PDA

View Full Version : کیا آپ غور فرمائیں گے؟



پاکستانی
09-07-2011, 09:20 AM
یہ ایک حقیقت ہے کہ پاکستان کے لئے جدوجہد اس لئے کی گئی تھی کہ مسلمانان ہند اپنے اعتقادات اور اسلامی اقدار کے مطابق ایک معاشرہ قائم کرنا چاہتے تھے، جس میں وہ قرآن حکیم کی ہدایت و تعلیمات اور احکام و قوانین کے مطابق زندگی بسر کر سکیں۔ پاکستان تو معرض وجود میں آ گیا لیکن بوجوہ مسلمانوں کا خواب تشنہ تکمیل ہی رہ گیا، دوسرے لفظوں میں تکمیل پاکستان کا عمل ادھورا ہی رہا۔ وہ پاکستان جس میں لوگ سوچتے تھے کہ؛
× مساوات ہو گی اور صرف قانون کی حکمرانی ہو گی۔
× ہر شخص قابل تکریم اور ہر پیشہ قابل تعظیم ہو گا۔
× معاشرتی، سماجی اور معاشی انصاف ہو گا۔
× بنیادی تعلیم و تربیت کا نظام ہر ایک کے لئے یکساں اور مفت ہو گا۔
× ذرائع پیداوار ہر ایک کے لئے کھلے ہوں گے۔
× بنیادی ضروریات ہر شخص کی پوری ہو گی۔
× حقوق العباد یعنی بنیادی انسانی حقوق بحال ہوں گے۔
× امن و سلامتی کا دور دورہ ہو گا۔
لیکن آج کیا ہو رہا ہے؟ ملک پر امریکہ بہادر، آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کا حکم چلتا ہے اور حکومت پر سرمایہ کاروں، سرداروں، وڈیروں اور جاگیرداروں کا قبضہ ہے جو قیام پاکستان سے لیکر آج تک ہمارا خون چوس رہے ہیں۔ ایک طرف تخریب کاروں، راہزنوں، ڈاکوؤں اور لیٹروں نے تباہی مچاہی ہوئی ہے تو دوسری طرف مہنگاہی کا یہ عالم ہے کہ زندگی کی ضروریات تو کجا صرف روٹی کا حصول ممکن نہیں رہا۔ مزدوروں، کاریگروں، سرکاری و غیر سرکاری ملازموں، خوانچہ فروشوں، ریڑھی بانوں اور کسانوں کے لئے جسم و جاں کا رشتہ قائم رکھنا ممکن نہیں رہا۔ دن رات خودکشیاں اور خودسوزیاں ہو رہی ہیں۔ کسی کی جان و مال محفوظ ہے نہ عزت و آبرو اور نہ کوئی داد ہے نہ فریاد۔ نوبت یہاں تک آ گئی ہے کہ پاکستانی قوم ہلاکت و بربادی کے دہانے تک پہنچ گئی ہے اور ایک دھکے کی منتظر ہے۔
اس سے پہلے کہ ہم بربادی کی غار میں گر جائیں، ہمیں اندرونی اور بیرونی فرعونوں، ہامونوں، قارونوں اور آزروں کی محکومی و غلامی سے نجات حاصل کرنا ہو گی۔

کیا آپ جانتے ہیں کہ
خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا


پاکستانی - اگست 2006 (http://apnadera.blogspot.com/2006/08/blog-post.html)

بےباک
09-08-2011, 08:09 AM
اس سے پہلے کہ ہم بربادی کی غار میں گر جائیں، ہمیں اندرونی اور بیرونی فرعونوں، ہامونوں، قارونوں اور آزروں کی محکومی و غلامی سے نجات حاصل کرنا ہو گی۔

کیا آپ جانتے ہیں کہ
خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا
بہت خوب جناب پاکستانی بھائی صاحب ،

واصف حسین
09-08-2011, 10:42 AM
پاکستانی بھائی آپ نے جو حقائق بیان کیے بہت تلخ ہیں مگر قیام پاکستان کا مقصد کوئی حکومت، مذہبی جماعت، سیاسی جماعت یا بیرونی طاقت پورا نہیں کر سکتی. اس کو پورا کرنا ہمارا فرض ہے.
ہم اس فرض کی بات کرتے ہیں جوکہ ایک فرد کا ہے۔آپ کا ہے اور میرا ہے اور ہم سب کا ہے۔ ہرفرد کا ایک حلقہ اثر اور حلقہ ذمہ داری ہوتا ہے۔ہماری ذات، ہمارا گھر، بیوی بچے ہماری حلقہ ذمہ داری اور دوست احباب حلقہ اثر ہیں۔اس سے باہر لوگ ہماری دسترس سے باہر ہیں۔
ہر شخص حالات کا رونا تو روتا ہے اور اس کا ذمہ دار کبھی حکومت، کبھی طالبان اور کبھی بیرونی طاقتوں کو ٹھہراتا ہے مگر اپنے فرض کو نہیں سمجھتا۔ یہ حالات ظاہری طور پرجس کے بھی پیدا کردہ ہیں دراصل ہمارے اعمال کی مکافات ہیں۔
وہ کیا عوامل ہیں جن کی یہ مکافات ہیں؟
1۔ دین سے دوری
2۔ ذاتی مفادات کو ترجیع دینا
3۔ کرپشن
4۔ رشوت، بیجا سفارش اور اقرباء پروری
5۔ جھوٹ، فریب اور دھوکہ دہی

اس لسٹ کو بہت طول دیا جا سکتا ہے مگر فی الوقت ہم انہی پانچ کا جائزہ لیتے ہیں۔

دین سے دوری
بنیاد سے شروع کرتے ہیں۔تمام والدین کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کا بچہ پڑھ لکھ کر اچھی نوکری حاصل کرے۔ جی ہاں اچھی نوکری حاصل کرے نہ کہ ایک اچھا انسان بنے۔ اس کے لیے اپنی بساط کے مطابق اچھے سے اچھے سکول میں داخل کرواتے ہیں۔ٹیوشن لگواتے ہیں اور خود بیٹھ کر ان کو پڑھاتے ہیں۔ ان کو کوئی بھی مسئلہ درپیش ہو تو جہاں سے بھی ممکن ہو مدد لے کر حل کرتے ہیں۔ جب امتحان کا نتیجہ نکلتا ہے تو فخر سے ہر محفل میں بتاتے ہیں*کہ میرے بچے نے فرسٹ ڈویژن حاصل کی ہے میرے بچے نے بورڈ میں پوزیشن حاصل کی ہے وغیرہ وغیرہ۔ اور دینی تعلیم؟ اس کے لیے دادا یا دادی سے قران پڑھ لیا یا بہت تیر مارا تو محلے کی مسجد یا مدرسہ میں قران کی تلاوت سیکھنے بھیج دیا۔
یہ تو تھے سیکھنے والے۔ اب بات کرتے ہیں سکھانے والوں کی۔اچھے، محنتی اور قابل بچے ڈاکٹر یا انجینیر بنے ہیں یا کسی اور اسکوپ والے شعبے میں جاتے ہیں۔اس سے کم اہلیت والے سرکاری ملازمت اور فوج کا حصہ بنتے ہیں۔اس کے بعد کاروبار کا شعبہ ہے اور پھر سکول ٹیچر اور جو کہیں اور نہ چل سکے وہ کسی مسجد میں امام ہو جائے گا۔معاشرے کی تعمیر کرنے والے دینی اور دنیاوی علوم کے معلم وہی ہیں جن کو کسی اور شعبے میں جانے کا موقع نہیں ملا کیونکہ ان میں اہلیت کی کمی تھی۔
تیسرا رخ ہماری دین کی طرف توجہ۔ اگر ہم کسی بیماری میں مبتلا ہو جائیں تو ڈاکٹر کے پاس جانے کے علاوہ بےشمار کتب کا مطالعہ کرتے ہیں اور انٹرنیٹ چھانتے ہیں کہ اس بیماری کی کیا وجوہات ہیں اور اس کے کیا کیا طریقہ علاج موجود ہیں۔ مگر جب کوئی دینی مسئلہ ہو تو ایک مولوی کے فتوے پر اکتفا کر کے اپنے ضمیر کو مطمئن کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔خود اس پر تحقیق کرنا ہمارا وطیرہ ہی نہیں ہے۔

ذاتی مفادات کو ترجیع دینا
ہر معاملے میں ہمارے عمل کا محور ہماری ذات ہے۔اپنے تھوڑے سے فائدے کے لیے ہم ملک اور دوسرے افراد کے بڑے نقصان کی بھی پروا نہیں کرتے۔گلی میں لگا سرکاری بلب میں اس لیے اتار لیتا ہوں کہ میرے گھر کا بلب فیوز ہو گیا ہے۔سارا دن دفتر میں سرکاری کام کے بجائے میں اپنے ذاتی کام نپٹاتا ہوں۔کمپنی کے ٹیلیفون سے میں اپنے بیرون ملک دوستوں رشتہ داروں کو لمبی لمبی کالیں کرتا ہوں۔اور یہ سب کام میں اپنا حق سمجھ کر کرتا ہوں اور ایک لمحے کو بھی میرے دل میں یہ بات نہیں آتی کہ میں کوئی غلط کام کر رہا ہوں۔

کرپشن
سارا دن ہم حکومت، حکمرانوں اور دوسروں کی کرپشن کی بات کرتے ہیں مگر اپنے گریبان میں نہیں دیکھتے۔دراصل جس کی جہاں تک پہنچ ہے وہ اس حد تک کرپشن کرتا ہے اور دلیل کے طور پر اپنے سے اوپر والے کی کرپشن پیش کرتا ہے۔بطور ایک سرکاری افسر میرے پاس ایک گاڑی ہے جو مجھے سرکاری کاموں کے لیے دی گئی ہے۔ میری کرپشن کی حد یہ ہے کہ وہ گاڑی سارا دن میرے گھر کے ذاتی کام کرتی ہے۔ میرے گھر کا سودا سلف، بلوں کی ادائیگی، میری بیوی کی شاپنگ سب اسی گاڑی پر ہوتی ہے۔ مگر جب میں دوستوں میں*بیٹھتا ہوں نے فکریہ انداز میں کہتا ہوں کہ زرادری بہت بڑا کرپٹ ہے۔ مجھے یہ کہنے کا کیا حق ہے۔میں اپنے کاروبار میں جھوٹی دستاویز بنا کر لاکھوں روپے کا ٹیکس چوری کرتا ہوں اور بورڈ میٹنگ میں میں دلی افسوس کے ساتھ کہتا ہوں کہ انکم ٹیکس آفیسر بہت کرپٹ ہے ہم سے رشوت طلب کرتا ہے۔ میں*ٹیکسی ڈرائیور ہوں اور ایک انجان مسافر سے دوگنا کرایہ وصول کرتا ہوں اور وزیر اعظم کی کرپشن کا رونا روتا ہوں۔میں ایک دوکاندار ہوں اور اپنے ترازو کے پلڑے میں 100 گرام کا وزن چھپا کر لگاتا ہوں اور اجناس کے مہنگا ہونے کا رونا روتا ہوں۔

رشوت، بیجا سفارش اور اقرباء پروری
میں ایک نااہل اور بدمعاش آدمی کو ووٹ صرف اس لیے دے دیتا ہوں کہ وہ میرے خاندان سے تعلق رکھتا ہے یا اگر میں نے اسے ووٹ نہ دیا تو وہ مجھے نقصان پہنچا سکتا ہے۔ مجھے معلوم ہے کہ میرا بھائی اکاونٹگ کی الف بے بھی نہیں جانتا مگر میں اپنے افسر سے اس کی نوکری کی سفارش کرتا ہوں۔مجھے معلوم ہے کہ قاعدے کے مطابق ایک ہفتے میں میرے گھر گیس کا کنکشن لگ جائے گا مگر میں دو دن میں لگوانے کے لیے بابو کو رشوت دیتا ہوں۔اور پھر ہر جگہ بغیر رشوت کے کام نہ ہونے کا واویلا کرتا ہوں۔ میرے افسر نے اپنے رشتہ دار کو اکاونٹنٹ کی نوکری دے دی تو بھی میرا ضمیر جاگ جاتا ہے اور میں اسے اقرباء پروری خیال کرتا ہوں۔ اسمبلی میں*آنے والے ممبران پر بھی مجھے اعتراض ہوتا ہے یہ کرپٹ اور بدمعاش افراد کا ٹولہ ہے۔

جھوٹ، فریب اور دھوکہ دہی
جھوٹ تو میں اس دیدہ دلیری سے بولتا ہوں کہ خود مجھے بھی اس پر سچ کا گمان ہوتا ہے۔ فریب میرے نذدیک صرف وہ ہے جو میرے ساتھ ہوا ہو۔ جو میں نے کیا وہ تو میری حکمت عملی ہے۔اگر میں بغیر کسی سرکاری کام سے گئے ta/da وصول کرتا ہوں اور اس کے لیے جعلی کاغذات پیش کرتا ہوں تو یہ میرا حق ہے دھوکہ دہی نہیں ہے۔اور جب میڈیا پر حکومت کے ممبران کا بجٹ سامنے آتا ہے تو خون کے آنسو روتا ہوں*کہ یہ لوگ پاکستان کو کھا گئے ہیں۔

حاصل کلام
حاصل کلام یہ ہے کہ معاشرہ تب ہی سدھرے گا جب فرد سدھرے گا۔ دوسروں پر تنقید سے پہلے اپنے گریبان میں دیکھیں۔ اپنے حلقہ ذمہ داری اور حلقہ اثر کو باتوں سے نہیں عمل سے متاثر کریں اور پھر دیکھیں کہ حالات کیسے ٹھیک ہوتے ہیں۔

بےباک
09-08-2011, 11:43 AM
جزاک اللہ جناب واصف حسین صاحب ،:-):-):tumb:

سرحدی
09-10-2011, 09:18 AM
جزاک اللہ پاکستانی بھائی، آپ نے ایک اچھے موضوع پر قلم اٹھایا جس کی ضرورت موجودہ حالات کے پیش نظر بہت اہمیت کی حامل ہے۔
آپ نے وطن عزیز پاکستان کی تاریخ کو مختصر الفاظ میں بیان کرتے ہوئے مسلمانانِ ہند کی قربانیوں اور وطن عزیز پاکستان کے حصول کی جدو جہد کو پیش کیا۔
اس میں شک نہیں کہ پاکستان کی اساس اور بنیاد کلمہ توحید لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ پر تھی، لیکن بہت ہی افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ اس وقت کے پرخلوص مسلمانوں کی جدو جہد اور ان کی قربانیاں آج ہم سب سے سوال کرتی ہیں کہ کیا یہ وہی پاکستان ہے جس کا نقشہ ہزاروں لاکھوں لوگوں کی قربانیوں پر بنایا گیا ؟؟
اس کے ساتھ ساتھ یہ تلخ حقیقت بھی سننے میں آتی ہے کہ اپنی سادگی اور اخلاص کی بنیاد پر جدو جہد کرنے والے ان لاکھوں انسانوں کی قیادت ایسے لوگوں کے ہاتھوں میں تھی جو پاکستان میں اسلام کے نظام کے قائل ہی نہ تھے۔
14 اگست 2011ء کے موقع پر ایک رپورٹ بی بی سی لندن کے اردو خبروں میں ریڈیو پر سنی تھی جس کا حاصل یہ تھا کہ مسلم لیگ کی جتنی بھی قراردادیں پاس ہوئیں، ان میں سے کوئی بھی قرارداد ایسی نہ تھی جس میں یہ کہا گیا ہو کہ ‘‘پاکستان میں اسلامی نظام کا قیام ہوگا’’۔
اب حقیقت کیا ہے یہ تو اللہ ہی کو معلوم ہوگا لیکن اس سلسلہ میں اگر سید عطاء اللہ شاہ بخاری ؒ کی کتاب ‘‘پاکستان میں کیا کیا ہوگا؟’’ کا مطالعہ کرلیا جائے تو بہت ساری چیزیں سمجھ میں آجاتی ہیں۔۔
پاکستانی بھائی کے مضمون کے جواب میں واصف حسین صاحب نے بہت ہی عمدہ جواب تحریر فرمایا ہے اور حقیقت یہی ہے کہ معاشرہ کی تبدیلی یک دم نہیں ہوتی ، بلکہ ہر شخص اپنی ذات میں ایک معاشرہ لیے ہوئے ہے۔ اگر ہم اپنی ذات سے معاشرہ بنانے کی ابتداء کرتے ہیں تو یقین جانیں کہ معاشرہ بنتا چلا جائے گا کیوں کہ معاشرہ فردِ واحد سے وجود میں آتا ہے اور فردِ واحد ہی اس کا ذریعہ بنتا ہے۔
آپ تمام حضرات کا بے حد شکریہ جنہوں نے اس مضمون کو لکھا ، پڑھا اور اس پر اپنی رائے دی۔۔۔