PDA

View Full Version : 7 ستمبر ایک تاریخ ساز دن!!



سرحدی
09-07-2011, 11:55 AM
سات ستمبر 1974ء، ایک تاریخ ساز دن
جو عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ اور منکرین ختم نبوت کے لئے رسوائی کا دن ہے

اسلام کی بنیاد کلمہ طیبہ پر ہے اس کلمہ کے دو جز ہیں ، اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا اقرار، محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کا اعتراف واقرار۔ اور اس اعتراف واقرار کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ کے سواکسی مدعی الوہیت کا وجود ناقابل برداشت ہے اسی طرح محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی مدعی نبوت کا بساط نبوت پر قدم رکھنے کی جرأت کرنا بھی لائق تحمل نہیں یہی ''عقیدہ ختم نبوت'' کہلاتا ہے جس پر صدر اول سے آج تک امت مسلمہ قائم رہی ہے۔
جو لوگ لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ کے ایمان واقرار سے سرشار ہوکر نورِ ایمان سے منور ہوچکے ہیں اور اسلامی برادری کا حصہ ہونے پر فخر کرتے ہیں ان پر یہ ذمہ داری عائد کی گئی ہے کہ وہ مشرکوں کی سرکوبی کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے باغیوں کے خلاف بھی سینہ سپر ہوجائیں اور جھوٹے مدعیان نبوت کے جھوٹے طلسم کو پاش پاش کرکے رکھ دیں۔ اسی ذمہ داری کا نام ''تحفظ ختم نبوت'' ہے۔
چونکہ اس عقیدہ ختم نبوت کا تحفظ دین کی اساس اور بنیاد ہے کیونکہ عقیدہ ختم نبوت ہے تو ہمارا دین محفوظ ہے ، عقیدہ ختم نبوت ہے تو قرآن محفوظ ہے، عقیدہ ختم نبوت ہے تو دین کی تعلیمات محفوظ ہیں اگر یہ عقیدہ باقی نہیں رہتا تو پھر نہ دین باقی رہے گا ، نہ اس کی تعلیمات اور نہ قرآن باقی رہے گا کیونکہ بعد میں آنے والے ہر نبی کو دین میں تبدیلی، تنسیخ کا حق ہوگا۔ اس لیے اس عقیدہ پر پورے دین کی عمارت قائم ہے، اسی میں امت کی وحدت کا راز مضمر ہے یہی وجہ ہے کہ جب کبھی کسی نے اس عقیدہ میںنقب لگانے کی کوشش کی یا اس مسئلہ سے اختلاف کرنے کی کوشش کی اسے امت مسلمہ نے سرطان کی طرح اپنے جسم سے علیحدہ کردیا اس لیے ختم نبوت کا تحفظ یا بالفاظ دیگر منکرین ختم نبوت کا استیصال دین کا ہی ایک حصہ ہے اور مسلمانوں نے ہمیشہ اسے اپنا مذہبی فریضہ سمجھا ہے۔ اور امت نے ہر دور میں اپنا یہ فریضہ احسن طریقے سے انجام دیا ہے اور اس فریضہ کی ادائیگی میں کسی کوتاہی اور غفلت کی مرتکب نہیں ہوئی ۔
خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے آخری دور میں سب سے پہلے جھوٹے مدعیان نبوت کا خاتمہ کرکے امت کے سامنے اس کام کا عملی نمونہ پیش کیا چنانچہ یمن میں عبہلہ نامی ایک شخص جس کو اسود عنسی کہاجاتا تھا، نے سب سے پہلے ختم نبوت سے بغاوت کرکے اپنی جھوٹی نبوت کا دعویٰ کیا ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل یمن کو اس سے قتال وجہاد کا باقاعدہ تحریری حکم صادر فرمایا اور بالآخر حضرت فیروز دیلمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے خنجر نے اس جھوٹی نبوت کا آخری فیصلہ سنادیا۔
ختم نبوت کا دوسرا غدار مسیلمہ کذاب کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ اس نے نبوت محمدی میں شرکت کا دعویٰ کیا تھا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اللہ کی تلوار حضرت خالد بن ولید کی سربراہی میں صحابہ کرامؓ کی ایک جماعت کو اس کی سرزنش کے لیے بھیجا بالآخر ایک معرکۃ الاراء جنگ ہوئی اور مسیلمہ کذاب کو اس کے بیس ہزار امتیوں کے ساتھ حدیقۃ الموت کے راستہ جہنم کے سفر پر روانہ کردیا گیا۔ (حدیقۃ الموت اس باغ کا نام ہے جہاں مسیلمہ کذاب کی موت واقع ہوئی)۔ صرف اس ایک معرکہ میں مسلمانوں نے تحفظ ختم نبوت کے لیے بارہ سو صحابہ کرام کی شہادت کا نذرانہ پیش کیا جن میں ستر بدری صحابہ کرام اور سات سو سے زیادہ وہ صحابہ کرام تھے جو قرآن کریم کے ماہر تھے اور قراء کہلاتے تھے۔ اتنی بڑی قربانی تمام غزوات اور سرایا میں نہیں دی گئی کیونکہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں جتنی جنگیں لڑی گئیں ، غزوات اور سرایا ملاکر ان میں شہید ہونے والے صحابہ کرام کی کل تعداد 259ہے۔
غرضیکہ امت نے کبھی کسی جھوٹی نبوت کو برداشت نہیں کیا، جھوٹے نبیوں کے استیصال اور خاتمہ کے لیے بڑی سے بڑی قربانی پیش کی ، ہر طرح کا ظلم برداشت کیا آگ میں کودنا قبول کیا مگر جھوٹی نبوت کو پنپنے نہیں دیا۔ ابو مسلم خولانی کو اسود عنسی نے اپنی نبوت کے نہ ماننے پر آگ میں ڈالا مگر اللہ تعالیٰ نے آگ کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرح گلزار بنادیا۔
امت مسلمہ نے ایک ایک عضو اپنا کٹوانا گوارا کیا مگر جھوٹی نبوت کا انکار کیا مسیلمہ کذاب نے حضرت حبیب بن زید سے اپنی نبوت کا اقرا کرانا چاہا مگر انہوں نے بار بار انکار کیا وہ بدبخت ایک ایک عضو کاٹتا رہا بالآخر اُنہیں شہید کردیا مگر حضرت حبیب بن زید رضی اللہ عنہ سے اپنی نبوت کا اقرار نہ کراسکا۔
پوری تاریخ اسلام گواہ ہے کہ جس کسی نے بھی جب کبھی یہ گستاخی کی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت پر ڈاکہ ڈالنے کی کوشش کی امت نے نہ صرف یہ کہ اسے قبول نہیں کیا بلکہ اس وقت تک سکون کا سانس نہیں لیا جب تک کہ اسے کاٹ کر جسد ملت سے علیحدہ نہیں کردیا۔
انیسویں صدی عیسویں میں اسلامی ممالک خصوصاً ہندوستان میں دماغی بے چینی اور ذہنی کشمکش اپنی انتہاکو پہنچ چکی تھی، ہندوستان میں بیک وقت مغربی ومشرقی تہذیبوں، اسلام و مسیحیت اور قدیم وجدید نظام تعلیم میں معرکہئ کا رزار گرم تھا۔ ہندوستان کے گوشے گوشے میں مسیحی پادری اپنی تبلیغی کوششوں میں سرگرم عمل تھے، 1857؁ء کی آزادی کی کوشش ناکام ہوچکی تھی جس کی وجہ سے مسلمانوں کے دماغ مفلوج اور شکست کے صدمہ سے ان کے دل زخمی تھے۔
انگریز نے مسیحی مشنریوں کے ساتھ جگہ جگہ فتنوں کے جال پھیلادئیے تھے، فرقہ واریت کو خوب ہوا دی گئی تھی، اس کی ہر ممکن کوشش تھی کہ کسی طرح مسلمانوں کے عقائد کو متزلزل کردیا جائے، ان کے عقائد پر ایسی ضرب لگائی جائے کہ مسلمانوں خصوصاً نئی نسل کے دل ودماغ کے سانچے بدل جائیں اگر ان کے ذہن کفروشرک کو قبول نہ کرسکیں تو کم ازکم خالص اسلامی بھی نہ رہیں اور دین ومذہب سے بیزاری اور نفرت کا جذبہ ان میں پیدا ہوجائے۔
انیسویں صدی کے آخر میں بے شمار فتنوں کے ساتھ ایک بہت بڑا فتنہ ایک جھوٹی اور خود ساختہ نبوت قادیانیت کی شکل میں ظاہر ہوا۔ جس کی تمام وفاداریاں انگریزی طاغوت کے لیے وقف ہوگئیں، انگریز کو بھی ایسے ہی خاردار خود کاشتہ پودے کی ضرورت تھی جس میں الجھ کر مسلمانوں کا دامن اتحاد تار تار ہوجائے اس لیے انگریزوں نے اس خود کاشتہ پودے کی خوب آبیاری کی۔ اس فرقہ کے مفادات کی حفاظت بھی انگریزی حکومت سے وابستہ تھے۔ اس لیے اس نے تاج برطانیہ کی بھر پور انداز میں حمایت کی، ملکہ برطانیہ کو خاشامدی خطوط لکھے، حکومت برطانیہ کے عوام میں راہ ہموار کرنے کے لیے حرمت جہاد کا فتویٰ دیا، چاپلوسی کے وہ گھٹیا اور پست طریقے اختیار کیے جس سے مرزا غلام احمد ملعون کی کتابیں بھری پڑی ہیں۔
قادیانی فتنہ ہندوستان کے قصبہ قادیان میں پیدا ہو اوہاں اس نے پر پُرزے نکالے اور انگریزکے سائے میںیہ فتنہ پروان چڑھتا رہا۔ پاکستان کے وجود میں آنے کے بعد مرزا غلام احمد کا بیٹا مرزا محمود قادیان سے فرار ہوا اور پاکستان آکر اپنے دجل وتلبیس کا نیا دارالکفر قائم کیا ۔ پنجاب کے پہلے انگریز گورنر موڈی کے حکم پر چنیوٹ کے قریب قادیانیوں کو لب دریا ایک ہزار چونتیس ایکڑ زمین عطیہ کے طور پر الاٹ کی گئی ، فی مرلہ ایک آنہ کے حساب سے ،صرف رجسٹری کے کل اخراجات 10034/-روپے وصول کیے گئے۔اور وہاں ربوہ کے نام سے اپنا اڈہ قائم کرکے ایک نئے قادیان کی بنیاد رکھی، سوءِ اتفاق کہ پاکستان کا پہلا وزیر خارجہ ظفر اللہ خان قادیانی تھا، اس لئے پاکستان کی اس وقت کی حکومت میں ان کا گہرا اثرورسوخ تھا۔ ملک کے کلیدی عہدوں پر ان کا قبضہ تھا، فوج میں بھی ان کا اثر ورسوخ تھا اس لئے قادیانیوں کو دھوکہ تھا کہ پاکستان میں اپنی جھوٹی کا نبوت کا جعلی سکہ خوب آسانی سے چلاسکیں گے۔
ادھر احرار اسلام کا قافلہ تقسیم ملک کی وجہ سے لٹ چکا تھا ،تنظیم اور تنظیمی وسائل کا فقدان تھا ،سب سے بڑھ کر یہ کہ احرار اسلام کے زعما حکومت وقت کے دربار میں معتوب تھے ،اس لئے قادیانی اس ملک میں دندناتے پھرتے تھے۔ حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری ، قادیانیوں کے عزائم سے باخبر تھے اس لئے 1949؁ء میں ملتان کی مسجد سراجاں میں رپنے رفقاء کے ساتھ ایک مشاورت کی اور ایک غیر سیاسی تبلیغی تنظیم ''مجلس تحفظ ختم نبوت'' کی بنیاد رکھی۔ اسی مجلس تحفظ ختم نبوت نے تمام مکتبہ ہائے فکر کے رہنماؤں کو وقت کی نزاکت کا احساس دلایا اور قادیانی فتنہ کے خلاف ایک ایک کے دروازے پردستک دی اور یوں تمام فرقے تحفظ ختم نبوت کے اسٹیج پر جمع ہوگئے اور مجلس عمل تحفظ ختم نبوت وجود میں آئی، اس کی راہنمائی میں 1953ء میں تحریک ختم نبوت چلی، قادیانیوں کے بارے میں مسلمانوں کے چار مطالبات حکومت وقت کو پیش کئے گئے:
(1) مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔
(2) سر ظفر اللہ خان کو وزارتِ خارجہ سے ہٹایا جائے۔
(3) ربوہ کو کھلا شہر قرار دیا جائے۔
(4) مرزائیوں کو کلیدی عہدوں سے برطرف کیا جائے۔
مگر اس وقت حکومت میں قادیانیوں کا اثر ورسوخ تھا اس لئے اس تحریک کو بڑی شدت کے ساتھ کچل دیا گیا ۔تحریک بظاہر ناکام ہوگئی مگر اس تحریک نے عوام میں قادیانیوں کے بارے میں شعور پیدا کردیا اور قادیانیوں کے خلاف ایک فضا قائم کردی۔
1953ء کی تحریک کے بعد ایک سرکاری افسر نے جب امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری ؒ کو مخاطب کرتے ہوئے طنزاً کہا شاہ جی آپ کی تحریک کا کیا ہوا تو شاہ جی نے فرمایا '' میں نے اس تحریک کے ذریعہ ایک ٹائم بم مسلمانوں کے دلوں کی زمین چھپادیا ہے جب وہ اپنے وقت پر پھٹے گا تو کوئی طاقت قادیانیوں کو تباہی وبربادی سے نہیں بچا سکے گی''۔اور یہ ٹائم بم 1974ء میں خود قادیانیوں کے ہاتھوں پھٹا جب قادیانیوں نے 29/مئی1974ء کو ربوہ اسٹیشن پر نشتر میڈیکل کالج ملتان کے طلبہ پر قادیانیوں کے خلاف اور ختم نبوت کے تحفظ کے لئے نعرے لگانے کے جرم میں حملہ کیا۔ یہ سانحہ تحریک ختم نبوت 1974ء کا پیش خیمہ ـثابت ہوا۔
اس سانحہ کے بعد پورے ملک میں تحریک چلی اور مسلمانوں کا یہ مطالبہ زور پکڑتا گیا کہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔ اس تحریک کے سامنے حکومت مجبور ہوگئی۔ 3/جون1974ء کو قومی اسمبلی میں اس مطالبہ پر مشتمل متفقہ طور پر قرار داد پیش ہوئی اس پر غور کے لیے قومی اسمبلی کو خصوصی کمیٹی میں تبدیل کردیا گیا اور اس خصوصی کمیٹی کے اجلاس کے لیے چالیس ارکان کا کورم طے کیا گیا ۔ تیس ارکان حزب اقتدار کے اور دس ارکان حزب اختلاف کے۔
بہر حال قومی اسمبلی میں قادیانی مسئلہ پر بحث شروع ہوئی اور جس طرح کہ طے کیا گیا تھا کہ مرزائی اور لاہوری پارٹی کے بیانات تحریراً لیے جائیں گے اور انہیں زبانی بھی اپنی صفائی کا موقع دیا جائے گا۔ اس کے مطابق قادیانی اور لاہوری گروپ دونوں نے اپنے محضر نامے قومی اسمبلی میں علیحدہ علیحدہ پیش کیے، ان کے جواب میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے بھی ''قادیانی فتنہ اور ملت اسلامیہ کا موقف '' کے نام سے اپنا تفصیلی موقف پیش کیا۔ حضرت بنوری رحمہ اللہ کی قیادت میں یہ موقف دو حصوں پر مشتمل تھا، ایک حصہ مذہبی مباحث پر مشتمل تھا، جسے مولانا محمد تقی عثمانی مدظلہ نے مرتب کیا، دوسرا حصہ قادیانی سیاست اور ان کے عزائم کے بارے میں تھا جسے مولانا سمیع الحق مدظلہ نے مرتب کیا، اور ان دو حضرات کی معاونت کرتے ہوئے مولانا محمد شرف جالندھری، مولانا محمد حیات، مولانا تاج محمود او رمولانا عبد الرحیم اشعر نے حوالہ جات کی ترتیب وتدوین کا کام کیا۔ دن میں جتنا کام مرتب کیاجاتا حضرت سید نفیس شاہ صاحب الحسینی رحمۃ اللہ علیہ اس کی کتابت کرتے، جتنا حصہ لکھا جاتا حضرت مولانا مفتی محمود ، چوہدری ظہور الٰہی اور مولانا شاہ احمد نورانی اسے سن لیتے اور مناسب ترمیم وضافہ کے بعد اسے پریس بھیج دیا جاتا اس طرح امت اسلامیہ کا ایک مکمل اور مدلل مؤقف سامنے آگیا، یہ کتاب قومی اسمبلی کے تمام اراکین میں تقسیم کی گئی، مفتی محمود رحمۃ اللہ علیہ نے اسے قومی اسمبلی میں پڑھ کر سنایا۔ اسی موقف میں اصولی طور پر قادیانی اور لاہوری گروپ کی طرف سے پیش کیے گئے محضر نامے کے جوابات آگئے تھے لیکن باقاعدہ شق وار جواب کی سعادت حضرت مولانا غلام غوث ہزاروی رحمۃ اللہ علیہ کے حصہ میں آئی اور انہوں نے علیحدہ علیحدہ مستقل دونوں محضر ناموں کے جوابات تحریری طور پر اسمبلی میں پیش کے یہ دونوں جوابات احتساب قادیانیت جلد ١٥ میں شائع ہوچکے ہیں۔
قادیانی اور لاہوری گروپ نے صرف تحریری طور پر ہی اپنا موقف پیش نہیں کیا بلکہ انہیں زبانی بھی اپنا موقف پیش کرنے کا موقع دیا گیا چنانچہ قادیانی گروپ کی طرف سے قادیانیوں کا سربراہ مرزا ناصر احمد قومی اسمبلی میں پیش ہوا ، 5سے 10اگست اور 20سے 24اگست تک کل گیارہ روز مرزا ناصر احمد کا بیان ، اس سے سوالات وجوابات اور اس پر جرح ہوئی ان گیارہ دنوں میں 42گھنٹے مرزا ناصر پرجرح ہوئی۔ لاہوری پارٹی کی طرف سے ان کے سربراہ مسٹر صدر الدین پیش ہوئے 27، 28اگست کو ان کا بیان ہوا اور ان پر 7گھنٹے جرح ہوئی، صدر الدین چونکہ کافی بوڑھے تھے پوری طرح بات بھی سننے کی قوت نہیں رکھتے تھے اس لیے ان کا بیان میاں عبد المنان عمر کے وسیلہ سے ہوا۔
گواہوں پر جرح اور ان سے سوالات کے لیے اس وقت کے اٹارنی جنرل جناب یحییٰ بختیار کو متعین کیا گیا انہوں نے پوری قومی اسمبلی کی اس سلسلہ میں معاونت کی اور بڑی محنت و جانفشانی سے اپنی ذمہ داری کو نبھایا۔ قومی اسمبلی کے ممبران اپنے سوالات لکھ کر اٹارنی جنرل صاحب کو دیتے تھے اور وہ سوالات کرتے تھے، اس سلسلہ میں مفتی محمود ، مولانا ظفر احمد انصاری اور دیگر حضرات نے اٹارنی جنرل کی معاونت کی۔بالآخر پوری جرح بیانات اور غورو خوص کے بعد قومی اسمبلی کی اس خصوصی کمیٹی نے اپنی رپورٹ وزیر اعظم کو پیش کی۔ وزیر اعظم پہلے ہی فیصلہ کے لیے ٧/ ستمبر کی تاریخ طے کرچکے تھے۔ چنانچہ ٧/ ستمبر کو قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا جس میں خصوصی کمیٹی کی سفارشات پیش کی گئیں اور آئین میں ترمیمی بل پیش کای ۔ وزیر قانون نے اس پر مختصر روشنی ڈالی اس کے بعد وزیر اعظم نے تقریر کی ۔وزیر اعظم کی تقریر کے بعد بل کی خواندگی کا مرحلہ شروع ہوا اور وزیر قانون نے بل منظوری کے لیے ایوان کے سامنے پیش کردیا تاکہ ہر رکن قومی اسمبلی اس پر تائید یا مخالفت میں رائے دے ۔ رائے شماری کے بعد اسپیکر قومی اسمبلی نے پانچ بج کر باون منٹ پر اعلان کیا کہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے والی آئینی ترمیم کے حق میں ایک سو تیس ووٹ آئے ہیں جبکہ مخالفت میں ایک ووٹ بھی نہیں ڈالا گیا اس طرح قومی اسمبلی میںیہ آئینی ترمیمی بل اتفاق رائے سے منظور کرلیا گیا۔
اس خبر کا نشر ہونا تھا کہ پورے ملک میں خوشی کی لہر دوڑ گئی، جتنی خوشی اور مسرت قوم کو اس فیصلہ سے ہوئی شاید ہی کسی موقع پر اتنی خوشی حاصل ہوئی ہو۔ مجلس کے امیر حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری رحمۃ اللہ علیہ نے وزیراعظم ، حکومت، اراکین اسمبلی اور پوری قوم کو مبارکباد پیش کی اور اللہ کا شکر ادا کیا۔ اس طرح یہ تحریک ختم نبوت جس کی بنیاد 29/ مئی 1954ء کو ربوہ اسٹیشن پر ہونے والا حادثہ بنا تھا ، 7/ ستمبر1974ء کی شام کو نتیجہ خیز ثابت ہوکر کامیابی سے ہمکنار ہوئی۔
آخر میں تحریک سے متعلق چند باتیں عرض کرنا چاہتا ہوں۔
الف:۔۔۔۔۔۔تحریک کے دوران بھی اور اس کے بعد بھی آج تک بعض حضرات یہ تاثر دینے کی سعی ناروا کرتے ہیں کہ اس تحریک کے مقاصد سیاسی تھے اور یہ مسٹر بھٹو کی حکومت ختم کرنے یا اسے نیچا دکھانے اور کمزور کرنے کے لیے اٹھائی گئی تھی حالانکہ یہ سراسر غلط بلکہ بہتان ہے۔ تحریک اور اس کے طریقہئ کار کا از اول تا آخر مطالعہ کیا جائے تو خود یہ طریقہ کار چیخ چیخ کر اس خیال کے باطل اور غلط ہونے کا اعلان کرتا ہے۔ جبکہ تحریک کے امیر حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری رحمۃ اللہ علیہ نے 9/جون کے پہلے اجلاس میں واضح کردیا تھا کہ ہمارا دائرہ کار آخر تک محض دینی رہے گا، سیاسی آمیزشوں سے اس کا دامن پاک رہنا چاہیے۔ اور رجب1394؁ھ بمطابق1974ء کے ماہنامہ بینات کے اداریہ میں حضرت نے مزید وضاحت کی :
'' بعض لوگوں کی جانب سے یہ غلط فہمی پھیلائی جارہی ہے کہ مجلس عمل میں چونکہ دینی وسیاسی جماعتیں شریک ہیں۔ لہٰذا یہ سیاست بازی ہے۔ حالانکہ ملک بھر کی جماعتوں کا کسی ایمانی مسئلہ پر متفق ہوجانا صرف ایمانی تقاضہ ہے۔ اسے سیاست سے کیا تعلق، بلاشبہ یہ تمام امت مسلمہ کا مشترکہ سرمایہ ہے۔ جس میں حزب اقتدار اور حزب اختلاف کی تفریق ہی غلط ہے۔ خود وزیر اعظم برملا اعلان کرچکے ہیں کہ وہ منکرین ختم نبوت کو دائرہ اسلام سے خارج سمجھتے ہیں۔ اس لیے یہ ذمہ داری تو سب سے بڑھ کر بااقتدار جماعت پر عائد ہوتی ہے کہ وہ اسلام کے ایک قطعی اور بنیادی مسئلہ میں مسلمانوں کو مطمئن کرے۔ اندریں صورت اس مسئلہ کے تقدس کو سیاسی الزام سے مجروح کرنا نہایت افسوسناک بے انصافی ہے۔'' (احتساب قادیانیت، صفحہ322)
اور ٧/ ستمبر کے بعد جب حضرت بنوری ؒ قوم کو مبارکباد دے رہے تھے تو سیاسی جماعتوں کی خدمات کو ان الفاظ میں سراہا:
''اس موقع پر حزب اختلاف کی جماعتوں کے کردار کی داد نہ دینا بے انصافی ہوگی ۔ سیاسی جماعتوں کا مزاج ہی کچھ ایسا ہوتا ہے کہ وہ کسی مناسب موقعہ سے سیاسی فائدہ اٹھانے سے نہیں چوکتیں۔ ہماری تحریک بحمد اللہ خالص دینی تھی۔ صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت کی آئینی حفاظت اس کا مشن تھا۔اس لیے جو سیاسی جماعتیں بھی مجلس عمل میںشامل ہوئیں انہوں نے پوری شدت کے ساتھ اس مقدس تحریک کو سیاسی آلائشوں سے پاک رکھنے کا عزم کیا اور عملی طور پر اس کا پورا پورا مظاہرہ بھی کیا۔ اللہ تعالیٰ سب کو جزائے خیر دے۔''
(بینات رمضان، شوال 1394ھ اکتوبر 1974ء)
اور اس وقت پوری قوم بلکہ پورے عالم اسلام نے یہی سمجھا اور اس کا اظہار کیا کہ یہ خالص مذہبی معاملہ ہے۔ اور اس تحریک کے کوئی سیاسی مقاصد نہیں ، خود وزیر اعظم نے اپنی تقریر میں یہی اظہار خیال فرمایا کہ یہ سیاسی نہیں ایک مذہبی معاملہ تھا۔
ب:۔۔۔۔۔۔اس تحریک کا ہدف صرف اور صرف قادیانی مسئلہ تھا، حکومت اس کے مد مقابل نہیں تھی اسی لیے پر جوش اور قوت عمل کے بھر پور مظاہرے کے باوجود قائدین تحریک کی اول تا آخر کوشش رہی کہ تصادم سے گریز کیا جائے حالانکہ حکومت نے اکثر وبیشتر ایسے اقدامات کیے کہ ٹکراؤ اور تصادم کی کیفیت پیدا ہو اور اس ٹکراؤ کو بنیاد بناکر تحریک کو کچل دیا جائے لیکن آفریں ہے قائدین تحریک کو کہ انہوں نے دشمنوں اور مخالفین کی کوئی چال کامیاب نہیں ہونے دی۔ حضرت بنوری رحمۃ اللہ علیہ نے اس کی بھی وضاحت کی:
''بہر حال یہ طے کیا گیا کہ پر امن طریقے پر تحریک کو منزل مقصود تک پہنچانے کے لیے پوری جدو جہد کی جائے اور قادیانیوں کا بائیکاٹ جاری رکھا جائے۔ اور تحریک کو سول نافرمانی سے بہر قیمت بچایا جائے۔ ادھر مجلس عمل کی پالیسی تو یہ تھی کہ حکومت سے تصادم سے بہر صورت گریز کیا جائے۔ ادھر حکومت نے ملک کے چپے چپے میں دفعہ 144٤ /نافذکردی۔ پریس پر پابندیاں عائد کردیں، انتظامیہ نے اشتعال انگیز کارروائیوں سے کام لیا اور مسلمانوں کو گرفتار کرنا شروع کیا چنانچہ فیصل آباد، کھاریاں ضلع گجرات وغیرہ میں دردناک واقعات رونما ہوئے ۔ جن کو مظلومانہ صبر کے ساتھ برداشت کیا گیا۔ صرف ایک شہر اوکاڑہ میں ان مظالم کے خلاف احتجاج کے طور پر بارہ دن مکمل اور مسلسل ہڑتال ہوئی۔ جگہ جگہ لاٹھی چارج کیا گیا۔ اشک ریز گیس کا استعمال بڑی فراخدلی سے کیا گیا۔ مجلس عمل کی تلقین تمام مسلمانوں کو یہی تھی کہ صبر کریں اور مظلوم بن کر حق تعالیٰ کی رحمت اور غیبی تائید الٰہی کے منتظر رہیں۔ قریباً پورے سو دن تک ان حالات کا مقابلہ کیا گیا۔ اور تمام سختیوں کو خندہ پیشانی سے برداشت کرتے رہے۔'' (احتساب قادیانیت، صفحہ 328)
اور اس تحریک کو اٹھانے اور پروان چڑھانے اور اس کے لیے رات دن جدو جہد کرنے والے مولانا تاج محمود صاحب فرماتے ہیں:
''اِکا دُکا واقعات کے علاوہ کہیں تحریک نے خطرناک شکل اختیار نہ کی، پُر امن جدو جہد کو مرزائی تشدد کی راہ پر ڈالنے میں ناکام رہے، البتہ حکومت نے فوری مطالبہ ماننے کی بجائے طویل المیعاد اسکیم تیار کی، اس سے وہ عوام کے حوصلے کا امتحان اور اپنی گلو خلاصی کی شکل نکالنا چاہتے تھے۔ بعض جگہ گرفتاریان، بعض جگہ لاٹھی چارج اور اَشک آور گیس استعمال ہوئی، لیکن مجموعی طور پر حالات کنٹرول میں رہے، حکومت نے اندازہ لگالیا کہ مسلمان، حضور علیہ السلام کی عزت اور ناموس کے تحفظ کے لیے بڑی سے بڑی قربانی دینے کے لیے تیار ہیں، اب مسئلے کو حل کیے بغیر کوئی چارہ کار نہیں ہے۔'' (تذکرہ مجاہدین ختم نبوت، صفحہ 113)
ج:۔۔۔۔۔۔یہ تحریک کسی خاص طبقہ، کسی خاص جماعت ، کسی خاص فرقہ کی طرف سے نہیں تھی بلکہ پوری قوم اس پر متحد تھی، ہر طبقہ نے اس میں اپنی توفیق کے مطابق بڑھ چڑھ کر حصہ لیا، تمام مکتبہ فکر کے لوگ اس ایک مسئلہ پر متفق اور باہم شیروشکر تھے اور اتحاد کے ایسے ایسے مناظر دیکھنے میں آئے کہ بعد میں ایسے مناظر کے لیے آنکھیں ترستی ہی رہ گئیں۔ خود وزیر اعظم نے اپنی تقریر میںکہا:
'' میں جب یہ کہتا ہوں کہ یہ فیصلہ پورے ایوان کا فیصلہ ہے تو اس سے میرا مقصد یہ نہیں کہ میں کوئی سیاسی مفاد حاصل کرنے کے لیے اس بات پر زور دے رہا ہوں۔ ہم نے اس مسئلہ پر ایوان کے تمام ممبروں سے تفصیلی طور پر تبادلہئ خیال کیا ہے، جن میں تمام پارٹیوں کے اور ہر طبقہئ خیال کے نمائندے موجود تھے۔ آج کے روز جو فیصلہ ہوا ہے، یہ ایک قومی فیصلہ ہے، یہ پاکستان کے عوام کا فیصلہ ہے ۔ یہ فیصلہ پاکستان کے مسلمانوں کے ارادے، خواہشات، اور ان کے جذبات کی عکاسی کرتا ہے۔''(فتنہ قادیانیت اور ملت اسلامیہ کا موقف، صفحہ 224)
د:۔۔۔۔۔۔ یہ تأثر بھی دیا جاتا ہے کہ مولویوں نے دباؤ ڈال کر زبردستی اپنی بات منوائی ہے اور مسٹر بھٹو کو اس طرح گھیرے رکھا کہ وہ کچھ سوچ ہی نہ سکے۔ لیکن یہ تأثر بھی سراسر غلط ہے۔ علماء اور مسلمانوں نے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا مطالبہ ضرور کیا، اس کے لیے بھر پور تحریک بھی چلائی لیکن ایسا نہیں کہ اس مسئلہ پر غوروفکر کیے بغیر محض دباؤ میں آکر یہ فیصلہ کردیا گیا، بلکہ ا س پر ہر پہلو سے غور کیا گیا، بحث ومباحثہ ہوا، تفصیلات آپ پڑھ چکے ہیں کہ مرزائی اور لاہوری گروپ کو اپنی صفائی کا پورا پورا موقع دیا گیا، ان سے سوالات ہوئے، ان پر جرح ہوئی اور پوری آزادی کے ساتھ کھل کر انہیں اپنا موقف پیش کرنے کے مواقع فراہم کیے گئے، پوری قومی اسمبلی کو خصوصی کمیٹی قرار دے کر اس پر بحث ومباحثہ اور غوروفکر ہوا۔ اس خصوصی کمیٹی نے 28/ اجلاسوں میں بحیثیت مجموعی 94/ گھنٹے غور کیا۔ مرزا ناصر نے 11/دن میں 41 گھنٹے 50 منٹ تک اپنی شہادت قلمبند کروائی اور گیارہ دن تک ان کا بیان جاری رہا، لاہوری جماعت کے سربراہ پر دو اجلاسوں میں 8 گھنٹے 20 منٹ تک جرح ہوئی اور اور ان حضرات کو بھر پور موقع فراہم کیا گیا اپنا موقف اور اپنی صفائی پیش کرنے کا۔ قومی اسمبلی کی یہ کارروائی تاریخی قومی دستاویز 1974ء کے نام سے شائع ہوچکی ہے اس کا مطالعہ کیا جائے تو جگہ جگہ نظر آئے گا کہ مرزا ناصر نے دجل وتلبیس اور دھوکہ سے کام لیا اور گول مول باتیں کرکے اسمبلی کا وقت ضائع کرتا رہا۔ متعدد اراکین نے مختلف اوقات میں مرزا ناصر پر اعتراضات کیے اور اسے ٹوکا کہ گواہ غلط بیانی سے کام لے رہا ہے مگر اس کے باجود (یہ جانتے ہوئے بھی کہ مرزا ناصر غلط بیانی سے کام لے رہا ہے اٹارنی جنرل نے اراکین اسمبلی سے درخواست کہ کہ انہیں بولنے دیں، انہیں نہ ٹوکیں کہیں بعد میںیہ نہ کہیں کہ ہمارے ساتھ زیادتی ہوئی اور ہمیں اپنی بات کہنے سے منع کیا گیا۔ اور اٹارنی جنرل نے آخر میںبحث سمیٹتے ہوئے اپنی تقریر میں کہا تھا:
''جناب والا! میں امید کرتا ہوں اور مجھے یقین ہے کہ اس ایوان کے اندر جو رہنما موجود ہیں، انہوں نے کافی سوچ بچار کیا ہے اور ان کی انتہائی کوشش ہے کہ اس معاملہ کا ایک نہایت ہی مناسب اور منصفانہ فیصلہ ہو۔ جناب والا ! آپ کو یاد ہوگا کہ جرح کے دوران میں نے امیر جماعت احمدیہ ربوہ پر واضح کرنے کی کوشش کی تھی کہ یہ ایوان نہ تو کسی کو کوئی نقصان پہنچانا چاہتا ہے اور نہ ہی کسی کی دل آزاری کرنا چاہتا ہے۔ یہ ایوان ایک منصفانہ فیصلہ کرنا چاہتا ہے۔ ان باتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے میں اپنی گزارشات کروں گا اور تمام حقائق اور واقعات کو اختصار کے ساتھ پیش کروں گا۔'' (تاریخی قومی دستاویز 1974ئ، صفحہ 301)
''دوسری بات جناب والا! جہاں تک شہادت کا تعلق ہے، میری کوشش ہوگی جو کچھ ریکارڈ پر شہادت موجود ہے، اسے مختصر طور پر پیش کروں لیکن بحیثیت اٹارنی جنرل، میںایوان کا رکن نہیں ہوں، اس لیے نہ تو میں کوئی فیصلہ جج کی طرح دے سکتا ہوں اور نہ ہی اپنی رائے کا اظہار کرسکتا ہوںمیں سمجھتا ہوں کہ میرا فرض ہے کہ میںغیر جانبدارانہ طور پر اس ایوان کی امداد کروں۔ ہم سب کو احساس ہوگا کہ میںیہاں پر صرف ایک فریق کی نمائندگی یا دوسرے فریق کی مخالفت نہیں کرتا۔ آپ اس معاملہ میںبحیثیت منصف کے ہیں۔ اس لیے میرا فرض منصبی ہے کہ میں معاملہ کے دونوں پہلو آپ کے سامنے پیش کروں تاکہ نہ تو کوئی یہ محسو کرے اور نہ کہہ سکے کہ یہ یکطرفہ کارروائی تھی اور اٹارنی جنرل نے اپنی حیثیت کا جائز یا ناجائز استعمال کرتے ہوئے فیصلہ پر اثر انداز ہوے کی کوشش کی۔ چنانچہ مجھے امید ہے کہ میری ان مجبوریوں کے مدنظر اگر میں دونوں فریقوں کے نقطہئ نظر یا دوسرے فریق کے نقطہئ نظر کو بھی پیش کروں تو اسے صحیح انداز میں ہی سمجھا جائے گا۔ (تاریخی قومی دستاویز 1974ء ، صفحہ 300)
خود اخبارات نے قومی اسمبلی کی کارروائی پر نہ صرف اعتماد کا اظہار کیا بلکہ اس طریقہئ کار کی تعریف کی چنانہ روزنامہ جنگ نے اپنے ٦/ ستمبر کی اشاعت کے اداریہ میں لکھا:
قومی اسمبلی کی اس کمیٹی نے قادیانی مسئلہ کو جانچنے پر کھنے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا۔ اس مقصد کے لیے طویل اور مسلسل اجلاس ہوتے رہے ان میں قادیانی فرقے کے سربراہ پر بھی تفصیل جرح کی گئی۔ کمیٹی کی کارکردگی اور اس کی کاروائیوں پر حزب اختلاف کے اراکین کو کھل کر اپن یرائے دینے کا موقع ملا بلکہ حزب اقتدار سے تعلق رکھنے والے اراکین کو بھی اپنے ضمیر واعتقاد کے مطابق رائے دینے کی پوری آزادی دی گئی۔''
(تحریک ختم نبوت 1974، صفحہ722,721)
اس لیے یہ کہنا یا تأثر دینا کہ زبردستی دباؤ ڈال کر فیصلہ کیا گیا بالکل غلط ہوگا کیونکہ مکمل غوروخوض کے بعد اور ہر پہلو کا جائزہ لے کر یہ فیصلہ کیا گیا۔
ہ:۔۔۔۔۔۔اور یہ فیصلہ قادیانیوں کے حقوق غصب کرنے یا ان پر ظلم وستم کے لیے نہیں تھا بلکہ یہ خود قادیانیوں کے مفاد میں تھا کیونکہ قادیانی عقائد کی وجہ سے مسلمانوں نے کبھی بھی انہیں اپنے وجود کا حصہ تسلیم نہیں کیا شروع سے انہیں علیحدہ ہی سمجھا اس آئینی ترمیم سے ان کی حیثیت متعین ہوجاتی اور ان کے حقوق کا تعین ہوجاتا اور انہیں وہ حقوق دیئے جاتے چنانچہ خود اس قرارداد میں جو قومی اسمبلی کے سامنے غور کرنے کے لیے پیش کی گئی اس میں یہ الفاظ تھے کہ ''مرزا غلام احمد کے پیروکاروں کو اسلامی جمہوریہ پاکستان کی ایک غیر مسلم اقلیت کے طور پر ان کے جائز حقوق ومفادات کے تحفظ کے لیے احکام وضع کرنے کی خاطر آئین میں مناسب ترامیم کی جائیں۔'' اور حضرت مولانا بنوری صاحب ؒ نے 11/جون کی وزیر اعظم سے ملاقات میں یہ واضح کردیا تھا:
''اس وقت جو جرأت مرزائیوں کو ہوئی ہے اگر اس وقت اس کا تدارک نہ کیا گیا اور وہ غیر مسلم اقلیت قرار نہیں دئے گئے۔ تو مسلمانوں کے جذبات بھڑکیں گے اور ان کی جان ومال کی حفاظت حکومت کے لیے مشکل ہوگی۔ اقلیت قرار دئیے جانے کے بعد اس ملک میں ان کی حیثیت ذمی کی ہوگی اور ان کی جان ومال کی حفاظت شرعی قانون کی رو سے مسلمانوں پر ضروری ہوگی ۔ اس طرح ملک میں امن قائم ہوجائے گا۔''
اور ٧/ستمبر کے فیصلہ کے بعد حضرت بنوری رحمۃ اللہ علیہ نے اعلان کیا:
'' مرزائیوں کی حیثیت قبل ازیں کفار محاربین کی تھی۔ اور قومی اسمبلی کے فیصلہ کے بعد اس کی حیثیت پاکستان کے غیر مسلم شہریوں کی ہے جن کو ذمی کہاجاتا ہے۔ (بشرطیکہ وہ پاکستان میں بحیثیت غیر مسلم کے رہنا قبول کرلیں۔ اس لیے کہ عقد ذمہ دو طرفہ معاہدہ ہے) اور کسی ذمی کے جان ومال پر ہاتھ ڈالنا اتنا سنگین جرم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قیامت کے دن بارگاہِ الٰہی میں ایسے شخص کے خلاف نالش کریں گے۔ اس بناء پر تمام مسلمانوں کا فرض ہے کہ ان کی جان ومال کی حفاظت کریں۔ مجلس عمل نے مرزائیوں کا سوشل بائیکاٹ کا جو فیصلہ کیا تھا۔ جو مسلمانوں کے دائرے اختیار کی چیز تھی۔ لیکن جن مرزائیوں نے قومی اسمبلی کا فیصلہ تسلیم کرکے اپنے غیر مسلم شہری ہونے کا اقرار کرلیا ہو اب ان سے سوشل بائیکاٹ نہیں ہوگا۔ اور جو مرزائی اس فیصلہ کو قبول نہیں کررہے ہوں اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ مسلمانوں سے ترک محاربت پر آمادہ نہیں۔'' (احتساب قادیانیت، صفحہ333)
لیکن افسوس یہ ہے کہ قادیانیوں نے آج تک آئین کا یہ فیصلہ تسلیم نہیں کیا اور وہ بر ملا آئین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مسلمانوں کے خلاف ریشہ دوانیوں اور سازشوں میں مصروف ہیں اور مسلمانوں کے ساتھ ترک محاربت کے لیے تیار نہیں۔
و:۔۔۔۔۔۔یہ بات بھی ذہن میں رہنی چاہیے کہ قادیانیوں کو مسلمانوں سے علیحدہ ایک قوم قرار دینے کا مطالبہ 1974ء کی تحریک میں ہی پہلی مرتبہ نہیں کیا گیا بلکہ ہمیشہ سے مسلمانوں کا یہ مطالبہ رہا ہے کہ قادیانی علیحدہ امت اور علیحدہ قوم ہے اس کا مسلمانوں سے کوئی تعلق نہیں ہم دیکھتے ہیں کہ سب سے پہلے یہ مطالبہ علامہ اقبال مرحوم نے کیا تھا، علامہ اقبال کو حضرت علامہ انور شاہ کشمیری کے فیضانِ صحبت نے قادیانیوں کے خلاف ایک شعلہ حوالہ بنادیا تھا، فتنہئ قادیانیت کی سنگینی نے ان کو بے چین کر رکھا تھا اور وہ اس فتنہ کو اسلام کے لیے مہلک اور وحدت ملت کے لیے مہیب خطرہ تصور کرتے تھے، ان کی تقریر وتحریر میں قادیانی ٹولے کو ''غدارانِ اسلام'' اور '' باغیانِ محمد'' سے یاد کیا جاتا تھا ، علامہ اقبال نے قادیانیوں کو بھی اور اس وقت کی حکومت کو درج ذیل مشورہ تھا:
''میری رائے میں قادیانیوں کے سامنے صرف دو راہیں ہیں ، یا وہ بہائیوں کی تقلید کریں یا پھر ختم نبوت کی تاویلوں کو چھوڑ کر اس اصول کو اس کے پورے مفہوم کے ساتھ قبول کرلیں۔ ان کی جدید تاویلیں محض اس غرض سے ہیں کہ ان کا شما٤ر حلقہ اسلام میں ہوتا ہے کہ انہیں سیاسی فوائد پہنچ سکیں۔'' (حرف اقبال ص:137)
'' میرے خیال میں قادیانی حکومت سے کبھی علیحدگی کا مطالبہ کرنے میں پہل نہیں کریں گے، ملت اسلامیہ کو ا س مطالبہ کا پورا حق حاصل ہے کہ قادیانیوں کو علیحدہ کردیا جائے۔ اگر حکومت نے یہ مطالبہ منظور نہ کیا تو مسلمانوں کو شک گزرے گا کہ حکومت اس نئے مذہب کی علیحدگی میں دیر کررہی ہے، کیونکہ وہ ابھی اس قابل نہیں کہ چوتھی جماعت کی حیثیت سے مسلمانوں کی برائے نام اکثریت کو ضرب پہنچا سکے۔ حکومت نے 1919ء میں سکھوں کی طرف سے علیحدگی کے مطالبہ کا انتظار نہ کیا، اب وہ قادیانیوں سے ایسے مطالبہ کے لیے کیوں انتظار کررہی ہے؟'' (حرف اقبال ص:138)
علامہ اقبال کے اس مطالبہ کے بعد مجلس احرار نے اس کو اپنا مستقل مشن بنالیا، مجلس احرار کے راہنما اپنی تقریروں میں مرزا غلام احمد اور مرزائی جماعت کی کفریات کو پیش کرتے، انہیں مسلمانوں سے جداگانہ اقلیت قرار دینے کا مطالبہ تقریباً ہر جلسہ میں کیا جاتا، ارباب اقتدار نے 1974 کی تحریک سے پہلے اگر چہ کبھی بھی اس مطالبہ کو درخور اعتناء نہ سمجھا مگر بار بار یہ مطالبہ دہرانے کا یہ فائدہ ضرور ہوا کہ مسلمانوں کے ذہنوں میں یہ مطالبہ راسخ ہوتا چلا گیا اور جب تحریک چلی تو پوری قوم نے اس مطالبہ کی حمایت میں آواز بلند کی اور اس مطالبہ کو منواکر ہی دم لیا۔
اسی طرح جس عدالت میں بھی قادیانیوں کا مسئلہ پیش ہوا تو ہر طرح کے دلائل اور شہادتیں سننے کے بعد ہر عدالت اسی نتیجہ پر پہنچی کہ قادیانیت اسلام سے علیحدہ ایک مذہب ہے اور قادیانیوں کا مسلمانوں اور اسلام سے کوئی تعلق نہیں ۔
اور صرف یہی نہیں کہ مسلمان انہیں علیحدہ ایک قوم سمجھتے رہے اور ان کی علیحدہ حیثیت کا مطالبہ کرتے رہے بلکہ خود قادیانی بھی اپنے آپ کو مسلمانوں سے علیحدہ ایک قوم سمجھتے ہیں اور وہ تمام مسلمانوں کو جو مرزا غلام احمد کو نہیں مانتے اپنے سے علیحدہ سمجھتے ہیں اور انہیں کافر قرار دیتے ہیں اور یہ کہ ان سے تعلق رکھنا ان میں شادی بیاہ کرنا، ان کے ساتھ نماز پڑھنا، ان کی نماز جنازہ پڑھنا جائز نہیں سمجھتے۔ چنانچہ مراز غلام احمد کا بیٹا مرزا محمود اپنی ایک تقریر میں کہتا ہے:
'' حضرت مسیح موعود نے فرمایا کہ ان کا (یعنی مسلمانوں) کا اسلام او رہے ہمارا اور، ان کا خدا اور ہے اور ہمارا اور، ہمارا حج اور ہے اور ان کا اور، اسی طرح ہر بات میں ان سے اختلاف ہے''۔
'' یہ غلط ہے کہ دوسرے لوگوں سے ہمارا اختلاف صرف وفات مسیح یا اورچند مسائل میںہے آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی ذات ، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ، قرآن، نماز ، روزہ، حج، زکوٰۃ غرض آپ نے تفصیل سے بتایا کہ ایک ایک چیز میں ہمیں ان سے اختلاف ہے۔'' (خطبہ مرزا محمود الفضل قادیان، جلد19صفحہ 13)
اور مرزا بشیر اپنی کتاب کلمۃ الفصل کے صفحہ 169پر لکھتا ہے:
''غیر احمدیوں سے ہماری نمازیں الگ کی گئیں، ان کو لڑکیاں دینا حرام قرار دیا گیا ، ان کے جنازے پڑھنے سے روکا گیا، اب باقی کیا رہ گیا ہے جو ہم ان کے ساتھ مل کر کرسکتے ہیں۔ دو قسم کے تعلقات ہوتے ہیں : ایک دینی ، دوسرے دنیوی۔ دینی تعلقات کا سب سے بڑا ذریعہ عبادت کا اکٹھا ہونا ہے........ اور دنیوی تعلقات کا بھاری ذریعہ رشتہ وناتہ ہے۔ سو یہ دونوں ہمارے لیے حرام قرار دئیے گئے۔ اگر کہو کہ ہم کو ان کی لڑکیاںلینے کی اجازت ہے تو میں کہتا ہوں نصاریٰ کی لڑکیاں لینے کی بھی اجازت ہے۔''
اور خود قادیانیوں نے غیر منقسم ہندوستان میں اپنے آپ کو سیاسی طور پر بھی مسلمانوں سے الگ ایک مستقل اقلیت قرار دینے کا مطالبہ کیا تھا۔ مرزا بشیر الدین محمود لکھتے ہیں:
''میں نے اپنے نمائندے کی معرفت ایک بڑے ذمہ دار انگریز افسر کو کہلوا بھیجا کہ پارسیوں اور عیسائیوں کی طرح ہمارے حقوق بھی تسلیم کیے جائیں جس پر اس افسر نے کہا کہ وہ تو اقلیت ہیں اور تم ایک مذہبی فرقہ ہو، اس پر میں نے کہا کہ پارسی اور عیسائی بھی تو مذہبی فرقہ ہیں جس طرح ان کے حقوق علیحدہ تسلیم کیے گئے ہیں، اسی طرح ہمارے بھی کیے جائیں۔ تم ایک پارسی پیش کردو، اس کے مقابلہ میں دو دو احمدی پیش کرتا جاؤں گا۔ (مرزا بشیر الدین محمود کا بیان مندرجہ ''الفضل'' 13/ نومبر 1946ء)''
اس لیے مسلمان یہ مطالبہ کرنے میں حق بجانب تھے اور اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں اور علماء کرام کی لاج رکھی اور وہ اپنا مطالبہ حکومت سے منوانے اور قادیانیوں کو آئینی طور پر غیر مسلم اقلیت قرا دینے میں کامیاب ہوئے۔
بعض لوگ اسے بھی دیگر فرقوں کی طرح ایک اسلامی فرقہ سمجھ کر اس فتنہ کی شدت کو کم کرنے کی کوشش کرتے ہیں شاید ان کی نظر سے قادیانی لٹریچر نہیں گزرا ور نہ وہ کبھی اس سوچ کے حامل نہ ہوتے، حقیقت یہ ہے کہ وہ متوازی اُمت اور ایک مستقل دین کی داعی ہے یہاں نبی کے مقابلے میں نبی کو کھڑا کیا گیا بلکہ اسے دوسرے انبیاء سے حتی کہ حضور اکرم اسے بھی افضل قرار دیا ، شعائر کے مقابلہ میں شعائر ، مقامات مقدسہ کے مقابلہ میں مقامات مقدسہ ، کتاب کے مقابلہ میں کتاب، افراد کے مقابلہ میں افراد ہر چیز کا بدل انہوں نے مہیا کیا، چنانچہ نبی کے مقابلہ میں نبی اور اس جھوٹے نبی کے ماننے والوں کو صحابہ کا درجہ دیا گیا، اس کی بیویوں کو امہات المؤمنین کہا گیا، مکہ اور مدینہ کے مقابلہ میں قادیان کو ارض حرم او رمکۃ المسیح قراردیا ، حج کے مقابلہ میں قادیان حاضری کو حج سے زیادہ ثواب قراردیا ، قرآن کریم کے مقابلہ میں '' تذکرہ'' نامی کتاب کو پیش کیا غرضیکہ ایک ایک چیز میں اختلاف کیا اور صرف اختلاف نہیں بلکہ مقابلہ کیا ۔
ختم نبوت کی 1974ء کی تحریک میں صرف یہی نہیں ہوا کہ پاکستان کی قومی اسمبلی نے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا بلکہ اس کے آثار ونتائج پر نظر ڈالی جائے تو اس تحریک کی وجہ سے بہت سے نتائج وقوع پذیر ہوئے۔ حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہید کے الفاظ میں۔ مثلا :
''1)۔۔۔۔۔۔ پاکستان کی قومی اسمبلی نے قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا، علاوہ ازیں قریباً تیس اسلامی ممالک قادیانیوں کو کافر، مرتد، دائرہ ئ اسلام سے خارج اور خلاف قانون قرار دے چکے ہیں۔
2)۔۔۔۔۔۔ ختم نبوت کی تحریک پاکستان میں کامیاب ہوئی، تو پوری دنیا پر قادیانیوں کا کفر ونفاق واضح ہوگیا، اور دنیا کے بعید ترین ممالک کے مسلمان بھی قادیانیوں کے بد ترین کفر سے واقف ہوگئے۔
3)۔۔۔۔۔۔ بہاولپور سے ماریشش ،جو ہانسبرگ تک کی بہت سی عدالتوں نے قادیانیوں کی غیر مسلم حیثیت کی بنا پر فیصلے دئیے۔
4)۔۔۔۔۔۔ '' مجلس تحفظ ختم نبوت'' کی تحریک نہ صرف پاکستان کو بلکہ دیگر اسلامی ممالک کو قادیانیوں کے غلبہ تسلط سے محفوظ کردیا اور تمام دنیاکے مسلمان قادیانیوں کو ایک سازشی اور مرتد ٹولہ سمجھ کر ان سے محتاط اور چوکنا رہنے لگے۔
5)۔۔۔۔۔۔ بے شمار لوگ جو قادیانیوں کے دام ہمرنگ زمین کا شکار ہوکر مرتد ہوگئے تھے، جب ان پر قادیانیت کا کفر کھل گیا تو وہ قادیانیت کو چھوڑ کر دوبارہ دامن اسلام سے وابستہ ہوگئے۔
6)۔۔۔۔۔۔ ایک وقت تھا کہ مسلمانوں کا ملازم پیشہ نوجوان طبقہ قادیانیوں سے بے حد مرعوب تھا، چونکہ قادیانی پاکستان میں اعلیٰ مناصب پر قابض تھے، اس لیے وہ ایک طرف اپنے ماتحت عملے میں قادیانیت کی تبلیغ کرتے اور دوسری طرف اچھے مناصب کے لیے صرف قادیانیوں کا انتخاب کرتے، اس سے مسلمانوں کے نوجوان طبقہ کی صریح حق تلفی ہوتی تھی اور بہت سے نوجوان اچھی ملازمت کے لالچ میں قادیانی مذہب کے ہمنوا ہو جاتے تھے، اب بھی اگر چہ کلیدی آسامیوں پر بہت سے قادیانی فائز ہیں، اور ملازمتوں میں ان کا حصہ مسلمانوں کی نسبت اب بھی زیادہ ہے، مگر اب قادیانیوں کے سامنے مسلمان نوجوان کا احساس کہتری ختم ہورہا ہے، اور نوجوانوں کی طرف سے مطالبے ہورہے ہیں کہ قادیانیوںکو ان کے حصہ رسدی سے زیادہ کسی ادارے میں نشستیں نہ دی جائیں۔
7)۔۔۔۔۔۔ قیام پاکستان سے 1974ء تک ''ربوہ'' مسلمانوں کے لیے ایک ممنوعہ قصبہ تھا، وہاں مسلمانوں کے داخلہ کی اجازت نہیں تھی، حتی کہ ریلوے اور ڈاک خانہ کے سرکاری ملازموں کے لیے قادیانی ہونے کی شرط تھی، لیکن اب ''ربوہ'' کی سنگینی ٹوٹ چکی ہے، وہاں اکثر سرکاری ملازم مسلمان ہیں۔ اور اب تو الحمدللہ ''ربوہ'' کا نام چناب نگر سے بدل کر قادیانیت کے تابوت میںآخری کیل ٹھونک دی گئی ہے۔ 1975 ء سے مسلمانوں کی نماز باجماعت بھی ہوتی ہے اور ''مجلس تحفظ ختم نبوت'' کے مدارس ومساجد، دفتر ولائبریری قائم ہیں۔
8)۔۔۔۔۔۔قادیانی اپنے مردوں کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنے پر اصرار کیا کرتے تھے، لیکن اب مسلمانوں کے قبرستان میں ان کا دفن کیا جانا ممنوع ہے۔
9)۔۔۔۔۔۔پاسپورٹ، شناختی کارڈاور فوجی ملازمتوں کے فارموں میں قادیانیوں کو اپنے مذہب کی تصریح کرنا پڑتی ہے۔
10)۔۔۔۔۔۔ پاکستان میںختم نبوت کے خلاف کہنا یا لکھنا قابل تعزیر جرم قراردیا جاچکا ہے۔
11)۔۔۔۔۔۔سعودی عرب، لیبیا اور دیگر اسلامی ممالک میں قادیانیوں کا داخلہ ممنوع ہے، اور انہیں ''اسلام کے جاسوس'' قرار دیا جاچکا ہے۔
12)۔۔۔۔۔۔ مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوت کے خلاف لب کشائی کی پاکستان میں اجازت نہیں تھی، مگر اب صورت حال یہ ہے کہ قادیانی اپنے آپ کو مسلمان نہیں کہہ سکتے۔
13)۔۔۔۔۔۔ قادیانی جو بیرونی ممالک میں یہ پروپیگنڈہ کیا کرتے تھے، کہ پاکستان میں قادیانیوں کی حکومت ہے اور دار الخلافہ ''ربوہ'' ہے، وہ اس جھوٹ پر نہ صرف پوری دنیا میںذلیل ہوچکے ہیں، بلکہ خدا کی زمین اپنی فراخی کے باوجود ان پر تنگ ہورہی ہے، حتی کہ قادیانی سربراہ کو لندن میں بھی چین نصیب نہیں۔'' (تحفہ قادیانیت، صفحہ 110 تا 112)

بےباک
09-08-2011, 12:21 AM
اس کاروائی کی مکمل کاروائی ایک کتابی شکل میں ختم نبوت والوں نے شائع کی ہے اس کا نسخہ آپ یہاں سے حاصل کر سکتے ہیں ، 1974 کی قومی اسمبلی کی کاروائی ، پہلے سے نیٹ پر موجود ہے ،
یہ اس کتاب کا لنک ہے .http://4.bp.blogspot.com/__0lnnqVzQzM/S_IrqhlNqvI/AAAAAAAAAEQ/hCKHNSZzT9o/s400/Tare.gif
قادیانیوں کو کافر کیوں کہا گیا ۔ قومی اسمبلی کی مکمل کاروائی (http://urdumajlaspk.blogspot.com/2010/05/1974.html)
مگر سرکاری سطح پر پہلی دفعہ شائع ہو گی ، اس لیے ان کی حجت ختم ہو جائے گی ،کہ حکومت اس کو چھاپنے کی ہمت نہیں کر سکتی ، کتاب کا ایک ایک لفظ پڑھنے کے لائق ہے ، فلیش میں یہ کتاب بہت زبردست ہے ،
اب قادیانیوں کے لیے بہت مشکل ہے کہ اپنا دفاع کر سکیں ،

بہت بہت شکریہ جناب سرحدی صاحب ،
جزاک اللہ

سقراط
09-08-2011, 03:57 PM
مکمل معلومات کے ساتھ تحریر پیش کی شکریہ ،
اللہ تعالی سے دعا ہے ،کہ اے اللہ تعالی ان کو ٹھنڈے دل اور سکون سے اس کتاب کو پڑھنا نصیب فرما ،
تاکہ ان کو ھدایت ملے ،
آمین آمین آمین

واقعی کتاب زبردست ہے ، اس لنک پر کلک کریں اور سیو کریں ، حقائق جانیے ،
http://urdumajlaspk.blogspot.com/2010/05/1974.html