PDA

View Full Version : اولیاء اللہ کون ؟؟؟؟؟لازمی پڑھیں



وحید احمد ریاض
08-27-2011, 06:33 PM
السلام علیکم

پیارے اسلامی بھائیو،
ہمارے معاشرے میں یہ رواج عام ہے کہ ہم کسی کو بنا تحقیق کے
" اولیاء اللہ" یعنی اللہ کا دوست
قرار دے دیتے ہیں. حالانکہ واضح طور پر ہم یہ بھی مانتے ہیں کہ
کون کس کا دوست ہے یہ اسے ہی پتہ ہے.
اگر کوئی ہمارا دوست ہے تو یہ ہمیں ہی پتہ ہے کہ ہم اسے دوست سمجھتے ہیں یا نہیں
اسی طرح، کون اللہ کا دوست ہے یہ اللہ تعالیٰ ہی کو پتہ ہے.
اس کے علاوہ، ہمیں یہ بھی نہیں پتہ کہ قرآن مجید میں اللہ کے دوستوں کی کیا نشانیاں بیان ہوئی ہیں؟؟؟
اللہ تعالی نے قرآن مجید کی سورہ یونس کی آیت نمبر 62 میں " اولیاء اللہ" کی نشانیاں بیان فرمائی ہیں
اولیاء اللہ کی 2 نشانیاں ہیں.نمبر 1 ایمان اور نمبر 2 تقویٰ.
اب سوچیں کہ کیا ہم کسی کے ایمان کی گواہی دے سکتے ہیں؟؟؟؟اور پھر یہ بھی سوچیں کہ ہم کسی کے تقویٰ کی گواہی دے سکتے ہیں؟؟؟؟
بھائیو، ہم تو کسی کے متعلق یہ گواہی بھی نہیں دے سکتے کہ اس کا وضو بھی ہے کہ نہیں.چہ جائیکہ ہم کسی کواللہ کا دوست قرار دے دیتے ہیں.
سورہ یونس کی اس آیت میں اولیاء اللہ کی نشانیاں بیان کرنے کا مقصد یہ بھی ہے کہ ہم خود بھی اولیاء اللہ بننے کی کوشش کریں جو کہ بہت آسان ہے. بس صرف ایمان اور تقویٰ چاھئے اور اگر یہ 2 چیزیں ہم میں موجود ہوئی تو ہم بھی اولیاء اللہ بن سکتے ہیں ہاں کس درجہ میں ہیں یہ اللہ کو ہی پتہ ہو گا
لیکن یہ سوچیں کہ اگر ہم اللہ کو دوست بن گئے تو ہمیں کس بات کی پریشانی رہے گی؟؟؟؟؟
مجھے امید ہے کہ میری یہ باتیں سب کی سمجھ میں آ گئی ہوں گی، پھر بھی کوئی سوال باقی ہے تو بندہ حاضر ہے

http://urdulook.info/imagehost/?di=313144509768
http://urdulook.info/imagehost/?di=213144518090

پاکستانی
08-28-2011, 11:43 AM
جزاک اللہ

عبادت
08-29-2011, 07:17 AM
اسلام علیکم
پہلے تو اچھی پوسٹ پر

جزاک اللہ


پاکستانی ویر ::smiley78:
اور ساتھ میں :smiley23::roseanimr:

admin
08-31-2011, 08:32 AM
بہت خؤب جناب وحید احمد ریاض صاحب ،
اللہ تعالی سے دعا ہے کہ قرآن اور سنت پر عمل کرنا نصیب فرمائے ، آمین
:-):-)

تانیہ
08-31-2011, 03:29 PM
جزاک اللہ.........

حسن قادری
09-02-2011, 08:48 PM
اولیا ءاللہ کی نشانیاں قرآن میں ایمان اور تقوی ھیں اور حضرت حسن بصری سے کسی نے پوچھا ولی کی کیا نشانی ھے آپ نے فرمایا
فی عینیہ بکا جسکی آنکھوں میں آنسو ھوں
جسکا وعدہ وفا والا ہو
جسکی گفتگو رو حانی امراض کا علاج کرتی ہو
جسکا ہاتھ دینے والا ہو
جسکی زبان پر اللہ کا ذکر جاری ہو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اللہ ھم سبکو ایسا بنادے آمین

سیما
09-04-2011, 11:52 PM
اولیا ءاللہ کی نشانیاں قرآن میں ایمان اور تقوی ھیں اور حضرت حسن بصری سے کسی نے پوچھا ولی کی کیا نشانی ھے آپ نے فرمایا
فی عینیہ بکا جسکی آنکھوں میں آنسو ھوں
جسکا وعدہ وفا والا ہو
جسکی گفتگو رو حانی امراض کا علاج کرتی ہو
جسکا ہاتھ دینے والا ہو
جسکی زبان پر اللہ کا ذکر جاری ہو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اللہ ھم سبکو ایسا بنادے آمین


آمین ثم آمین

محمد ارسلان
09-05-2011, 10:45 AM
جزاک اللہ خیرا ریاض بھائی

سرحدی
09-07-2011, 12:33 PM
جزاک اللہ خیراً
بہت اچھی اور مفید شیئرنگ کی آپ نے، لیکن محترم!
ایک سوال ذہن میں آتا ہے کہ جب ہم اولیاء کی نشانیاں معلوم نہیں کرسکتے تو پھر کیسے ہم لوگ اولیاء اللہ کو پائیں گے؟ یہاں پر ایک آیت کا ذکر کرنا مناسب سمجھوں گا جو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا کہ :
(مفہوم) کہ اے ایمان والو، اللہ سے ڈرو اور سچوں کے ساتھ ہو۔
سچائی بھی ایک صفت ہے جو انسان کے اندر ہوتی ہے اس کے لیے بھی ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ تو اللہ کو پتہ ہے کہ کون سچا ہے تو پھر ہم سچوں کے ساتھ کیسے ہوں گے؟؟
میرے خیال میں ہمیں اسلام نے ظاہری طور پر دیکھنے اور پرکھنے کا حکم دیا ہے، اور جو شخص ظاہراً اللہ تعالیٰ سے محبت کرنے والا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی اتباع کرنے والا ہو یقیناً وہ ایمان اور تقویٰ کے معیار پر پورا اترتے ہوئے اولیاء اللہ کی فہرست میں شامل ہوگا۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں ایمان اور تقویٰ کامل طور پر نصیب فرماکر استقامت عطا فرمائے اور ہمیں اپنے نیک بندوں میں شامل فرمائے۔۔ آمین

وحید احمد ریاض
10-04-2011, 08:57 PM
جزاک اللہ خیراً
بہت اچھی اور مفید شیئرنگ کی آپ نے، لیکن محترم!
ایک سوال ذہن میں آتا ہے کہ جب ہم اولیاء کی نشانیاں معلوم نہیں کرسکتے تو پھر کیسے ہم لوگ اولیاء اللہ کو پائیں گے؟ یہاں پر ایک آیت کا ذکر کرنا مناسب سمجھوں گا جو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا کہ :
(مفہوم) کہ اے ایمان والو، اللہ سے ڈرو اور سچوں کے ساتھ ہو۔
سچائی بھی ایک صفت ہے جو انسان کے اندر ہوتی ہے اس کے لیے بھی ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ تو اللہ کو پتہ ہے کہ کون سچا ہے تو پھر ہم سچوں کے ساتھ کیسے ہوں گے؟؟
میرے خیال میں ہمیں اسلام نے ظاہری طور پر دیکھنے اور پرکھنے کا حکم دیا ہے، اور جو شخص ظاہراً اللہ تعالیٰ سے محبت کرنے والا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی اتباع کرنے والا ہو یقیناً وہ ایمان اور تقویٰ کے معیار پر پورا اترتے ہوئے اولیاء اللہ کی فہرست میں شامل ہوگا۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں ایمان اور تقویٰ کامل طور پر نصیب فرماکر استقامت عطا فرمائے اور ہمیں اپنے نیک بندوں میں شامل فرمائے۔۔ آمین


السلام علیکم
آپ نے پوچھا،

ایک سوال ذہن میں آتا ہے کہ جب ہم اولیاء کی نشانیاں معلوم نہیں کرسکتے تو پھر کیسے ہم لوگ اولیاء اللہ کو پائیں گے؟؟؟؟؟؟


جواب،

میرے بھائی،
اولیاء اللہ کی نشانیاں اللہ نے بتا دیں ہیں جو میں نے اوپر بیان کر دی ہیں۔
ان کا مقصد، لازماً یہ تو نہیں کہ ہمیں اولیاء اللہ ڈھونڈھنے کے لئے یہ نشانیاں دی گئی ہیں۔
ان کا مقصد یہ بھی ہو سکتا ہے کہ
ہم اپنے اندر یہ نشانیاں پیدا کریں اور اپنا شمار اولیاء اللہ(اللہ کے دوست) میں کروا لیں
اب سوچیں،
جو اللہ کا دوست بن گیا ، کیا اس کو ضرورت ہے کسی واسطے، وسیلے، درگاہ وغیرہ پر جانے کی؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
میری اس بات کو بار بار پڑھئے گا۔

اب آتا ہوں آپ کے ریپلائی کے دوسرے پوائنٹ کی طرف،

آپ نے لکھا،

اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا کہ :
(مفہوم) کہ اے ایمان والو، اللہ سے ڈرو اور سچوں کے ساتھ ہو۔
سچائی بھی ایک صفت ہے جو انسان کے اندر ہوتی ہے اس کے لیے بھی ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ تو اللہ کو پتہ ہے کہ کون سچا ہے تو پھر ہم سچوں کے ساتھ کیسے ہوں گے؟؟

جواب،
اللہ تعالی سورہ توبہ، سورہ نمبر9- آیت نمبر119 ۔ پارہ نمبر11۔ میں فرماتے ہیں

يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَكُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِيْنَ ١١٩؁

اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور سچوں کے ساتھ رہو (١)

محترم بھائی،
ہمیں سچوں کے ساتھ ہونے کے لئے خود سچا ہونا پڑے گا۔
اور اس کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ
سچائی کا ساتھ دو , یعنی ایک شخص جب سچ بولتا ہے تو اسکی تصدیق کرو اور
جب وہ جھوٹ بولے تو اسکی تکذیب کرو ۔

آپ نے یہ بھی لکھا،
میرے خیال میں ہمیں اسلام نے ظاہری طور پر دیکھنے اور پرکھنے کا حکم دیا ہے، اور جو شخص ظاہراً اللہ تعالیٰ سے محبت کرنے والا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی اتباع کرنے والا ہو یقیناً وہ ایمان اور تقویٰ کے معیار پر پورا اترتے ہوئے اولیاء اللہ کی فہرست میں شامل ہوگا۔

نہیں میرے بھائی ،ایسا نہیں ہے،
دیکھیں، غور کریں
اولیاء اللہ کا مطلب ہے اللہ کا دوست، اور یہ اللہ کو ہی پتہ ہے کہ اس کا دوست کون ہے، ہم نہیں جانتے، ہاں یہ ہے کہ ہمیں خود کوشش کرنی چاھئے کہ ہم خود اولیاء اللہ بنیں، اپنے اعمال کے ساتھ۔ ناکہ ہم اولیاء اللہ کو ڈونڈھتے پھریں

اللہ تعالی ہم سب کو عمل کی توفیق دیں

آمین

اسی موضوع سے متصل میرا نیا تھریڈ پڑھیں
http://urdulook.info/portal/showthread.php?tid=3480

بےباک
10-12-2011, 11:50 AM
بہت زبردست طریقے سے بیان فرمایا گیا ،
آپ دونو حضرات کا بے حد شکریہ

محمداکرم
10-30-2011, 05:17 PM
پیارے بھائی وحید ریاض صاحب! السلامُ علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ۔ :-)

ماشاءاللہ اس لڑی کا خوبصورت عنوان : کہ "اولیاءاللہ کون؟" دیکھ کر خیال گزرا کہ ضرور اسمیں اللہ کے محبوب بندوں کی پیاری باتیں لکھی ہونگی، مگر تفصیل دیکھ کر معلوم ہوا کہ سارا زورِ قلم اولیاءاللہ سے قریب کرنے پر نہیں بلکہ دور کرنے پر صرف کیا گیا ہے، جوکہ نامکمل و ناقص فہمِ دین کا نتیجہ ہے۔ آپکے اخلاص پر میں شبہ نہیں کرتا ، مگر آپ نے اپنے استدلال کی تائید میں قرآن و حدیث اور تصریحاتِ ائمہ دین پر کم اور اپنے عقلی دلائل پر زیادہ انحصار کیا ہے ۔ دین کے ایک ادنیٰ طالبعلم ہونے کے ناطے میں نے مناسب سمجھا کہ آپکے پیدا کیے گئے ان اشکالات پر قرآن و حدیث سے رہنمائی لے لی جائے، تاکہ کسی بہتر نتیجے تک پہنچا جاسکے:

آپ نے لکھا :

1۔ [ہمارے معاشرے میں یہ رواج عام ہے کہ ہم کسی کو بنا تحقیق کے " اولیاء اللہ" یعنی اللہ کا دوست قرار دے دیتے ہیں.]

گویا کہ آپ کہنا یہ چاہتے ہیں کہ آج تک جتنے بھی اولیاءاللہ مسلمانوں میں معروف ہیں ، اور لوگ ان سے محبت رکھتے ہیں، تو یہ سب غلط ہے۔

2۔ [جو اللہ کا دوست بن گیا ، کیا اس کو ضرورت ہے کسی واسطے، وسیلے، درگاہ وغیرہ پر جانے کی؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
میری اس بات کو بار بار پڑھئے گا۔]
یعنی آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ اللہ کا ولی یعنی دوست بننے کیلئے کسی واسطے، وسیلے کی ضرورت نہیں۔

3۔ [یہ اللہ کو ہی پتہ ہے کہ اس کا دوست کون ہے، ہم نہیں جانتے، ہاں یہ ہے کہ ہمیں خود کوشش کرنی چاھئے کہ ہم خود اولیاء اللہ بنیں، اپنے اعمال کے ساتھ۔ ناکہ ہم اولیاء اللہ کو ڈونڈھتے پھریں]
یعنی آپ کے خیال میں اولیاءاللہ کو تلاش کرنے کی بالکل کوئی ضرورت نہیں ہے بلکہ ہمیں خود اولیاءاللہ بننے کی کوشش کرنی چاہیے، بس یہی ہمارے لیے کافی ہے۔

میرے پیارے بھائی ، قبل اسکے کہ حق کو تلاش کرنے کی خاطر ہم قرآن وحدیث کی روشنی میں مطالعہ شروع کریں ، آپ سے صرف یہ تصدیق چاہیے کہ آپکی باتوں سے میں نے نمبر 1 ، 2 اور 3 پر جو مفہوم اخذ کیا وہ درست ہے یا آپکا مطلب کچھ اور تھا؟ براہِ مہربانی آگاہ کریں تاکہ اسکے بعد کچھ عرض کیا جائے۔
شکریہ والسلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ۔

سرحدی
11-02-2011, 11:56 AM
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
محترم دوستو! اُمید ہے کہ مزاجِ گرامی بخیروعافیت ہوں گے۔
عرض کرتا چلوں کے درج بالا مضمون کے تحت ہونے والی اب تک کی بحث بہت ہی مفید رہی ہے اور میرے ہر بھائی نے اپنا نکتہ نظر بہتر انداز میں بیان کرنے کی کوشش کی ہے۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو ایک اور نیک بنائے ، یہاں پر اسی مضمون کے تحت ایک کتاب کے لیے لنک لگارہا ہوں، قطع نظر اس کے کہ میں اس سے اپنی برتری ثابت کروں بلکہ محض اصلاح نفس اور اپنے علم میں اضافہ کی خاطر لگارہا ہوں۔
اُمید کرتا ہوں کہ آپ حضرات کو بھی اس سے نفع پہنچے گا۔


اولیاء اللہ کی پہچان (http://www.khanqah.org/books/show/awliya-allah-ki-pahchan)

غسان
11-13-2011, 09:33 PM
1۔ [ہمارے معاشرے میں یہ رواج عام ہے کہ ہم کسی کو بنا تحقیق کے " اولیاء اللہ" یعنی اللہ کا دوست قرار دے دیتے ہیں.]

گویا کہ آپ کہنا یہ چاہتے ہیں کہ آج تک جتنے بھی اولیاءاللہ مسلمانوں میں معروف ہیں ، اور لوگ ان سے محبت رکھتے ہیں، تو یہ سب غلط ہے۔

میرے زعم کے مطابق وہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ اولیاء اللہ وہی ہوتے ہیں جو اللہ والے کام کرتے ہیں۔ اور ہمیں تحقیق کرنی چاہیے، کچھ نام نہاد ولی اللہ ایسے بھی دیکھے گئے جو ہوتے پاکستان میں ہیں، لیکن پانچوں وقت نماز پڑھنے ”مدینہ“ جاتے ہیں۔


2۔ [جو اللہ کا دوست بن گیا ، کیا اس کو ضرورت ہے کسی واسطے، وسیلے، درگاہ وغیرہ پر جانے کی؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
میری اس بات کو بار بار پڑھئے گا۔]
یعنی آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ اللہ کا ولی یعنی دوست بننے کیلئے کسی واسطے، وسیلے کی ضرورت نہیں۔


جی ہاں، کسی وسیلے / ذریعے کی ضرورت نہیں۔ سورۃ ق میں اللہ خود فرماتے ہیں، و نحن أقرب إلیہ من حبل الورید۔۔۔ ترجمۃ( ہم انسان کے، اس کی شہہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہیں۔ تو ایسی قریب ترین چیز سے رابطہ قائم کرنے کے لیے وسیلہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ (یاد رہے میں وسیلہ کا منکر نہیں ہوں۔ لیکن یہ خیال بالکل غلط ہے کہ وسیلے کے بغیر تعلق ہی ممکن نہیں)



3۔ [یہ اللہ کو ہی پتہ ہے کہ اس کا دوست کون ہے، ہم نہیں جانتے، ہاں یہ ہے کہ ہمیں خود کوشش کرنی چاھئے کہ ہم خود اولیاء اللہ بنیں، اپنے اعمال کے ساتھ۔ ناکہ ہم اولیاء اللہ کو ڈونڈھتے پھریں]
یعنی آپ کے خیال میں اولیاءاللہ کو تلاش کرنے کی بالکل کوئی ضرورت نہیں ہے بلکہ ہمیں خود اولیاءاللہ بننے کی کوشش کرنی چاہیے، بس یہی ہمارے لیے کافی ہے۔


اولیاء کرام سے عقیدت ضرور ہونی چاہیے، لیکن آخرت میں وہ ہمارے کام نہیں آئیں گے۔ کیوں کہ جب آپ ﷺ نے حضرت فاطمہ سے فرمادیا کہ جو عمل کرنا ہے، کر لو کیوں کہ قیامت کے دن میں تمہارے کام آنے والا نہیں۔ تو ہم کس کھیت کی مولی ہیں؟۔۔۔


میرے پیارے بھائی ، قبل اسکے کہ حق کو تلاش کرنے کی خاطر ہم قرآن وحدیث کی روشنی میں مطالعہ شروع کریں ، آپ سے صرف یہ تصدیق چاہیے کہ آپکی باتوں سے میں نے نمبر 1 ، 2 اور 3 پر جو مفہوم اخذ کیا وہ درست ہے یا آپکا مطلب کچھ اور تھا؟ براہِ مہربانی آگاہ کریں تاکہ اسکے بعد کچھ عرض کیا جائے۔

اللہ حق کی سمجھ عطا فرمائے۔ آمین

وحید احمد ریاض
12-17-2011, 08:38 AM
پیارے بھائی وحید ریاض صاحب! السلامُ علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ۔ :-)

ماشاءاللہ اس لڑی کا خوبصورت عنوان : کہ "اولیاءاللہ کون؟" دیکھ کر خیال گزرا کہ ضرور اسمیں اللہ کے محبوب بندوں کی پیاری باتیں لکھی ہونگی، مگر تفصیل دیکھ کر معلوم ہوا کہ سارا زورِ قلم اولیاءاللہ سے قریب کرنے پر نہیں بلکہ دور کرنے پر صرف کیا گیا ہے، جوکہ نامکمل و ناقص فہمِ دین کا نتیجہ ہے۔ آپکے اخلاص پر میں شبہ نہیں کرتا ، مگر آپ نے اپنے استدلال کی تائید میں قرآن و حدیث اور تصریحاتِ ائمہ دین پر کم اور اپنے عقلی دلائل پر زیادہ انحصار کیا ہے ۔ دین کے ایک ادنیٰ طالبعلم ہونے کے ناطے میں نے مناسب سمجھا کہ آپکے پیدا کیے گئے ان اشکالات پر قرآن و حدیث سے رہنمائی لے لی جائے، تاکہ کسی بہتر نتیجے تک پہنچا جاسکے:

آپ نے لکھا :

1۔ [ہمارے معاشرے میں یہ رواج عام ہے کہ ہم کسی کو بنا تحقیق کے " اولیاء اللہ" یعنی اللہ کا دوست قرار دے دیتے ہیں.]

گویا کہ آپ کہنا یہ چاہتے ہیں کہ آج تک جتنے بھی اولیاءاللہ مسلمانوں میں معروف ہیں ، اور لوگ ان سے محبت رکھتے ہیں، تو یہ سب غلط ہے۔

2۔ [جو اللہ کا دوست بن گیا ، کیا اس کو ضرورت ہے کسی واسطے، وسیلے، درگاہ وغیرہ پر جانے کی؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟


میری اس بات کو بار بار پڑھئے گا۔]
یعنی آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ اللہ کا ولی یعنی دوست بننے کیلئے کسی واسطے، وسیلے کی ضرورت نہیں۔

3۔ [یہ اللہ کو ہی پتہ ہے کہ اس کا دوست کون ہے، ہم نہیں جانتے، ہاں یہ ہے کہ ہمیں خود کوشش کرنی چاھئے کہ ہم خود اولیاء اللہ بنیں، اپنے اعمال کے ساتھ۔ ناکہ ہم اولیاء اللہ کو ڈونڈھتے پھریں]
یعنی آپ کے خیال میں اولیاءاللہ کو تلاش کرنے کی بالکل کوئی ضرورت نہیں ہے بلکہ ہمیں خود اولیاءاللہ بننے کی کوشش کرنی چاہیے، بس یہی ہمارے لیے کافی ہے۔

میرے پیارے بھائی ، قبل اسکے کہ حق کو تلاش کرنے کی خاطر ہم قرآن وحدیث کی روشنی میں مطالعہ شروع کریں ، آپ سے صرف یہ تصدیق چاہیے کہ آپکی باتوں سے میں نے نمبر 1 ، 2 اور 3 پر جو مفہوم اخذ کیا وہ درست ہے یا آپکا مطلب کچھ اور تھا؟ براہِ مہربانی آگاہ کریں تاکہ اسکے بعد کچھ عرض کیا جائے۔
شکریہ والسلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ۔



السلام علیکم

محترم بھائی،
آپ کے نقطہ نظر کا شکریہ، میں آپ کے سولات کے جوابات پیش کر رہا ہوں۔

آپ نے لکھا،
گویا کہ آپ کہنا یہ چاہتے ہیں کہ آج تک جتنے بھی اولیاءاللہ مسلمانوں میں معروف ہیں ، اور لوگ ان سے محبت رکھتے ہیں، تو یہ سب غلط ہے۔

جواب،
اگر تو لوگوں کا ان سے محبت کرنا اللہ تعالیٰ کے لئے ہے تو درست ہے اور اگر ان کی محبت کرنے کی وجہ یہ ہے کہ مرنے کے بعد کوئی اسے فائدہ پہنچائے گا تو یہ غلط ہے۔مرے والا کس حال میں ہے یہ صرف اللہ تعالیٰ ہی جانتے ہیں۔
سورہ الاحقاف، سورہ نمبر 46۔ آیت 9، پارہ 26
قُلْ مَا كُنْتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ وَمَآ اَدْرِيْ مَا يُفْعَلُ بِيْ وَلَا بِكُمْ ۭ اِنْ اَتَّبِــعُ اِلَّا مَا يُوْحٰٓى اِلَيَّ وَمَآ اَنَا اِلَّا نَذِيْرٌ مُّبِيْنٌ Ḍ۝
آپ کہہ دیجئے! کہ میں کوئی بالکل انو کھا پیغمبر نہیں (١) نہ مجھے یہ معلوم ہے کہ میرے ساتھ اور تمہارے ساتھ کیا کیا جائے گا (۲)۔ میں تو صرف اسی کی پیروی کرتا ہوں جو میری طرف وحی بھیجی جاتی ہے اور میں تو صرف علی الاعلان کر دینے والا ہوں۔ترجمہ مولانا جونا گڑھی۔

مرنے والا کسی کو فائدہ نہیں پہنچا سکتا،
سورہ النحل سورہ نمبر16، آیت 20+21، پارہ 14

وَالَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَا يَخْلُقُوْنَ شَيْـــًٔـا وَّهُمْ يُخْلَقُوْنَ 20۝ۭاَمْوَاتٌ غَيْرُ اَحْيَاۗءٍ ۚ وَمَا يَشْعُرُوْنَ ۙ اَيَّانَ يُبْعَثُوْنَ 21۝ۧ

اور اللہ کے سوا جنہیں یہ لوگ پکارتے ہیں وہ کوئی چیز کیا خاک پیدا کریں گے وہ تو خود [٢١] پیدا کئے گئے ہیں، وہ مردے ہیں زندہ نہیں۔ انہیں یہ بھی پتا نہیں کہ کب [٢٢] دوبارہ اٹھائے جائیں گے؟

آپ نے لکھا،
یعنی آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ اللہ کا ولی یعنی دوست بننے کیلئے کسی واسطے، وسیلے کی ضرورت نہیں۔

میرے بھائی، ہمارے اعمال ہمارا وسیلہ ہیں، کوئی ہستی نہیں،
سورہ الاسراء سورہ نمبر 17، آیت 57، پارہ نمبر15
اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ يَبْتَغُوْنَ اِلٰى رَبِّهِمُ الْوَسِـيْلَةَ اَيُّهُمْ اَقْرَبُ وَيَرْجُوْنَ رَحْمَتَهٗ وَيَخَافُوْنَ عَذَابَهٗ ۭ اِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ كَانَ مَحْذُوْرًا 57؀
وہ ہستیاں جن کو یہ لوگ (اپنی حاجت روائی و مشکل کشائی، اور وسیلہ جوئی کے لئے) پکارتے ہیں، وہ (ان کے کام کیا آتے وہ تو) خود اپنے رب کے حضور پہنچنے کے لئے (نیکیوں کے ذریعے) قرب(وسیلہ) ڈھونڈنے میں لگے رہتے ہیں، کہ کون اس کا زیادہ مقرب بنتا ہے وہ اپنے رب کی رحمت کی امید رکھتے اور اس کے عذاب سے ڈرتے رہتے ہیں، بلاشبہ آپ کے رب کا عذاب ہے ہی ڈرنے کی چیز، ف۱۔ ترجمہ مدنی

آپ نے لکھا،
یعنی آپ کے خیال میں اولیاءاللہ کو تلاش کرنے کی بالکل کوئی ضرورت نہیں ہے بلکہ ہمیں خود اولیاءاللہ بننے کی کوشش کرنی چاہیے، بس یہی ہمارے لیے کافی ہے۔

جواب،
محترم بھائی، آپ اولیاء اللہ کو کیوں ڈھونڈنا چاہتے ہیں،کیا آپ نے آج تک کوئی اولیاء اللہ ڈھونڈھ لیا ہے؟؟؟ اس اولیاء اللہ میں آپ نے کیا نشانیاں دیکھیں ہیں؟؟؟ ہمارا ولی کون ہے؟؟ زرا اس کی وضاحت فرمادیں؟؟؟؟ ( سب سوالوں کےجواب ضرور دیجئے گا)
اور سوچیں کہ کیا ہمارا اللہ کا دوست بن جانا کافی نہیں؟؟؟؟، کیا اللہ تعالی ہمارے لئے کافی نہیں؟؟؟

اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں 18 مقامات پر یہ فرمایا ہے(كَفٰى) کہ اللہ کافی ہے،
وَتَوَكَّلْ عَلَي اللّٰهِ ۭ وَكَفٰى بِاللّٰهِ وَكِيْلًا 81؀ 81؀، سورہ النساء ۔سورہ 4 پارہ 5
اور اللہ پر بھروسہ کر اور اللہ کارساز کافی ہے
وَلِلّٰهِ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ ۭ وَكَفٰى بِاللّٰهِ وَكِيْلًا ١٣٢؁ سورہ النساء ،آیت 132 ، پارہ 5
اللہ کے اختیار میں ہے آسمانوں کی سب چیزیں اور زمین کی بھی اور اللہ کارساز کافی ہے۔
حَسْبِيَ اللّٰهُ ڶ لَآ اِلٰهَ اِلَّا ھُوَ ۭعَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَھُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيْمِ ١٢٩؀ۧ ١٢٩؀ۧ سورہ التوبہ، سورہ نمبر 9، پارہ نمبر11

مجھے اللہ کافی ہے اس کے سوا کسی کی بندگی نہیں، میں نے اسی پر بھروسہ کیا اور وہ بڑے عرش کا مالک ہے ۔ترجمہ مولنا جونا گڑھی۔


وَلَــقَدْ ضَرَبْنَا لِلنَّاسِ فِيْ ھٰذَا الْقُرْاٰنِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ لَّعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُوْنَ 27؀ۚ سورہ الزمر، سورہ نمبر39، پارہ نمبر23
اور درحقیقت ہم نے لوگوں کے (سمجھانے کے) لئے اس قرآن میں ہر طرح کی مثال بیان کر دی ہے تاکہ وہ نصیحت حاصل کر سکیں۔ ترجمہ ڈاکٹر طاہر القادری
جزاک اللہ
السلام علیکم

نورمحمد
12-17-2011, 05:37 PM
جزاک اللہ

اذان
12-17-2011, 06:45 PM
بہت زبردست طریقے سے بیان فرمایا گیا ،
آپ دونوں حضرات کا بے حد شکریہ

السلام علیکم
جزاک اللہ خیر:roseanimr:



http://urdulook.info/portal/showthread.php?tid=2644

رفیق طاھر
04-23-2012, 10:44 PM
جزاکم اللہ خیرا وبارک فیکم

abrarhussain_73
04-24-2012, 11:42 PM
السلام علیکم،
اولیاء اللہ کی اصطلاح درحقیقت ان بندگان الٰہی کے لئے استعمال ہوئی ہے، جو اللہ پر صدق دل سے ایمان رکھتے ہیں اور تقوٰی اور خلوص نیت کی اعلٰی صفات سے متصف ہوتے ہیں۔ یعنی یہ عمل کے اعلیٰ درجوں کی بات کی جارہی ہے۔ اور جو کہ ہر مسلمان کا مطلوب و مقصود ہے۔
اور یہ اصطلاح چند لوگوں تک محدود نہیں بلکہ جو بھی ان صفات کو اختیار کریگا وہ اولیاء اللہ کہلائینگے۔
اگر چہ ہم میں سے کوئی بھی کسی کی نیت کو نہیں جانتا لیکن شرعی حکم ہمیشہ ظاہر پر ہوتا ہے۔ اور اگر کسی کا ظاہر آپ کو ٹھیک نظر آئے تو یقینا اس کے سچے، ایماندار، دیندار، دیانتدار، نیک اور عابد، زاہد ہونے کی گواہی آپ دے سکتے ہیں کیونکہ گواہی کے لئے ظاہر کا دیکھنا شرط ہے اور یہ فیصلہ کرنا کہ کون اندر سے کیسا ہے تو وہ اللہ کا کام ہے۔ آپ کسی کو اس وقت تک بُرا نہیں کہ سکتے جب تک اس بات کا ظاہری ثبوت آپکے پاس نہ ہو۔ اور یہ سب کچھ اس دنیاوی زندگی کے اعتبار سے ہے اور اخروی زندگی کا فیصلہ اللہ کے ہاتھ میں ہے۔
ہمیں تو شریعت کا یہ حکم ہے کہ ہم کسی کے عیب ٹٹولنے کی کوشش نہ کریں بلکہ اگر کوئی عیب ہاتھ لگ جائے تو اسکی تشہیر کرنا غیبت کے زمرے میں آتا ہے جوکہ سخت گناہ ہے۔
آپ اس بات کی فکر نہ کریں کہ کون اصل اولیاء اللہ ہیں یا نہیں آپ سے ان کے بارے میں نہیں پوچھا جائیگا بلکہ آپ سے آپ کے بارے میں پوچھا جائیگا۔
واللہ واعلم۔۔

میرے خیالات کا مخاطب صرف صاحب مضمون نہیں بلکہ تمام قارئین ہیں۔

pervaz khan
06-02-2012, 07:04 PM
جزاک اللہ

وحید احمد ریاض
09-04-2012, 02:23 PM
السلام علیکم،
اولیاء اللہ کی اصطلاح درحقیقت ان بندگان الٰہی کے لئے استعمال ہوئی ہے، جو اللہ پر صدق دل سے ایمان رکھتے ہیں اور تقوٰی اور خلوص نیت کی اعلٰی صفات سے متصف ہوتے ہیں۔
اور یہ اصطلاح چند لوگوں تک محدود نہیں بلکہ جو بھی ان صفات کو اختیار کریگا وہ اولیاء اللہ کہلائینگے۔

آپ اس بات کی فکر نہ کریں کہ کون اصل اولیاء اللہ ہیں یا نہیں آپ سے ان کے بارے میں نہیں پوچھا جائیگا بلکہ آپ سے آپ کے بارے میں پوچھا جائیگا۔
واللہ واعلم۔۔




السلام علیکم

محترم بھائی، آپ کی باتوں سے متفق ہوں

میرا مقصد اپنے آپ کو عالم ثابت کرنا نہیں
اور نہ ہی کسی کی دل آزاری ہے
میں جو بتانا چاہ رہا ہوں وہ یہ ہے
کہ لوگ خود اولیاء اللہ بننے کو ترجیح دیں۔

امید ہے یہ مختصر باتیں ہی سب کے لئے کافی ہیں۔


جزاک اللہ

pervaz khan
09-10-2012, 03:21 PM
جزاک اللہ

بےباک
09-23-2012, 04:19 AM
http://urdulook.info/imagehost/?di=35TK

اذان
09-23-2012, 09:36 AM
جزاک اللہ
اللہ تعالی آپ کو ہمیشہ خوش رکھے ۔۔آمین
زبردست شئیرنگ ہے آپ کی شکریہ حاجی جی

وحید احمد ریاض
09-30-2012, 10:32 PM
http://urdulook.info/imagehost/?di=35TK





بہت عمدہ شاعری ہے

سب باتیں درست ہیں


جزاک اللہ