوں پر یقین کر لیتی تھیں؟

ہاں، بالکل، میں اُن باتوں پر بالکل یقین کرتی تھی۔ میں جاہل نہیں ہوں۔

کیا تم یہ کہنا چاہتی ہو کہ میں اپنے خاوند کی اُن باتوں پر تو یقین کر لوں جو وہ مجھ سے غصے میں کہہ ڈالتا تھا اور اُن باتوں پر یقین نہ کروں جو وہ مجھے پر سکون حالت میں کرتا تھا؟ غصے کی حالت میں دی ہوئی طلاق کو تو اسلام بھی نہیں مانتا، تم مجھ سے کیونکر منوانا چاہتی ہو کہ میں اُسکی غصے کی حالت میں کہی ہوئی باتوں پر یقین کرلیا کروں؟

تو پھر آپکی عزت اور عزت نفس کہاں گئی؟

کاہے کی عزت اور کونسی عزت نفس؟ کیا عزت اسی کا نام ہے تم غصے میں آئے ہوئے ایک شخص کی تلخ و ترش باتوں پر تو یقین کرکے اُسے اپنی عزت نفس کا مسئلہ بنا لومگر اُس کی اُن باتوں کو کوئی اہمیت نا دو جو وہ تمہیں پیار بھرے اور پر سکون ماحول میں کہہ رہا ہے!

میں فوراً ہی اُن غصے کی حالت میں دی ہوئی گالیوں اور تلخ و ترش باتوں کو بھلا کر اُنکی محبت بھری اور مفید باتوں کو غور سے سنتی تھی۔


جی ہاں، خوشگوار اور محبت بھری زندگی کا راز عورت کی عقل کے اندر موجود تو ہے مگر یہ راز اُسکی زبان سے بندھا ہوا ہے۔

مومن کے بلاگ سے لیا ہوا ،

پاکستانی
08-25-2011, 05:08 PM
لاجواب، بہت خوب
گھر جا کے اسے اپنی بیوی کے سامنے رکھتا ہوں تاکہ کچھ ہمارا بھلا ہو;)

ویسے یہ تحریر (https://hajisahb.wordpress.com/2011/06/08/%D8%A8%DB%8C%D9%88%DB%8C-%DA%A9%D8%A7-%D8%B9%D8%A7%D8%B4%D9%82-2/) محمد سلیم شانتو صاحب چائنہ والے کی ہے.

بےباک
08-26-2011, 10:25 PM
ویسے آپس کی بات ہے ، پاکستانی بھائی .
بیویوں کو ایسے مضامین پڑھانے چاہیئیں ، خاص طور پر حقوق شوہر والے ،
اور ھاں بیوی کے حقوق والی کتاب اپنے سرھانے رکھ لینے میں کوئی مضاحقہ نہیں ،...
:-):-):-):-)

پاکستانی
08-27-2011, 01:39 AM
سچی بات ہے، آجکل ایسی کتابیں کی بہت مانگ ہے مگر کمبخت ماری ملتی ہی نہیں، بیوی کے حقوق والی بک سٹالوں پہ ڈھیر لگی ہیں. اب لے دے یہ آرٹیکل ہاتھ لگا ہے ........... چلو . اسی سے گزارہ کر لیتے ہیں اور نہیں تو چلو کچھ ہی دن کٹ جائیں گے سکون سے;)

سرحدی
09-07-2011, 12:56 PM
ماشاء اللہ ، اصلاح معاشرہ کے لیے ایک بہترین تحریر ہے لیکن میرے بھائی ، مضمون اچھا ہے لیکن ایک پیرگراف میں بہت بڑی غلطی کی گئی ہے جو اصلاح معاشرہ کے بجائے بگاڑِ معاشرہ کی طرف جاتی ہے تحریر درج ذیل ہے:

‘‘ کیا تم یہ کہنا چاہتی ہو کہ میں اپنے خاوند کی اُن باتوں پر تو یقین کر لوں جو وہ مجھ سے غصے میں کہہ ڈالتا تھا اور اُن باتوں پر یقین نہ کروں جو وہ مجھے پر سکون حالت میں کرتا تھا؟ غصے کی حالت میں دی ہوئی طلاق کو تو اسلام بھی نہیں مانتا، تم مجھ سے کیونکر منوانا چاہتی ہو کہ میں اُسکی غصے کی حالت میں کہی ہوئی باتوں پر یقین کرلیا کروں؟’’

اسلام نے کب یہ کہا ہے کہ غصہ کی حالت میں دی ہوئی طلاق واقع نہیں ہوتی؟؟
ایک حدیث شریف کا مفہوم ہے جس کے مطابق:
‘‘ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ، جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تین چیزیں ایسی ہیں کہ جن کی حقیقت تو حقیقت ہے ہی لیکن اگر وہ مذاق میں کی جائیں تو مذاق میں بھی ہوجاتی ہیں (۱) نکاح (۲) طلاق (۳) رجعت
(سنن ابی داؤد، باب فی الطلاق علی الھذل، حدیث نمبر 1875)
میں نے اب تک کہیں پر یہ نہیں پڑھا کہ غصہ کی حالت میں طلاق نہیں ہوتی ہے ، حالاں کہ طلاق تو دی ہی غصہ میں جاتی ہے، پیار سے کون اپنی بیوی کو طلاق دیتا ہے!!
اس کی تصحیح کرلی جائے ورنہ تو ہم جیسے کم علم لوگ اس کو دلیل بناکر آگے سپلائی کرنا شروع کردیں گے جس کا ذریعہ یہ مضمون بنے گا اور اگر خدانخواستہ اس پر کسی نے عمل کرلیا تو یقیناً یہ اسلام کی اصل روح سے ہٹنے اور معاشرہ کو بگاڑنے کا ذریعہ بنے گا۔
اُمید ہے کہ گزارشات قبول فرمائیں گے۔
جزاک اللہ خیراً

بےباک
09-08-2011, 07:53 AM
پیارے بھائی سرحدی صاحب ،
یہ سبق آموز کہانی ہے ، یہ فتوی نہیں ، صرف عورتوں کو سمجھانے کے لیے کہ اگر آپ کا خاوند ناراض ہو کر یہ کہے کہ میں تجھے طلاق دے دوں گا ، تو عورت کو بھی حوصلہ رکھنا چاھیے ،نہ کے لڑاکا اور جذباتی ہو کر کہے ابھی طلاق دیں ، میں تو طلاق لے کر رہوں گی ،
سب دوستوں کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ بیوی اپنے کردار سے بہت سی ایسی باتیں جذب کر سکتی ہے جو لڑائی اور فساد کی جڑ بن سکتی ہیں ، اور اس کا تحمل اور خاوند کی دل کی گہرائی سے اطاعت سے لڑائی کی بنیاد بالکل ختم ہو جاتی ہے ،
..................................... نوٹ .....................................
اس موقع پر طلاق کے مسائل کو سمجھنا چاہیے ، البتہ بنیادی باتوں کا علم ہونا ضروری ہے ،
شوہر اور بیوی کو باہم الفت ومحبت، مودت ورحمت ، خوش اخلاقی وحسن معاشرت کے ساتھ رہنا چاہئیے ،اگر زوجین ایک دوسرے کے حقوق بحسن وخوبی ادا کرتے رہیں، شوہر بیوی کی رہائش، خوراک و پوشاک اور دیگر ضروریات کی تکمیل کردے اور بیوی دستور کے مطابق شوہر کی اطاعت کرے تو ان کے درمیان فرحت ومسرت کا ماحول قائم رہتا ہے ۔
مفاہمت ومصالحت کے تین طریقے
اگر کسی وجہ سے ناموافق حالات پیدا ہوں اور بیوی نافرمانی کرتی رہے تو باہمی مفاہمت ومصالحت سے کام لینا چاہئیے ،شوہر کو تین طریقوں سے معاملہ کو سلجھانے کی تاکید کی گئی
(1) سب سے پہلے وہ بیوی کو نصیحت کرے
(2) بستر علحدہ کرے
(3) تادیب اور تنبیہ کرے ،اللہ تعالی کا ارشاد ہے ، وَاللَّاتِي تَخَافُونَ نُشُوزَهُنَّ فَعِظُوهُنَّ وَاهْجُرُوهُنَّ فِي الْمَضَاجِعِ وَاضْرِبُوهُنَّ فَإِنْ أَطَعْنَكُمْ فَلَا تَبْغُوا عَلَيْهِنَّ سَبِيلًا إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيًّا كَبِيرًا-
ترجمہ:اور وہ عورتیں جن کی نافرمانی کا اندیشہ ہوانہیں پہلے نرمی سے سمجھاؤ پھرانہیں خوابگاہوں سے علحدہ کردواور (پھر بھی بازنہ آئیں تو )انہیں تنبیہ وتادیب کرو اگر وہ اطاعت کرنے لگیں تو ان پر کوئی راستہ مت تلاش کرو۔(سورۃ النساء۔34.
......................................
طلاق کا اقدام کرنے سے پہلے ان مراحل میں سعی وکوشش کرنے اور سنجیدگی سے غور و فکر کرنے کی تاکید کی گئی لیکن شریعت مطہرہ میں اس کو طلاق کی شرط نہیں کہا گیا ، نیز طلاق کے وقت بیوی کا موجود ہونا یا اس کو طلاق کی اطلاع دینا . طلاق واقع ہونے کے لئے شرط نہیں ،اگر شوہر طلاق دینا چاہے تو طلاق بائن یا طلاق مغلظہ کے بجائے طلاق رجعی کے لئے کہا گیا تاکہ عدت گذرنے تک شوہر کواپنے فیصلہ پر مزید غور فکر کرنے اور فیصلہ واپس لینے کی گنجائش رہے اور بیوی کی غلطی ہو تو وہ اپنی اصلاح کر لے۔اس کے باوجود کوئی شخص ان تمام طریقوں کو نظر انداز کرکے طلاق کا اقدام کر بیٹھے تو طلاق واقع ہوجائے گی۔
........................................


غصہ کی تین حالتیں اور طلاق کا حکم
حالتِ غصہ کی طلاق کی بابت ردالمحتارج 2 ص463, میں غصہ کی تین حالتیں بیان کی گئی ہیں ،دوحالتوں میں طلاق واقع ہوتی ہے اور ایک حالت میں طلاق واقع نہیں ہوتی :
(1) غصہ کی ابتدائی حالت ہو کہ جس کی وجہ عقل میں خلل وفتور نہ آیا ہو ،اپنی گفتگو و الفاظ کوجانتا ہواوراپنے قصد و ارادہ کو سمجھتا ہو، ایسی حالت میں دی ہوئی طلاق واقع ہوجاتی ہے ۔
(2)غصہ کی انتہائی شدیدحالت ہو کہ حد جنون تک پہنچ جائے اور ہوش وحواس باقی نہ رہیں، زبان سے نکلنے والے الفاظ جاننے اور سمجھنے کی صلاحیت ختم ہوجائے ،ایسے شدید غصہ کی حالت میں دی گئی طلاق واقع نہیں ہوتی اور اسکے دیگر اقوال واعمال خرید وفرخت ، نکاح وعتاق وغیرہ کا بھی اعتبار نہیں ۔
(3)غصہ کی درمیانی حالت جومذکورہ دو حالتوں کے مابین ہو اور غصہ حد جنون کو نہ پہنچے،احناف کے پاس اس حالت میں بھی دی گئی طلاق واقع ہوجاتی ہے ۔
دوسری صورت میں ذکر کردہ غصہ کی انتہائی شدید حالت میںطلاق واقع نہ ہونے کا حکم اس وقت ہے جب کہ اس حالت کا ثبوت دو عادل گواہوں کی گواہی سے ہو یا طلاق دینے والے کے حلفیہ بیان سے بشرطیکہ اس کا غصہ کی انتہائی شدید حالت میں آپے سے باہر ہوجانا بطور عادت لوگوں میں معروف ہو۔

اگر کوئی شخص ان تمام شرعی ہدایات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ، غور وفکر کے بغیر غصہ کی حالت میں طلاق دے اور بیک وقت ایک تلفظ میں تین طلاق دے تو قرآن کریم وحدیث شریف کی رو سے طلاق واقع ہوجائے گی اور طلاق دینے والا گنہگار قرار پائیگا،شوہر کا غصہ کی ابتدائی یا درمیانی حالت میں ہونا ، بیوی کا موجود نہ ہونا ، یا بیوی کو اطلاع نہ پہنچنا طلاق واقع ہونے کو نہیں روکتا ،جب شوہرنے طلاق دی ہے تو جیسے طلاق دی واقع ہوگی ،ایک دی ہو تو ایک، تین دی ہوتو تین ۔بیوی کی غیر موجودگی میں طلاق کے لئے بیوی کی طرف طلاق کی نسبت کرنا یا نام کے ساتھ طلاق دینا ضروری ہے۔
بیک وقت تین طلاق کا شرعی حکم
سہ بارہ طلاق کا طریقہ یقینا قرآن وحدیث کے خلاف اور گناہ ومعصیت ہے ، غور وفکر کے بغیر غصہ کی حالت میں طلاق دینے کی وجہ سے زوجین مزید مشکلات میں مبتلا ہوجاتے ہیں،اس لئے سہ بارہ طلاق کا طریقہ اختیار نہیں کرنا چاہئیے اورمسلم معاشرے میں مرد حضرات کو اس سے واقف کرانا چاہئیے تاکہ سہ بارہ طلاق کا غیرشرعی طریقہ اختیار نہ کیا جائے اور معصیت کی یہ راہ مسدود ہوجائے ،اس کے باوجود اگر کوئی شخص تین طلاق دے تو تین واقع ہوجائیں گی ۔
...............
طلاق کے بارے مزید جاننے کے لیے کافی کتب موجود ہیں ، ان سے استفادہ کیا جا سکتا ہے
اللہ تعالی ہمیں اطاعت اللہ اور اطاعت رسول پر قائم رکھیں ، آمین

سرحدی
09-08-2011, 09:25 AM
السلام علیکم
اللہ تعالیٰ آپ کو خوش رکھے، بہت تفصیلاً سمجھایا ہے۔
میرا یہ مقصد ہرگز نہیں ہے کہ یہ کوئی فتوی ہے، اسی لیے عرض کردیا تھا کہ مجھ جیسا کم علم شخص مضمون کے پیرگراف کو پڑھ کر بطور دلیل استعمال نہ کرنے لگ جائے۔ اس لیے ایک اعتراض ذہن میں آیا سو عرض خدمت کردیا۔
باقی آپ کی کہانی یقیناً ایک سبق آموز کہانی اور معاشرہ کی اصلاح کے لیے بہت اچھی ہے۔ یقیناً عورت چاہے تو گھر کا آنگن نکھر سکتا ہے اور زندگی کی یہ گاڑی بخیروخوبی اپنی منزل مقصود تک پہنچ سکتی ہے۔۔
جب کہ یہاں پر جانبین سے بھی ایک دوسرے کو سمجھنے اور برداشت کرنے کی نصیحت ملتی ہے۔
جزاک اللہ حضرت جی!